آئیے سب مل کرغور وفکر کریں ۔۔۔۔۔۔

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
خالق کائنات نے اس خوبصورت زمین کو بیش بہا وسائل سے مالا مال اس لئے کیا کہ اس پہ بسنے والی تمام مخلوقات ان نعمتوں سے مستفید ہو سکے۔تمام مخلوقات کا ان وسائل پہ یکساں حق قرار دیا۔لیکن باوجود قدرت کی فیاضی کے کروڑوں انسان ایک ایک نعمت کے لئے ترستے ہیں،یہ سب نعمتیں کیوں لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں؟خالق کے پیدا کئے ہوئے وسائل سے اس کی مخلوق کا ایک بڑا حصہ کیوں محروم ہے؟کہیں تو گڑ بڑ ہے؟ خالق و مخلوق کے درمیان یہ کون پردے حائل کر رہاہے؟ آئیے اس پہ غور وفکر کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
خوبصورت کائنات ،وسیع و عریض اور طرح طرح کے وسائل سے مالا مال خوبصورت سیارہ زمین، سات ارب سے زیادہ انسانوں نے اس خوبصورت سیارے کو اپنا مسکن بنایا ہوا ہے، شرق و غرب، شمال و جنوب میں پھیلے ہوئے ہر طرح کے خوبصورت موسم، ہر طرح کے زمینی و سمندری وسائل،باوجود قدرت کی فیاضی کے کروڑوں انسان ایک ایک نعمت کے لئے ترستے ہیں، لاکھوں ایکڑ زمین پھیلی ہوئی ہے اور ویران پڑی ہے، لیکن انسان رہنے کے لئے مکان کے حصول کے لئے اپنی ساری زندگی صرف کر دیتا ہے اور کبھی تو یہ حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے،باوجود خوراک کے ذخیروں کے لاکھوں انسان بھوکے سونے پہ مجبور ہیں، اور کروڑوں انسان ناقص خوراک پہ گذارا کرنے پہ مجبور ہیں۔گندم وافر مقدار میں موجود ہے لیکن کروڑوں انسانوں کو روٹی میسر نہیں، صاف پانی کے ذخائر ہیں لیکن پینے کو صاف پانی نہیں، پھل ، سبزیاں، دالیں، ہر قسم کے انواع و اقسام کی اشیاء موجود ہیں لیکن قوت خرید نہیں۔جسم کو صحت مند رکھنے کے لئے متوازن خوراک چاہئے لیکن میسر نہیں۔

یہ سب نعمتیں کیوں لوگوں کی پہنچ سے دور ہیں؟خالق کے پیدا کئے ہوئے وسائل سے اس کی مخلوق کا ایک بڑا حصہ کیوں محروم ہے؟کہیں تو گڑ بڑ ہے؟ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے، کہ خالق و مخلوق کے درمیان یہ کون پردے حائل کر رہاہے؟ خالق کی پیدا کی ہوئی نعمتوں سے کون اس کی مخلوق کو محروم کر رہا ہے؟

کبھی کبھی دل کے اطمینان کے لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسانوں کی بھوک اور معاشی تنگی، اور غربت و افلاس کی یہ ذلت قدرت کی طرف سے ہے۔خدا کی یہی تقسیم ہے، حالانکہ خدا کے کلام ہی میں کہا گیا ہے کہ’’اس کائنات میں جو کچھ خلق کیا گیا ہے تمام مخلوقات کا اس پہ یکساں حق ہے‘‘ مخلوقات کو اس کے حق سے محروم کون کر رہا ہے؟

ہمیں اس پہلو پہ غور کرنے کی ضرورت ہے، دنیا میں انسانوں کو محروم المعیشت رکھنے میں خدا کی مرضی شامل نہیں بلکہ یہ معاشی ظلم کی وجہ سے محروم المعیشت ہیں،معاشرے میں سرمایہ کے بتوں کی تخلیق کے عمل نے انسانوں کو محرومیوں میں دھکیل دیا ہے، اس کو ذرا آسان انداز میں بیان کروں تو یوں کہ دنیا بھر میں چند بڑے سرمایہ داروں نے اپنی ذاتی دولت بنانے کے لئے دنیا بھر کے زمینی وسائل کو مختلف طریقوں سے اپنے قبضے میں کر رکھا ہے جس سے دنیا کا ایک بڑا حصہ خالق کی نعمتوں سے محروم ہو چکا ہے۔ مثلاً ایک زمانے میں بنیا ہوتا تھا پورے گاؤں کے کسانوں کو غریب تر بنانے اور حتیٰ کہ ان کی زمین کی ملکیت تک ان سے ہتھیانے میں اپناثانی نہیں رکھتا تھا، لیکن وقت بدلنے سے، بنیا گیری کا طریقہ واردات بدل گیا، بنیاجدید کیل کانٹوں سے لیس ہو گیا اور اس نے شہروں کے شہر اور ملکوں کے ملک ملکیتوں اور وسائل سے محروم کرنا شروع کر دئیے۔اس بنیا گیری کا نام سرمایہ داری نظام رکھا گیا، اور ان کو چلانے والے سرمایہ دار کہلائے، سرمایہ داروں نے بڑی بڑی دیو ہیکل کمپنیاں بنائیں اور پھر زمین، سمندر، باغات، فصلیں، پہاڑ، برف، پانی، تیل، گیس، کوئی بھی وسیلہ قدرت ان کی دست برد سے محفوظ نہ رہا، اور ہاں ان وسائل قدرت کو ہتھیانے کے لئے جو سب سے اہم قیمتی چیز انہوں نے استعمال کی وہ انسانی محنت ہے۔اانہوں نے انسانوں کی جسمانی مشقتوں اور ذہنی کاوشوں کو اپنے مفادات میں ڈھالا،یوں سرمایہ در سرمایہ کا عمل ترقی کرتا گیا، اب محنت کی کوئی اہمیت نہیں جب تک سرمایہ نہیں ، ایسا معاشرہ بنایاجس میں چھوٹی مچھلی کو بڑی مچھلی نگل لیتی ہے، جہاں کتوں، بلیوں کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے انسانوں کی کم،ایک عالمی سروے کے مطابق:’’ ترقی پذیر ممالک میں ہر سال تمام خواتین کو اپنے موجودہ اخراجات کے ساتھ ساتھ مزید اپنی صحت کو بہتر کرنے کے لئے بارہ ارب ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن دوسری طرف یورپ اور امریکہ میں ہر سال صرف پرفیوم پہ بارہ ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔

اسی طرح ہر سال ترقی پذیر ممالک میں پانی اور سینی ٹیشن کی سہولت کے لئے کی (دیگرا خراجات سے زائد) تمام لوگوں کو مہیا کرنے کے لئے نو ارب ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن آٹھ ارب ڈالر امریکہ میں سالانہ میک اپ کے سامان پہ خرچ کئے جاتے ہیں۔

دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں بنیادی صحت اور غذائی ضروریات کے لئے ان کے موجودہ اخراجات سے زائد تیرہ ارب ڈالر ہر سال ضرورت ہوتے ہیں۔لیکن ہر سال یورپ اور امریکہ میں سترہ ارب ڈالر صرف پالتو جانوروں پہ خرچ کر دئے جاتے ہیں۔

ہر سال ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کو بنیادی تعلیم کی سہولت مہیا کرنے کے لئے(ان کے موجود اخراجات سے زائد) چھ ارب ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے،لیکن دوسری طرف دنیا بھر میں ہر سال سات سو اسی ارب ڈالر فوجوں پہ خرچ کر دئیے جاتے ہیں۔

دنیا کی مجموعی دولت میں ایک کھرب ڈالر صرف دو سو پچیس افراد کے پاس ہے۔اور پوری دنیا میں بسنے والے غریب ترین ڈھائی ارب افراد کی سالانہ آمدنی ایک کھرب ڈالر ہے۔ ‘‘یہ ہے جناب سرمایہ داری نظام کا کمال، دنیا بھر کی گندم اور خوراک کے وسائل پہ قابض چند کمپنیاں اپنا مال بناتی ہیں، اور جب گندم اور فوڈ ان کے سٹوروں میں گلنے لگتا ہے تو وہ اسے سمندر برد کرتے ہیں، اور دوسری طرف افریقہ و ایشیا میں لوگ روٹی نہ ہونے کی وجہ سے بھوک سے بلبلاتے ہیں ۔جیسے سرمایہ پرستوں نے دنیا میں عالمی سطح پہ اپنے جال پھیلا رکھے ہیں ایسا ہی قومی سطح پہ بھی سرمایہ داروں نے تباہی کا بازار گرم کر رکھا ہوتا ہے۔
سرمایہ دار جب وسائل کی لوٹ کھسوٹ اور قبضے کی منصوبہ بندی کرتا ہے تو اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کتنے انسانوں پہ ایٹم بم گرانا ہے، اور کتنے شہروں کو تباہ و برباد کرنا ہے، کتنی اقوام اور ملکوں کو سیاسی انتشار میں مبتلا کرنا ہے، اور کہاں کہاں کس کس کو اپنا آلہ کار بنانا ہے، اور کس طرح سے قوموں کو معاشی غلامی کے راستے سے سیاسی غلام بنا کر رکھنا ہے۔

عملی طور پہ طبقاتی معاشروں میں دو دنیا آباد ہوتی ہیں، ایک ان ارباب اختیار اور سرمایہ دار طبقے کی ’’دنیا ‘‘جہاں ریاست کے تمام وسائل بروئے کار لا کر تمام صحت، تعلیم سے لے کر تمام انفراسٹرکچر اعلیٰ بنیادوں پہ استوار کیا جاتا ہے، مارکیٹ، مالز، سڑکیں، پارک،کلب، کار پارکنگ، باغات، سوئمنگ پولز، گالف اور سپورٹس کے میدان اور خوصورت صاف ستھرا ماحول، بجلی، گیس اور پانی کا کوئی بحران نہیں۔گویا خالق کی تمام نعمتوں سے بھر پور استفادہ کر رہی ہوتی ہے، اس ’’خوشحال دنیا‘‘ کی خدمت کے سارے عمل میں تمام ریاستی ادارے متحرک نظر آتے ہیں، بلدیہ والے، فوڈ انسپکٹرز، ہیلتھ انسپکٹرز، تھانیدار، ٹریفک پولیس، واپڈا، سوئی گیس اتھارٹی، بیورو کریسی اور سیاستدان ہر وقت ان پوش علاقوں کے مکینوں کی خدمت میں نظر آتے ہیں، سیکورٹی اعلیٰ درجے کی۔ ذرا سا پٹاخہ پھوٹا تو سب کی شامت آ جاتی ہے۔ سارے قوانین، سارے قاعدے اور اصول ان بستیوں کے لئے ہوتے ہیں، وہاں جو اچھا برا ، اخلاقی و غیر اخلاقی ہو رہا ہوتا ہے سب ادارے اس کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ایک دوسری ’’انوکھی دنیا‘‘ بھی ہے جہاں کسی ادارے کا عمل دخل نظر نہیں آتا، انسان ہر نعمت کو ترستے ہیں، جہاں ہر طرف بدحالی کے ڈیرے نظر آتے ہیں، جہاں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی گھنٹوں لوگ سڑکوں پہ دھکے کھاتے ہیں، ٹرانسپورٹ کا بے ڈھنگا نظام، کچرے کے ڈھیر، بیماریوں کا گڑھ بنے نظر آتے ہیں، جہاں ہسپتالوں میں بلیاں اور کتے پھرتے نظر آتے ہیں، جہاں دوائی نہیں تو کبھی ڈاکٹر نہیں، تو کبھی سٹاف نہیں تو کبھی سہولت نہیں، سکولوں کی حالت یہ ہے کہ کبھی چھت نہیں اور کبھی فرنیچر و دیگر سہولیات کے بغیر، تو کبھی پڑھانے کے استاد نہیں اور اگر استاد ہے تو اس کی کوئی ٹریننگ نہیں اور اگر ٹریننگ ہے تو سلیبس معیاری نہیں،اور کبھی تو ہزاروں کی آبادی میں پرائمری سکول تک نہیں، پینے کا صاف پانی سینی ٹیشن کا غیر مناسب نظام لوگوں کی زندگی اجیرن کر رہا ہے۔ کبھی گیس نہیں تو کبھی بجلی کے انتظار میں بیٹھے ہیں، اور کبھی پینے کے پانی کے لئے سرگرداں ہیں۔بے روزگاری کا عفریت فاقوں تک نوبت لے آتا ہے، اور جہاں تک جان و مال کی حفاظت کا معاملہ ہے تو اس کی کوئی گارنٹی نہیں، کہیں بھی کسی گلی میں کسی بازار میں لٹنے، مرنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے حتیٰ کے گھر کے اندر بھی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ جو پہلے والی ’’بے غم اور نہال دنیا‘‘ جس عیش وعشرت میں وقت گزار رہی ہے وہ اس ’’دوسری دنیا ‘‘کے غم والم اور مصیبتوں کے نتیجے میں ہے۔مزید دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اس وطن خداداد کے اس بے ڈھنگے نظام کو بے ڈھنگے طریقے سے گھسیٹنے والی افسر شاہی اور سیاستدان نہ تو ان غریبوں کی گندی گلیوں سے گذرتے ہیں اور نہ ہی وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ جو جم غفیر ہے اس کے کیا مسائل ہیں؟ یہ سارے ریاستی نوکر اسی پبلک کے ٹیکسوں پہ داد عیش دیتے ہیں، پر تعیش زندگی گذارتے ہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارنے میں لگے رہتے ہیں اور اس بدقسمت قوم کے بچوں کو ذلت کی زندگی میں دھکیلتے ہیں۔

یہ’’ عیش وعشرت کی دنیا ‘‘کے باسی سرمایہ دار وجاگیردار اس مفلوک الحال دنیا کے باسیوں سے بھیک مانگنے بھی آتے ہیں۔ وہ بھیک ووٹوں کی بھیک ہوتی ہے، لہذا بڑی چالاکی سے وہ ان بھوکوں اور پریشان حال لوگوں سے اگلے پانچ سال مزید ان کو ذلت کی زندگی میں دھکیلنے کا لائسنس لیتے ہیں۔ یقیناً یہ جو ’’دوسری دنیا‘‘ ہے، اپنے خالق کی نعمتوں سے اس وقت ہی استفادہ کر سکتی ہے جب وہ اس’’ گورکھ دھندے‘‘ کو سمجھے اور اس پہلی ’’استحصالی دنیا‘‘ کے استحصال کو سمجھے، اور پھر ایسی کسی جدو جہد کا حصہ بنے جو اس عالمی اور قومی بنیا گیری کا انسداد کرے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68327 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
16 Aug, 2016 Views: 547

Comments

آپ کی رائے