مردوں کا معاشرہ اور آج کی خواتین..

(Bushra Khan, Faisalabad)
اسلام میں خواتین کو بہت اعلی' مقام حاصل ہے اور قران پاک اور احادیث میں اسکا جابجا تذکرہ بھی ہوا ہے مگر بھلا ہو ہماری اس دنیا کا جس نے ایک طرف تو عورت کو فحاشی کا نمونہ بنا دیا ہے اور دوسری طرف پاؤں کی جوتی..

اﷲ پاک نے جب آدم علیہ سلام کو تخلیق کیا تو ان کی تنہایٔ کی ساتھی کی حیثیت سے اماں حوا یعنی پہلی خاتون کو پسلی سے پیدا کیا.. جیسا کہ ہم جانتے ہی ہیں کہ پسلی ٹیڑھی ہوتی ہے لھذا عورت میں بھی یہ ٹیڑھ پن موجود ہوتا ہے.. یہ کبھی پھول اور کبھی کانٹے ، پل میں تولہ پل میں ماشہ.. یوں کہیے کہ نہ سمجھ آنے والی تخلیق ہے یہ عورت...

پندرھویں سے اٹھارویں صدی تک یورپ میں پادریوں کی حکومت تھی. اس دور میں یورپ کی خواتین کا بہت استحصال ھوا.کسی کو پردہ نہ کرنے کے جرم میں اور کسی کو جادوگرنی کہ کر جلا دیا گیا یا پھانسی دے دی گیٔ.. انیسویں صدی میں جب یورپ میں ترقی کا دور شروع ہوا تو خواتین کی قسمت بھی چمکنے لگی اور بیسویں صدی میں اس حد تک چمکی کہ خاتون کو نمائش ہی بنا دیا گیا.آزادی کے نام پر بے حیاء کو فروغ دیا گیا.

دوسری طرف ہندوستان میں ابھی بھی مسلم خواتین میں پردے کا راج تھا. ان کے پہناوے کی پورے برصغیر میں دھوم تھی.لیکن انگریزوں کے قدم رکھتے ہی آہستہ آہستہ مسلم خواتین کے پہناوے میں بھی تبدیلی آگیٔ.پاجامے کی جگہ اسکرٹ اور قمیص کی جگہ شارٹ شرٹ یا ٹاپ نے لے لی اور اب تو یہ تبدیلی اس حد تک بڑھ گیٔ ہے کہ نیوز اینکرز سے لے کر مارننگ شوز تک میں خواتین کے سر پر دوپٹہ نہیں رہا.
ایک طرف تو ہر طرف ٹیکنالوجی اس حد تک بڑھ گیٔ ہے کہ نیٔ ایجادیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف کچھ علاقوں میں اب بھی عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے.

مردوں کے اس معاشرے میں عورت کے لیے کویٔ درمیانہ حل نہیں.یا تو بالکل ہی پاؤں کی جوتی بنا لو یا پھر بے حیایٔ اور عریانی کا نمونہ.ادھر امریکہ میں ہیلری کلنٹن خاتون اول بنتی ہے جبکہ سندھ یا پنجاب کے کسی علاقے میں "سکینہ" یا "مختاراں مایٔ" کا ونی یا کاروکاری کے نام پر استحصال کیا جاتا ہے.

کیوں؟ آخر کیوں؟عورت کے لیے کوء درمیانی راستہ نہیں؟ اﷲ پاک نے تو عورت کو پردے کی چیز بنایا تھا ،پھر کب اور کیوں شیطان اس حد تک کامیاب ھوگیا کہ عورت کا احترام ہی نہیں رہا.

آج سڑک سے گذرو تو ہر طرف سے جاہلیت کے زمانے کی طرف گندی نظریں دیکھنے کو ملتی ہیں.پردے میں لپٹی عورت کو بھی نہیں بخشا جاتا.ابھی چند دن پہلے ہی گھر آنے کے لیے رکشے میں بیٹھی تو اسکول کے چند بچے آوازے کستے ہویٔے گذر گیٔے یہ نونہال ملک کا مستقبل کیسے بنائیں گے؟؟ ان بچوں کو ذمے داری کا احساس کیسے کرایا جایٔے جب بڑے ہی غیر ذمے داری سے کام کریں.اکادکا آرٹیکلز یا کالم لکھ کر کچھ نہیں ہوتا.ہم سب کو عورت کو اسلام کے مطابق اسکا اصلی مقام دلانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا.ملکوں ملکوں ہوتے ہویٔے اس پیغام کو عالمگیر بنانا ھوگا. اور ان شاء اﷲ ایک وقت ایسا آیٔے گا جب ہر مرد کو عورت کی اہمیت کا احساس ہوگا اور خود عورت کے دل میں عزت کروانے کا جذبہ ہوگا.(آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bushra Khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Aug, 2016 Views: 414

Comments

آپ کی رائے