ممکن ہوسکتا ہے طریقہ تبدیل کرنا ہوگا

(Prof Liaquat Ali Mughal, Kehroor Pakka)
تنقید((critisumاور حوصلہ افزائی( (appriciation دونوں متوازی چلتے ہیں۔ جب آپ اپنے کسی ایسے کام کی مداح چاہتے ہیں تو آپ کو تنقید کے لئے بھی تیار رہنا چاہتے ہیں ہمارے معاشرے میں یہ بڑا مشکل ہے کہ لوگ آپ کے اچھے کام کو سراہیں کیونکہ ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔کہ کسی کے اچھے کام کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا بلکہ کوئی بھی ایسا پہلو سامنے لایاجائے جس کی وجہ سے اس شخص کو اس کے کام کو تنقید یا تضحیک کا نشانہ بنایاجائے اور اکثر لوگ اسے فرض سمجھتے ہیں کہ ہرکام میں کیڑے نکالے جائیں۔آپ ۹۹فیصد درست کر رہے ہیں اگرکسی سے نادانستگی میں یاغفلت سے کو ئی کمی یامسئلہ رہ گیاتو پھر اسی بات کو پکڑ کر پوائنٹ آؤٹ کر دیا جائے۔ یہ بالکل نامناسب اور غیر مناسب رویے ہیں ۔اس سے شاید آپ کو وقتی تسکین ملتی ہو۔ لیکن وہ شخص جو ایک خاص مقصد لے کرآگے چل رہا ہے وہ متزلزل ہوجاتاہے اس کی سوچ دوراہے پر آکر ٹھہر جاتی ہے اور اسے فیصلہ کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ یہی عمل کسی بھی شعبے اور ان سے متعلق افراد پرلاگو ہوتا ہے ۔ ہمارے معاشرے کام کرنے کے باوجود پولیس کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہم سب اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں حالانکہ دیگر ڈیپارٹمنٹ جہاں پر پولیس کے مقابلہ میں کہیں زیادہ کرپشن ہے ۔ انہیں نظر انداز کردیا جاتاہے۔اس کی بھی میرے نزدیک کچھ وجوہات ہیں جو کسی بھی انسان کو ایسا کرنے پر مجبو ر کر تی ہیں۔ سب سے پہلے بے جاطاقت کا استعمال ہے اور کوئی بھی معاشرہ اور طبقہ اس بے جا طاقت اور اس کا غلط استعمال ایک خاص حدتک برداشت کرتاہے۔لیکن اس کے بعد وہ ذہنی طور پر اس سے بغاوت پر آمادہ ہو جاتاہے۔اس کے دل و دماغ میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ ان لوگوں کو عزت نہیں دینی۔ ان سے ناراضگی اور نفرت کا اظہار کرنا ہے۔بالفرض اگر کبھی آ پ کسی بھی سواری پر جا رہے ہیں آپ کے سامنے پولیس کی گاڑی ہے آپ بار بار ہارن دینااپنی تسکین کیلئے ضروری سمجھتے ہیں اور اگر گاڑی پیچھے ہے تو اس کو راستہ نہ دینا۔مقصد صرف یہ باور کراناہے کہ میں پولیس نہیں ڈرتا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے رویے ہمارے معاشرے کاخاصہ کیوں بنتے جارہے ہیں کیوں ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود پولیس اور تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہوسکاہے۔ کیوں آپ بھی عوام کو پولیس پر عارضی ہے۔اس سلسلے میں کب سے کوششیں ہورہی ہوں لیکن بے سود ہیں۔اپنی ایک سوچ کے تحت چند گزارشات پیش کر رہاہوں ۔ جب آپ کسی بچے سوال کریں کہ آپ بڑے ہو کر کیابنناہے تو عام طور پر یہ جاب ہوتا ہے کہ ڈاکٹر انجینئربزنس مین یاٹیچر اور اگر کسی فورس میں جانے کی بات کی جائے تو پاک آرمی یعنی فوجی بننے کو ترجیح دے گا اگر اسے کہا جائے تو پولیس مین بننا ہے تو وہ فورا انکار کردیتا ہے اور جب اس کی وجہ دریافت کی جاتی ہے تو وہ بچہ بتاتا ہے کہ پولیس انکل اچھے نہیں ہوتے اس لئے پولیس مین نہیں بننا۔یہ کسی ایک بچے کی بات یا سوچ نہیں بلکہ معاشرے میں موجود ننانوے فیصد بچے اسی سوچ کے حامل ہیں ان کے ناپختہ ذہنوں میں شروع سے ہی یہ بات بٹھادی جاتی ہے کہ پولیس اور اس کا محکمہ اچھا نہیں ہے اور اس کی زندگی کے ہر سٹیج پر یہ بات مزید پختہ ہوتی جاتی ہے اور اس کے دل و دماغ میں موجود پولیس کا یہ تاثر اسے کبھی بھی پولیس کو اچھا سمجھنے میں معاون ثابت نہیں ہوتا لہذا اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اگر پولیس کلچرمیں تبدیلی لانی ہے عوام اور پولیس کے مابین تعلقات بنانا اور دوریاں ختم کرنا ہیں اورمیں سمجھتا ہوں کہ اصل نہج ہی یہی ہے کہ سکول لیول سے ہی طالب علموں کو اس سوچ سے دور کیا جائے اس میں یقینا ایک عرصہ درکار ہوگا ایک مکمل پیڑھی(cycle)کو پروان چڑھانا ہوگااور اس کیلئے پولیس افسران کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا سکولز میں جاکر طالب علموں کو بتانا ہوگا اپنی اچھائی بیان کرنا ہوگی ڈیپارٹمنٹ کی خوبیوں کو اجاگر کرنا ہوگا انہیں بتانا ہوگا کہ پولیس مین کوئی برا نہیں ہوتاپولیس انکل اچھے ہوتے ہیں اپنے رویوں عادات و اخلاق سے ان کو متاثر کرنا ہوگاان سے محبت کا رشتہ استوار کرنا ہوگا اعتماد کی فضا کو پروان چڑھانا ہوگااور جب یہ طالب علم سکول کالج اور یونیورسٹی سے نکل کر معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہونگے تو ان کی اکثریت ایسی بھی ہوگی جو کہ پولیس مین بننے کو ترجیح دے گی اور پھر یہ پولیس مین روایتی پولیس مین سے یکسر مختلف ہونگے اور موجودہ تھانہ کلچر خود بخود تبدیل ہوجائے گاہر تھانہ ماڈل تھانہ ہوگا ہر پولیس والہ’’ ملازم ‘‘ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا شہری بھی ہوگامعاشرے کے لوگوں سے اسکے تعلقات بھی بہتر ہونگے المختصر پولیس کلچر کی تبدیلی تعلیمی اداروں کی مرہون منت ہے طالبان علم کو روز اول سے ہی یہ بتانا ہوگا کہ پولیس والے قابل اعتماد اور پیار کرنے والے انسان ہوتے ہیں اور آپ میں سے ہی ہوتے ہیں تو انشا ء اﷲ کوئی پولیس کلچر کو تبدیل ہونے سے نہیں روک سکتا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: liaquat ali mughal

Read More Articles by liaquat ali mughal: 238 Articles with 120931 views »
me,working as lecturer in govt. degree college kahror pacca in computer science from 2000 to till now... View More
23 Aug, 2016 Views: 417

Comments

آپ کی رائے