جادو جنات اور علاج قسط نمبرA9

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار* *مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*' *ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-              *مکتبہ اسلامیہ* *یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
چوتھا حصہ:
جادوگر جنوں کو کیسے حاضر کرتا ہے؟
جادوگر اور شیطانوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ:
جادوگر اور شیطان کے درمیان اکثر و بیشتر ایک معاہدہ طے پاتا ہے، جس کے مطابق جادوگر کو کچھ شرکیہ یا کفریہ کام چھپ کر یا علیٰ الاعلان کرنا ہوتے ہیں اور اس کے بدلے میں شیطان کو جادوگر کی خدمت کرنا ہوتی ہے یا اس کےلئے خدمت گار مہیا کرنے ہوتے ہیں، کیونکہ جس شیطان کے ساتھ جادوگر معاہدہ کرتا ہے وہ جنوں اور شیطانوں کے کسی ایک قبیلے کا سردار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنے قبیلے کے کسی بیوقوف کو احکامات جاری کرتا ہے کہ وہ اس جادوگر کا ساتھ دے اور اس کی ہر بات تسلیم کرے چاہے وہ واقعات کی خبریں لانے کا کہے، یا دو آدمیوں کے درمیان جدائی ڈالنے یا ان میں محبت پیدا کر دینے کا حکم دے یا خاوند کو اس کی بیوی سے الگ کر دینے کا آرڈر جاری کرے۔۔۔۔۔(مزید تفصیل کے لئے اس کتاب کا چھٹا حصہ دیکھئے)۔۔۔۔۔ اس طرح جادوگر اس جن کو اپنی پسند کے برے کاموں کے لئےاستعمال کرتا ہے، اگر جن اس کی نافرمانی کرے تو جادوگر اس کے قبیلے کے سردار سے رابطہ کرتا ہے اور مختلف تحائف پیش کر کے اس کو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس سردار کی تعظیم کرتا ہے اور اسی کو اپنا مدددگار تصور کرتا ہے، چنانچہ وہ سردار اس جن کو سزا دیتا ہے اور اس کو جادوگر کی خدمت کرنےیا اس کے لئے خدمت گار مہیا کرنے کا حکم صادر کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جادوگر اور اس کی خدمت کے لئے مقرر کئے گئے جن کے درمیان نفرت ہوتی ہے اور یہ جن خود جادوگر کو یا اس کے گھر والوں کوپریشان کیے رکھتا ہے، چنانچہ جادوگر ہمیشہ سردرد اور بےخوابی کا شکار رہتا ہے اور رات کے وقت اس پر گھبراہٹ طاری رہتی ہے، بلکہ گھٹیا قسم کے جادوگر تو اولاد سے بھی محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے خدمت گار جن ان کی اولاد کو ماں کے پیٹ میں ہی مار دیتے ہیں اور یہ بات خودجادوگر اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ اور کئی جادوگر تو صرف اس لئے جادو کا پیشہ چھوڑ دیتے ہیں کہ ان کو اولاد کی نعمت عطا ہو۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک خاتون کا علاج کیا جس پر جادو کیا گیا تھا، میں نے اس پر جب قرآنِ مجید کو پڑھا تو جن خاتون کی زبان سے بولا: میں اس سے نہیں نکل سکتا۔
تم کسی ایسی جگہ پر چلے جانا جہاں جادوگر تمہارا پتہ نہ چلا سکے!
وہ میرے پیچھے دوسرے جنوں کو بھیج کر مجھے پکڑوا لے گا۔
اگر تم اسلام قبول کرلو اور سچے دل سے توبہ کر لو اور سچے دل سے توبہ کر لو تو میں تمہیں ایسی قرآنی آت سکھلا دوں گا جو تمہیں کافر جنات کے شر سے بچا لیں گی۔
نہیں ، میں ہر گز اسلام قبول نہیں کروں گا اور عیسائی ہی رہوں گا۔
چلوخیر، دین میں جبر نہیں ہے، البتہ اس عورت سے تمہارا نکل جانا ضروری ہے!
میں ہر گز نہیں نکلوں گا۔
میں تمہیں نکال دینے کی طاقت رکھتا ہوں(اللہ کی مدد سے)، ابھی میں قرآن پڑھوں گا اور تم جل جاؤ گے۔
پھر میں نے اسے شدید مارا، اور آخر کار کہنے لگا: میں نکل جاؤں گا!!
اور اس طرح وہ الحمدللہ اس خاتون سے نکل کر چلا گیا۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ جادوگر جس قدر زیادہ کفریہ کام کرے گا جن اتنا زیادہ اس کے اَحکامات کو مانیں گے اور بڑی تیزی کے ساتھ ان پر عمل کریں گے، اور وہ جتنا کفریہ کاموں کے قریب کم جائے گا، جنات اس کی باتوں پر اتنا ہی کم عمل کریں گے۔
جادوگر جنوں کو کیسے حاضر کرتا ہے؟
اس کے بہت سارے طریقے ہیں اور ہر ایک میں شرک یا واضح شرک موجود ہوتا ہے، میں یہاں آٹھ طریقے ذکر کروں گا اور ہر طریقے میں جس طرح سے کفر و شرک موجود ہوتا ہے، اس کی وضاحت کروں گا، البتہ اس ضمن میں شدید اختصار کروں گا اور ہر طریقے کی پوری تفصیلات ہر گز ذکر نہیں کروں گا تاکہ کوئی شخص اسے آزما نہ سکے۔
ہر طریقے میں موجود کفر و شرک کی وضاحت کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کئی لوگ قرآنی علاج اور جادو میں فرق نہیں کر پاتے، حالانکہ پہلا طریقۂ علاج ایمانی اور دوسرا شیطانی ہے، اور اس سلسلے میں مزید اِبہام اس وقت پیدا ہو جاتا ہے جب کئی جادوگر اپنے کفریہ تعویذات آہستہ آواز میں اور قرآنی آیات اونچی آواز میں پڑھتے ہیں، چنانچہ مریض یہ سمجھتا ہے کہ اس کا علاج قرآن کے ذریعہ ہو رہا ہے حالانکہ حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ الغرض مندرجہ ذیل طریقے ذکر کرنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ میرے مسلمان بھائی گمراہی اور شر کے راستوں سے بچ جائیں اور مجرم پیشہ لوگوں کا راستہ کھل کر سامنے آ جائے۔
پہلاطریقہ
جادوگر ناپاکی کی حالت میں ایک تاریک کمرے میں بیٹھ جاتا ہے، پھر اس میں آگ جلاتا ہے اور اس پر دھونی کو رکھ دیتا ہے، اگر اس کا مقصد نفرت پیدا کرنا یا میاں بیوی میں جدائی ڈالنا ہو تو بدبودار دھونی آگ پر رکھ دیتا ہے، اور اگر اس کا مقصد محبت پیدا کرنا یا جن میاں بیوی پر جادو کیا گیا تھا اور وہ ایک دوسرے کے قریب نہیں جاسکتے تھے، ان سے جادو کے اثر کو ختم کرنا ہو تو وہ آگ پر خوشبودار دھونی رکھتا ہے، پھر شرکیہ تعویذات جو جادوگر کے خاص طلسم ہوتے ہیں، ان کو پڑھنا شروع کر دیتا ہے اور جنوں کو ان کے سردار کی قسم دیتا ہے اور اس کا واسطہ دے کر ان سے مختلف مطالبات کرتا ہے۔۔۔ اسی دوران اسے کتے کی شکل میں یا اژدھے یا کسی اور شکل میں ایک خیالی تصویر نظر آتی ہے جسے وہ اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے اَحکامات جاری کرتا ہے۔ اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اسے کوئی چیز نظر نہیں آتی بلکہ اس کے کانوں میں ایک مخصوص قسم کی آواز پڑتی ہے۔ اور کبھی کبھار یوں بھی ہوتا ہے کہ اسے کوئی آواز بھی سنائی نہیں دیتی اور اسے جس شخص پر جادو کرنا ہوتا ہے، وہ اس کے بال یا اس کا کوئی کپڑا منگو لیتا ہے جس سے اس شخص کے پسینے کی بو آ رہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اور پھر اسے جو کچھ کرنا ہوتا ہے اس کے متعلق وہ جنوں کو حکم جاری کر دیتا ہے۔
اس طریقے میں درج ذیل باتیں نمایاں ہیں:
1۔ جنات تاریک کمروں کو پسند کرتے ہیں۔
2۔ جنوں کو ایسی دھونی کی بو سے غذا ملتی ہے جس پر بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو۔
3۔ جنات ناپاکی کو پسند کرتے ہیں اور شیطان ناپاک لوگوں کے بہت قریب ہوتے ہیں۔
جاری ہے.......
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 23017 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2016 Views: 436

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ