پٹرول پمپ اور عام آدمی

(Abbas Hashim Syed, Rawalpindi)
پٹرول پمپ اور عام آدمی
آپ یقیناّ مضمون کا عنوان پڑھ کر چونک گئے ہونگے ۔ دراصل یہ ایک لوٹ مار کی کہانی ہے جو ہے تو بہت مختصر لیکن بیان کرنا بہت ضروری ہے ۔۔ میں ایک ١٩سالہ پاکستانی نوجوان ہوں جس نے اب اس بات کاعہد کر لیا ہے کہ برائی چاہے جتنی مرضی چھوٹی ہو لیکن اس کو اپنے اس پاک وطن سے ختم کر کے ہی دم لے گا اور اپنے قلم کے زریعے پاکستانی عوام کو قبل از وقت زمانے کے مظالم سے آگاہ کرے گا تاکہ عام آدمی جو کے پہلے ہی غربت سے تنگ ہے دوبارہ کسی ظالم کے ظلم کا شکار نہ ہو ۔
ممکن ہے شاید یہ بات جو کہ میں اب کرنے جا رہا ہوں آپ کو اتنی اہم نہ لگے لیکن میرے لیے یہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ پڑول پمپ والے اس طرح کی دھوکہ دہی سے روزانہ ہزاروں روپے بچاتے ہیں ۔ اور عام آدمی مفت میں اس دھوکے کا شکار ہو رہا ہے ۔کہانی دراصل یہ ہے کہ ایک دن میں اپنی یونیورسٹی جا رہا تھا راستے میں مجھے پٹرول کی ضرورت پڑ گئی اور میں کسی پٹرول پمپ پر فلنگ کرانے چلا گیا ۔

فلنگ کرتے کرتے وہاں کے ایک ملازم نے مجھے مسکراتے ہوئے ایک بہت اچھا مشورہ دیا جو کہ عمومادھوکہ دھی کے لیے ہر بندے کو دیا جاتا ہے ۔ اس نے کہا“ آپ اپنی بائیک کا پٹرول سوچ آف کر دیں اس سے پٹرول گزرنے والی نل میں کچرا نہیں جائیگا “ اور میں نے مسکراتے ہو ئے نیچے جھک کر اپنا سوئچ آف کیا اور اسی دوران جناب نے بجلی کی سی تیزی سے پٹرول پائپ میری ٹینکی میں سے باہر نکال لیا۔

میں تھوڑا حیران ہوا کہ ابھی سوئچ آف کرنے سے چند سیکنڈ پہلے ہی اس نے فلنگ کے پائب ڈالا ہے اور میرے اوپر اٹھتے ہی واپس نکال لیا ۔میں نے حیران ہو کر میٹر کی طرف دیکھا جو بالکل خالی تھا (کیونکہ وہ پٹرول پائپ پہلے ہی واپس رکھ کر میٹر آف کر چکا تھا ) میں نے اس پوچھنے کی کوشش کی تو اس نے نہایت ہوشیاری دکھائی اور رش کابہانہ کر کے مجھے کوئی مثبت جواب نہ دیا ۔

خیر اس دن تو میں نے جان لیا کہ یہ کیسے عام آدمی کو دھوکا دیتے ہیں اور اپنی راہ چل دیا۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں پھر ایمرجنسی میں کہیں جا رہا تھا ۔راستے میں مجھے پھر پٹرول کی ضرورت پڑ گںی اور میں قریب موجود ایک اور پٹرول پمپ پر گیا ۔ اور پچھلی بار کی طرح اس بار بھی میرے سے اسی طرز کا دھوکا ہو گیا ۔ ( جو ایک طرح کی میر ی بیوقوفی بھی تھی کہ مسلسل دوسری بار میں یہ دھوکا کھارہا تھا ) لیکن خیر میرا اصل مقصد تو عوام کو ان لٹیروں سے بچانا ہے ۔ براہ کرم آپ جب بھی فلنگ کرائیں اپنی نظر میٹر سے اس وقت تک مت ہٹائے گا جب تک آپ پور ی طرح سے مطمئن نہ ہو جائیں ۔ خدا ہم سب کو ظالموں کے شر اور دھوکے سے اپنی پناہ میں رکھے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abbas Hashim Syed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Aug, 2016 Views: 862

Comments

آپ کی رائے
Amazing. Wonderful.
By: Ghulam Qadir Choudhry, Karachi on Sep, 21 2016
Reply Reply
1 Like
much informative Article , one thing more , always fill you bike with 1 liter petrol or more, not Buy PETROL RS.100 , 200 because they fixed metter.
By: Mian Khurram, Lahore on Sep, 21 2016
Reply Reply
1 Like