الحاد کی یلغار اور اس میں برابر کے ذمہ دار

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)
جب سے سائبر کرائم لاء کا معاملہ سامنے آیا ہے پاکستانی ملحدین اور گستاخان دین کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔ اپنے نظریات کے پرچار اور قراٰن و حدیث پر اعتراضات کے اظہار کے لئے انہیں جو بےمحابانہ آزادی میسر ہے وہ اب انہیں سلب ہوتی ہوئی معلوم ہو رہی ہے ۔ دین سے متنفر خدا کے وجود کے منکر بعد از موت زندگی کا تمسخر اڑانے والے نامی گرامی ملحدین حضرات کی اکثریت اعلا تعلیمیافتہ ہے ۔ یہ سب پہلے بہت مذہبی ہوتے تھے پھر بقول ان کے اسلامی تاریخی کتب کے مطالعے اور تفکر نے ان کی بند آنکھیں کھول دیں ۔ یہ لوگ زبان و بیان اس کی فصاحت و بلاغت اور استدلال پر بھرپور عبور رکھتے ہیں اور سامنے والے کو متاثر کرنے کے ہنر سے بدرجہء اتم آراستہ ہوتے ہیں ۔ جبکہ ہمارے علماء ان کے اٹھائے گئے سوالات و اعتراضات کا اسی مؤثر اور مدلل انداز سے جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ دلیل اور حُسن ابلاغ سے محروم ان دینی رہنماؤں کا الحاد کے فروغ میں برابر کا ہاتھ ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستند ترین اسلامی تاریخی کتابوں میں ایسے ایسے واقعات درج ہیں جو ایک عام آدمی کے ہوش اڑانے کے لئے کافی ہیں ۔ انہیں پڑھنے کے بعد اپنے ایمان کو سنبھالنا کوئی آسان بات نہیں ہے ایسے میں مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہونے والے ابہام اور اشکالات کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں مگر ہوتا کیا ہے؟ یہ اپنی نااہلی کے باعث سامنے والے کی تشفی کرنے کی بجائے انہیں ڈرا دھمکا کر خاموش کرا دیتے ہیں ۔ کسی بھی معاملے کے مشکوک ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس پر سوچنے اور سوال کرنے سے روک دیا جائے ۔ اس کے لئے بھی کوئی معقول اور قابل قبول دلیل ہونی چاہیئے جس سے ہمارے علماء محروم ہیں ۔ وہ ایک عام آدمی کو راستہ نہیں دکھاتے اور اسے بھٹکنے پھرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور پھر وہ ملحدین کی گلیوں میں جا نکلتا ہے ۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ وہ ان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ تبلیغ نہیں کرتے صرف اپنا نکتہء نظر پیش کرتے ہیں جس میں اتنی کشش جاذبیت اور ابلاغ و استدلال کی بھرپور قوت ہوتی ہے کہ رہنمائی سے محروم سوالات و اشکالات کے بوجھ سے دوہرا بندہ باآسانی ان کے دام میں آ جاتا ہے ۔ اور اسے لگتا ہے کہ وہ کسی زندان سے نکل آیا ہے ۔
ہمارے ساتویں جماعت میں پڑھنے والے بچے کو ایک مرتبہ اس کے کچھ گورے دوست ہم جماعتوں نے نہایت ہی ہلکے پھلکے اور سیدھے سادے انداز میں ایک ایسی بات کہی جسے سن کر وہ دنگ رہ گیا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔ ان کافروں مشرکوں کو پتہ نہیں کہاں سے ہماری کتابوں میں لکھی ہوئی ایک بات کا پتہ چل گیا تھا اور انہوں نے اسے قدرے توڑمروڑ کر پیش کیا ۔ بچے نے گھر آ کر ہمیں بتایا تو ہم نے اسے معاملے کی حقیقت سمجھائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہ پھر کوئی ایسی بات ہو تو کیا جواب دینا ہے ۔ اس کی نوبت تو خیر پھر نہیں آئی لیکن وہ کیا بات تھی اگر ہم یہاں لکھ دیں اور وہ چَھپ بھی جائے تو ایک ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا بےچاری ھماری ویب کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔

جس انٹرنیٹ کے ذریعے الحاد کی یلغار ہو رہی ہے وہ ہماری دینی شخصیات اور مذہبی رہنماؤں کی پہنچ سے دور تو نہیں ہے ۔ ان کو بھی اس تک اتنی ہی رسائی حاصل ہے جتنی کہ اسلام بیزار مخلوق کو ۔ تو آخر کیوں وہ ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہیں ۔ کیوں لاجواب ہو جاتے ہیں ان کی لائی ہوئی دور کی کوڑیوں کے حضور ۔ ان کی ذہنی سطح اتنی بھی نہیں ہے کہ جتنی بےدینوں بےہدایتوں تک کی ہے ۔ بس آئے روز ایک سے بڑھ کر ایک احمقانہ اور جاہلانہ قسم کی فتوے بازیوں سے یہ دین کی کون سی خدمت کر رہے ہیں ۔ بس دین کا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ایک عام مولوی یا پیش امام جن معاشی مسائل اور زبوں حالی کا شکار ہے کس طرح مارے باندھے اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے اور قدم قدم پر معاشرے کی طرف سے کڑے احتساب کا سامنا کرتا ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ جبکہ بیشتر سرکردہ بااختیار معروف علمائے کرام اپنے قول و فعل میں تضاد منافقت مطلب پرستی ایمان فروشی کی مثال بنے ہوئے ہیں ۔ اور نوجوان نسل میں مایوسی بددلی اور دین بیزاری پھیلانے کے بہت بڑے ذمہ دار ہیں ۔

دینی تعلیمات کے مراکز جس قسم کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں مسجدوں مدرسوں میں دین کے خدمتگار معصوم بچوں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں کیا اس کو دیکھتےہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ یہ لوگ فروغ الحاد کے سد باب میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اور اگر سائبر کرائم کا بل نافذالعمل ہو گیا تو ان کے سر سے تو اس ذمہ داری کا بوجھ ہی ٹل جائے گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 175 Articles with 1043994 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Aug, 2016 Views: 9455

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ