مواخات مدینہ کے ماڈل کو اپنانے کی ضرورت

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
مواخات مدینہ کے ماڈل کو اپنا کر ہم معاشرے کے اندر تعلیمی، معاشی اور سیاسی انقلابات لا سکتے ہیں، اگر ایک پڑھا لکھا، ان پڑھ کی ذمہ داری قبول کر لے اور اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کر دے، اگر ایک ہنر مند ، بے ہنر مند کی ذمہ داری لے کر اسے ہنر مند بنا دے، اسی طرح زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ افراد اپنا علم وہنر اور صلاحیت دوسروں کو سکھانے اور انہیں مدد دے کر اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے کا بیڑا اٹھا لیں تو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔۔۔۔

افراد معاشرہ کاایک دوسرے کا خیال رکھنا انسانی اوصاف میں سے ایک ہے ، اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ معاشرے میں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا، مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ایک مسلمان کے لئے رضائے الہیٰ کے حصول کا ذریعہ ہے۔پیغمبر اسلام ﷺ نے ان تعلیمات پہ عمل کر کے دیگر انسانوں کے لئے ایک بہترین مثال قائم کی۔معاشرے کی مدد کرنے کے حوالے سے کئی واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں لیکن ایک واقعہ جو سب سے نمایاں نظر آتا ہے وہ مواخات مدینہ ہے۔جو کہ ریاست مدینہ کے ابتدائی ایام میں آپ ﷺ نے افرادمعاشرہ کو اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے کے لئے قائم کی۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت پہ لبیک کہتے ہوئے صحابہ اکرام مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، لیکن اس حال میں کہ وہ اپنا سب کچھ مال ودولت، جائیداد، مویشی مکہ میں چھوڑنے پہ مجبور کر دئیے گئے۔ لٹے پٹے پریشان حال قافلے جب مدینہ میں وارد ہوئے تو آپ ﷺ نے نہایت اعلیٰ تدبر سے مدینہ میں رہائش پذیر افراد جو انصار مدینہ کہلائے کو ان آنے والے مفلوک الحال مہاجرین کا بھائی بنا دیا۔اس مواخات کی روح یہ تھی کہ انصار ، مہاجرین کی اس طرح سے مدد کریں کہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو سکیں، لہذا مدینہ کے باسیوں نے جو انصا ر مدینہ کہلائے یعنی’’ مدد دینے والے ‘‘ انہوں نے انتہائی فراخدلی سے اس مواخات کو اپنایا، ہر ایک انصاری نے ایک مہاجر کی ذمہ داری سنبھال لی اور اسے اپنا بھائی بنا دیا ، اور انہیں اپنی جائیدا، مال و دولت میں اس طرح اپنا شریک کر لیا جیسا کہ سگے خون کے رشتے شریک ہوتے ہیں۔مہاجرین نے بھی عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کیا انہوں نے صرف مدد کے حصول کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنی محنت پیش کی، اور کہا کہ ہم محنت کئے بغیر کسی قسم کی اجرت یا مدد قبول نہیں کریں گے، لہذا ایک طرف انصار کا خلوص اور انسان دوستی، بھائی چارے کا عمدہ مظاہرہ اور دوسری طرف خود داری اور محنت کر کے کمانے کی جستجو اور جذبہ تھا لہذا اس مواخات کے عمل نے معاشرے کو خوشحالی سے ہمکنار کر دیا، وہی مہاجرین جو لٹے پٹے آئے تھے کچھ ہی عرصے میں اپنے انصار بھائیوں کی مدد اور اپنی محنت کی بدولت خود کفیل ہو گئے۔

اس وقت اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو مواخات کی اسی سپرٹ کی ضرورت ہے، کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ معاشرے میں اکثریت ناخواندہ لوگوں کی ہے، اگر پڑھے لکھے لوگ ان ان پڑھ لوگوں کی ذمہ داری اٹھا لیں تو ملک سے جہالت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے یعنی اگر ایک پڑھا لکھا ایک ان پڑھ کی ذمہ داری لے لے کہ وہ اسے پڑھائے گا۔ اسی طرح جو تاجر ہیں وہ مالی مدد کے ساتھ تجارت کا گر سکھا سکتے ہیں،اسی طرح کروڑوں افراد ہنر سے محروم بیروزگاری کی زندگی گذار رہے ہیں، اگر ایک ہنر مند، غیر ہنر مند کی ذمہ داری لے لے تو معاشرے کے اندر دستکاری اور دیگر انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔اسی طرح مختلف سطحوں پہ اور شعبوں میں تعلیم یافتہ افراد غیر تعلیم یافتہ یا تربیت یافتہ افراد کی ذمہ داری لے لیں تو یقیناً معاشرہ اس اشتراک عمل کے نتیجے میں غربت، جہالت ، بیروز گاری، معاشی بدحالی کے اندھیروں سے نکل سکتا ہے۔

مواخات کے اس معاشرتی اشتراک کے ماڈل کو آج بھی اپنانے کی ضرورت ہے ، لیکن اس کے لئے احساس کی ضرورت ہے،اپنے پیغمبر ﷺ کی تعلیمات پہ عمل کرنے کا احساس، دوسروں کی غربت و افلاس، اور پریشانیوں کا احساس، اور یہ احساس بھی ہو کہ ہم خود تو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں، ہمارے بچے سکول جا رہے ہیں -

لیکن ہمارے ارد گرد لاکھوں انسان تعلیم کے زیور سے محروم ہیں، ہم خودد اچھا کھانا کھا کر سو جاتے ہیں لیکن لاکھوں لوگوں کو کھانا نصیب نہیں ہوتا، ہمارے پاس پر تعیش گھر موجود ہے لیکن بہت سارے ایسے ہی جن کے پاس گھر کی چھت نہیں ہے ، ہم زرق برق لباس پہنتے ہیں لیکن بہت سارے ایسے ہیں جن کے پاس بمشکل تن ڈھاپنے کے لئے لباس ہے، ہمارے بچے صحت مند ہیں لیکن لاکھوں بچے بغیر علاج و دوائی کے مر جاتے ہیں، در اصل یہ احساس ہی تھا جس نے مدینہ کے انصار کو مکی مہاجرین کی دل و جان سے ختم و مدد پہ آمادہ کیا، آج اسی احساس کی ہمارے معاشرے میں ضرورت ہے، کہ ہم اپنے گرد وپیش کا جائزہ لیں اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنے علم،ہنر اور مال میں دوسرے محروم لوگوں کو حصہ دیں اور انہیں اپنے جیسا بنائیں، بلکہ اپنے سے بہتر بنائیں، اس طرح یہ اشتراک عمل آگے چل کر پوری قوم کو منظم کرے گا اور اجتماعی سیاسی ومعاشی تبدیلی کا بھی زریعہ ثابت ہو گا۔یقیناً اس وقت معاشرے کی تمام محرومیاں فرسووہ معاشی نظام اور سیاسی نظام کی وجہ سے ہیں، لیکن افراد معاشرہ جب تک منظم نہیں ہوں گے ، ان کا آپس میں اشتراک عمل نہیں ہو گا، کسی بھی نظام کی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،اس کے لئے ضروری ہے کہ سماجی خدمت کے عمل اور سیاسی تبدیلی کی جدو جہد کو ساتھ ملایا جائے۔ لوگوں کو سماجی خدمت کے ذریعے اپنے پاؤں پہ کھڑا کیا جائے،اور ساتھ ہی ساتھ انہیں فرسودہ نظام معیشت و سیاست میں تبدیلی کے لئے بھی تیار کیا جائے۔ اس کے لئے معاشرے کے اندر مؤاخات کا ماڈل اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68311 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
18 Aug, 2016 Views: 1335

Comments

آپ کی رائے