جشن آزادی (14 اگست)

(ATIQ AHMED, Karachi)
جشن آزادی (14 اگست) جشن آزادی کا مطلب ہوتا ہے۔ آزادی کا جشن جو کہ ہم پاکستانی ہر سال 14 اگست کو جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس سلسلے میں 14 اگست کو اسکولوں میں عام تعطیل کی جاتی ہے۔ اور گھروں میں پرچم لگائے جاتے ہیں۔
جشن آزادی کا مطلب ہوتا ہے۔ آزادی کا جشن جو کہ ہم پاکستانی ہر سال 14 اگست کو جوش و خروش سے مناتے ہیں۔اس سلسلے میں 14 اگست کو اسکولوں میں عام تعطیل کی جاتی ہے۔ اور گھروں میں پرچم لگائے جاتے ہیں۔ ہمارا پیارا ملک پاکستان14 اگست 1947 کو انگریزوں سے آزاد ہوا تھا۔ لیکن ان غلاموں کو پتہ ہی نہیں کہ آزادی کسے کہتے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے آج 70 سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کیا ہم آزاد ہیں۔ کیا ہم آزادی سے کوئی کام کرسکتے ہیں۔ ہم اگر کہی سیر و تفریح کیلئے بھی جاتے ہیں تو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہی کوئی واقعہ پیش نہ آجائے۔ہم آج بھی اُن انگریزوں کےہی غلام ہیں۔ غیر مسلم ممالک آج ہم سے ہر کام میں آگے ہیں، ہم لوگ اگر کسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں ، توزیادہ تر غلط ہی ، جب کے اس ٹیکنالوجی کو سمجھ کر آگے نہیں بڑھتےہیں، اسی طرح ہم اپنے حکمرانوں کو بھی دیکھے تو وہ بھی اکثر ان ہی کی سنتے ہیں۔ عوام کے ساتھ کیا مسائل ہیں یا ملک کو کیسے بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں کچھ معلوم نہیں۔ جشن آزادی منانے والوں یہ تو بتاؤ تم پر قانون کس کا چلتا ہے، کیا British Law, تمہارے ملک کا قانون ہے۔ اگر عوام کوئی مطالبہ کریں تو اس میں بھی حکمران اپنا فائدہ تلاش کرتے ہیں، اگر ان کو فائدہ ہو تو کام کرتے ہیں، ورنہ کام کروانہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ عوام بھوک سے مر جائے یا کچھ ہو مسائل در پیش آجائے حکمرانوں کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ وہ صرف بیرون ممالک سے جو کہا جائے اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور عوام اُن حکمرانوں سے بھی کم نہیں اگر کسی پارٹی کہ رہنما کو کچھ بول دیں، تو اس پارٹی کے کارکن بات کو سمجھنے کی بجائے آپ پر غصہ کرئے گا کہ تم نے کہا کیوں، اگر ہم کسی دفتر وغیرہ میں بھی کام کے سلسلے میں جائے تو انٹر ویو انگلش میں کیا جاتا ہے۔ جب کہ ہماری قومی اور مادری زبان اردو ہے۔ اصل میں وہ وقوم آزاد ہے جس پر اللہ اور رسول کے سوا کسی اور کا حکم نہ چلے، اور اللہ اکبر کا نعرہ لگاے۔جس کا قانون زمین پر رہنے والے نہیں بلکہ آسمان سے جو اصول اللہ نے نازل فرمائے ان پر عمل کریں اور اس ہی قانون پر چلے۔ جس ملک کا قانون زمین والے بنائیں اور وقوم آزاد نہیں ہوتی۔ اللہ کے قانون میں فحاشی پھیلانا، شراب وغیرہ پینا منع فرمایا گیا ہے۔ جبکہ ہمارے حکمران یہ سب کرتے ہیں۔ خود آرام دہ بستروں پر سوتے ہیں۔ جبکہ عوام سڑکوں پر بھوکی پیاسی رہتی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کیلئے ہمارےہمارے بزرگوں نے اپنی جان کی قربانیاں دے کر حاصل کیا۔ اس ملک کی حفاظت کرنا ہم سب کا اہم فرض ہے۔آج کل ہر کوئی یہی کہتا ہے۔ کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا لیکن کوئی یہ نہیں کہتا ہے۔ ہم نے پاکستان کیلئے کیا ہے۔ اگر ملک کے لئے کوئی کام کرنا پڑھ جائے تو کہا جاتا ہے۔ کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ، کوئی بھی اپنی ذمہ داری قبول نہیں بلکہ اپنا کام دوسروں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح ہم ایک دوسرے کے محتاج ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Atiq Ahmed

Read More Articles by Atiq Ahmed: 3 Articles with 2311 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Aug, 2016 Views: 688

Comments

آپ کی رائے