نئی اسمبلی ،اختیارات اورتوقعات

(Niaz Ahmed, )
 ایک تقریب میں ایک پرانے دوست ایس ایچ او سے دوران گفتگو سوال کیا کہ کیا وجہ ہے آئے روز ہمارے جواں سال بچے سڑکوں پر حادثات کا شکار ہو کر جانیں گنوا رہے ہیں اور ان میں اکثر ایسے ہوتے ہیں جو ڈرایؤنگ لائسنس وڈرائیونگ سے انجان بنا سیفٹی اہتمام کے گھر سے نکلتے ہیں اور شام کو یا نعش گھر آتی ہے یا وہ زخمی حالت میں ہسپتال میں ہوتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام ٹھیک سے کیوں نہیں کرتے ؟حالانکہ کبھی کبھار اگر کوئی موٹر بائیک یا کار کو پکڑا بھی جائے تو چند گھنٹوں بعد وہ پھر سڑک پر گھوم رہے ہوتے ہیں اور پہلے سے زیادہ غیر محتاط طریقہ سے ڈرایؤ کر رہے ہوتے ہیں ۔اس نے جواباً کہا کہ جناب ہم جو کر سکتے ہیں ہم کرتے ہیں ۔ٹریفک قوانین کے مطابق گاڑی رجسٹریشن کا تین صد روپے ،ہیلمٹ اور لائسنس نہ ہونے کے دودوسو روپئے جرمانہ ہے ۔ہم ابھی کسی کو ان تمام دفعات میں گرفتار اور گاڑی ضبط کردیں تو کچھ دیربعد یا دوسرے دن وہ موصوف سات سو روپے دے کر پھر سڑک پر ہوتے ہیں ۔آئے روز اموات کے باوجود سول سوسائٹی کا کردار بھی انتہائی غیر زمہ دارانہ ہوتا ہے اور یہ قانون ستر برسوں سے ایسے ہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو پائی ۔اسی طرح ہمارے محلے کی نکر پر ایک گورنمنٹ پرائری سکول ہے جہاں روزانہ آتے جاتے اس پر نظر پڑھتی ہے ۔2005کے زلزلے کے بعد آنیوالی تبدیلیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس خطہ کے تمام گورنمنٹ سکولزکی خوبصورت عمارتیں بن گئی ہیں ۔اس عمارت کے آنگن میں 10/11بچے اور ان کے ساتھ ایک معلمہ دکھائی دی ، سکول کا ماحول دیکھ کر مجھے شک گزرہ کہ ہو نہ ہو یہ خاتون باقاعدہ استانی نہیں ہو سکتی ہے تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ اصل معلمہ پاس والے ایک گاوں کی ہے جو کہ سرکار سے ساٹھ ہزار سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے کے باوجود کسی پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی ہے جب کہ یہاں اس نے اپنی جگہ ایک میٹرک پاس لڑکی کوچھ ہزار روپئے ماہانہ پر رکھا ہوا ہے ۔اس کے بعد میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس میں چلا گیا جہاں ایک خاتون کرسی پر براجمان تھیں تو میں نے بڑے ادب سے کہا کہ اگر برا نہ منائیں تو زاتی معلومات کے لئے میں آپ سے دو تین سوال پوچھنا چاہتا ہوں ۔میں نے جو دیکھا وہ سب بیان کیا اور پوچھا کہ یہ سب آپ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے اورکیسے اساتذہ کرام دو دو برس کی چھٹی لے کر بیرون ملک ملازمتیں کرتے ہیں اور ان کی یہاں بھی کرسی برقرار رہتی ہے یہ کیسا نظام ہے اور کیسے قوم کو تعلیم دی جا رہی ہے ؟تو انہوں نے راز رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں سب ایسے ہی چلتا ہے ستر برسوں سے اس ادارے کوبالادست قوتوں نے زاتی و سیاسی مقاصد کی آماجگاہ بنا رکھا ہے یہاں بڑے بڑے معززین کی بہو بیٹیوں کو سیاسی طور پر ایڈجیسٹ کیا جاتا ہے اور معلم و معلامات سمیت تمام تر بھرتیاں میرٹ کے بجائے سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر سیاسی رشوت کے طور پرکی جاتی ہیں جہاں مقصد قومی تربیت نہیں بلکہ ادارے پر قبضہ اور مال بنانا ہوتا ہے جب ٹاپ لیو ل ہی کرپشن کا گڑھ ہو تو نیچے کا تو ویسے بھی اﷲ حافظ ہو تا ہے ۔اس لئے اس کے قوائد وضوابط میں میں بہتری یا تبدیلی خارج از امکان ہے اس لئے کہ یہاں کے حکمراں طبقات بھی یہ اختیارات نہیں رکھتے اور نہ ہی اس طرف کبھی کوئی توجہ دی گئی ہے اور نہ ہی دور دور تک ایسا کوئی امکان ہے ۔قارئین کرام ! ایک چھوٹے سے کالم میں تمام اداروں کے حالات و واقعات قلمند کرنا ممکن نہیں البتہ چند ایک پر لب کشائی کی جسارت کی جا سکتی ہے ۔

دس برس پہلے کی بات ہے امارات میں ٹریفک پولیس نے مال بردار گاڑیوں کی اوورٹیک ممنوع کر دی اور خلاف ورزی کے عوض پانچ سو درہم جرمانہ رکھا گیا جب اس سے کوئی خاطرخواہ فرق نہیں پڑھا تو دوسرے ہی مہینے وہ جرمانہ پانچ سو سے بڑھ کر دو ہزار درہم کر دیا گیا جب اس سے بھی حکومتی اداروں کو اہداف حاصل نہ ہو سکے تو چوتھے مہینے وہ جرمانہ چار ہزار سے بڑھ کر سات ہزار اور ڈرائیونگ لائسنس کے دو پوینٹ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا ۔در اصل حکومت ایکسیڈنٹ اور حادثات پر مکمل کنٹرول کی خواہش مند تھی اور پھر محض ایک سال چھ ماہ کے اندر اس قانون میں چوتھی بار تبدیلی کی گئی اور اس بار جرمانہ دس ہزار درہم کر دیا گیا جب کہ خلاف ورزی کے مرتکب فرد کو جرمانے کی ادائیگی کے بعدبلیک لسٹ کر کے ملک بدر کرنے کا قانون بنا دیا گیا ۔جو آج تک چل رہا ہے اور اس طرح آج امارات میں ایکسیڈنٹ کی شرح خلیجی ممالک کی نسبت صفر فیصد ہو چکی ہے ۔جب کہ اس قانون سے پہلے ہر ماہ یہاں سے سینکڑوں نعشین کشمیر جایا کرتی تھیں ۔اس انتہائی حساس و انسانیت سوز مصائب سے نجات کیسے ملی صرف اس لئے کہ یہاں کے حکمراں اپنے عوام کی فلاح کے لئے جو چاہیں جب چاہیں قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور انہوں نے جب اس عوامی ضرورت کو محسوس کیا تو فوری اقدامات کئے لیکن ہمارے حکمراں چھ عشروں سے ایک ایسے غیر ملکی کالونیل ایکٹ کے ماتحت ہیں جہاں یوں تو عوامی فلاح مقصود و منظور ہی نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو یہ اسمبلی اس ایکٹ میں کسی بھی طرح کی ترمیم کا کوئی اختیار نہیں رکھتی ہے اور اس ایکٹ میں ترمیم کا اختیار محض وزیر اعظم پاکستان کے پاس ہے جو خود اپنی پارلیمنٹ میں پانچ برسوں میں شائد ایک آدھ بار جاتے ہوں اور انہوں نے اپنی عوام کی فلاح کے لئے کیا کچھ کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔اس لئے اراکین مظفراباد اسمبلی سے کسی فلاح کی امید رکھنا کیکر سے انگور کے پھل حاصل کرنے کے مترادف ہے اس لئے اگر عوام یہ چاہتے ہیں کہ عوامی مسائل حل ہوں اور خطہ میں کچھ بہتری آئے تو ضروری ہے کہ یہاں نافذلعمل کالونیل ایکٹ کے خاتمے اور خود کے بااختیار آئین کے لئے بھرپور تحریک کا آغاز کیا جائے ورنہ ایکٹ 1974کے مطابق جو ٹریفک قوانین ،تھانہ کلچر ،پٹواری نظام ،تعلیم و صحت کے تمام اداروں میں جو کچھ ہو رہا ہے ایسے حالات میں اگر منصب اقتدار پر خلفائے راشدین بھی آکر بیٹھ جائیں کوئی بہتری نہیں لا سکیں گے جب تک کہ اس خطہ کے لوگ خود آئین سازی کا حق حاصل نہ کر لیں اس لئے وہ تمام سیاسی ورکرجوالیکشن سے پہلے چیخ چیخ کر عام لوگوں کو تبدیلیوں کے خوبصورت سپنے دکھاتے رہے دراصل ہمیشہ کی طرح یہاں کے الیکشن چند خاندانوں اور ان کے سیاسی ورکروں کی زندگیوں میں محدود تبدیلی تو لا سکتے ہیں لیکن یہاں کے عام آدمی کے مسائل ومشکلات میں زرہ برابر کمی نہیں لا سکتے اور نہ ہی ان کا ایسا کوئی ارادہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس نظام ’’ کالونیل ایکٹ‘‘ میں اتنی سکت ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niaz Ahmed

Read More Articles by Niaz Ahmed: 98 Articles with 47351 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2016 Views: 532

Comments

آپ کی رائے