سورۃ الممتحنۃ

(Mehboob Hassan, )
سورۃ الممتحنۃ ۱۳آیات پر مشتمل مدنی سورۃ ہے۔
سورۃ الممتحنہ کے پہلے حصہ میں حب فی اﷲ اور بغض فی اﷲ کے مسئلہ اور مشرکین سے دوستی کرنے سے ممانعت کا بیان ہے۔دوسرے حصہ میں مہاجر عورتوں ،انکی آزمائش اور امتحان اور اسی سے مربوط(related)کچھ احکام سے بحث کی گئی ہے۔اس سورۃ کو سورۃ مودّت بھی کہا جاتا ہے۔
٭رسول ﷺ سے ایک حدیث میں آیا ہے :جو شخص سورۃ ممتحنہ کی تلاوت کر لے گا تمام مومنین و مومنات قیامت کے دن اس کے شفیع ہوں گے۔
ترجمہ:
شروع اﷲ کے نا م سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے٭اے ایمان والو!خبردار!میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم انکی طرف دوستی کی پیش کش کرو جبکہ انہوں نے اس (دین ِ)حق کاانکار کر دیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے اور وہ رسول(ﷺ)کو اور تم کو صرف اس بات پر نکال رہے ہیں کہ تم اﷲ پر جو تمہارا پروردگار ہے ایمان رکھتے ہو،اگر تم (واقعا،really)ہماری راہ میں جہاد اور ہماری مرضی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہوتو ان سے خفیہ دوستی کسطرح کر رہے ہو؟جبکہ میں تمہارے ظاہر و باطن سب کو جانتا ہوں اور جو بھی تم میں سے ایسا اقدام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستہ سے بہک گیا﴿۱﴾اگر یہ کافر تم پر قدرت(قابو)پا لیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور ایذا (تکلیف)کیلئے تم پر ہاتھ(بھی)چلائیں اور زبانیں(بھی)اور چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہو جاؤ﴿۲﴾یقینا تمہارے رشتہ دار اور تمہاری اولاد قیامت کے دن کام آنے والی نہیں ہے اس دن اﷲ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گااور وہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ﴿۳﴾بیشک تمہارے لئے ابراہیم ؑ میں اور انکے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے،جب انہوں نے اپنی مشرک قوم سے کہا ہم تم سے اور ان بتوں سے جنکی تم اﷲ کے سوا پوجا کرتے ہوبیزار ہیں،ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کی دشمنی ہو چکی ہے اور یہ حالت اس وقت تک جاری رہے گی یہاں تک کہ تم ایک اﷲ پر ایمان لے آؤ،مگر ابراہیم ؑ کا اپنے(پرورش کرنے والے)باپ (آذر)سے یہ کہنا کہ میں تمہارے لئے ضرور بخشش طلب کروں گا (فقط پہلے کا کیا ہوا ایک وعدہ تھا جو انہوں نے پورا کر دیااور ساتھ یوں جتا بھی دیا)اور یہ کہ میں تمہارے لئے(تمہارے کفر و شرک کے باعث)اﷲ کے حضور کسی چیز کا مالک نہیں ہوں(پھر وہ یہ دعا کر کے قوم سے الگ ہو گئے):اے ہمارے رب!ہم نے تجھ پر ہی بھروسہ کیااور ہم نے تیری طرف ہی رجوع کیااور(سب کو)تیری ہی طرف لوٹنا ہے﴿ ۴﴾اے ہمارے رب! تو ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور اے ہمارے رب!ہماری خطاؤں کو بخش دے،بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے﴿۵﴾بیشک تمہارے لئے ان میں بہترین نمونہ ہے(خاص طور پر)ہر اس شخص کیلئے جو اﷲ(کی بارگاہ میں حاضری)کی اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور جو شخص انحراف کرے گاتو اﷲ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے﴿۶﴾بعید نہیں کہ اﷲ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے اﷲ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے﴿۷﴾اﷲ نے تمہیں ان لوگوں سے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے شہر اور دیار سے باہر نہیں نکالا،نیکی کرنے اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کیا،کیونکہ اﷲ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے﴿۸﴾اﷲ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے باہر نکالا یا تمہارے باہر نکالنے میں مدد کی ،تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں﴿۹﴾اے ایمان والو!جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو تم ان کی آزمائش کر لیا کرو(آزمائش سے مراد کہ ان سے قسم لی جائے کہ ان کی ہجرت شوہر سے بغض یا نئی زمین سے لگاؤ یاکسی دنیاوی مقصد کیلئے نہیں ہے بلکہ انکی ہجرت صرف اسلام کی وجہ سے ہے)اﷲ تو ان کے ایمان سے اچھی طرح آگاہ ہے،پھر جب تم انہیں مومنہ پاؤ تو انہیں کفار کی طرف مت لوٹاؤکہ نہ تو وہ کفار کیلئے حلال ہیں اور نہ ہی کفار ان کیلئے حلال ہیں اور ان کے شوہروں نے (جو کافر ہیں)جو(مال بصورت ِمہر ان پر)خرچ کیا ہو وہ ان کو ادا کر دو،اب تمہارے لئے ان سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے جبکہ تم ان کا مہر انہیں ادا کر دو اور تم بھی کافرہ بیویوں کو ہر گز اپنی زوجیت میں نہ رکھو(اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی کافرہ ہو جائے اور وہ کافروں کے شہر کی طرف بھاگ جائے)تو تم حق رکھتے ہو کہ جو حق مہر تم نے ادا کیا ہے اس کا مطالبہ کرو جس طرح وہ حق رکھتے ہیں کہ جن عورتوں سے وہ جدا ہو گئے ہیں ان کے حق مہر کا تم سے مطالبہ کریں،یہی اﷲ کا حکم ہے اور وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرما رہا ہے اور اﷲ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے﴿۱۰﴾اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں انکو اتنی رقم ادا کر دو جو انکے دئیے ہوئے مہروں کے برابر ہواور اس اﷲ سے ڈرتے رہوجس پر تم ایمان لائے ہو﴿۱۱﴾اے نبی(ﷺ)!جب آپکی خدمت میں مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کیلئے حاضر ہوں کہ وہ اﷲ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی، چوری نہ کریں گی،زنا نہ کریں گی،اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی،اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی(یعنی اپنے شوہر کو دھوکہ دیتے ہوئے کسی غیر کے بچے کو اپنے پیٹ سے جنا ہوا نہیں بنائیں گی)اور کسی بھی امرِشریعت میں آپکی نافرمانی نہیں کریں گی،تو آپ ان سے بیعت لے لیا کریں اور ان کیلئے اﷲ سے بخشش طلب فرمائیں بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے﴿۱۲﴾اے ایمان والو! ایسے لوگوں سے دوستی مت رکھو جن پر اﷲ غضبناک ہوا ہے بیشک وہ آخرت سے (اسطرح)مایوس ہو چکے ہیں جیسے کفار اہل ِقبور سے مایوس ہیں﴿۱۳﴾
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Hassan

Read More Articles by Mehboob Hassan: 36 Articles with 28688 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2016 Views: 481

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ