ہم سب کا پاکستان کیسا ہونا چاہئے!

(Syed Muhammad Ishtiaq, Karachi)
 صبح جو آنکھ کھلی تو اپنے اندر ایک خوشگوار سی تبدیلی محسوس ہوئی ،جسم و جاں میں ایک جوش اور ولولہ سا محسوس ہوا ،ذرا سا ذہن پر زور ڈالا کہ اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے تو دل و دماغ نے کہا ،ہو نہ ہو یہ کل رات دیکھے گئے خواب کی وجہ سے ہے اورا ب اس خواب کو دیکھنے کے بعد نئے عزم ،حوصلے اور لگن کے ساتھ خواب کی تعبیر پوری کرنے کا وقت آگیا ہے۔قارئین کو بھی جستجو ہوگی کہ آخر ایسا کون سا خواب دیکھ لیا کہ جس نے جسم و جاں میں جوش اور ولولے کی لہرد وڑادی، تو میرے پاکستانی بہنوں،بھائیوں میں نے وہ خواب دیکھا جو حضر ت علامہ محمد اقبال رحمتہ اﷲ علیہ نے دیکھا تھا، میں نے وہ خواب دیکھا جوقائداعظم محمد علی جناح،تحریک پاکستان کے بے شمار جلیل القدر و زیرک سیاسی رہنماؤں ،کروڑوں مسلمان جنہوں نے تحریک پاکستان میں بنفس نفیس خود نہ صرف یہ کہ حصّہ لیا بلکہ قیام پاکستان کے لئے مال ومتاع لٹایا اورتحریک پاکستان کے لئے لاکھوں کی تعداد میں جاں کانذرانہ پیش کرنے والوں مسلمان بہن بھائیوں نے پاکستان کے بارے میں دیکھا تھا۔میں نے دیکھا کہ میرا پاکستان مجھ سے گلا کر رہا ہے کہ تم تو اس آرام و آسائش کے ساتھ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوآزادی کی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہو تم کو ہر طرح کی مذہبی اور اظہار خیال کی آزادی ہے ذرا کشمیر، فلسطین، شام، افغانستان،عراق اور بھارت میں رہنے والوں مسلمانوں پر بھی نظر ڈالوکہ ان پر کس طرح عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے،پاکستان جس نے تم کو شناخت دی کیا تم نے اس کا حق ادا کیا ؟ تو میرے پاکستانی بہن بھائیوں حقیقت یہی ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے ہم سب کا پاکستان و یسا نہیں ہے جیسا ہونا چاہئے ،ہم سب کو پاکستان نے شناخت دی،ہر طرح کی آزادی سے نوازا لیکن ہم نے کبھی بھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا، جب بھی سوچا اپنے ذاتی مفادات کے بارے میں ہی سوچا ،اسی وجہ سے قومی یکجہتی کا شدید فقدان ہے، ہم رنگ و نسل،مسلکی و مذہبی ،لسانیت و تعصّب کی آگ میں جل رہے ہیں،انگریزوں کے دور سے چلے آرہے ،جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد پر معاشرہ قائم ہے جہاں امیر،امیر تر اور غریب،غریب تر ہوتا جا رہا ہے ،مراعات یافتہ طبقے کے لئے قانون کی تعریف کچھ اور ہے اور غریب کے لئے کچھ اور،کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نہیں ۔ میرا خواب مجھ سے تقاضا کرتا ہے کہ میں اُس پاکستان کے لئے اپنی صلاحیتیں اور توانائی استعمال کروں جس کا وعدہ قائداعظم محمد علی جناح نے برّ صغیر کے مسلمانوں سے تحریک پاکستان کے د وران اور قیام پاکستان کے بعد کیا تھا۔قائداعظم پاکستان کو اسلامی و فلاحی مملکت کے روپ میں دیکھنے کے متمنّی تھے ہم سب کا پاکستان جیسا ہونا چاہئے تھا ویسا نہیں اس میں جہاں من حیث القوم ہماری کوتاہیاں ہیں وہیں وہ حکمراں بھی اس کے ذ مّہ دار ہیں جنہوں نے قائداعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان کے بعد زمام اقتدار سنبھالی اور ذاتی مفادات،پلاٹ ،پرمٹ و لائسنس کی سیاست میں لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے، زمینی حقائق کابر محل ادراک نہ کرنے کی وجہ سے مملکت دو حصّوں میں بٹ گئی اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آگیا،مملکت کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی ہم نے نہ ہوش کے ناخن لئے اور نہ کوئی سبق سیکھا،افغان جنگ سے جہاں ملک میں کلاشنکوف اور ہیروئین کلچر پروان چڑھا وہیں افغان مہاجرین کی وجہ سے ملکی معیشیت آبادی کے د باؤ کی وجہ سے تباہ ہوگئی ،افغان جنگ کی وجہ سے ملکی امن بھی متاثر ہوا ۔پے در پے دہشت گردی کے واقعات نے قوم کے اعتماد کو متزلزل کردیا،سانحہ APS کے بعد سیاسی و عسکری قیادت نے مکمل اتفاق رائے کے ساتھ نیشنل ایکشن پروگرام ترتیب دیا،شر و فساد پھیلانے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں لیکن مکمل طور پر اس پروگرام پر عمل درآمد نہ ہوسکا کیونکہ صوبوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتیں بھی اس آپریشن کی کارروائیوں پر سوالات اٹھاتی رہیں اور قوم کوپھر ایک بڑے سانحے سے کوئٹہ میں دوچار ہونا پڑگیا ایک دفعہ پھر نیشنل ایکشن پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور ایک نیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ۔قوم اب مزید کسی اور سانحہ کی متحمّل نہیں ہوسکتی لہٰذا حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمّہ داری ہے کہ نیشنل ایکشن پروگرام پرا س کی روح کے مطابق عمل کریں تاکہ ملک میں امن قائم ہو ،امن قائم کرنے کے بعد ہی ہم اسلامی و فلاحی مملکت بنانے میں کامیاب ہوں گے جہاں ایسا تعلیمی نصاب و نظا م ہو جو تمام دینی اور دنیاوی ضروریات کو پورا کرتا ہو اور یکساں طور پر پورے ملک میں نافذ کیا جاسکے،بنیادی تعلیم مفت اور لازم ہو ،اسی طرح طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوگا،مساوات قائم ہوگی ، خواندگی کی شرح بڑھنے کے بعد ہی قوم میں شعور بیدار ہوگا ،اچھے برے کی تمیز ہوگی ، اپنا عوامی نمائندہ اور حکمراں منتخب کرتے وقت اسی شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحت کی سہولتیں بھی بلا تفریق تمام شہریوں کو حاصل ہوں کیونکہ صحت مند معاشرہ ہی ملکی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے،عدل و انصاف کے لئے ایسی اصلاحات متعارف کرائی جائیں جہاں ہر کسی کو انصاف اس کی دہلیز پر مہیّا ہو ،تحفّظ کا احساس ہر شہری میں میں موجود ہو ،جرائم پیشہ ،دہشت گرد اور بدعنوان عناصر کو پکڑ کر کڑی سزا دے کر جیلوں میں قید کیا جائے تاکہ کوئی بھی شخص جرم کی راہ پر چلنے کا تصوّر بھی نہ کرے ۔لہٰذا میرے پاکستانی بہن ، بھائیوں میں نے آج سے ایک نئے جذبے کے ساتھ یہ عزم کیا ہے کہ ا ب میری تمام صلاحیتیں اور توانائیاں اُس پاکستان کے لئے صرف ہوں گی جہاں ہر پاکستانی بچہ اسکول جاتا ہو،نوجوان اعلی تعلیم کے حصول میں لگے ہوئے ہوں،علمائے دین ،سیاست دان ،عسکری ادارے ،ڈاکٹر ،صحافی ،وکیل اور عام پاکستانی سب اپنے فرائض منصبی دیانت داری سے ادا کررہے ہوں،ہر پاکستانی مرد ، عورت ، نوجوان،بوڑھا، بچہ صحت مند ہو،نسلی، مسلکی،لسانی و علاقائی تعصّبات و اختلافات کا خاتمہ ہوگیا ہو،ہر پاکستانی کی نظر میں قانون کا احترام ہو اور اس کا دل وطن کی محبت سے سرشار ہو۔ یہی میرا خواب ہے کہ میرا پاکستان ایسا ہو۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Ishtiaq

Read More Articles by Syed Muhammad Ishtiaq: 44 Articles with 20457 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 286

Comments

آپ کی رائے