تغیر وتبدل... "حصه اول"

(Nighat Qayyuoom, )
آج وه مدرسے سے لوٹی تو کچھ گم سم سی تهی.. گھر آ کر ٹھیک سے کھانا بهی نهیں کهایا . عصر کی نماز سے فا رغ هوئی تو دادا جان کے لئے چائے بنا کر ان کے کمرے میں لے آئی. دادا جان ایک کتاب کے مطالعه میں محو تهے.

وه ان کو سلام کر کے وهیں ان کے سامنے پڑی کرسی په بیٹھ گئی. دادا جان نے چا ئے کا کپ اٹھایا اور دریافت کیا مریم بیٹی کس با ت په آج گم سم هو...؟

دادا ابو آج میں نے ایک حدیث شریف پڑھی هے جس کا مفهوم که نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے ارشاد فرمایا که سب سے بهترین میرا زمانه هے پهر وه لوگ جو میرے زمانے کے لوگوں سے ملے پهر وه جو ان سے ملے پهر وه جو ان سے ملے اس کے بعد کا زمانه بد ترین لوگوں کا هو گا. تو کیا دادا ابو هم بهی انهی آخری لوگوں میں شمار هیں.. دادا ابو نے اپنی عینک اتار کر ساتھ پڑے میز پر رکهی اور یوں گویا هوئے که دیکهو بیٹی بے شک یه نبی کریم صلی الله علیه و سلم کا فرمان عالیشان هے اور اس میں شبه کرنا همارے ایمان کے ناقص هونے کے مترادف هے اس لیے آپ کو سمجھنے کے لیے باقی سب با تو ں کا علم هونا بهی ضروری هے جیسا که ایک حدیث قدسی کا مفهوم یه بهی هے که الله رب العزت فرماتا هے زمانه میں هوں اس لیے زمانے کو برا مت کہو. بس هم اپنی ناقص سوچ کی وجه سے سمجھ نهیں پاتے. زمانه کبهی نهیں بدلتا وه هم انسان هی هیں جو وقت کے بہتے دهارے کے ساتھ بدلتے جا تے هیں. میں آپ کو مثال کے طور په ایک مختصر سا واقعہ سناتا هوں هو سکتا هے اس سے آپ کو میری بات سمجهنے میں سهولت هو جائے. وه یه که جب میں جوان تها تو میرا ایک دوست هوا کرتا تها وه بهت ایماندار اور راست باز تها. ایک دفعه ٹرین کے سفر کے دوران اسے ایک گٹھڑی ملی جس میں کپڑوں کے ساتھ کچھ رقم اور قیمتی زیورات تھے.. وه اس گٹھڑی کو لے کر جب ٹرین سے اترا تو اس نے اسے اپنے مالک تک پہنچانے کے لیے تگ و دو شروع کر دی لیکن اس کا ما لک ندارد..

پهر آخر اس نے ایک عالم دین سے مشوره لیا که مجهے اب اس کا کیا کرنا چاهیے تو معلوم هوا شریعت میں یه حکم منقول هے که گری هوئی چیز کے بارے میں حتی المقدور کوشش کرنی چا هیے اس چیز کوما لک تک پہنچا نے کی. خیر مختصرا یه که میرے اس دوست نے اس گٹھڑی کے ما لک کا کافی تگ و دو کے بعد پته لگا هی لیا. اور اس کے لیے اپنی جیب سے کرایه ادا کر کئی میل مسافت طے کر کے وه ما لک تک پہنچا تو وه انسان اس کی ایمانداری کا معترف هوئے بغیر نه ره سکا. اور اسی زیور میں سے انعام کے طور په اسے کچھ هدیه دینا چاها لیکن اس نے انکار کر دیا. اور اس انسان کوحیرت زده چھوڑ کر وا پس چلا آیا..
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nighat Qayyuoom

Read More Articles by Nighat Qayyuoom: 7 Articles with 4140 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2016 Views: 393

Comments

آپ کی رائے