پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
 دادی جان، ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مزید کچھ باتیں بتائیں۔
عائشہ، عمیر اور زبیر نے یک زبان ہو کر کہا۔
بچو، بتاتی ہوں، لیکن کل جو باتیں میں نے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کو بتائی تھیں، کیا وہ آپ تینوں کو یاد ہیں۔
جی دادی جان، یاد ہیں۔
عائشہ، آپ بتاؤ کہ ظہور اسلام سے پہلے عربوں کی کیا حالت تھی۔
دادی جان، ظہور اسلام سے پہلے عرب میں لوگ بہت سی برائیوں میں مبتلا تھے، بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیتے تھے، ان میں معمولی معمولی باتوں پر جھگڑا ہوجاتا جو بڑھتے بڑھتے قبائلی دشمنی کی صورت اختیار کرلیتا اور عرصہ تک جاری رہتا، شراب پینا، جوا کھیلنا اور ناچنا گانا ان میں عام تھا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں آخری نبی بنا کر بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی آخری کتاب قرآن مجید کو نازل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عرب کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے ایک اللہ کی عبادت کرنے کو کہا اور دین اسلام کی دعوت دی۔
زبیر، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کب اور کہاں پیدا ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کا کیا نام تھا۔
دادی جان، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول کو صبح صادق کے وقت عرب کے شہر مکّہ کے قبیلہ بنو قریش میں پیدا ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا نام آمنہ تھا۔
عمیر، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچّوں کے ساتھ کس طرح پیش آتے تھے۔
دادی جان، بچّوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت محبّت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچّوں کے قریب سے گزرتے تو کمال شفقت سے ان کو سلام کرنے میں پہل کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچّوں کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بچّوں پر رحم نہ کرے۔
ماشاءاللہ آپ تینوں کو کل والی تمام باتیں یاد ہیں، اب میں آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مزید باتیں بتاتی ہوں، غور سے سنو گے اور اس پر عمل بھی کرو گے، وعدہ۔
جی دادی جان، وعدہ! تمام بچّوں نے مل کر کہا۔ تو سنو۔ اللہ تعالیٰ نے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حسن و جمال دیا تھا، اس کے متعلق حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، آپ کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا گویا سورج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس میں رواں دواں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید روشن تھا، پسینے کی بوند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ایسی نظر آتی تھی جیسے موتی۔
کفّار مکّہ اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے، پھر بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور امین کے لقب سے پکارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہ بولا اور سچ بولنے کی تاکید فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سچائی نجات دلاتی ہے اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچپن سے ہی جھوٹ بولنے والوں سے ملنا جلنا پسند نہ فرماتے تھے۔ پیارے بچو، گالی دینا بھی بہت بری عادت ہے، اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و شکر کی حالت یہ تھی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بقول بعض دفعہ ایک ہفتے تک گھر میں چولہا نہ جلتا تھا صرف کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا تھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی صبر کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے انتہا خوش اخلاق تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح کے بھی بہت سے واقعات ہیں۔
غرض کہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام خوبیاں اور اچھائیاں جو پہلے انبیاءعلیہم السلام میں تھیں وہ خوبیاں اور اچھائیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کردی تھیں۔
پیارے بچو، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر چلیں، جس کام کو کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے خود بھی اس کام سے بچیں اور دوسروں کو بھی اس کام سے بچنے کی تلقین کریں،اسی میں ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 355278 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
31 Jul, 2016 Views: 706

Comments

آپ کی رائے