یوم آزادی

(Faisal Shahzad, Karachi)
آج14اگست ہے…… وہ تاریخ جس دن پاکستان معرض وجود میں آیاتھا،اسی دن لاکھوں مسلمانوں نے اﷲ کے نام پر اپنا گھر بارچھوڑا اور بے سروسامانی کی حالت میں کٹتے مرتے اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان کی طرف چل دیے۔ اس دن اور اس کے بعد آنے والے کئی مہینوں میں وحشت و سربیت کے بدترین مظاہر آسمان نے دیکھے۔ہزاروں مسلمان شہید ہوئے، ماؤں اور بہنوں کی عصمتیں لٹیں، صرف اس لیے کہ ایک ایسا خطۂ زمین حاصل کیا جائے جہاں اپنے دین کے مطابق زندگی گزاری جائے۔ پاکستان جوکلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور اسی بنیاد پر اس کومدینہ منورہ کے بعددوسری نظریاتی ریاست کہا گیا۔ مگر شروع ہی سے لبرل سیکولر حضرات ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ پاکستان کو اپنی بنیاد میں ایک لبرل سیکولر ریاست باور کرایا جائے۔ وہ کہتے رہے کہ پاکستان کا قیام کسی نظریے کی طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک سیاسی ضرورت کی وجہ سے ہوا،اس مقصد کے لیے وہ اکثربانی پاکستان محمد علی جناح کے کچھ بیانات کوتوڑ مروڑ کر اور اپنے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتے ہیں لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اس نعرے کو جھٹلانے میں ناکام رہے ہیں جو پاکستان کی بنیاد بنا، یعنی پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اﷲ……

اسی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمان ایک ہوئے تھے۔دیکھیے قیام پاکستان سے چند سال قبل بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے کیا فرمایا تھا :
’’وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں؟ وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس امت کی عمارت استوار ہے؟وہ کونسا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کردی گئی؟ وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر اﷲ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا، ایک رسول ، ایک کتاب، ایک امت……‘‘ ( اجلاس مسلم لیگ کراچی: 1943ء)

اسی طرح پاکستان بننے کے کچھ عرصے کے بعدانہوں نے اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلا م کے اصولوں کو آزما سکیں۔ (13جنوری 1948ء )

بانیٔ پاکستان کے فرمودات کو ایک نظر پڑھیے اور آج پاکستان کا سرسری جائزہ لیجیے تو پہلی نظر میں معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کا نفاذ من حیث القوم ہماری ترجیحات میں کہیں نہیں ہے۔ آج وہ جذبہ ہی مفقود ہے، جس کی وجہ سے اس خطے کے لیے بلاشبہ تاریخ کی مثالی قربانیاں دی گئیں۔ آج ہم نے اﷲ کی رسی کو چھوڑ دیا ہے اورصوبائیت، لسانیت اور قومیت کے علم بردار بن گئے ہیں۔آج ہم کیا سوچ کر یومِ آزادی مناتے ہیں؟…… نہ ہماری حکومت آزاد ہے نہ ہماری پارلیمنٹ، بلکہ ہماری سرحدیں بھی صرف نقشوں پرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹر اور طیارے پاکستانی سرحدوں سے سینکڑوں میل اندر آ کر ایبٹ آباد میں اترتے ہیں اور اپنا ہدف باآسانی پورا کر کے واپس چلے جاتے ہیں اور ہم ایک کمیشن قائم کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں…… امریکی ڈرون ہر دوسرے دن ہماری سرحدوں میں گھس کر ہمارے بے گناہ شہریوں کوشہید کر دیتے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں، لیکن ہم صرف رسمی مذمت کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے۔ ہماری بہن عافیہ صدیقی ناکردہ جرم کی سزا میں دشمنوں کی قید میں ہے لیکن ہم اسے واپس نہیں لا سکتے……غلام اس کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ یہ اس لیے ہوا کہ ہم نے انفرادی و اجتماعی معاملات میں ایک اﷲ کی غلامی چھوڑ دی اور ہزاروں غلامی کے طوق اپنے گلے میں ڈال لیے۔ یوں تمام وسائل کے ہوتے ہوئے بھی آج ہم ذلت و رسوائی کی عمیق گہرائیوں میں ہیں۔ ہمیں دنیا بھر میں نفرت و حقارت کے لہجے سے ’’پاکی‘‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے، کبھی ہم کتوں سے تشبیہ دیے جاتے ہیں تو کبھی چند ٹکوں کی خاطر اپنی ماں تک کو بیچنے کی شرم ناک گالی سنتے ہیں ۔ ایک طرف ہمارے شہر جل رہے ہیں، ماہِ مبارک میں صرف کراچی میں 150بے گناہ مارے گئے ہیں اور دوسری طرف ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم کرکٹ مقابلوں میں مگن ہیں اور یومِ آزادی پر ناچ گانوں کے فیسٹیول منعقد کرا رہے ہیں! اﷲ ہی ہماری حالت پر رحم فرمائے ……
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Faisal shahzad

Read More Articles by Muhammad Faisal shahzad: 115 Articles with 112324 views »
Editor of monthly jahan e sehat (a mag of ICSP), Coloumist of daily Express and daily islam.. View More
16 Aug, 2016 Views: 439

Comments

آپ کی رائے