ایڈیپس ریکس (ڈرامہ) میں پائی جانے والی بحثیں

(Prof Niamat Ali Murtazai, )
 ایڈیپس ریکس (ڈرامہ) میں پائی جانے والی بحثیں
Discssions in Oedipus Rex

ایڈیپس ریکس یونانی ادب کے شا ہکاروں میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ ڈرامہ عظیم یونانی ڈرامہ نگار سوفوکلیز(Sophocles) کی تخلیق ہے۔ یہ ڈرامہ یونانی ادب ، یونانی دیومالائی مذہب، یونانی معاشرت، انسانی نفسیات، تقدیر کا تسلط، انسان کی بے بسی جیسے موضوعات کا شاندار مظہر ہے۔ اس میں ٹریجڈی کے بنیادی عناصر جو کہ اس وقت کے عظیم نقاد اور فلسفی ارسطو(Aristotle) نے طے کئے تھے اپنی بہترین حالت اور اطلاق کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔پلاٹ کی مضبوط ساخت، کرداروں کا استحکام ، ڈئیا لوگ اور ڈکشن یعنی الفاظ کابر محل اور موزوں ترین استعمال اس ڈرامے میں بڑی مہارت سے کیا گیا ہے۔

ڈرامے کے بس آغاز کی دیر ہوتی ہے کہ اس میں پایا جانے والا تجسس ایک مضبوط طلسم کی طرح قاری یا ناظرکو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ ڈرامہ ختم کر کے ہی کسی اور کام کو ہاتھ لگائے ۔ اس ڈرامے میں ایک سحر انگیز افسانے کا تاثر پایا جاتا ہے۔اس کی کہانی ایک سیلابی ریلے کی طرح اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتی ہے کہ دیکھنے یا پڑھنے والے کو ٹھہرنے یا سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور جب سب کچھ ہو جاتا ہے تو ایسا سبق قاری اور ناظر کے ذہن نشیں ہو جاتا ہے جسے وہ زندگی بھر فراموش نہیں کر سکتا۔

اس ڈرامے میں یونانی مذہب ،جو کہ اس زمانے میں دیومالائی عقائد پر مشتمل تھا ،پیش کیا گیا ہے۔ اس مذہب کے مطابق اولمپیئن(Olympian) دیوتا حاکم ہیں ۔ اس ڈرامے میں بھی اولمپیئن دیوتا کو حاکم دیوتا کے انداز میں پیش کیا گیا ہے جن میں سے ایک کا نام اپالو (Apollo)ہے جو کہ سورج کا دیوتا ہونے کے ساتھ ساتھ علم، پیشین گوئی اور صحت کا دیوتا سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ اس کی درگاہ(shrine) ڈلفی (Delphi)کے مقام پر ہے۔ جہاں یہ لوگ اپنی پریشانیوں کا حل تلاش کرنے جاتے ہیں۔ یہ دیوتا غیب کی باتیں بھی بتا دیتا ہے اور لوگوں کو حکم نامے بھی جاری کرتا ہے جن کو ’اورے کل ‘ (Oracle)کہا جاتا ہے ۔ یہ اورے کل عرفِ عام میں وحی کا درجہ رکھتا ہے اور اس مذہب کو ماننے والے اس کا احترام اور پاس داری کرتے ہیں اور اگر یہ اورے کل ان کے حق میں نہ ہو تو اس سے بچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن ثابت یہی ہوتا ہے کہ اورے کل کبھی غلط یا ناکام نہیں ہوتا ،چاہے وہ کچھ بھی ہو ۔ اس ڈرامے میں جہاں بہت سی باتوں کا ادراک ملتا ہے وہاں یہ بات بھی اور زیادہ مضبوطی سے قاری یا ناظر کے ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ تقدیر ، یا دوتاؤں کا کہا کبھی خطا نہیں ہوتا ۔ اس وقت کے ڈراموں کے مقاصد میں ایک بات یہ بھی رکھی گئی تھی کہ لوگ ان ڈراموں کودیکھنے کے بعد قسمت اور مذہب کی بالادستی کے اور زیادہ قائل ہو جائیں۔ ان کے ذہنوں میں مذہب یا حکومتِ وقت کے خلاف جو سوالات و اعتراضات جنم لیتے ہیں ان کو اس طرح کے قسمت اور دیوتاؤں کی حاکمیتِ اعلی ٰ کے تصور سے حذف کر دیا جائے تاکہ کوئی ان کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے کی کوشش نہ کرے۔

اس ڈرامے کی اسٹیج پر ایک بھی ایکشن نہیں ہے لیکن اس میں بحثوں، ڈئیالوگ یا گفتگو کو بیان کی ایسی خوبصورتی سے مرصع کیا گیا ہے کہ ایکشن کی کمی کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ اور قاری کو یہ لگتا ہے جیسے اس کے سامنے ایک بہت بڑا ایکش ہونے جا رہا ہے۔ بحثوں میں زبان کا استعمال اتنی مہارت سے کیا گیا ہے کہ ایک لفظ بھی ضرورت سے زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔ کوئی بے محل بات گفتگو کا حصہ بننے سے قاصر رہتی ہے۔

اس تحریر میں ان بحثوں کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان بحثوں سے پوری کہانی کی واقفیت حاصل ہو جاتی ہے اور انہی بحثوں سے ڈرامے کا پلاٹ اور سب کردار واضح طور پر سمجھ آ جاتے ہیں۔ اگرچہ تراجم میں اصل بات والی خوبی کا لانا محال ہوتا ہے لیکن بعض اصل اتنے اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں کہ ان کے تراجم بھی حسین لگتے ہیں۔ اب ہم ان بحثوں کو یکے بعد دیگرے زیرِ بحث لاتے ہیں۔

پہلی بحث( ایڈیپس اور پادری کے درمیان)
شہر تھیبز کا ایک پادری شہر کے درماندہ لوگوں کو لے کر ایڈیپس کے محل کے گیٹ پر آگیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ شہر تیزی سے بربادی کی طرف جا رہا ہے اس لئے ایڈیپس اس معاملے میں اپنا رول ادا کرے۔ وہ اسے وہ وقت بھی یا د دلاتا ہے کہ پہلے وہ ایسی ہی کیفیت میں شہر کے لئے مسیحا بن کے آیا تھا ، اب بھی وہ ایسا ہی ثابت ہو اور شہر میں زندگی واپس دلائے۔ ایڈیپس ان سے کہتا ہے کہ کری اون (Creon) اسی مسئلے کے حل کے لئے دیوتا اپالو کی درگاہ یعنی ڈلفی گیا ہوا ہے وہ آنے ہی والا ہے۔ وہ واپس آ کر اپالو دیوتا کا جو بھی حکم سنائے گا اس پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

اسی بحث کے دوران کری اون آ جاتا ہے جو کہ بتاتا ہے کہ ڈیفی کے اورے کل کے مطابق شہر میں ایک ناپاکی (defilement )ہے جس کا دور کرنا ، شہر میں صحت اور زندگی کی بحالی کے لئے لازمی ہے۔ ڈیلفی کے دیوتا اپالوApollo نے حکم دیا ہے کہ مقتول بادشاہ لائی اوس(Laius) کے قتل کا بدلہ لیا جائے۔ ورنہ اس شہر تھیبز(Thebes) سے طاعون نہیں جائے گا اور سارا شہرمکمل برباد ہو جائے گا۔ اس پر ایڈیپس یہ کہتا ہے کہ وہ بادشاہ کا بیٹا بن کر اس کے قتل کا بدلہ لے گا اور جو کوئی بھی اس قتل سے متعلق کچھ بھی جانتا ہو اسے اس بات کو سامنے لانا چاہیئے۔ اگر قاتل کو اس بات کا علم ہو جائے کہ اس سے بدلہ لیا جانا ہے تو وہ اس شہر کو چھوڑ کر بھی جا سکتا ہے تا کہ وہ ناپاکی اس شہر سے نکل جائے اور شہر ایک بار پھر زندگی میں واپس آجائے۔ اگر لوگوں کو اس کا علم ہو تو کوئی اسے پناہ نہ دے اس سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیا جائے۔اسے کوئی اپنے گھر پناہ نہ دے۔

ایڈیپس کو بتایا جاتا ہے کہ شہر میں ایک ولی بھی رہتا جے جس کا نام (Teiresias) ہے اسے غیب کی باتوں کا علم ہوتا ہے۔ اس سے اس معاملے میں مدد لی جائے۔ ایڈیپس کہتا ہے کہ اس نے اس بزرگ کو پہلے بھی بلایا ہے لیکن وہ نہیں آیا ۔ اس نے اسے پھر بلانے بھیجا ہوا ہے۔ اتنے میں وہ بزرگ ایک نوجوان بچے کے ساتھ آجاتا ہے اور اس طرح دوسری بحث کا آغاز ہو جاتا ہے۔

دوسری بحث (ایڈیپس اور ٹریزیئس کے درمیان)
ٹریزیئس ایک نابینا بزرگ ہے اور وہ عرصہ دراز سے یہاں یعنی شہر تھیبز میں رہائش پذیر ہے۔ سارا شہر اسے سچائی کا آدمی مانتا ہے ۔ وہ صحیح معنوں میں ولی ہے اور آنکھیں نا رکھنے کے باوجود اسے ہر بات کی خبر ہے۔ لیکن وہ کسی راز کو زبان پر لانا نہیں چاہتا۔ وہ ایڈیپس کی اصل حقیقت سے بھی باخبر ہے۔ ایڈیپس کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ دیوتاؤں کی اپنی مرضی سے ہوا ہے۔ یہ سب کچھ اس کے باپ لائی اوس کو ایک جرم کی سزا کے طور پر ملعون کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ ٹریزیئس، ایڈیپس کے بار بار بلانے پر اس کے دربار میں آ تو جاتا ہے لیکن کوئی بات بتانے سے احتراز کرتا ہے۔اس پر ایڈیپس اپنے جبلتی غصے میں آ کر اسے برا بھلا کہہ دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے نہ صرف باہر سے بلکہ اندر سے بھی اندھا کہہ دیتا ہے۔ اس کے علم کو جھوٹ اور فریب قرار دے دیتا ہے۔اس رسوائی پر ٹریزیئس کو بھی غیض آ جاتا ہے اور پھر وہ ایڈیپس کو صاف صاف الفاظ میں سنا دیتا ہے کہ شہر کی مطلوبہ ناپاکی وہ خود ہی ہے۔ وہ اسے کہتا ہے کہ آج کا دن اسے بتائے گا کہ وہ کون ہے اور کن لوگوں کے ساتھ شرمناک تعلق میں رہ رہا ہے۔ وہ اسے یہاں تک کہتا ہے کہ اندھا وہ نہیں بلکہ خود ایڈیپس اندھا ہے۔ وہ اسے یہ بھی کہتا ہے کہ آج تمھیں پتہ چل جائے گا کہ تمھارے ماں باپ کون ہیں۔

اس بزرگ کی اس بے باک گفتگو سے ایڈیپس بہت پریشان ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ اسے اپنے والدین کے متعلق شکوک و شبہات کا مسئلہ بچپن ہی سے درپیش تھا۔ اور آج ایک بار پھر یہ درویش اس کے منہ پر کہہ گیا تھا کہ آج کا دن اسے اس کے ماں باپ کی پہچان دے گا۔ایڈیپس غصے میں آ کر کہتا ہے کہ اگر وہ اندھا نہ ہوتا تو وہ کہتا کہ وہ خود ہی بادشاہ کا قاتل ہے ۔ ٹریزیئس کہتا ہے کہ اس کے والدین تو اسے بہت سمجدار سمجھتے تھے۔ اور اس کی عزت کیا کرتے تھے۔

ایک بار پھر ایڈیپس کو اپنے والدین کی بات چونکا دیتی ہے۔ اس طرح کی بحث کے بعد ٹریزیئس بلا خو ف اس دربار سے چلا جاتا ہے۔

تیسری بحث (ایڈیپس اورکریون کے درمیان)
جب ٹریزیئس جھگڑ کر چلا جاتا ہے تو کری اون سٹیج پر آ جاتا ہے جس پر ایڈیپس شک کرتا ہے کہ شاید ٹریزیئس کو یہ باتیں، جو وہ ایڈیپس کے سامنے ، اس کے متعلق لوگوں کے سامنے کہہ گیا ہے، کری اون نے سکھائی ہیں کہ وہ ایڈیپس کو ایسی باتیں کہے جس سے اس کا بھاگ جانا ضروری ہو جائے۔اسے ہی بادشاہ کا قاتل یا وہ ناپاکی قرار دے دیا جائے جسے وہ ڈھونڈ رہے ہیں تا کہ وہ خود ہی اپنے کئے ہوئے اعلان کے مطابق شہر چھوڑ جائے۔ ایڈیپس اس بات کا بر ملا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھاگنے والا نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ بادشاہتیں یا تو میدانِ جنگ میں جیتی جاتی ہیں یا پھر خطیر رقم کے عوض خریدی جاتی ہیں جبکہ کری اون،ایڈیپس کے مقابلے میں، ان دونوں میں سے کچھ بھی کرنے کااہل نہیں ہے۔ اس کی باتوں کو صبر سے سننے کے بعد کری اون کا پیمانہ ء صبر بھی لبریز ہو جاتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اسے بادشاہ بننے کی کیا ضرورت ۔ اسے وہ ساری مراعات ، جو ایک بادشاہ کی ہو سکتی ہیں، پہلے ہی حاصل ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتا ہے لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ اسے وہ سارا پرٹوکول حاصل ہے جو لوگ بادشاہ کو دیتے ہیں۔ بلکہ بادشاہ تک آنے سے پہلے لوگ اس کی حمایت حاصل کرتے ہیں تا کہ وہ بادشاہ سے اپنی بات زیادہ اعتماد اور یقین سے کر سکیں۔ اور یہ کہ اس پر بادشاہ جیسی کوئی ذمہ واری بھی نہیں ہے اور نہ ہی وہ بادشاہ کی طرح کسی پالیسی کے ماتحت ہے۔ وہ مکمل آزاد بھی ہے اور بادشاہ جیسی شان وشوکت سے بھی لطف انداز ہوتا ہے۔ اس لئے وہ پاگل نہیں ہے کہ اتنی آسان اور پر وقار زندگی کو چھوڑ کر مشکلات والی زندگی کی کوشش کرے۔

یہ جھگڑا ابھی اختتام پذیر نہیں ہوتا کہ ادھر سے ملکہ جو کاسٹا (Jocasta)تشریف لے آتی ہے۔وہ اس جھگڑے کو فوری طور پر سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے ۔ اور کری اون کو اپنے گھر چلے جانے کا مشورہ دیتی ہے تا کہ جھگڑا ختم ہو سکے۔ لیکن وہ جاننا چا ہتی ہے کہ جھگڑا آخر ہو کس بات پے رہا تھا۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ ڈیلفی سے اس طرح اورے کل آیا ہے جس کے مطابق بادشاہ کا قاتل تلاش کیا جانا ہے اور ٹریزیئس نے کہا ہے کہ وہ ناپاکی خودایڈیپس ہی ہے۔ کری اون کہتا ہے کہ اگر ٹریزیئس نے ایسا کچھ کہا ہے تو اس کا مہ وار وہ تو نہیں ہے ۔ اس بات کا جواب ایڈ یپس جانے۔ پھر کری اون جھگڑے کو درمیان میں چھورتے ہوئے ملکہ کے کہنے پر وہاں سے چلا جاتا ہے۔ لیکن یہاں سے ایڈیپس سے پہلے شہر تھیبز کے بادشاہ لائی اوس کے قتل اور اس کے قاتل کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں جن سے نئی بحث کا آغاز ہو جاتا ہے۔

چوتھی بحث (ملکہ اور ایڈیپس کے درمیان)
ملکہ ایڈیپس کو بتاتی ہے کہ اسے ڈیلفی وغیرہ کے اوریکل کی کبھی بھی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔ کیوں کہ خود اس کے پاس ایک بہت مضبوط ثبوت موجود ہے۔ وہ اپنی کہانی سنانے لگتی ہے کہ کس طرح ان کے متعلق پیش گوئی کہ گئی تھی کہ ان کا بیٹا اپنے باپ کو قتل کرے گا اور پھر اپنی ہی ماں سے شادی کرے گا۔ لیکن یہ پیش گوئی کبھی پوری نہیں ہوئی کیوں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو پیدا ہونے کے کچھ ہی وقت بعد مروا دیا تھا۔ایڈیس اس سے پوچھتا ہے کہ اسے بتایا جائے کہ اس سے پچھلا بادشاہ لائی اوس کہاں قتل ہوا تھا۔ اسے کس نے مارا تھا۔ وغیرہ۔ وہ بتاتی ہے کہ وہ ڈیلفی جانے کے لئے شہر سے نکلا تھا اور جہاں تین سڑکیں ملتی ہیں وہاں ان کے قافلے کو ڈاکوؤں کا ایک زبردست گروہ پڑا ، انہوں نے بادشاہ اور اسکے سارے ساتھیوں کو جان سے مار دیا تھا۔ صرف ایک غلام بچا ،جس نے واپس آ کر یہ ساری بات پورے شہر کے سامنے بتائی تھی۔ جب ملکہ اسے اس جگہ کا حوالہ دیتی ہے جہاں تین سڑکیں ملتی ہیں تو ایڈیپس کا ذہن اپنے ماضی کی طرف گھوم جاتا ہے۔ اسے ہلکا ہلکا یاد آ نے لگتا ہے کہ اس نے بھی وہاں ایک شخص کو اپنے ساتھیوں سمیت قتل کیا ہوا ہے۔ اس کے اندر ایک سرد لہر دوڑ جاتی ہے وہ خوف میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔ وہ ملکہ سے ایک اور سوال کرتا ہے کہ وہ بادشاہ کب قتل ہوا تھا۔ وہ بتاتی ہے کہ اس (ایڈیپس) کے تھیبز میں آنے سے کچھ دن پہلے ہی قتل ہوا تھا۔ اس سے اس کا احساس مذید مضبوط ہو جاتا ہے۔ پھر وہ پوچھتا ہے کہ بادشاہ کیسا لگتا تھا۔ ملکہ بتاتی ہے کہ وہ اس (ایڈیپس ) جیسا ہی تھا کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ اس سے ایڈیپس کو مذید تشویش ہوتی ہے کہ شاید وہ ہی پہلے بادشاہ کا قاتل ہے کیوں کہ یہ ساری باتیں تو اس کے ساتھ ہو چکی تھیں۔ وہ ملکہ کو صاف صاف تبا دیتا ہے کہ اس کے ہاتھوں بھی وہاں اور اسی وقت کے لگ بھگ قتل ہوئے تھے۔ لیکن وہ تو اکیلا ہی تھا جبکہ اس غلام کی رپورٹ کے مطابق ان کو ڈاکوؤں کا ایک گروہ پڑا تھا۔ ملکہ کہتی ہے کہ ہاں اس نے سارے شہر کے سامنے اس بات کا اعلان کیا تھا۔ ایڈیپس ملکہ سے کہتا ہے کہ اس غلام کو بلایا جائے تا کہ وہ خود اس سے انکواری کر ے۔ ملکہ اس غلام کو بلانے بھیج دیتی ہے۔ یہ باتیں ہو رہی ہوتی ہیں کہ ساتھ والی ریاست کورنتھ(Corinth) ایک پیغام رساں آتا ہے اور بتا تا ہے کہ ساتھ والی ریاست کورنتھ کا بادشاہ مر گیا ہے ۔ اس سے ایک نئی بحث کی شروعات ہو جاتی ہیں۔

پانچویں بحث (ایڈیپس اور پیغام رساں کے درمیان)
ساتھ والی ریاست Corinth جہاں کا ، ایڈیپس کے اپنے خیال کے مطابق، وہ رہنے والا ہے اور جہاں اس کے والدین رہتے ہیں ، سے ایک پیام رساں آتا ہے۔جو یہ کہتا ہے کہ وہ ایک ایسی خبر لایا ہے جو ان کو خوش بھی کرے گی اور غمگین بھی۔ ایڈیپس اس وقت محل کے اندر گیا ہوتا ہے اور صرف ملکہ ہی باہر ہوتی ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کورنتھ کا بادشاہ پالی باس(Polybus) مر گیا ہے۔ اور وہ ایڈیپس کو لینے آیا ہے کہ وہ وہاں آ کے حکومت کرے تا کہ وہ ، پیام رساں، اس سے کوئی مفادات حاصل کر سکے۔ اس بات کے سنتے ہی ملکہ جو کاسٹا خوشی سے جھوم جاتی ہے اور کہتی ہے کہ ان دیوتاؤں کی باتوں کا اب کون یقین کرے۔ ان کے اندر کوئی سچائی نہیں ہے۔ اگر کسی کی بات سچ ہو سکتی ہے تو وہ صرف بڑے دیوتا یعنی God ہی کی ہو سکتی ہے۔ وہ یہ بات سن کر اپنی ایک کنیز کو بولتی ہے کہ جلدی سے ایڈیپس کو باہر آنے کا پیغام دو وہ سنے کہ یہ پیغام رساں کیا کہہ رہا ہے۔ایڈیپس باہر آتا ہے تو وہ پیغام رساں اپنی بات دھراتا ہے کہ کورنتھ کا بادشاہ پالی باس(Polybus) مر گیا ہے ۔ اب وہ اور اس ریاست کے باقی لوگ چاہتے ہیں کہ ایڈیپس وہاں آکے حکومت کرے۔اس پر ایڈیپس کہتا ہے کہ اس کے متعلق جو ڈیلفی نے کہا تھا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کرے گا یا اس کا باپ اس کے ہاتھوں مرے گا تو ایسا تو نہیں ہوا ہاں اگر اس کا باپ اس کے غم میں مرا ہے تو وہ اپنے باپ کی ہلاکت کا ذمہ وار ہے۔ لیکن وہ اب بھی وہاں نہیں جا سکتا کیوں کہ اس کی ماں ابھی زندہ ہے اور کہیں دیوتاؤں کی بات پوری نہ ہو جائے یعنی وہ کہیں اپنی ماں سے شادی نہ کر لے۔جب وہ پیغام رساں یہ بات سنتا ہے کہ ایڈیپس اس عورت یعنی میروپ (Merope)کو اپنی ماں سمجھ کر وہاں نہیں جانا چاہتا تو وہ ایڈیپس سے کہتا ہے کہ اسے کس نے بتایا ہے کہ وہ میروپ اس کی ماں ہے۔ ایڈیپس کہتا ہے تو پھر وہ لوگ یعنی کورنتھ کے بادشاہ اور ملکہ اس کے کیا ہیں۔ پیغام رساں بتاتا ہے کہ وہ تو اس (ایڈیپس) کے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ایڈیپس اس سے کہتا ہے کہ وہ یہ بات کیسے کہہ سکتا ہے۔ پیغام رساں بتاتا ہے کہ وہ یہ بات اس بنیاد پر کہہ سکتا ہے کہ انہیں(بادشاہ اور ملکہ کو) ایڈیپس ،جب وہ ایک شیر خوار بچہ تھا،خود اس (پیغام رساں) نے دیا تھا۔ ایڈیپس حیران ہوتا ہے کہ اس نے ان کووہ بچہ کیوں دیا تھا۔ کیا وہ اس کا اپنا بچہ تھا یا کہیں سے ملا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ اس دن اس کا محافظ تھا ، اس نے اسے کتھیرن کی پہاڑیوں کے دامن میں پایا تھا۔ اس کے پاؤں میں سوراخ کئے گئے تھے تا کہ وہ ہل جل نہ سکے۔ ایڈیپس کہتا ہے اس نے وہ بچہ کس سے لیا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ تھیبز کا ایک گڈریا وہاں لایا تھا اور اس نے اسے چھوڑ کر جاناچا ہتا تا کہ وہ بچہ مر جائے کیوں کہ اس پر ایک لعنت تھی۔جس سے بچنے کے لئے اس کے ماں باپ اس کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔

چھٹی بحث (ایڈیپس، گڈریا اور پیغام رساں کے مابین )
اتنے میں وہ گڈریا بھی آجاتا ہے جسے باشاہ لائی اوس کے قتل کے متعلق بتا نے کے لئے بلایا گیا تھا۔ دراصل یہ وہی گڈریا تھا جس نے وہ بچہ اس دن کورنتھ کے گڈرئے کے حوالے کیا تھا۔جس کا ڈرامے میں نام پیغام رساں رکھا گیا ہے۔ وہ پیغام رساں گڈرئے کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے اسے بہت سال پہلے ایک بچہ دیا تھا۔ گڈریا اس بات کو دانستہ طور پر یاد کرنے سے گریز کرتا ہے۔ لیکن ایڈیپس اسے سختی سے کہتا ہے کہ اگر اس نے پیغام رساں کے سوالوں کے سیدھے سیدھے جواب نہ دئے تو وہ اس کی گردن کٹوا دے گا۔ وہ گڈریا ڈر جاتا ہے اور ایڈیپس اس سے سوالات پوچھتا چلا جاتا ہے۔ ملکہ اصل معاملہ بھانپ لیتی ہے اور پوری کوشش کرتی ہے کہ ایڈیپس کو حقیقت جاننے سے روک لے۔ وہ اس کی اس تفتیش کو اس کے لئے بہت تباہ کن جان چکی ہے اور ابھی تحقیق مکمل نہیں ہوئی کہ وہ اسے
Ah! miserable !
(آہ! بدحال)
قرار دیتے ہوئے اٹھ کے اندر چلی جاتی ہے ۔وہ بہت پریشان ہوتی ہے اور اس کے چہرے سے دل برداشتہ ہونا صاف جھلکتاہے۔ایڈیپس اس گڈریئے سے سوالات پوچھتا رہتا ہے اور آخر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ اسی گھر سے نکالا جانے والا بد قسمت بچہ ہے، جسے اس کے ماں باپ مروا دینا چاہتے تھے ۔ وہ وہی بد قسمت بچہ ہے جس کے متعلق دیوتاؤں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ یہ دو کام کرے گا یعنی باپ کا قتل اور ماں سے شادی۔ اور یہ دونوں کام وہ کر چکا ہے۔ اب اس کے لئے زندہ رہنے کا کوئی بہانہ نہیں۔ وہ بھی بھاگ کر اندر چلا جاتا ہے

یہاں ایڈیپس کے جذبات اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں اور وہ کہتا ہے:
O Light , may I look on you for the last time!
(اے روشنی میں تمھیں آخر ی بار دیکھ لوں!)

ساتویں بحث (دوسرا پیغام رساں)
اور پھر ایک دوسرا پیغام رساں اندر سے آتا ہے اور اندر ہونے والے انتہائی اندوھناک واقعات کا حال بتا تا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جب ملکہ اندر گئی تو وہ لائی اوس کے بستر کے پاس جا کر لائی اوس! لائی اوس ! پکارنے لگی اور اپنی کوکھ سے جنم لینے والے دوہرے پھل، یعنی بیٹا اور پھر شوہر ، حاصل کرنے کی بات کرتے ہوئے اس نے چھت سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ ایڈیپس کے اندر جانے سے پہلے وہ خود کشی کر چکی تھی۔ اور جب ایڈیپس کو کسی نے تلوار نہ دی اور نہ اندر جانے دیا تو اس نے اپنا جسم دروازے سے اس زور سے ٹکرایا کہ اس کے قبضے اکھڑ گئے، اس طرح دروازہ کھل گیا۔ جب دروازہ کھلاتواس نے دیکھا کہ ملکہ جو اس کی بیوی اور ماں بھی تھی چھت سے لٹکی ہوئی ہے۔ خودد کشی کر چکی تھی ۔ ایڈیپس نے اسے کھولا اور اس کے لباس میں لگی سجاوٹی سوئیاں(broaches) نکال کر اپنی آنکھوں میں اس زور سے ماریں کہ اس کی آنکھوں سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے وہ کہتا جاتا تھا :
No more,
No more shall you look on the misery about me,
The horrors of my own doing!
ـ (’مذید نہیں،
مذید نہیں، تم میری بدحالی کو دیکھ سکو گی
میرے اپنے کئے کا خوف!)

آٹھویں بحث ( ایڈیپس، کری اون، کریگس کے درمیان)
اس کے بعد آخری گفتگو ایک بار پھر ایڈیپس، کریگس اور کری اون کے درمیان ہوتی ہے۔ ایڈیپس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور اس سے خون رِس رہا ہے۔ وہ محل سے باہر جانا چاہتا ہے ۔ اس کی کرے گس(Choragos) ،جو کہ کورس کا سربراہ ہے، اور کری اون سے ملاقات دکھا ئی گئی ہے۔ جس میں وہ کری اون سے وعدہ لیتا ہے کہ وہ اس کی بچیوں کی خصوصی طور پر نگہداشت کرے گا ، اس کے بیٹوں کی خیر ہے کہ وہ مرد ہیں ان کا کسی نہ کسی طرح گزارہ ہو جائے گا، لیکن اس کی بچیوں کا کری اون کے سوا کوئی نہیں ہے۔ایڈیپس کی گزارش پر اس کے بچوں کو اس سے ملنے کے لئے لایا جاتا ہے وہ اور اس کے بچے آپس میں مل کر بہت روتے ہیں۔

ایڈیپس چاہتا ہے کہ کوئی اسے شہر کے گیٹ تک چھوڑ آئے لیکن کری اون کہتا ہے کہ اب اس نے اپنے آپ کو اندھا کر لیا ہے ، اب اس کے ساتھ سلوک کے متعلق ایک بار پھر ڈیلفی سے پوچھنا پڑے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ وہ محل کے اندر چلا جائے۔ ایڈیپس سے جب اس کے بچوں کو علیحدہ کیا جانے لگتا ہے تو وہ گزارش کرتا ہے کہ اسے ان کے ساتھ کچھ اور وقت گزار لینے دیا جائے۔ لیکن اس کی من مانی کی پرانی روش پر کری اون کو کہنا پڑتا ہے کہ اب وہ بادشاہ نہیں ہے اس لئے اسے دوسروں کی بات ماننی چاہیئے۔ یہاں سب کردار محل کے اندر چلے جاتے ہیں اس طرح ڈرامہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اگرچہ یہ بحثیں ہی ہیں لیکن ان مکالموں میں اتنی جان ڈال دی گئی ہے کہ وہ ایکشن کا لطف بھی دیتے ہیں۔ان مکالموں میں بوریت کا وہ عنصر نہیں جو کہ بہت سے ادبی فن پاروں کے ماحول میں محسوس کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ڈرامہ نگاری میں مکالمہ نگاری اپنے طور پر ایک بڑا فن ہے۔ بڑا ڈرامہ نگار وہی ہوتا ہے جو ڈرامے کے تمام لوازمات پر پوری گرفت رکھتا ہو اور خاص طور پر مکالمہ نگاری جس کی ہر قدم پر ڈرامہ نگار کو ضرورت ہوتی ہے۔سوفوکلیز نے اس فن میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ ڈرامہ نگار کو داد دئے بغیر رہا نہیں جاتا اور محسوس ہوتا ہے کہ اصل فن صفحات بھر دینا نہیں بلکہ ذہنوں کو دبوچ لینا ہوتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 177087 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
25 Jul, 2016 Views: 866

Comments

آپ کی رائے