آپریشن ضرب عضب کے خلاف سازشیں!! قسط نمبر ۱

(جاویدصدیقی, کراچی)
 اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گزشتہ حکومتوںکے دوران پاکستان دشمنوں کے شکنجے میں بری طرح پھنس کر رہ گیا تھا،سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت بھی انہی گروہ کی کارفرمائی تھی جبکہ سابق صدرو جنرل پرویز مشرف پر بھی کلعدم تنظیموں کی جانب سے کئی حملے بھی کئے گئے مگر ہر بار اللہ نے محفوظ کیا۔۔۔!!یہ سلسلہ تواتر سے جاری رہے ان دہشتگردوں نے فورسس کی اہم ترین تنصیبات، املاک اور شخصیات کو دہشتگردی کا نشانہ بناتے ہوئے ناتلافی نقصان سے دوچار کیا،پھر وہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ کئی سو معصوم بچوں کو آرمی پبلک اسکول پشاور میںگھس کر بزدلوں نے فائرنگ کرکے نہتے معصوم بچوں اور بچیوں کو شہید کردیا،اس واقعہ پر موجودہ آرمی چیف راحیل شریف نے اپنے رفقائے کار کور کمانڈرز سے مشاورت کے بعد ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن کرنے کا اعلان کیا، اس آپریشن کا نام آپریشن ضرب عضب رکھا گیا، اس موقع پر تمام جنر ل بشمول آرمی چیف نے منتخب نمائندگان سمیت وزیراعظم اور صدر کیساتھ مشاورت بھی کیں ، اس مشاورت کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں تمام پاکستانی سیاسی جماعتوں نے یکجا ہوکر پاک آرمی کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایوان سے بل پاس کیا جس میں فوجی عدالتوں کا قیام اور آرمی سمیت آرمی کے ذیلی اداروں کو با اختیار بنانے کیلئے آرٹیکل ففٹی ایٹ ٹو بی کو پاس کیا۔۔۔!!ابتدائی دنوں مین پاک آرمی اور پاکستان ایئرفورس کےماہر ،بہادر فائٹر پائلٹوں نے بڑی مہارت کے ساتھ دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ و برباد کیئے اور پاک آرمی کے جوانوں نے ان کی کمین گاہوں کو نہ صرف تباہ کیا بلکہ کئی دہشتگردوں کو واصل جہنم کیا۔۔۔!! وزیرستان، کئی پاکستانی بالائی علاقوں میں کامیاب آپریشن کیئے، یہی آپریشن بلوچستان کے حساس علاقوں میں بھی کیا گیا اس کے علاوہ کراچی شہر میں رینجرز اور پولیس کے مشترکہ آپریشن بھی جاری رہے اور جاری بھی ہیں، کراچی میں نہ صرف دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیابلکہ ان کی معاونت کرنے والوں کا دائرہ کار بھی تنگ کردیا گیا ۔۔۔!! کراچی سمیت حیدرآباد اور میرپورخاص میں کثرت سے کامیاب ہونے والی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے خلاف بھی آپریشن کرکے کئی کارکنان اور ذمہ داران کو گرفتار کیا گیا اور عدالت کے رو برو پیش کیا جہاںان کے ثبوت سامنے لائے گئے تمام ثبوت کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں عدالت نے سزا سنادی گئی ہیںیہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔!! پاک آرمی نے سیاسی جماعتوں کو واضع کردیا تھا کہ آپریشن ضرب عضب میں سہولت کار اور معاون کار بھی شامل ہیں جب آرمی اور اس کی ذیلی یونٹ پاکستان رینجرز نے دہشتگردوں کے ساتھ سہولت کاروں کے خلاف اقدامات شروع کیئے تو یہی سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر موجود سرگرم کارکنان ، ذمہداران، وزرا اور مشیروں سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بچانے کیلئے آپریشن کے درمیان بلا وجہ پیچیدگیاں پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، اندرون سندھ اور پنجاب میں دہشت گردوں، معاونت اور سہولت کاروں کے خلاف کاروائی نہ کرنے کیلئے مسلسل رکاوٹیں جاری رکھی ہوئی ہیں یہ بات کہنا غلط نہ ہوگا کہ سندھ کی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی نے صرف ایم کیو ایم کے خلاف کاروائی کو ہی ہدف بنایا ،اسی بابت ان کی تمام تر کوشش رہی ہیں کہ سندھ میں آپریشن صرف کراچی تک محدود رکھا جائے بلکہ سندھ حکومت نے آپریشن کو محدود کرنے کیلئے بار بار حیلے بہانے بھی کیئے اور صرف کلعدم تنظیموں اور دہشتگردوں تک محدود رکھنےکی ناکام کوشش جاری رکھیں ۔۔۔!!سندھ میں کئی دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے جس قدر کرپشن، بدعنوانیاں قائم رکھیں اس کا ثبوت عوام خود ہیں۔۔!!پی پی پی کے دور اقتدار میںاقربہ پروری، شاہی انداز، پروٹوکول کی مد میں اربوں روپے کا زیاں،نوکریوں کی مد میں کھلے عام رشوت کا بازار،سیکیورٹی کی مد میںاربوں روپے میں گھپلے،اداروں کی تباہی، قانون کی خلاف ورزیاں،قومی دولت میں بندر بانٹ تقسیم،ٹیکس چوریاں ایسا کون سا عمل رہ گیا تھا جو پی پی پی کے دور حکومت مین منفی انداز میں نہ ہوا ہو۔۔!! اور تو اور پاک آرمی کوبرا بلا کہنا اور ملک توڑنے کی دھمکیاں بھی رہی ہیں۔۔۔!! اس وطن عزیز اور سندھ کی دھرتی میں کبھی بھی مثبت اقدام عمل میں نہیں لائے گئے جبکہ حکومت کے مزےبھی لوٹتے رہے ہیں ، سندھ مسلسل تباہی و بربادی کی جانب برھتا گیا، سندھ اور بلخصوص کراچی ،حیدرآباد اور میرپورخاص کے عوام بنیادی ضرورتوں سے مھروم ہوتے چلے گئے، پانی، بجلی، روڈ ناپید ہوکر رہ گئےگویا جو تھا وہ بھی نہ رہا۔۔۔!!اس کی ایک بری وجہ سیاسی بھرتیوں کے سبب نااہل لوگوں کو اہم منصب پر فائزکردیاگیا جس سے اداروں کا نظام مفلوج ہوکر رہ گیا یہی حال سندھ کی دوسری سیاسی جماعت نے بھی لوکل گورنمنٹ میں کیا۔۔۔!! سندھی ہوں یا مہاجر یا پھر کوئی اور قوم ان کے قابل، ذہین اور عقلمند لوگ دیوار سے لگادیئے گئے نہ تقرریاں کی گئیں اور نہ ہی ایسے لوگوں کو ترقیوں سے نوازا گیا،اداروں میںمایوسیاں پھیلتی گئیں اور رفتہ رفتہ نا اہل لوگوں کی وجہ سے براہ راست عوام مشکلات در مشکلات کا شکار ہوتے چلے گئے۔۔۔!! کمزور اور نا پختہ ذہن کے نوجوان منفی راہ پر چل پڑے اسی بابت ڈکیتیاں، چوری، اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار، کرائے کے قاتل، ٹارگٹ کلرزمیں روز بروز اضافہ ہوتا گیا، اس انارکی کی وجہ سے
کلعدم تنظیموں نے بھرپور فائدہ اٹھایاکیونکہ طاقتور وں نے ملک دشمنوں کیساتھ ملک کر میر جعفر اور میر صادق کا رول ادا کرنے بھی ذرا سی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ، اپنے ہی لوگوں کی موت کا ساماں بنے رہے، کوئی سہولت کار کی شکل میں تو کوئی مالی معاونت کے طور پر ان کلعدم تنظیموں کا سہارا بنے رہے۔ان کیلئے کسی نے خوب کہا ہے ۔۔گھر کو جلا دیا گھر کے چراغ نے ۔۔آستین کا سانپ۔! سندھ میں اگر پاک فوج نے اپنے ذیلی ادارے پاکستان رینجرز کے ذریعے پورے سندھ میں یکجا سخت سے سخت ترین آپریشن بلا تفریق جاری نہیں رکھا توآپریشن ضرب عضب کے اثرات پر براہ راست منفی اثر بھی پڑسکتے ہیں اور دہشت گردوں کو فائدہ پہنچے گا، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ذمہ داران کے خلاف بھی سیکیورٹی اداروں کوثبوت حاصل ہوئے ہیں اسی لیئے کئی منتخب نمائندگان ملک سے باہر روپوش ہوگئے ہیں اوراس کے علاوہ اے این پی کے دہشتگردوں کے خلاف بھی فائیلیں تیار ہیں ان کے خلاف بھی وقت آنے پر کاروائی کی جائیں گی !!ڈاکٹر عاصم، ایان اورعزیر بلوچ ہی ایسے مجرم ہیں جن کی ڈور کھلنے سے کئی سو مجرموں کے چہرے سامنے آجائیں گے اسی لیئے سندھ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل سینئر و جونیئرکارکنان کے منفی کارناموں پر پردہ ڈالنے کی بھرپور کوشش کرتی چلی آئی ہے اور آخری حد تک چھائے گی لیکن جب اپنے آپ کو بے بس محسوس کریگی تو لازم سیاسی مظلوم بننے کیلئے کسی حد تک جا سکتی ہے ۔!!پنجاب میںپاکستان مسلم لیگ نواز کی جماعت کے کئی منتخب نمائندگان بھی سہولت اور معاون کاروں میں شامل ہیں اگر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے صوبے میں آزادانہ رینجرز اور پولیس کے آپریشن کی کاروائیوں کو اجازت دیں گے تو حکومت پنجاب کی قلعی کھل جائے گی اسی طرح سندھ حکومت کا حال بھی ہے۔! اللہ ہم سب کا حامی و ناظر رہے آمین ثما آمین!!! پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔!!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جاویدصدیقی

Read More Articles by جاویدصدیقی: 308 Articles with 157220 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2016 Views: 335

Comments

آپ کی رائے