ایسا کیوں ہے؟

(Prof Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)
کسی بھی ملک میں معاشرتی اقدار اس کے تہذیب و تمدن کی عکاس ہوا کرتی ہیں معاشرے کے امور کی بنا پر ہی اس معاشرے کے لوگوں کے بارے میں خیالات اور رائے منظر عام پر آتی ہیں اور معاشروں کی اکثریت کا بنظر غایت مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ تقریبا تمام معاشرے بہت سے معاملات اور معمولات میں ایک دوسرے سے میل کھاتے ہیں ان کا تعلیمی نظام، صحت کا نظام ،ٹرانسپورٹ کے قواعد، لین دین کے معاملات ، اقتصادی و معاشی سسٹم بھی ایک دوسرے سے قریب قریب ہوتے ہیں اور بین الاقوامی اصولوں ضابطوں اور قاعدوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان کے ساتھ چلنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن جس معاشرے میں ہم بادل نخواستہ جی ر ہے ہیں اپنی سانسوں کو مستعار رکھ کر زندگی کے دن گزار رہے ہیں اس معاشرے میں تمام نظام دنیا سے الگ بلکہ الٹ ہیں ویسے تو ہم دنیا کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہیں یورپ امریکا برطانیہ و دیگر ممالک کی تقلید و نقل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن جب بات عوام کی فلاح و بہبود کی آتی ہے تو یہاں پر اصول الٹ جاتے ہیں سر نیچے ٹانگیں اوپر اٹھ جاتی ہیں مثال کے طور پرمعیشت کا اصول پوری دنیا میں نافذ ہے کہ جس بھی جنس چیز یا آئٹم کو آپ جتنی زیاد ہ مقدار میں خریدیں یا فروخت کریں گے اتنا ہی کم ریٹ آپ کو دینا یا لینا پڑے گا۔ جتنی کم بجلی استعمال کریں گے اتنا زیادہ بل آئے گا جس چیز کی جتنی زیادہ ڈیمانڈ ہوگی جتنی زیادہ مارکیٹ میں ہوگی اتنی ہی سستی ہوگی لیکن پاکستان میں سب الٹ ہے جتنی زیادہ بجلی استعمال کروگے اس کا بل اتنا ہی زیادہ آئے گادو سو یونٹ تک اگر بل تین ہزار روپے ہے تو دو سو ایک یونٹ کا بل چار ہزار روپے ہوگا یعنی کھپت زیادہ ہونے پر قیمت یکدم سے ضرب کھاتی ہے گیس، پٹرول و دیگر ضروریات زندگی کے شعبہ ہائے جات جو کہ گورنمنٹ کے زیر کنٹرول چل رہے ہیں ان سب کا باوا آدم ہی الٹ اور نرالاہے۔عوام کے زیراثر چلنے والے نظام پھر بھی قابل برداشت ہیں اسی طرح ایک پاکستانی سیاستدان دو یا دو سے زائد حلقوں سے بیک وقت الیکشن لڑ سکتا ہے، مگر ایک پاکستانی شہری دو حلقوں میں ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتا۔ ایک شخص جو جیل میں قید ہے ووٹ نہیں دے سکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان جیل میں ہونے کے باوجود بھی الیکشن لڑ سکتا ھے۔ ایک شخص جو زندگی میں جھوٹا سا سچاکبھی جیل گیاہو وہ کبھی سرکاری ملازمت حاصل نہیں کرسکتا مگر ایک پاکستانی سیاستدان یا بیوروکریٹ کتنی بار بھی جیل جاچکا ہو اس ملک کا صدر، وزیراعظم، ایم پی اے، ایم این اے یا کوئی بھی عہدہ حاصل کرسکتا ہے۔ بینک میں ایک معمولی ملازمت کیلئے آپ کاگریجویٹ ہونا لازمی امر ہے مگر ایک پاکستانی سیاستدان فنانس منسٹر بن سکتاہے چاہے وہ انگوٹھا چھاپ ہی کیوں نہ ہو، فوج میں ایک عام سپاہی کی بھرتی کیلئے دس کلو میٹر کی دوڑ لگانے کے ساتھ ساتھ جسمانی اور دماغی طور پر چست و توانا اور درست ہونا بھی ضروری ہے مگر ایک پاکستانی سیاستدان اگرچہ ان پڑھ، عقل سے پیدل، مخبوط الحواس ،فاتر العقل ،لاپرواہ، پاگل، لنگڑا یابیمارہی کیوں نہ ہو وہ وزیراعظم یا وزیر دفاع بن کر آرمی، نیوی اورایئر فورس کے سربراہ کا کردار ادا کرنے کا اہل ہوجاتا ہے۔ایک پٹواری کی پوسٹ پر مقرر ہونے پر بھرتی ہونے والا شخص کسی بھی ضلع کا ڈی سی او بن کر اس ضلع کے تمام محکموں کی باگ ڈور سنبھال کر تگنی کا ناچ نچا رہا ہوتا ہے حالانکہ اسے بہت سے محکموں کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہوتی حتی کہ انسانی جذبات و احساسات اور اخلاقی اقدار بھی اسے چھوکر نہیں گزرتی۔ اس طرح بھی ہوتا ہے کہ کسی سیاستدان کے پورے خاندان میں سے کبھی کوئی سکول کے پاس سے بھی نہ گزرا ہومگرپھر بھی ایسا کوئی قانون نہیں جو اسے وزیر تعلیم بننے سے روک سکے۔ ایک پاکستانی سیاستدان پر اگرچہ ہزاروں مقدمات عدالتوں میں اس کے خلاف زیر التوا ہوں وہ تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا وزیر داخلہ و وزیر قانون بن کر سربراہ بن سکتا ہے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ الٹی گنگا ہمارے ہی ملک میں کیوں بہہ رہی ہے کیوں ہمار ے ملک میں قانون اور اس پر عملداری مذاق بن کر رہ گئی ہے کیوں غریب کیلئے الگ اور امیر کیلئے الگ قانون ہے جوتا چرانے والے کا مار مار کر بھرکس نکال دیا جاتا ہے جبکہ کروڑوں روپے لوٹنے والوں کوسر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے ملکی و قومی مجرم دندناتے پھرتے ہیں بے گناہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں ان سب میں قصوروار عوام ہیں جو ہر حالت میں خوش ہیں حقوق مل رہے ہیں تو خوش ،نہ مل رہے ہیں تو خوش،سہولیات میسر ہیں تو جی بسم اﷲ میسر نہیں ہیں تو خیر سلا،صحت تعلیم ٹرانسپورٹ سستی ہے کہ مہنگی بولنا نہیں حقوق کیلئے نکلنا نہیں حقوق کیلئے جدوجہد نہیں کرناجوتے کھانے ہیں سوجانا ہے یا پھر رونا رو کر خاموش ہوجانا ہے بس۔ اگر یہی روش رہی تو پھر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اور اگر بدلنا ہے تو شعور و آگاہی کا سبق حاصل کرکے اپنے حقوق کیلئے کھڑا ہونا پڑیگا-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 121224 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More
29 Jul, 2016 Views: 386

Comments

آپ کی رائے