میں سو کیوں نہیں پاتا

(sana, Lahore)
آنکھوں کے گرد حلقے ، بال بکھرے بکھرے، گاال پچکے پپچکے اورخیال بھٹکے بھٹکے یہ سب ہی نیند کی کمی کی علامات ہیں۔ آج کے دور میں بہت کم عمر بچے بھی نیندکی کمی یا نیند نہ آنے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ صبح کو سست سے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

جس طرح ہم زندگی میں اپنے کاروبار اور کرئیر کو مینج کرتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں اپنی نیند کو بھی مینج کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔ زندگی تو درحقیقت دوسرا نام ہی مینجمنٹ کا ہے۔ کبھی اپنی تو کبھی اپنے سے وابستہ لوگوں کی۔ جو بھی انسان کامیاب ہوتا ہے وہ مینجمنٹ سیکھ چکا ہوتا ہے۔

1۔ نیند انسان کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ خوراک، جس طرح انسان کھائے بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح سوئے بغیر بھی سروائیو کر پانا ممکن نہیں ہوتا۔ مگر زندگی کی بڑھتی مصروفیات اور ذیادہ سے ذیادہ کام کرلینے کی چاہ نے ہمیں نیند کو پس پشت ڈال دینے پر مجبور کر دیا ہے اور ہم بھی بے حد خوشی سے اس معاملے میں لا پروائی برت رہے ہیں۔

2۔ عام طور پر ہر گھر میں ہی رات کے وقت ہی اکثر گھر والے سب اکٹھے ہوتے ہیں اسی لئے پھر دن بھر کی باتیں اسی وقت ڈسکس کی جاتی ہیں اور بد قسمتی سے بچوں والے گھروں میں خاص طور پر ٹین ایج بچوں کے گھرانوں میں اس وقت مسائل اور لڑائیوں کی پٹاری کھول لی جاتی ہے۔

مسئلے حل ہوں یا نہ مگر وہ نیند کی کوالٹی کو ضرور متاثر کرتے ہیں۔

3۔ ٹی وی سے لطف اندوز ہونا بے شک ہر آزاد شہری کا حق ہے مگر ہم جب رات کے وقت اور بستر پر لیٹ کر ٹی وی دیکھتے ہیں تو ہمارے دماغ کو سگنل یہی ملتا ہے کہ ابھی سست نہ ہو سونا نہیں انجوائے کا وقت ہے۔

رات کے وقت خبریں دیکھنے سے تو پرہیز کریں جتنا آپ کر سکتے ہیں۔

4۔ رات کے وقت فراغت ہوتی ہے پورے دن کے بعد تو بہت سے لوگوں کو باہر نکلنا دوستوں کے ساتھ پھرنا اور کھانا پینا یا گھر منگوانا یا د آجاتا ہے۔

ایک زمانے میں تو یہ ویک اینڈ پر ہی ہوتا تھا اب تو لوگ ہر روز ہی ایسا کام کرنے لگے ہیں۔ رات کو جتنی لیٹ کھائیں گے اتنی لیٹ کھانا ہضم ہوگا اور اتنی ہی دیر آُپکو سونے میں لگے گی۔

5۔ رات کی نیند رات کی ہے۔ انسان ڈیزائن ہی اس طرح سے ہیں کہ یہ رات کو سو سکتے ہیں اور بہترین ریچارج ہو سکتے ہیں۔ مگر انسان اب رات کو سونے سے ذیادہ صبح کو سونے کو فیشن ااور ضرورت سمجھنے لگے ہیں۔ پھر دن بھر انرجی ڈرنکس پی پی کر خود کو ریچارج کرنا چاہتے ہیں۔

کچھ شعبوں کی تو مجبوری ہے کہ انسان کو رات کو جاگنا پڑتا ہے مگر ایک بڑی اکثریت تو اپنا بیڑہ غرق شوقیہ رات کو جاگ کر کر رہی ہے۔

اگر آُکو صحت عزیز ہے تو رات کو سونے کی کوشش کریں۔

6۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ رات کو سونے لیٹتے ہیں تو انکو صبح کی ٹینشن اور چیلنجز یاد آنے لگتے ہیں۔

اس سے بچنے کے لئے سونے سے نصف گھنٹا پہلے اپنے تنگ کرنے والے خیالات لکھ ڈالیں اور ان کے بارے میں بے تحاشا سوچ کر بستر پر سونے کے لئے جائیں۔ جب آپ پہلے ہی انکو توجہ دے چکے ہوں گے تو یہ کم تنگ کریں گے۔

7۔ رات کو سونے سے دو گھنٹے پہلے انٹرنیٹ کو بائے بائئے کہہ دیں۔ انٹرنیٹ آپکا دماغ ایکٹیویٹ کر دیتا ہے اور آُپکو سونے میں مشکل ہوتی ہے۔ اسی لئے دماغ کو سلانے والے کام کریں جیسا کہ کتاب پڑھی جاسکتی ہے یا گھر والوں سے پر سکون ماحول میں بات چیت کریں۔ لڑائی جھگڑا صبح تک کے لئے ملتوی رکھیں۔

8۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ سونے سے سات آٹھ گھنٹے پہلے چائے کافی جیسے مشروبات پی چکیں جتنی دیر سے پئیں گے آپکی نیند اتنی ہی دور ہوتی جائے گی۔

9۔ آپکے سونے والے کمرے میں روشنی جتنی ذیادہ نیند میں پریشانی اتنی ہی ذیادہ سو روشنی کم سے کم رکھیں اور موبائل کی سکرین کی روشنی سے تو خاص طور پر جو روشنی نکلتے ہے چاہے جتنی مرضی چھوٹی سکریں ہے مگر وہ روشنی نیند کو متاثر ضرور کرتی ہے۔

10۔ نیند کی اہمیت کو سمجھیں نیند کی کم انسان کو ہائی بلڈ پریشر وزن کی ذیادتی ڈپریشن جیسے امراض میں مبتلا کرتی ہے کیونکہ نیند کو اللہ نے جسم کا نظام صاف کرنے اور مرمت کرنے کے لئے بنایا ہے جب نظام کی مرمت نہیں ہو گی تو یہ ٹھیک طرح سے چل بھی نہیں سکے گا اور آپکو ڈاکٹروں کے پاس بہت سی دوائیں لینے جانا پڑے گا جبکہ نیند ہمارے لئے ایک قدرتی دوا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 179352 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
19 Aug, 2016 Views: 833

Comments

آپ کی رائے
Nice article
By: Abdul Kabeer, Okara on Sep, 01 2016
Reply Reply
0 Like