بندر ہمارے بھائی ہیں !

(Shahzad Iqbal, Lahore)
 بندر اور سوداگر کی کہانی تو آپ نے ضرور سنی ہو گی جس میں ٹوپیوں کا بیوپاری ایک روز شہر جا رہا تھا۔ راستے میں ایک نہر تھی ۔ سوداگر نے ٹوپیاں ایک طرف رکھیں اور نہر سے پانی پینے لگا اسی دوران لب نہر درخت پر بیٹھے بندروں کو شرارت سوجھی اور وہ ایک ایک کرکے دبے پاؤں درخت سے نیچے اترے اور سوداگر کی گھٹڑی میں سے ٹوپیاں نکالنے لگے اور پھر اسے اپنے سر پر رکھ کر پھدک پھدک کر درخت پر چڑھ گئے ۔سوداگر جب پانی پی کر پلٹا تو اس نے گھٹڑی کو خالی پایا ۔وہ بیچارہ بڑا پریشان ہوا ادھر ادھر دیکھا لیکن دور دور تک بندہ تھا نہ بندہ زاد۔۔اسی دوران اس کی نظر درخت پر پڑی تو ڈارؤن کے نظریہ ارتقا کےمطابق وہاں اس کے بندر النسل بہن بھائیوں کی فوج در فوج موجود تھی جو سر پر ٹوپی رکھے اس کا منہ چڑا رہے تھے۔ سوداگر اپنے ان ہمزادوں کو دیکھ کر آگ بگولا ہو گیا اب سوداگر نے ان بندروں سے اپنے ٹوپیاں لینی تھیں لیکن بندر تو بندر تھے وہ کہاں منطق اور دلیل سے قائل اور گھائل ہو نے والے تھے بالاخر سوداگر کو ایک ترکیب سوجھی اور اس نے اپنےسر پر رکھی ٹوپی اتار کر ہوا میں اچھال دی جب اس نے بار بار ایسے کیا تو بندر ۔۔۔ جو نقال جانور ہے۔۔۔ بھی دیکھا دیکھی ٹوپی اچھالنے لگے۔۔بس پھر کیا تھا ٹوپیوں کی بارش ہو گئی اور یوں بندر بھائی ٹوپیوں سے محروم ہو گئے ۔سوداگر نے فوراً زمین پر گری ٹوپیوں کو اکٹھا کیا گھٹڑی میں ڈالا اور شہر کی طرف چلتا بنا ۔

بندر اور سوداگر کی یہ کہانی مجھے ٹوپیاں اچھالنے کی وجہ سے یاد آئی ہے۔مجے اور آپ کو بندر سے اس لئے لگاؤ ہےکہ یہ اللہ تعالی کی مخلوق ہے اور اللہ تعالی نے کوئی شے بے کار پیدا نہیں کی ۔ڈارؤن تو خود اللہ کا تخلیق کردہ تھا اسے بھلا بند ر اور انسان کی تخلیق کی حقیقت کا کیا پتہ ؟ تاہم اہل مغرب اور بعض اہل مشرق آج بھی یہی کہتے ہیں کہ بندر ہمارے بھائی ہیں ! تو جناب انہیں اور بندروں کو اپنے اپنے بھائی ۔۔بلکہ بھائی جان مبارک ۔۔۔ ہمیں تو بندروں کی اس ادا نے سیاست دانوں کی یاد دلا دی ہے جو آج کل پش اپس ۔۔پش اپس کھیل رہے ہیں یا پھر ریفنرنس ریفرنس ۔۔ اور خوب ایک دوسرے کی عزتیں اچھال ر ہے ہیں کہ پگڑیاں تو یہ پہتے نہیں ہیں کیونکہ بابے لوگوں کا کہنا ہے کہ پگڑیاں اور ٹوپیاں بابرکت لوگ ہی پہنتے ہیں ۔۔بات ہو رہی تھی پش اپس اور ریفرنس کی ۔۔۔سندھ کے نوجوان وزیر کھیل مہر بخش مہر نے کمال مہربانی کی اور پچاس ادھورے پش اپس لگا کر پنجاب والوں کو چیلینج کردیا کہ ہمت ہے تو اس جیسا کرکے دکھاؤ۔۔۔یہ چیلینج بجلی کے وزیر پر بجلی بن کر گرا اور وزیر مملکت عابد شیر علی نے 6 پش اپس لگا کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا پھر جم میں ورزش کرتی اپنی ایک ویڈیو بھی جاری کی۔بات بڑھی تو پنجاب کے پارلیمانی سیکریٹری مسٹر نوید نے 60 پش اپس لگا کر سندھ کو پیچھے چھوڑ دیا یوں دہشت گردی کی شکار قوم کا ایک قیمتی دن دو اہم صوبوں کے سیاست دانوں کی پش اپس پالیٹکس کی نذر ہو گیا حالانہ ملک کی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اپنے اپنے صوبوں میں دودھ اور شہد کی جس طرح کی نہریں بہہ رہی ہیں وہ تو شاید صومالیہ اور ایتھوپیا والے بھی پینا پسند نہ کریں ۔

رہی بات ریفرنس کی تو یہ بھی موسمی کھمبیوں کی مانند سامنےآ رہےہیں ۔پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پاس وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے ریفرنس دائر کر دئیے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پاناما لیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں سب کے سامنے جھوٹ بولا اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے ( بقول شخصے سیاست دانوں کو پتہ نہیں یہ کیوں گمان ہے کہ ان کے واسکٹیبھائی پہلے صادق اور امین تھے اور اب نہیں ہیں ) ریفرنس میں جوابی وار ن لیگ نے کیا بالکل درخت پر بیٹھے بندروں کی طرح اور انہوں نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس دائر کردیا پیپلز پارٹی والےتو ان کے پرانے پاپی بھائی ہیں جن کے ساتھ صرف الیکشن میں سیاسی کشتی ہوتی ہے جبکہ بقیہ دنوں میں تو ان کی نورا کشتی کا اکھاڑا سجتا ہے ۔

ریاست پاکستان میں ریفرنس کی سیاست یہیں پر ختم نہیں ہوتی الیکشن کمیشن میں بھی پی پی پی ،پی ٹی آئی اور اے ایم ایل نے رنفرنس دائر کر رکھے ہیں جس میں پاناما پیپرز کے انکشافات پر وزیراعظم کو نا اہل کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ چیف ا لیکشن کمشنر جسٹس (ر)سردار رضا خان نے ان ریفرنس پر وزیراعظم نوازشریف ان کے بھائی وزیراعلیٰ شہبازشریف ا ن کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ان کے بھتیجے حمزہ شہبازشریف اور ان کے داماد کیپٹن (ر)صفدر کو 6 ستمبر کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔( چہ جائیکہ ان کو کوئی اور ہدایت نہ مل جائے)۔اب دیکھنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی جو شریف برادران کے لاڈلے ہیں ان ریفرنس پر کیا کارروائی کرتے ہیں اگر انہو ں نے 30 دن کے اندراندر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی تو اس کے بعد آئین کی رو سے یہ ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کی میز پر پہنچ جائیں گے اور پھر انہوں نے ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وزیراعظم سچے تھے یا ریفرنس والے ؟

دورسری طرف ٹی او آر کے معاملے پر اپوزیشن نے کمر اور لنگوٹ دونوں کس لئے ہیں اور انہوں نے حکومت کی جانب سے لچک نہ دکھانے پر خود بھی بے لچک ہونے کا اٹل فیصلہ کرلیا ہے کہ کڑا احتساب ہو گا تو اس کی ابتدا وزیراعظم سے ہی ہو گی جبکہ حکومت۔۔۔ نو جماعتی متحدہ اپوزیشن کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔جیالوں کا تو پتہ نہیں کہ وہ اٹل اٹل کہہ کر ماضی کی طرح پھر پلٹا نہ کھا جائیں تاہم کھلاڑی اور ان کے کپتان صرف احتساب کا علم بلند کئے ہوئے ہیں حالانکہ کپتان ایک زمانے میں ایم کیو ایم کے قائد کے پیچھے بھی ہاتھ دھو کر پڑے تھے لیکن اس معاملے پر پھر انہوں نے سیلمانی ٹوپی پہن لی اور قوم سیلمانی ٹوپی پہنے سیاست دانوں کے ماضی کو اکثر بھول جاتی ہے اسی لئے دانا لوگ کہتے ہیں کہ بہترین قیادت سے پہلے بہترین باداموں کا انتخاب کرنا ضروری ہے تاکہ قوم بھلکڑ پن کے مرض کا شکار نہ ہو ۔

ریفرنس کی بہار کے ساتھ ان دنوں تحریکوں کا بھی موسم خوب گرم ہے اس معاملے میں صرف پیپلز پارٹی ٹھنڈی واقع ہوئی ہے کہ اسے بہر حال پرانی دوستی کی لاج رکھنی ہے لیکن شاید انتخابات کے قریب آنے پر وہ بھی کوئی نہ کوئی تحریک شروع کر دے ۔۔۔ خواہ وہ تحریک انتخاب ہی کیوں نہ ہو؟تحریک احتساب ،تحریک قصاص ، تحریک نجات اور تحریک چوروں سے بچاؤ ملک کو شروع ہو چکی ہیں تحریک احتساب کےسوا کسی میں دم خم نہیں اور پی ٹی آئی والے بھی لگتا ہے کہ باسی کڑی میں زبردستی کا ابال لانے چاہتے ہیں حالانکہ اس کڑی میں اب پکوڑے بھی نہیں رہے اس کے باوجود حکمران لیگ کے پا س بچاؤ کے تین آسان راستے ہیں اپنے وزیراعظم کا احتساب ہونے دیں یا وزیر اعظم تبدیل کردیں یا پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کردیں۔لیکن ن لیگ کی قیادت موجودہ صورتحال کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک چلائے گی کہ یہی ان کی روایت ہے اور یہی بچاؤ کا درمیانی راستہ ہے۔

وفاق کے بعد اگر سندھ پر نظر دوڑائیں تو وہاں کابینہ تبدیل ہو ئی ہے لیکن خاندان وہی پرانے ہیں جو عوام کے نام پر کسی نہ کسی طرح اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں ۔وزیراعلیٰ بھی بس قائم سے مراد تک تبدیل ہوئے ہیں ۔۔پہلے سید قائم علی شاہ تھے اور اب سید مراد علی شاہ ۔۔شاہوں کی حکومت تو سندھ میں ویسے بھی پرانی ہے لیکن کوئی نوجوان شاہ پہلی بار سامنا آیا ہے لیکن تبدیلی کا یہ عمل بس اتنا ہی ہے جتنا دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کے فوجیوں کے ساتھ ہوا تھا انہیں جب مہینوں کے بعد موز ے اور بوٹ بدلنے کا حکم ملا تو وہ بہت خوش ہوئے بغلیں بجائیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی کہ ان کے بدبو دار موزے اور بوسیدہ بوٹ جو سڑاند پیدا کر رہے ہیں سے اب نجات مل جائے گی لیکن اس وقت ان کے یہ ساری خوشی کافور ہو گئی جب انہیں کمانڈر کا حکم نامہ ملا جس میں لکھا تھا کہ تمام سپاہی اپنے اپنے موزے اور بوٹ ساتھی فوجیوں کے ساتھ فوری بدل دیں۔۔۔۔۔ اللہ اللہ خیر سلا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Iqbal

Read More Articles by Shahzad Iqbal: 6 Articles with 2941 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2016 Views: 864

Comments

آپ کی رائے
You reveal the facts in a humorous way..... interesting & true article.....
“آپ کے لکھے گئے حا لات و واقعات کے مطابق اس پر یہ محاورہ بھی صادر آتا ھے “ بندر بانٹے ریوڑیاں اپنوں کو ہی دے
stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Sep, 07 2016
Reply Reply
0 Like