راجہ فاروق حید خان کی پہلی آزمائش

(Ghulam Ullah Kiyani, )
وزیراعظم کے دائیں طرف راجہ ظفر الحق، چوھدری نثار، محمد اسحٰق ڈار، خواجہ آصف، بائیں طرف سردار سکند ر حیات خان، راجہ فاروق حید ر خان نشستوں پر براجمان تھے۔ سامنے پہلی نشستوں پر ایک طرف سینیٹر پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، چوھدری برجیس طاہر، سردار مہتاب خان عباسی، حافظ حفیظ الرحمان، خواجہ صدیق الفاروق جبکہ دوسری طرف اور عقب میں آزاد کشمیر کے نو منتخب ارکان اسمبلی بیٹھے تھے۔ یہ نشست آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لئے مشاورت سے متعلق طلب کی گئی تھی۔ اس میں جب راجہ فاروق حید ر کو وزیراعظم نامزد کرنے کا اعلان ہوا تو ارکان نے تالیاں بجا کر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

چیف جسٹس(ر)منظور حسین گیلانی صاحب کے بقول یہ فیصلہ خوش آئیند، عوامی جذبات اور راجہ صاحب کے استحقاق کا عکاس ہے۔۔۔نئی حکومت اور مسلم لیگ ن کی پارٹی لیڈر شپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ جن وجوہات کی بنا پر پی پی پی کے خلاف ووٹ عوام نے ن لیگ کو ووٹ ڈالا، ان کو نہ دہرایا جائے، جو ووٹ ن لیگ کے خلاف پڑے ہیں ، ان پر بھی غور کیا جائے۔

راجہ فاروق حیدر خان کے قیادت میں مسلم لیگ ن کا آزاد کشمیر میں قیام اور انتخابات میں پہلی کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ اس میں سردار سکندر حیات خان، شاہ غلام قادر سمیت لیگی کارکنوں کی محنت شامل ہے۔ مسلم کانفرنس آزاد کشمیر کی ریاستی جماعت تھی۔ اسے ہمیشہ ہی اہمیت دی گئی۔ مگر اس کی ٹوٹ پھوٹ نے ریاستی جماعت کی برتری کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ مرحوم سردار عبد القیوم خان صاحب کی بصیرت اور سیاسی پختگی تھی جس وجہ سے مسلم کانفرنس متحد رہی۔ ان کے فرزند سردار عتیق احمد خان پر پارٹی کو توڑنے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ عتیق صاحب مخلص، سنجیدہ اور تحریکی رہنما ہیں۔ مگر وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام ہو گئے۔ مسلم کانفرنس کا سارا ووٹ بینک مسلم لیگ ن کے قبضے میں آچکا ہے۔ آج کے دور میں اکثریت میں لوگ چڑھتے سورج کے پجاری بن جاتے ہیں۔ نظریات اور اقدار مادیت تلے دب رہے ہیں۔ اس صورتحال میں عوام نے ووٹ میاں نواز شریف کے ترقیاتی پروگرام کو دیا ہے۔ مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ پالیسی اختیار کرنے کی طرف اسلام آباد کو متوجہ کیا گیا ہے۔

میاں نواز شریف مریض دل تھے۔ بیرون ملک علاج اور صحت یابی کے بعد وہ لاہور سے اسلام آباد پہنچنے کے فوری بعد کشمیر روانہ ہوئے۔ مظفر آباد سے پہلی بار انھوں نے واضح پیغام دیا۔ کشمیر کی آزاد ی کی بات کی۔ تحریک آزادی کے نعرے لگوائے۔ جس پر بھارت کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کشمیر میں اس وقت حالات کشیدہ ہیں۔ نئی نسل کسی بھی صورت میں بھارت کو مزید مہلت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ وہ پاکستان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ کہیں ایک بار پھر بھارت دنیا کو گمراہ نہ کر سکے۔ بھارت کی کوشش ہو گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ فوری طور پر دو طرفہ بات چیت شروع کرے۔ تا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کی وجہ سے دنیا میں اجاگر تحریک کو دبایا جا سکے۔ بھارت دنیا کو کشمیر سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان اور بھارت مل کر مسلہ حل کر لیں گے۔ لیکن دباؤ ختم ہوتے ہی نئی دہلی حکومت مکر جاتی ہے۔ وہ آزاد کشمیر پر بھی قبضے کی دھمکیاں دینے لگتے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستان اس بار بھارت کے فریب میں نہیں آئے گا۔ وہ ٹال مٹول اور وقت گزاری سے کام لے رہا ہے۔

سرینگر میں قتل عام کے دوران آزاد کشمیر میں اقتدار کی سیاست کوئی اچھا تاثر بالکل نہ تھا۔ یہ توقع تھی کہ سرینگر میں قتل عام کی وجہ سے مظفر آباد والے احتجاجاً انتخابات ملتوی کر دیں گے۔ لیکن جس طرح انتخابی عمل متاثر نہ ہوا۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ یہ الیکشن اسی وجہ سے منعقد ہو رہا ہے کہ اس سے موجودہ مزاحمتی تحریک کو عروج ملے گا۔ انتخابی مہم کے دوران کشمیری تہذب وتمدن کا بھی گلا دبایا گیا۔ جس کسی سے بات ہوئی ۔ یہی کہا کہ انتخابات مکمل ہوں تو اس کے بعد سب تحریک آزادی کے فروغ میں شامل ہو جائیں گے۔ لیکن شاید یہ باتیں درست نہ تھیں۔ اس وقت آزاد کشمیر میں اقتدار جنوب و شمال ، علاقوں، برادریوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ یہ افسوسناک رحجان ہے۔ اگر میرٹ کو پامال کرتے ہوئے عہدوں کی بند بانٹ کی گئی تو یہ روایتی کام ہو گا۔ کشمیر تقسیم در تقسیم ہوں گے۔ اس قوم کو مختلف خانوں میں منقسم کر دیا گیا ہے۔

اگر آپ تعلیم کی وزارت صرف خانہ پری کے لئے کسی ان پڑھ کو دیں گے، یا وزارت قانون و انصاف اسے دیں گے جسے قانون کا بالکل ہی ادراک نہ ہو، یا وزارت خزانہ مالیات اور معاشیات سے نابلد افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے، تو اس سے یہاں کا نطام مزید تباہ ہو گا۔ کشمیر لبریشن سیل ، ترقیاتی اداروں کو نا اہل لوگوں کے حوالہ کرنے سے کیا ہو گا۔ صرف خاندانی یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر یا تعلقات نبھانے کے لئے اداروں کو گروی رکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ را جہ فاروق حید ر خان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ کھرے اور منہ پھٹ سیاسی رہنما ہیں۔ اس بات کا انحصار ان کے مشیروں پر ہے کہ وہ صر ف جی حضوری اور چاپلوسی سے کام لیں گے یا پھر ازموں سے بالا تر ہو کر عوام کی خدمت اور تحریک آزادی کے لئے مخلصانہ کام کرنے پر توجہ دیں گے۔

اسلام آباد میں منعقدہ مسلم لیگ ن کے اس اجلاس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کی کابینہ مظفر آباد حکومت کی مکمل سر پرستی کرے گی۔ آزاد کشمیر کیلئے جلد ترقیاتی پروگرام کا اعلان ہو گا۔ توانائی منصوبوں میں تیزی لائی جائے گی۔ سیاسی انتقام کے بجائے میرٹ کی بالا دستی اور گڈ گورننس پر بھر پور توجہ دی جائے گی۔ اداروں کو فعال اور منافع بخش بنانے کے لئے ہر آپشن آزمایا جائے گا۔ تحریک آزادی کشمیر کے لئے اس خطے کو صحیح معنوں میں بیس کیمپ میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ تا کہ مقبوضہ ریاست میں مزاحمت کی موجودہ لہر 2008اور 2010کی عوامی تحریک کی طرح تحلیل نہ ہو سکے۔ کشمیری نوجوان فیصلہ کن جنگ آزادی کا تہیہ رکھتے ہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کا عملی اظہار یک جہتی مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہو گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان کو اس آزمائش میں سر خرو ہونے کے لئے کتنا وقت درکار ہو گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 589 Articles with 231193 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
29 Jul, 2016 Views: 330

Comments

آپ کی رائے