طہارت کا اسلامی ذریعہ ۔۔۔۔۔وضو

(Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi, Narowal)
عن ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی ﷺ قال لا یقبل اﷲ صلوٰۃ احد کم اذا احدت حتیٰ یتوضأ۔(بخاری جلد دوم صفحہ1028،مسلم جلداول صفحہ119)
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بلا وضو اﷲ تعالیٰ کسی کی نماز قبول نہیں فرماتا یہاں تک کہ وہ وضو کر لے۔‘‘

تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر وضو کے نماز درست نہیں ہے اور مطلقاً نماز فرمایا ہے ، لہٰذا کوئی بھی نماز چاہے نماز جنازہ اسی طرح سجدہ تلاوت بغیر طہارت کے درست و جائز نہیں ۔ وضو کرے یا وضو کا قائم مقام (مجبوری کے وقت)تیمم کرے۔کیونکہ تیمم بھی وضو ہی ہے ۔سرکار دو عالم ﷺ نے تیمم کانام بھی وضو ارشاد فرمایا ہے ،آپ فرماتے ہیں :الصعید الطیب وضوء المسلم وان لم یجد الماء عشر سنین۔(رواہ النسائی)’’یعنی پاک مٹی مسلمان کا وضو ہی ہے ،چاہے دس سال تک پانی نہ ملے۔‘‘

نماز کے لئے طہارت (وضو یا تیمم )حاصل کرنا فرض ہے۔ تحقیق یہ ہے کہ جب سے نماز فرض ہوئی ۔تو ساتھ ہی وضو بھی فرض ہوا ۔جو شخص بغیر طہارت کے نماز پڑھے گا۔ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو گا۔ البتہ اگر نماز کی توہین یا اس کو مشغلہ اور کھیل بنانے کی غرض سے ایسا کرے تو وہ کافر ہو جائے گا۔یہی سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہے ۔

فضائل وضو:وضو کرنے میں ظاہر و باطن کی طہارت حاصل ہوتی ہے ۔ظاہر کی طہارت تو ظاہر ہے ۔باطن کی طہارت اس طرح ہے کہ جب نیت اور اخلاص سے وضو کرے گا تو اُس کے گناہ جھڑ جائیں گے جیسا کہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ سے مروی ہے کہ آپ کے سامنے اگر کوئی وضو کرتا ،تو آ پ اپنے کشف سے اُس کے گناہ جھڑتے دیکھتے ،بلکہ آپ نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دُعا کی کہ اے اﷲ ٰ تعالیٰ مجھ پر مسلمانوں کے گناہوں کو ظاہر نہ فرما ۔حدیث پاک سے بھی ثابت ہے کہ وضو سے اعضا ئے وضو ء کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔(مسلم شریف)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ان چیزوں کا بیان فرمایا جس سے گناہ (مراد صغیرہ گناہ ہیں نہ کبیر ہ نہ حقوق العباد )مٹتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں اس میں ایک چیز بیان فرمائی :مشقتوں میں وضو پورا کرنا ۔(مسلم شریف)

یعنی اعضائے وضو کوکامل دھونا اور تین بار دھونا اور وضو کی سنتوں کا پورا کرنا ،مشقت سے مراد سردی یا بیماری یا پانی کی گرانی کا زمانہ یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا ۔ (مرأۃ شرح مشکوٰۃ)بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’بے شک میری اُمت قیامت کے دن پنج کلیان بلائی جائے گی ۔‘‘پنج کلیان وہ سُرخ یا سیاہ گھوڑا ہوتا ہے ۔ جس کے چاروں ہاتھ پاؤں اور پیشانی سفید ہوں ۔یہ بہت ہی قیمتی خوبصورت اور طاقتور ہوتا ہے ۔ امت سے مراد سارے نمازی مسلمان ہیں کہ قیامت میں ان کا چہرہ اور ہاتھ پاؤں آثار وضو سے چمکتے ہوں گے ۔خیال رہے اگر چہ پچھلی امتوں نے بھی وضو کیا مگر یہ نور صرف امت محمدی پر ہوگا۔نیز جو صحابہ نماز کی فرضیت سے پہلے وفات پاگئے یا اب مسلمانوں کے چھوٹے بچے یا سلام قبول کرتے ہی فوت ہو جانے والے لوگ جنہیں نماز اور وضو کا وقت ہی نہیں ملا ،ان پر بھی انشاء اﷲ تعالیٰ یہ آثار وضو ہوں گے ۔کیونکہ وہ نمازیوں کے گروہ سے تو ہیں ، ہاں بے نمازی ،فاسق ،جنہوں نے بلا وجہ نماز نہ پڑھنے کی عادت ڈال لی ۔وہ سزاء ًاس سے محروم رہیں گے ۔

خیال رہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا اپنی امت کو پہچاننا اس نور پر موقوف ہو گا۔ کیونکہ آپ نیکو کا روں اور گنہ گاروں کو بھی پہچانیں گے ۔(مرأۃ شرح مشکوٰۃ)

فرائض وضو:حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کے مسلک کے مطابق وضو میں چار فرض ہیں ۔(1)پورا چہرہ دھونا۔(2)کہنیوں سمیت ہاتھوں کو دھونا۔(3)چوتھائی سر کا مسح کرنا۔(4)ٹخنوں سمیت پاؤں دھونا اور اس کا ثبوت قرآن پاک کی اس آیت سے ہے :یا یھا الذین اٰمنوا اذا قمتم الی الصلوٰۃ فاغسلوا وجوھکم وایدیکم الی المرافق وامسحوا برؤسکم وارجلکم الی الکعبین۔(پارہ6) ’’اے ایمان والو !جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو ۔تو اپنے منہ دھوؤ اور کہنیوں سمیت ہاتھ دھوو اور سر کا مسح کرو اور ٹخنوں سمیت پاؤں دھوؤ۔
‘‘
طریقہ وضوء:عبادت کی نیت کر کے بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھ کر اونچی جگہ قبلہ رو بیٹھ کے وضو ء کرنا شروع کرے پھر تین بار پانی منہ کے اندر حلق تک اوپر پہنچائے اور نیچے پہنچائے اور پھر تین بار ناک میں پانی ڈالے اور ناک صاف کرے ، پھر تین مرتبہ تمام چہرہ دھوئے اور داڑھی کا خلال کرے پھر تین مرتبہ کلائیاں کہنیوں سمیت دھوئے اور انگلیوں میں خلال کرے ۔پھر سر کا مسح اس طرح کرے کہ پہلے گیلے ہاتھوں کو سر پر مسح کرتے ہوئے پیچھے لے جائے اور پچھلی جانب سے مسح کرتے ہوئے سر کی اگلی جانب لائے ۔پھر کانوں کے ظاہر و باطن کا مسح کرے ۔اس کے بعد گدی کا مسح کرے ۔پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھوئے اور انگلیوں کا خلال کرے ۔ہر عضو میں دائیں جانب سے ابتدا کرے۔ عضو کے بالا ئی حصے سے دھونے کی ابتدا کرے ۔ہر عضو کو دھوتے وقت دعائیں مانگے ۔وضو کے اخیر میں بھی دعا کرے اور وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لے ۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں صحیح وضو کر کے نماز پنجگانہ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi

Read More Articles by Peer Muhammad Tabasum Bashir Owaisi: 85 Articles with 90928 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Aug, 2016 Views: 693

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ