ڈالر اور کدال کا مقابلہ

(Yousuf Ali Nashad, Gilgit)
دنیا میں مختلف قوموں کی نفسیات جانچنے کے لئے ان کی تاریخ کا مطالعہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔جبکہ تاریخ میں دنیائے اقوام کی عروج زوال، تغیر پزیر حالات اور ان حالات کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کرنا بلکہ حکمت عملی سے آگے بڑھتے ہوئے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا اسی طرح یہ سارے واقعات تاریخ انسانیت میں بدرجہ اتم بھرے پڑے ہیں۔اس کی مدد سے اقوام کی خصلتوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کوئی ریاست جب طاقتور ہوجاتی ہے تو ان کی نیت بھی تبدیل ہو کر کسی کمزور پر چڑھائی یا اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے پر آمدہ ہواکرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کوئی بھی سلطنت اپنے اختیارات یا طاقت کو منفی امور میں بروئے کار لانے کی کوشش کرے تو ایسی قوم سے بچ کر رہنا ہی عافیت ہے ان سے دشمنی تو درکنار دوستی سے بھی پرہیز کرنا چاہئے۔یہاں پر حضرت علیؑ کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ ’’محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ وقت آنے پر تم نہیں بولوگے بلکہ تمہاری محنت بات کریگی‘‘ واقعی یہ موجودہ دور میں بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بہت سے ایسے افراد جو خورد نوش کے لئے ترستے تھے مگر ان کی مسلسل محنت کے باعث وہ نہ فقط خوشحال ہوئے بلکہ امراء میں شامل ہوئے،یہ تو انفرادی بات تھی اور اسی انداز سے قوموں نے بھی پیٹ پر پتھر باندھ کر محنت کی اور دنیا میں ان کا ایک نام اور مقام پیدا ہوا،جیسے جاپان جہاں ہیروشیما اور ناگاساکی پر عالمی دہشت گرد نے بم پھینک کر کروڑوں انسانوں کے ساتھ ہر ذی روح کو بھی تباہ و برباد کر ڈالا تھا۔جس سے جاپان تباہی کے دہانے پر پہنچا تھا۔پھر جاپانیوں نے واقعی پیٹ پر پتھر باندھ کر از سر نو اپنے ملک کو سنوارنے کی جدوجہد شروع کی اور کئی سالوں تک انہوں نے دال اور سبزی سے گزارہ کرتے ہوئے خاموشی سے اپنی محنت جاری رکھی،جس باعث وہ وقت دوبارہ آیا کہ دنیا میں ایک بار پھر سے جاپان کا چرچا ہوا دنیا بھر میں ان کی اشیاء کی ایک اچھی پہچان ہوئی تو ان کی معشیت پہلے سے بھی زیادہ مستحکم ہوئی۔جب کہ موجودہ مثال بنگلہ دیش کو دیکھیں ہمارے سامنے آزاد ہوا ،الگ ہوا اور وہاں پر قدرتی ذخائر بھی اتنے میسر نہیں پھر بھی بنگلہ دیش نے ترقی کی، اس ترقی کا دارو مدار بنگلہ قوم کی محنت ہے۔ جب کہ آج کا سپر پاور امریکہ نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد محنت کی مگر امریکیوں کی محنت کم حکمت عملی زیادہ شامل تھی،امریکہ نے دنیا بھر سے ایسے افراد جو زندگی کے کسی نہ کسی شعبے میں مہارت رکھتے تھے انہیں امریکہ نے خیر مقدم کیا اور ان کو ان کی اہلیت کی بنا پر ان کی بہتر انداز سے حوصلہ افزائی کی،گو کہ اُس وقت بھی امریکی مہارت میں کسی سے کم نہیں تھے۔امریکہ نے دوسرے ممالک کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی پالیسی بنائی اور طاقت میں آنے کے بعد اُس دور کا سپر پاور روس کو توڑنے کی حکمت عملی بنائی اور مسلمانوں کے ذریعے وہ روس کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوگئی۔اس کے بعد وہ متعدد ممالک کے ساتھ چھیڑ خانی میں تا حال مصروف عمل ہے۔یہ امریکہ کی فطرت ہے کہ ایک جانب بمباری تو دوسری جانب وہ برگر بھی کھلاتا ہے۔جبکہ چین نے اپنی ترقی کا آغاز کدال۔بیلچہ سے شروع کیا ہے موجودہ دور میں زمین پر کام کرنے میں چین سب سے اول دستے پر ہے۔زمین سے ہر طرح کی منفعت اگر کوئی حاصل کر رہا ہے تو وہ چین ہے چین میں اعلیٰ یا ادنیٰ کا تصور نہیں بڑے عہدے والے آفیسر ہوں یا کوئی چھوٹا ملازم ،کام سب ایک جیسا کرتے ہیں،چین کا یہ محاورہ ہے کہ ’’جو کدال چلانا نہیں جانتا ہے سمجھو کہ وہ چینی ہی نہیں‘‘دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم جو انتہائی سنگلاخ چٹانوں سے پر ہے ،اس خطرناک شاہراہ کو تعمیر کرنے کا کا سہراہ بھی چین کے سر جاتا ہے۔اب معشیت کے میدان میں چائنا پوری دنیا پر چھا چکا ہے، اٹلی کے لوگ چین سے محض اس وجہ سے نفرت کرتے ہیں کہ چین کی مصنوعات کی بھر مار اٹلی میں زیادہ ہے۔ گوادر تک رسائی حاصل کرنے میں چائنا نے بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔جبکہ شاہراہ قراقرم کو حال ہی میں وسعت دے کر یہ باکمال لوگ واپس ہورہے ہیں۔چونکہ بات ہورہی ہے ’’کدال اور ڈالرکی‘‘ ڈالر نے پاکستان میں بہت عرسے سے کام دکھایا ہے اور تا حال دکھا رہا ہے،ڈالر ہمیں اسلامی مجاہد بھی بنا رہا ہے اور یہی ڈالر خونخوار درندہ بھی بنا رہا ہے،کیونکہ ہمارا ایمان ہی اتنا مضبوط ہے اس لئے ہم کئی روپ بہ آسانی سے اختیار کر لیتے ہیں۔امریکہ ایک عرصے سے مسلسل یہ بیانات دا غ رہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی منزل ایک ہے کیونکہ دونوں ممالک دہشت سے متاثر ہورہے ہیں ہماری جنگ ایک ہے۔یہ بات حقیقت ہے کون احمق اس بات سے انکار کرسکتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کی جنگ الگ ہے ،بالکل ایک ہی کڑی کی جنگ ہے ۔وہ اس لئے کہ روس کو سپر پاور کے عہدے سے نیچے اتارنے کے لئے ان دو دوستوں نے ہی تو کمال کر دکھایا ہے؟’’طالبان اور ان کے جتنے بھی نظریاتی لوگ ہیں انہیں بنایا بھی پاکستان اور امریکہ نے مل کر‘‘اب متاثر بھی یہیں ہونگئے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ امریکہ کا انتخابی نشان ’’گدھا‘‘ہے ،جب گدھے کی بات سنتے ہیں تو ہمیں دجال کا ذکر ضرور یاد آتا ہے، کہ قحط سالی عروج پر ہو گی اور دجال گدھے پر سوار ہو کرروٹی لے کر پھرے گا،امریکہ کی حرکتوں سے ایسا محسوس تو ہورہا ہے اور موجودہ دور کا دجال امریکہ کو کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ جبکہ امریکہ بھارت کے ساتھ طاقت کی منتقلی یا گٹھ جوڑ میں دل سے لین دین کر رہا ہے اور ایسا اکثر ہوتا رہاہے۔1965ء پاک امریکہ جنگ میں امریکی بیڑے کی خدمات نے ایک مثال قائم کی ہے؟ اور عراق نے بھی کھل کر بھارت کا ساتھ دیا تھا۔مگر پاکستان کی یاد داشت کس حد تک تازہ ہے اس سے تو دنیا واقف ہے۔مشرف دور میں سوات میں جب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہورہا تھا اس دوران امریکی میڈیا سے صبح شام اس طرح کی خبریں نشر ہورہی تھیں کہ ایک ہفتے میں، چند دن میں، دو دن میں یہاں تک کہ ان کی میڈیا نے24 گھنٹے بھی دیئے تھے کہ دہشت گرد اسلام آباد میں داخل ہوسکتے ہیں خیر سے وہ وقت بھی گزر گیا ابھی امریکہ اور پاکستان کی منزل ایک ہونے کے حوالے سے امریکی میڈیا چہک رہاہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ چین نے بھی جوشیلے انداز سے کہا ہے کہ پاکستان اور ہماری منزل ایک ہے،جبکہ کافی عرصہ قبل چین نے کہا تھا کہ امریکہ کو جس طرح اس کے قریبی دوست کی ضرورت ہے اسی طرح پاکستان ہماری ضرورت ہے،سمجھ نہیں آرہاہے کہ پاکستان کن کن کی ضرورت ہے اور خود اب تک بجلی کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکا ہے۔اس دفعہ چین نے معمول سے ہٹ کر پاکستان کو اپنی منزل کہا ہے اور دہشت گردی کا خطرہ بہت قریب سے محسوس کر رہا ہے۔چین کے ساتھ تو گلگت بلتستان جڑا ہوا ہے کیا چائنا کو یہ خدشہ ہے کہ گلگت بلتستان میں دہشت گرد موجود ہیں یا جی بی کا راستہ ان کے خلاف استعمال ہوگا یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ چین کو بہت قریب سے دہشت گردی کی بو کیسے آئی ،خیر ہونے کو دنیا میں کیا کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ البتہ یہاں ایک خدشہ ضرور محسوس کیا جارہا ہے کہ گلگت کے بعد اب بلتستان میں داعش کو خوش آمدید کرنے کی چاکنگ ہوچکی ہے ، اور جاگنے والی قوتیں آنکھیں موند کر بیٹھی ہیں۔اب چین اور امریکہ دونوں پاکستان کو اپنے سینے سے لگانے کے لئے ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی دوڑ میں لگے ہیں بلکہ بہت زیادہ ہی بے تاب نظر آرہے ہیں ۔اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈالر نے اپنی طاقت سے پاکستان کو پل میں دور ،تو پل میں سینے سے بھی لگایا ہے۔اس حوالے سے ایک دانشور دسے میری گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گردن کے ایک جانب زہر آلود ننگی تلوار ہے تو دوسری جانب چھوٹا سا خنجر،گردن دائیں کو گھمانے سے تلوار چھپتی ہے بائیں طرف موڑنے سے خنجر چھپتا ہے اس لئے مسکراتے ہوئے سیدھے ہی چلنا عافیت ہے۔پاکستان کو اپنے قریب لانے کی ان دو طاقتوں کی واقعی ضرورت ہے کیونکہ یہ سوشل نظام والے حاطم طائی کی طرح سب کی ضرورت پوری کرتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے ہیں کہ ان کی اپنی ضرورت پوری ہو یا نہ ہو۔یہاں تک جو بات ہوئی یہ ان دو ممالک کی خواہش اور ضرورت کے حوالے سے۔ آئیں ذرا یہ بھی دیکھیں کی پاکستانی عوام کے دل پر ڈالر نے جگہ بنائی ہے یا کدال نے، مانا کہ ڈالر نے بہت جگہ بنائی مگر وہ جگہ ڈالر کے سودا گروں تک محدود ہے۔ عام لوگ ڈالر والی سرکار سے بہت نفرت کرتے ہیں امریکہ سے کھاتے پیتے بھی ہیں وہاں جانا بھی چاہتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی ایک انمٹ نفرت عام آدمی کے دل میں موجود ہے۔اسی طرح گلگت بلتستان میں بھی ڈالر اور کدال کی دوڑ لگی ہے۔یہاں ایک بات ذکر کرتا چلوں کہ گلگت بلتستان کا کوئی بندہ اسلام آباد ،لاہور یا کراچی جانا چاہتا ہے تو یہ کہتا کہ میں باہر جارہا ہوں،نیچے جارہا ہوں۔ اگر یہ بندہ چین جانے والا ہو تو کہتا ہے کہ میں اندر جارہا ہوں، اندر یعنی اپنا گھر جارہا ہوں۔در حقیقت گلگت بلتستان کے عوام کسی بھی بیرونی طاقت کی دخل انداز یا اجارہ داری کو بالکل پسند نہیں کرتے ہیں،البتہ تعلقات سب سے رکھنا چاہتے ہیں مگر نیتوں کو بھانپتے ہوئے ایک فاصلہ رکھ کر تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ہم کسی کی خاطر نہ کسی سے دشمنی کے خواہاں ہیں نہ اپنی پگڑی اُچھال کر کسی سے مر مٹنے والی دوستی کے خواہاں، ہم ہر چیز میں ایک بیلنس چاہتے ہیں ہم یہ ہرگز نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں محبوبہ سمجھ کر سینے سے لگائے اور ضرورت نکلنے کے بعد لات مار دیا جائے۔ اکثر سننے میں یہ بات آئی ہے کہ پاکستان چین کوگلگت بلتستان پٹے پر دینا چاہتا ہے، یا کوئی خفیہ معاہدہ ہو ا ہو، یہ بات کہاں تک درست ہے خدا ہی جانے ،۔گلگت بلتستان پر کسی کا کوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ ہماری سر زمین کا ایک اینچ بھی کسی غیر کو دیا جائے ، یہ سب کچھ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہے۔ گلگت بلتستان بھی اتنا ہی متاثر ہورہا ہے جتنا کہ پاکستان۔ ہم حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیں گے کہ ہماری پشتی اراضی کو مال بیگانہ کی مانند اپنے اداروں کے نام منتقل کرنے کی سازش کو فوری بند کیا جائے ، یہ سوچ از خود آپ کے لئے بہت مشکلات کا باعث بنے گی ۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور چین اپنی ضرورت مند محبوبہ کو اپنانے کی غرض سے کس حد تک آگے بڑھتے ہیں اور بڑھتے بڑھتے اگر ان کا آپس میں ٹکراؤ ہوجاتا ہے تو یہ دو طاقت ور ہاتھی کس میدان کو اکھاڑہ بنانا چاہیں گے یہ خطرے والی بات ضرور ہے اس سے این ایل آئی اور پولیس کے درمیان پولو کے میچ میں پولو گراوند کی گھاس کا جو حشر ہوتا ہے وہی حشر اس اکھاڑے کا بھی ہونا ہے۔ان دو ہاتھیوں کی کشتی کے دوران انڈیا بہادر کس کا ساتھ دے گا یقینا انڈیا تو لکشمی کا ہی ساتھ دے گا،اگر لکشمی اور ڈالر مل گئے تو کیا کدال مقابلہ کر پائے گا؟ کیا یہ منزل کسی ایک کو ملے گی یا دونوں کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگی؟خدا نخواستہ ایسا وقت آن پڑنے کی صورت میں گلگت بلتستان کا رول کیا ہوگا اور حشر کیا ہوگا یہ مقام فکر ہے؟اسی لئے دانشوروں نے کہا ہے کہ اپنے سے طاقت ور کے ساتھ نہ دوستی میں اتنا آگے بڑھو کہ کل کلاں جان چھڑانی مشکل ہوجائے اور نہ دشمنی اتنا کرو کہ جان بچانا مشکل ہوجائے ان معاملات کو بیلنس کرنے کا نام خارجہ پالیسی ہے۔ابھی حال ہی کا جو واقعہ کوئٹہ میں رونما ہوا تو آرمی چیف نے اسے سی پیک کے خلاف سازش قرار دے دیایہ بات خارج از امکان نہیں ہے کچھ بھی ممکن ہے۔جب کہ سی پیک کی شروعات گلگت بلتستان کی سر زمین سے ہے اس لئے یہاں پر بھی عالمی سطح کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ گلگت بلتستان کے دانشورں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا کہ ممکنہ طور پر درپیش خطرات سے کیسے نمٹا جائے یا اپنی بچاؤ کیسے کی جائے ابھی حکمت عملی اور بیدار سے کام لینا از حد ضروری ہے۔ اگر مگر کرتے ہوئے اسی طرح بے حسی کی زندگی گزارنے میں مصروف رہے تو خدا نہ کرے سیلاب جب امڈتا ہے تو بھاگنے کی جگہ بھی نہیں ملتی ہے اس سے قبل کہ کوئی تمہیں بھی اپنی منزل بنائے ہمیں خود اپنی منزل اور اپنا مستقبل طے کرنا ہوگا تلاش کرنا ہوگا تعین کرنا ہوگا کرنا ہوگا۔بصورت دیگر عالمی تغیر پزیر حالات جو نظر آرہے ہیں اس میں دنیا جلتی ہوئی نظر آرہی ہے آگ سے وہ بچے گا جو آگ بجھانا جانت ہو ،سیلاب سے وہ بچ پائے گا جو تیرنا جانتا ہو اس لئے گلگت بلتستان کے ذہنی تیراکوں کو ابھی سے ہی غور ،فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yousuf Ali Nashad

Read More Articles by Yousuf Ali Nashad: 18 Articles with 10681 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2016 Views: 565

Comments

آپ کی رائے