مقبوضہ کشمیر میں آزادی کاحق مانگنے والے پر ہونیوالے ظلم سے انسانیت بھی شرما گئی

(Sardar Asghar Ali Abbasi, )
وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی جانب ماضی میں بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بھر پور حمایت کی گئی اور کشمیری عوام کا جدوجہد آزادی میں بھر پور ساتھ دیا گیا تاہم اب ایک بار پھر وزیراعظم کی جانب سے اس عزم کا اظہار کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ہر طرح سے انکے ساتھ ہیں اور نہ صرف ساتھ ہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسئلے میں اہم فریق اور کشمیریوں کا وکیل ہے اور کشمیریوں کی آزادی کا مقدمہ بھر پور انداز میں لڑے گا ایک خوش آئند تاہم اس پر جلد سے جلد عملدرآمد ہونا بہت ضرورت ہے کیونکہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اسے دیکھ کر تو انسانیت بھی شرما کے مارے پانی کی پانی ہو چکی ہے ۔

8جولائی2016 کو مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع انت ناگ کے ککرناگ علاقہ میں حزب کے کمانڈر برہان وانی اور اسکے 2قریبی ساتھیوں کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر کا نقشہ ہی بدل دیا ہے اور اب کشمیری ہر صور ت اپنا حق خود ارادیت لینے کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہیں اب تک 70سے زائد معصوم کشمیری بھارتی فورسز کی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں ۔

سری نگر کے علاقے مظفر گنائی جی ایم سپوری کے این ایس میں ہڑتال کو آج22واں روز ہو گیا مقبوضہ وادی میں زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جبکہ ہمہ گیر ہڑتال اور کرفیو کے باعث بازاروں میں سناٹا ہے جبکہ تمام شاہراہیں جو مقبوضہ وادی کے طول و عرض میں موجود ہیں وہ بھی سنسان نظر آتی ہیں جبکہ مقبوضہ وادی میں موبائل سروس بھی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے اسکے علاوہ سفرکے لئے بھی کوئی سواری درکار نہیں ہے مسلسل چار روز سے ریلوے سروس بھی مکمل طور پر بند ہے حتی کہ ایمبو لینس تک کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے کئی معصوم کشمیریوں کی جانیں خطرے میں پڑی ہوئی ہیں جبکہ کئی بیمار گھروں میں سسکیاں لے رہے ہیں مگرانہیں ہسپتال تک پہنچانے کیلئے کوئی سہولت میسر نہیں حتی کہ پیدل لے کر جانا بھی محال ہے جگہ جگہ خار دار تاریں لگا کر راستوں کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پیدل بھی گزر ا نہیں جا سکتا جبکہ کرفیو لگا کر مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی زندگی کو مزید اجیرن کر دیا گیا ہے اوربیمار ہو یا صحت مند اب کوئی بھی کشمیری گھر سے باہر نہیں نکل سکتا کیونکہ بھارتی سیکورٹی فورسز کے مسلح اہلکار ہر گلی ہر کوچے میں جگہ جگہ انتہائی مہلک گیسیں اور مہلک ہتھیار لئے کھڑے ہیں اور بات یہیں تک ختم نہیں ہورہی بھارتی فوج نوجوانوں کو تلاش کر کے نا معلوم مقام کی طرف منتقل کر رہی ہے اور پھر انکی نعشیں واپس گھروں کو بھیج رہی ہے ہر گھردوسرے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور تمام کشمیری مائیں ،بہنیں ،بیٹیاں اوربوڑھے ،نوجوان سبھی نوحہ کناں ہیں مگر انکی یہ آہ زاری کسی کو سنائی ہی نہیں دے رہی ۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں کرفیو اور دیگر اقدامات انتہائی سخت کر دیئے گئے ہیں جبکہ بٹہ مالو اور چھانہ پورہ سمیت دیگر علاقوں میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے بربریت کی نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش ابھی بھی جاری ہے ۔گزشتہ بد ھ کوحریت رہنماؤں سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی درندگی اور جارحیت کیخلاف ایک مارچ کا اعلان کیاجس پر بھارتی فورسز نے انہیں پابند سلاسل کر دیا ہے سید علی گیلانی عمر رسیدہ شخصیت ہیں جبکہ دوسری جانب بھارت کے جیل نما عقوبت خانوں میں رہ رہ کر انکی صحت بھی خراب ہو چکی ہے مگر بھارت انسانیت کے معیار سے اتنا گر چکا ہے کہ وہ اس بزرگ رہنما کو بھی پابند سلاسل کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا اور انہیں بھی پابند سلاسل کر کے اپنی بربریت کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔حریت رہنماؤں کی جانب سے مارچ کی کال پر بھارتی سیکورٹی ادارے اتنے خوفزدہ تھے کہ سرینگر شہر میں 8تھانوں کی پولیس بشمول خانیا،رعناواری،نوہٹہ،مہاراج،گنج،صفا کدل،کرالہ کھڈ،مائسمہ سمیت متعدد علاقوں میں فوج ،پولیس اور سی آر پی ایف اہلکارصبح صادق سے ہی سڑکوں پر دھنادھناتے پھر رہے تھے جبکہ ان تمام علاقوں میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں تاکہ حریت رہنماؤں کی جانب جس مارچ کا اعلان کیا گیا تھا اسے مکمل جبری قوت کے ساتھ کامیاب نہ ہونے دیاجائے جو کہ بھارتی حکومت اور سیکورٹی اداروں کی بھول تھی۔بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں صرف فوج ہی تعینات کر کے ظلم و بربریت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مقبوضہ کشمیر کے بہادر اور غیور کشمیریوں کی زندگی کو مزیدتنگ و تاریک بنانے کیلئے وہ انسانیت سوز مظالم شروع کر رکھے ہیں جن کی تاریخ کہیں بھی نہیں ملتے ایک جانب نوجوانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب زہریلی گیس سنگیاری اور ٹیئر کے شیل بھی نہتے کشمیریوں کی بستیوں میں برسائے جا رہے ہیں وہ کشمیری جو صرف اپنی آزادی کا حق مانگ رہے ہیں ان پر اس سے بھی آگے کی بربریت جاری ہے کہ مقبوضہ وادی میں رہائش پذیر کشمیریوں کو گھروں کے اندر محصور کر دیا گیا ہے اور ایک جانب ان پر زہریلی گیسوں کے شیل پھینک جا رہے ہیں تو دوسری جانب تمام بازاروں اور گلی محلے کی دوکانوں کو بھی زبردستی بند کر دیا گیا اور یوں بھارت حقوق انسانی کی وہ آخری حد بھی پار کر گیا ہے جس کا ارتکاب آج سے پہلے شاید کسی نے نہ کیا ہو ۔زہریلی گیسوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فورسز مرچی گیس کا بھی کھلے عام استعمال کر رہی ہیں اور یوں کشمیریوں پر ہونیوالے ظلم کی تاریخ جب بھی پڑی جائے گی تو پڑھنے والے کی آنکھوں کے آنسوں تھم نہیں پائیں گے ۔

مقبوضہ کشمیر کے بہادر کشمیری نوجوان بیٹے ،بیٹیاں اور بوڑھے بزرگ ،خواتین حتیٰ کہ معصوم بچے بھی اپنی آزادی کا حق حاصل کرنے کیلئے بھارت کی تمام ترظالمانہ کارروائیوں کے آگے ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں اور ہر ظلم کے بعد انکا حوصلہ مزید بلند ہو جاتا ہے اور وہ کرفیو کی سختیوں ،زہریلی گیسوں کے انسانی صحت پر اثرات اور سیکورٹی فورسز کے انسانیت سوز مظالم کسی سے بھی نہیں گھبرائے حتی کہ بھارت نے ان سے زندہ رہنے کا آخری حق بھی چھین لیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آج شدید غذائی قلت ہے مگر اسکے باوجود وہ بھارت کی لاکھوں کی فوج کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں یہ فولادی عزم اب بھارتی فوجیوں کو چکنا چور کر چکا ہے اور بھارتی سیکورٹی فورسز اب اتنا ظلم کر چکی ہیں کہ وہ خود اذیت کا شکار ہو چکی ہیں ۔حال ہی میں سری نگرکے علاقے کولگام میں62آر آر کے میجر ہر بندرنے تنگ آکر خود کو گولی مار دی۔

قارئین……!! ظلم کی داستانیں تو اتنی ہیں کہ بیان سے باہر ہیں تاہم انکی ایک جھلک ان دو سانحات میں آپ بخوبی محسوس کر سکتے ہیں کہ بھارتی سیکورٹی فورسز مرحوم اسداﷲ ڈار گھر میں بھی داخل ہوئے اور انکی95سالہ معمر بیوہ حاجرہ بیگم کوشدید تشدد کا نشانہ بنایا تشدد کے باعث وہ بیہوش ہو گئیں اور 6روز تک نیم بیہوشی کی حالت میں شہادت کا جام نو ش کیاجبکہ اسی طرح کا ایک اور واقعہ قارئین کی نظر کرتا چلوں کہ کھمنوہ کا رہنے والا نوجوان سمیراحمدجس کا کوئی جرم نہیں اسے صرف جوان ہونے کی سزا دی گئی اور بھارتی فوجیوں نے اس نہتے نوجوان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اس کو صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ منتقل کیا گیا ہم سمیر احمد بھی بھارتی درندگی کا شکار بنا اور جام شہاد نوش کر گیا۔ صورہ انسٹی ٹیوٹ اور صدر اسپتال جو کہ مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور نہ جانے کب درندہ صفت بھارت ان پر بھی کوئی قدغن لگا دے اس میں اب بھی درجنوں زخمی نوجوان اور عمر رسیدہ افراد موجود ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے ۔

بھارتی حکومت کی جانب سے مسلسل وسرے ہفتے بھی وادی میں نجی مواصلاتی کمپنیوں کی طرف سے فراہم کی جارہی موبائیل فون اور انٹرنیٹ سہولیات کو معطل کر دیا گیا ہے -

بانڈے باغ ،سرڑ ،ناگہ بل کے علاقوں میں بھی کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فرعون ،نمرود کی جانب سے کئے مظالم اب بہت نچلے درجے میں نظر آتے ہیں کیونکہ جو ظلم بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر کر رہا ہے ان مظالم کو دیکھ کر ماضی کے مظالم کا معیار چند درجے پیچھے کو جاتا دکھائی دیتا ہے ۔

بانڈی پورہ ،بارہ مولہ ،کپواڑہ ،ہندواڑہ ،ترہگام ،رفیع آباد ،کرالہ گنڈ ،بڈگام ،خانصاحب ،کھاگ ،ٹنگمرگ ،کنزر ،پٹن ،کلن ترہ ، ترال ،پانپور کے علاقوں میں رہنے والے کشمیری اس وقت زندگی کی آخری سانسوں کو پہنچتے نظر آرہے ہیں کیونکہ بھارتی درندے انہیں اپنے گھروں سے نکلنے نہیں دے رہے اور نہ ہی انہیں کھانے کی کوئی اشیاء باہر سے لانے کی اجازت ہے جبکہ تمام بازاروں میں بھارتی درندے مختلف قسم کے سیکورٹی ملبوسات پہنے ابلیس کے ساتھ وفادار ی نبھا رہے ہیں اور کشمیریوں کواپنے گھروں میں محصو ر کر کے رکھ دیا گیا ہے مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کے باعث اب کشمیری اپنی آواز بین الاقوامی فورم پر بھی نہیں پہنچا سکتے ۔

قارئین……!!یہ اوپر بیان کئے جانیوالے واقعات دراصل اس اقوام عالم کی آنکھیں کھولنے کی ایک کوشش ہے کہ دنیا بھر میں امن کا پرچار کرنے اور حقوق انسانیت کا درس دینے والی تنظیموں کو کونسا سانپ سونگ گیا ہے کہ جو اتنے بڑے ظلم پر اپنے لب نہیں کھولتیں ظاہر ہے ایسی حقوق انسانی کی بات کرنیوالی تنظیمیں اپنے لب کیسے کھول سکتی ہیں جو یہود و ہنود کے دیئے ہونے فنڈز پر پلتی ہوں مقبوضہ کشمیر میں22دن سے انسانیت کا قتل ہو رہا ہے معصوم اور نہتے کشمیریوں پرہونیوالے ظلم دیکھ کر آج انسانیت بھی شرما گئی ہو گی اور روگئی ہو گی مگر یہ کیسا اقوام عالم ہے یہ کیسا معاشرہ ہے یہ کیسی اقوام متحد ہے یہ کیسی او آئی سی ہے یہ کیسی این جی اوز ہیں اور یہ کیسے مذاہب کے پیشوا ہیں اور یہ کیسے علاقائی ،قومی اور عالمی سیاستدان ہیں کہ اس ظلم پر لب سی چکے ہیں اور ایک لفظ بھی کہنے سے دریغ کررہے ہیں ابھی تک کسی انسانی حقوق کی تنظیم کا کوئی مذمتی بیان نہیں آیا اور نہ ہی اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے ظلم پر کوئی اقدام اٹھانے کی جستجو کی ہے ۔

انسانی حقوق کے نام پر کام کرنیوالی دنیا بھر کی تنظیموں کو کشمیریوں پر ہونیوالے اس ظلم پر ترس نہیں آرہا ہے کوئی بھی تو اس پر کھل کر بات نہیں کرتا سبھی مشرق و مغرب کے القاب کو ملاکر باتیں کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور بیچارے کشمیری بھارتی ظلم کی چکی میں گیہو کی طرح پستے جا رہے ہیں ۔

قارئین……!! آج22دن سے ایک جانب جان لیوا گیسوں کے شیلوں سے مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کی صحت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو دوسری جانب بھارتی سیکورٹی فورسز کے درندے اور انسان کے روپ میں شیطان جس طرح سے اپنی گولیوں سے نوجوان زندگیوں کو لقمہ اجل بنا رہے ہیں اور بات صرف ادھر ہی ختم نہیں بچوں کو ،بچیوں کو عمر رسیدہ افراد کو کسی کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا کسی پر رحم نہیں کھایا جا رہا ۔پورا سلامی ممالک پر مشتمل بلاک سویا ہوا ہے اور کوئی اسلامی ملک ان کشمیریوں کی مدد کو تیار نہیں سب صیہونی طاقتوں کے جال میں اس طرح سے پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے بس ہر کوئی اخباری تراشوں کا ریکارڈ بنانے کیلئے بیان تک محدود ہے یا پھر کچھ ریلیوں اور کانفرنسوں اور سیمینارز تک محدود ہیں مگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا ۔کشمیریوں کا یہ جرم ہے کہ وہ بھارتی بندوقوں کے آگے شیر کی طرح پاکستان زندہ باد ،اسلام زندہ باد ،نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہیں اور اپناپیدائشی حق ِ آزادی مانگ رہے ہیں۔ اور کیا دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور اسلامی تنظیمیں بھی آج کہاں سوئی ہوئی ہیں جو طرح طرح کے محاذوں پر اسلامی بھائیوں کی مدد کو تیار رہنے کے دعوے کرتی ہیں آج و ہ کدھر ہیں آج کشمیر جل رہا ہے اور خون کے آنسو رونے والے ان کشمیریوں کے عزم میں ایک چٹکی بھر بھی کمی نہیں ہو رہی اور ہر ظلم کے ساتھ بہادر کشمیریوں کا عزم بڑھتا جا رہا ہے ۔

عالمی طاقتوں نے جہاد کو خود اپنا لیا ہے اور امن ہمارے لئے چھوڑ دیا ہے وہ بندوقوں سے ہمار ے اوپر وار کرتے ہیں اور ہمیں مصلحے پر امن کی دعاؤں کا سبق دیتے ہیں بھارت کے ظلم نے آج کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کیلئے تیار کر دیا ہے اور کشمیریوں کو اب اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ انہیں اب خود ہی میدان عمل میں آگے بڑھنا ہوگا تبھی وہ اپنی منزل حاصل کر سکتے ہیں اسلئے اب انہوں نے بھارتی ظلم کو ایک طرف رکھ دیا ہے اور اب اپنی آزادی کی جدوجہد کو ہر حال میں کامیاب بنانے کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہو چکے ہیں اور بھارت کو اب کشمیر پر غاصبانہ قبضہ چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا کیونکہ بھارت کی جانب سے مظالم کی جو تاریخ رقم ہونا تھی وہ اس نے کر لی ہے اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو سکتا ہے مگر عالمی برداری کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئے اور یہ عالمی برداری نہیں بلکہ یہ بے حس ممالک کا ایک گٹھ جوڑ ہے جو اپنے مفادات کی حس رکھتے ہیں ان کے اندر انسانیت سے ہمدردی رکھنے والی کوئی حس نہیں یہ صرف اور صرف ایک ہی حس رکھتے ہیں اور وہ حس ہے اپنے ذاتی مفادات اور انہی مفادات نے ان دہشتگردوں کو9/11کی صورت میں دہشتگردی کرنے کا موقع فراہم کیا اور پھر عراق پر چڑھائی بھی ان انسانیت کے دشمنوں کے اپنے مفاد کیلئے تھی اور اب جو نئے محاذ کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ بھی اپنے مفادات کی خاطر ۔حکومت پاکستان کو اب جاگ جانا چاہئے کہ وہ امریکہ جسے ہمارے برادر اسلامی ممالک نے اقتصادی ٹائیگر بنانے میں اپنی قیمتی معدنیات کوڑیوں کے بھاؤ دے کر اسکی معیشت کو دنیا کی بہترین معیشت بنایا وہ انکا نہیں بنا آج انکے خلاف محاذ تیار کر ہا ہے وہ پاکستان کا کیسے محافظ ہو سکتا ہے اس لئے ہمیں اب ان بھول بھلیوں سے نکلنا ہوگا اپنے عوام کی خوشحالی چاہتے ہیں تو ہمیں ان عالمی طاقتوں کا آلہ کار بننے سے اب انکار کرنا ہوگا تاکہ امن کا سورج طلوع ہو اور ان انسانیت کے دشمنوں کو کوئی تھپڑ رسید کرنے والا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو نظر آئے وگرنہ ظلم تو بڑھتاہی رہے گا اور مظلومیت دم توڑتی رہے گی ۔

وزیراعظم پاکستان کو اب واضح طور پر بھارت کو یہ پیغام پہنچانا ہوگا کہ وہ اب کشمیریوں پر ظلم بند کرے بھارت جس طرح سے پاکستان کے ساتھ دشمنی نبھا رہا ہے وہ اب وطن عزیز کے بچے بچے تک عیاں ہے وطن عزیز کو پر امن بنانے کیلئے بھارت کی جانب سے افغانستان ،ایران اور پھر مقبوضہ کشمیر میں جو شورشیں شروع کی گئی ہیں ان کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا کیونکہ بھارت نے پاکستان کی تمام سرحدوں کے گردو بیش میں رہنے والوں کو پاکستان کے خیر خواہوں سے پاکستان کے دشمنوں میں تبدیل کر دیا ہے جو اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے اور ہمارے اب تک لاکھوں پاکستانی ان سازشوں کا نشانہ بن چکے ہیں اسلئے اب حکومت اور عوام سب کو ایک پیچ پر کھڑا ہونا ہوگا اور کشمیریوں کا ساتھ دینا ہوگا سیاسی جماعتیں بھی اب سیاسی بیان بازیاں بند کریں اور سب سیاسی جماعتیں ایک ایجنڈے پر متفق ہو ں اور کشمیر یوں پر جو ظلم کی تاریخ رقم ہو رہی ہے اس کو روکنے کیلئے جدوجہد کریں اور اگر اسی طرح بیان بازیاں ہی کرنی ہے تو پھر یہ بیان بازیوں کشمیریوں کی پاکستان سے محبت کو مشکوک کر دیں گی اب کشمیریوں کا کھل کر ساتھ دیا جائے جس طرح وہ پاکستان کے جھنڈے میں اپنے تابوتوں کو لپیٹ کر خاک کی نظر کر رہے ہیں ۔وہ خون دے کر پاکستان سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں تکلیفیں سہہ کر پاکستان سے محبت کا دم بھر رہیں ،ایسی زہریلی گیسوں کے شیلوں کا سامنا کر رہے ہیں جو انکی زندگی کے روزو ایام کو تکلیف دہ بنا رہی ہیں اور انہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا کر رہی ہیں جو انہیں آزادی کی تحریک سے دور کرنے کا موجب بن سکتی ہیں مگر بھارتی فوج اب نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو گئی ہے کہ ان بہادر کشمیریوں پر کیا جانے والا کوئی ظلم بھی انہیں آزادی کے راستے سے ہٹا نہیں سکا اور نتیجتاًاب بھارتی فوج ،پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے اہلکار خود کشیاں کر رہے ہیں اور کئی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو کر پاگل پن تک پہنچ چکے ہیں اور کئی نوکریاں چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب بھارتی سیکورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں ڈیوٹی دینے سے خوف کھائیں گی تو پاکستانیوں آپ تو مکمل طور پر آزاد ہیں اور آپ پر کوئی جبر نہیں ہو رہا آپ نے تو صرف انکا ہاتھ پکڑ کر انہیں حوصلہ فراہم کرنا ہے وہ آپ سے حوصلہ اور ہمت مانگتے ہیں ۔

قارئین……!! آئیں عہد کریں وطن عزیز کے مشرق ومغرب اور شمال و جنوب سے مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں سے محبت کااظہار ریلیوں ،سیمینارز اور دیگر ہر طرح کے پلیٹ فارم کے ذریعے کریں گے اور اتنا زیادہ اس ظلم کیخلاف آواز بلند کریں گے کہ سوئی ہوئی اقوام عالم خوفزدہ ہو کر اپنا قبلہ درست کر لے یقین جانیں پورا پاکستان کشمیریوں کی حمایت کیلئے اٹھ کھڑا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی میں حائل نہیں ہو سکتی ۔آئیں اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دیں اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر قائد کے قول کی تکمیل کریں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Asghar Ali Abbasi

Read More Articles by Sardar Asghar Ali Abbasi: 26 Articles with 11055 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Aug, 2016 Views: 339

Comments

آپ کی رائے