جادو جنات اور علاج قسط نمبرA10

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار* *مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*' *ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-              *مکتبہ اسلامیہ* *یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان* دوسرا طریقہ:
جادوگر کوئی پرندہ (فاختہ وغیرہ) یا کوئی جانور (مرغی وغیرہ) جنوں کی بتائی گئی خاص شکل و صورت کے مطابق منگواتا ہے جس کا رنگ غالباً سیاہ ہوتا ہے، کیونکہ جن سیاہ رنگ کو دوسرے رنگوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ پھر وہ اسے ‘بسم اللہ’ پڑھے بغیر ذبح کر دیتا ہے اور اس کا خون مریض کے جسم پر ملتا ہے، پھر اسے کھنڈرات میں یا کنوؤں میں یا غیر آباد جگہوں میں پھینک دیتا ہے جو کہ عموماً جنوں کے گھر ہوتے ہیں، اور اسے ان میں پھینکتے ہوئے بھی ‘بسم اللہ’ نہیں پڑھتا، پھر اپنے گھر چلا جاتا ہے اور شرکیہ تعویذات پڑھنے کے بعد جو چاہتا ہے جنوں کو حکم جاری کر دیتا ہے۔
مندرجہ طریقے میں دو طرح سے شرک پایا جاتا ہے:
1۔ تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جنوں کے لئے جانور ذبح کرنا حرام بلکہ شرک ہے، کیونکہ یہ ذبح لغیراللہ ہے، چنانچہ ایسےجانور کا گوشت کھانا بھی کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اسے غیر اللہ کیلئے ذبح کرے، جبکہ جاہل لوگ ایسا ناپاک فعل ہر زمانے میں اور ہر جگہ پر کرتے رہتے ہیں۔
یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھے وہب نے بیان کیا ہے کہ ایک خلیفۂ وقت کے دور میں ایک چشمہ دریافت ہوا، اس نے اسے عام لوگوں کے لئے کھول دینے کا ارادہ کیا اور اس پر جنوں کیلئے جانور ذبح کیا تاکہ وہ اس کا پانی بہت گہرائی تک نہ پہنچا دیں، پھر اس کا گوشت لوگوں کو کھلا دیا، یہ بات امام ابن شہاب زہری تک پہنچی تو وہ فرمانے لگے:
“خبردار! ذبح شدہ جانور حرام ہےاور خلیفۂ وقت نے لوگوں کو حرام کھلایا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے اُس جانور کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے جسے جنوں کےلئے ذبح کیا گیا ہو۔” (آکام المرجان:ص78)
اور صحیح مسلم میں حضرت علی بن ابی طالبؓ سے مروی ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے غیراللہ کےلئے کوئی جانور ذبح کیا” (صحیح مسلم:1978)
2۔ شرکیہ تعویذات جنہیں جادوگر جنوں کو حاضر کرنے کیلئے پڑھتا ہے، ان میں واضح طور پر شرک موجود ہوتا ہے اور اس کی وضاحت شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کئی کتابوں میں کی ہے۔
تیسرا طریقہ:
یہ طریقہ جادوگروں میں انتہائی گھٹیا طریقے کے طور پر مشہور ہے اور اس طریقے کو اپنانے والے جادوگر کی خدمت کے لیے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کیلئے شیطانوں کا بہت بڑا گروہ اس کے پاس موجود رہتا ہے، کیونکہ ایسا جادوگر کفر والحاد کے اعتبار سے بہت بڑا جادوگر تصور کیا جاتا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
یہ طریقہ مختصر طور پر کچھ یوں ہے:
جادوگر۔۔۔۔۔ اس پر اللہ کی ڈھیر لعنتیں ہوں۔ قرآن مجید کو جوتا بنا کر اپنے قدموں میں پہن لیتا ہے، پھر بیت الخلاء میں جا کر کفریہ طلسموں کو پڑھتا ہے، پھر باہر آ کر اپنے کمرے میں بیٹھ جاتا ہےاور جنوں کو حکامات جاری کرتا ہے، چنانچہ جن بہت جلدی اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حکامات نافذ کرتے ہیں، کیونکہ وہ مندرجہ بالا طریقے پر عمل کر کےکافر اور شیطانوں کا بھائی بن چکا ہوتا ہے، سو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
یاد رہے کہ ایسا جادوگر مندرجہ بالا کفریہ کام کے علاوہ دوسرے بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب بھی کرتا ہے، مثلاً محرم عورتوں سے زنا کرنا، لواطت کرنا اور دین اسلام کو گالیاں بکنا وغیرہ۔ اور یہ سب وہ اس لئے کرتا ہے کہ تاکہ شیطان اس پر راضی ہو جائیں۔
چوتھا طریقہ:
ملعون جادوگر قرآنِ مجید کی کوئی سورت حیض کے خون سے یا کسی اور ناپاک چیز سے لکھتا ہے پھر شرکیہ طلسم پڑھتا ہے۔ اور اس طرح جنوں کو اپنی فرمانبرداری کےلئے حاضر کر لیتا ہے اور جو چاہتا ہے انہیں حکم دیتا ہے۔
اس طریقے میں بھی کفرِ صریح موجود ہے کیونکہ قرآن مجید کی ایک آیت کے ساتھ استہزاء کرنا بھی کفر ہے، چہ جائیکہ اسے ناپاک چیز کے ساتھ لکھا جائے۔
پانچواں طریقہ:
ملعون جادوگر قرآن مجید کی کوئی سورت الٹے حروف میں لکھتا ہے، پھر شرکیہ تعویذ پڑھ کر جنوں کو حاضر کر لیتا ہے۔
یہ طریقہ بھی حرام ہے، کیونکہ قرآن مجید کو الٹے حروف میں لکھنا کفر اور شرکیہ تعویذات کو پڑھنا شرک ہے۔
چھٹا طریقہ:
جادوگر ایک خاص ستارے کے طلوع ہونے کا انتظار کرتا ہے، اور جب وہ طلوع ہو جاتا ہے تو جادوگر اس سے مخاطب ہوتا ہے۔ پھر جادو والے وِرد پڑھتا ہے جن میں کفر اور شرک موجود ہوتا ہے، پھر چند ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ اس کے خیال کے مطابق ان حرکتوں سے اس ستارے کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی ان حرکات سے اس ستارے کی پوجا کر رہا ہوتا ہے، اور جب وہ غیراللہ کی پوجا شروع کرتا ہے تو شیطان اس ملعون کے اَحکامات پر لبیک کہتے ہیں، جبکہ جادوگر یہ سمجھتا ہے کہ اس ستارے نے اس کی مدد کی ہے، حالانکہ ستارے کو تو اس کی کسی حرکت کا علم ہی نہیں ہوتا۔
اور جادوگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا طریقے سے کیا گیا جادو اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک یہ ستارہ دوبارہ طلوع نہ ہو۔ اور ایسے ستارے بھی ہیں جو سال میں صرف ایک مرتبہ طلوع ہوتے ہیں، چنانچہ وہ سال بھر اس ستارے کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے ہیں، پھر ایسے ورد پڑھتے ہیں جن میں اس ستارے کو مدد کےلئے پکارا جاتا ہے تاکہ جادو کا اثر ختم ہو جائے، بہرحال یہ تو جادوگروں کا خیال ہے جبکہ قرآنی علاج کرنے والے لوگ اس ستارے کا انتظار کیے بغیر کسی بھی وقت اس جادو کو توڑ سکتے ہیں۔
اس طریقے میں بھی شرک واضح طور پر موجود ہےکیونکہ اس میں غیر اللہ کی تعظیم اور غیر اللہ کو مدد کےلئے پکارنا جیسے قبیح افعال موجود ہیں۔

جاری ہے.......
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 23170 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Aug, 2016 Views: 523

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ