مقبوضہ کشمیر میں جبروتشدد کی انتہاء اورعالمی ضمیرکی خاموشی ......لمحہ فکریہ!!!

(Safeer Ahmed Raza, )
دنیاکے منصفو‘سلامتی کے ضامنو‘کشمیرکی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شورسنو! کشمیری آزادی پسند عسکری کمانڈربرہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں شروع ہونیوالی احتجاجی تحریک کے بعد اب تک کسی عالمی فورم پرپاکستانی اورکشمیری رہنماؤں نے کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو اور ظلم و ستم کی آخری تمام حدود کو عبور کرکے اب قابض و غاصب بھارتی فورسزنے وادی کی اقتصادی ناکہ بندی بھی شروع کردی ہے اور لوگوں کو خواراک و ادویات کی فراہمی میں رکاؤٹیں ڈالنا شروع کردی ہیں مقبوضہ ریاست میں نہتے معصوم بچوں‘ نوجوانوں اور معمر بزرگوں پر فورسز کی جانب سے اسرائیلی اسلحہ بے دریغ استعمال کیا جارہاہے‘ جس میں مخصوص کیمکلز بھی پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضراور خطرناک ہیں مقبوضہ کشمیرمیں بطورخاص ’’اسرائیلی ساختہ پیلٹ گن‘‘ استعمال کی جارہی ہے جس سے بندے کی ہلاکت نہیں ہوتی مگر وہ پوری زندگی کے لئے معذور ہوجاتاہے
جب آپ یہ سطورپڑھ رہے ہوں گے تو مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرمیں یقیناًمسلسل اورطویل ترین کرفیوکاسلسلہ جاری ہوگا۔تادم تحریرکرفیوکو 49دن ہوچکے ہیں اور ریاستی دہشتگردی سے70کے قریب بے گناہ نوجوان شہید کئے جاچکے ہیں‘جبکہ ہزاروں کی تعدادمیں ذخمی اور اپاہج و معذورکردئے گئے ہیں۔یہ سانحات کشمیرکے آزادی پسند عسکری کمانڈربرہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہوئے ہیں جس نے ایک تحریک کی شکل اختیارکرلی ہے۔مقبوضہ وادی میں شروع ہونیوالی اس احتجاجی تحریک کے بعد اب تک کسی عالمی فورم پرکشمیریوں کی نمائندگی کے دعویدارپاکستانی اورکشمیری رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری فرقہ ورانہ فسادات کی آڑ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور مقبوضہ وادی میں حسب معمول تیزی سے جاری جبرواستبداد کی کارروائیوں سمیت کنٹرول لائن پر پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پرکسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔اگرچہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمدنوازشریف اور مشیرخارجہ نے مختلف موقع پرحسب روائت کشمیر کی’’سیاسی،سفارتی و اخلاقی حمائت ‘‘ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیاہے تاہم ان بیانات کو پاکستان کی جغرافیائی حدودسے باہر کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔آج مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیوکے بعدصورتحال یہ ہے کہ بھارتی فورسز نے جبر و تشدد اور مظالم کی تمام حدود کو عبور کرکے اب وادی کی اقتصادی ناکہ بندی بھی شروع کردی ہے اور لوگوں کو خواراک و ادویات کی فراہمی میں رکاؤٹیں ڈالنا شروع کردی ہیں۔حریت کانفرنس نے قیدو بند کی صعوبتوں کے باوجود اس صورتحال پر شدید احتجاج کیا ہے۔ تاہم‘ تادم تحریرمقبوضہ وادی میں جاری بھارتی غنڈہ گردی اور دہشت گردی کی بھیانک واردات پر عالمی سطح پر کسی کے کانوں پر جوں تک رینگی ہے نہ پاکستان نے کسی ردعمل کا اظہار کرنا مناسب خیال کیا ہے۔اُدھرمقبوضہ کشمیرمیں بھاری سنگینوں کے سائے میں پاکستانی پرچم اٹھاکر اپنے سینے پر گولیاں کھانے والے کشمیری نوجوان پاکستان سے سوال کرتے ہیں کہ پاکستان کب ان کی وکالت کا حق اداکرے گا۔پاکستان کی معنی خیز خاموشی اس تاثر کو بھی تقویت پہنچا رہی کہ وہ دانستہ یا نادانستہ طورپرکشمیرکو بھارت کی جھولی میں ڈالنے کے عمل میں بدستور مصروف عمل ہے ۔ پاکستان بالخصوص او ربھارت سمیت اقوام عالم اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبر داروں پر باالعموم یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اامن وامان کے قیام اور مقبوضہ وادی کی اقتصادی ناکہ بندی کے خاتمے کیلئے فوری طور پر موثر اور جاندار کردار ادا کریں۔ اگر جبروتشدد بند نہ کرایا گیا تو وادی میں جنگ چھڑ جانے کا قوی امکان ہے اور وہ وقت دور نہیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جمعہ کے روزا یک بیان جاری کیا تھا جس میں کہاگیاہے کہ ’’امیدہے کشمیرمیں تشدد روکنے کیلئے ہرممکن کوشش ہوگی‘‘۔سرینگرسے محمدفیصل نامی ایک نوجوان نے عالمی برادری کے نام ایک خط بھیجاہے جو ایک موقر جریدہ میں شائع ہواہے ،اس خط کو پڑھ کر آپ کے سامنے وہ تصویر آ جائے گی جو اس وقت مقبوضہ وادی میں ہے۔ہم اس خط کے متن سے کچھ پیراگراف تھوڑی ترمیم کے ساتھ قارئین کی نذر کرتے ہیں۔

’’ ظلم کی رات کب ختم ہوگی؟‘‘............... ’’وہ کمر کے اوپر، سیدھا سینے میں، یہاں تک کہ سر میں بھی گولیاں مار رہے ہیں۔ یہ ہسپتال بھی میدان جنگ ہے۔''یہ الفاظ سری نگر میں واقع سورا ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے ہیں جہاں میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اس وقت اس ہسپتال میں سری نگر کے جنوب میں واقع ایک علاقے قائمو سے ایک لڑکے کو لایا گیا ہے۔ اس کے جسم پر جا بجا چھروں کے نشان ہیں اور اس کی دائیں آنکھ پھوٹ چکی ہے۔ اسے تکلیف کی شدت سے تڑپتا دیکھ کر میں نے بمشکل اپنے آنسو روکے۔ڈاکٹر کے مطابق اب وہ کبھی بھی اپنی ایک آنکھ سے نہیں دیکھ پائے گا کیونکہ ایک چھرے کے خول نے اس کی آنکھ پھاڑ دی تھی۔چھروں والی بندوقوں کو 'غیر مہلک' سمجھا جاتا ہے مگر کشمیر میں تو ایک فوجی بوٹ تک بھی لوگوں کی جان لے سکتا ہے۔ہندوستانی افواج کی جانب سے علاقے کے محاصرے کے بعد انٹرنیٹ معطل ہے۔ جنوبی کشمیر میں ٹیلی فون لائنز بند ہیں، 70 کے قریب لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا جاچکا ہے اور ہزاروں زخمی ہیں۔اس تمام افراتفری کے باوجودکشمیریوں نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ فولادی ارادے رکھنے والے عوام ہیں۔ہسپتال کے قریبی علاقوں کے مکین وہاں اپنے ساتھ تھیلوں میں چاول، دالیں اور پانی بھر لائے ہیں، سینکڑوں لوگ خون کے عطیات دینے قطار میں کھڑے ہیں۔ اردگرد درجنوں ایسے رضاکار ہیں جو زخمیوں کو اٹھا رہے ہیں اور ان کے گھروالوں کو تسلی دے رہے ہیں۔اسٹریچر پر ایک خاتون کو ہسپتال لایا گیا اور فوراً ہی ایمرجنسی وارڈ منتقل کردیا گیا۔ وہ ضلع بارہ مولہ کے شہر سوپور میں زخمی ہوئی تھیں۔ ہم جیسے ہی ان کی نگہداشت کر کے بیٹھے تو اتنے میں ایک اور متاثرہ شخص کو لایا گیا۔ ان کا تعلق بھی بارہ مولہ سے تھا۔ ہسپتال کا دروازہ بس جیسے زخمیوں اور ہلاک شدگان کی آمد کا منتظر ہے۔سوپ کچن کے رضاکار ہر دم کمر بستہ نظر آ رہے ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ''کوئی بھی بھوکا نہیں رہنا چاہیے۔ کچھ زخمیوں کے ساتھ ان کے گھر والے نہیں ہیں اس لیے ہمیں ان کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔''میرے سامنے ایک 15 سالہ لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ اس وقت رات کا اندھیرا پھیل گیا تھا مگر باہر خون بہنے کا سلسلہ رکا نہیں تھا۔ آنسو گیس فائر کرنے کی آوازیں خاموشی کو چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔شہید ہونے والے لڑکے کے دوستوں نے ہسپتال میں ہی ٹھہرنے کا فیصلہ کیا، اور لاش کو صبح گھر لے جانے کا ارادہ کیا۔''اگر ہم ابھی جائیں گے تو صورتحال اور بھی کشیدہ ہو جائے گی۔ ہم صبح تک کا انتظار کریں گے۔''باہر کھڑی ایمبولینسوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ہسپتال کا طبی عملہ باہر پھیلی دہشت ناک صورتحال کو بیان کر رہا ہے جو انہوں نے ہندوستان کی ظالمانہ فوج کے محاصرے سے گزرتے ہوئے دیکھی۔ ان کو آگے جانے سے روکا گیا، ان کو ڈرایا دھمکایا گیا اور یہاں تک کہ انہیں حراساں بھی کیا گیا، مگر وہ ہسپتال کی طرف لوٹنے میں کامیاب رہے۔جب بھی کوئی زخمی ہسپتال کے اندر لایا جاتا ہے تو ایک عورت جذباتی ہو کر کہتی ہے کہ: ''یہ میرے اپنے ہیں۔''ہسپتال میں ڈاکٹرز جانفشانی سے ایک لمحہ بھی رکے بغیر کام کر رہے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک کو میڈیا سے بات چیت کرنے کو کہا تو انہوں نے مجھے جھڑک دیا: ''آپ کو نظر نہیں آ رہا ہم کتنے مصروف ہیں؟ یہاں لوگ گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہیں، ان چیزوں کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔''میں سانس لینے کے لیے عمارت سے باہر نکلتا ہوں تو میرا پرانا دوست سامنے کھڑا ہے، اور ہلاک ہونے والے افراد کی کہانیاں بتانے لگتا ہے۔ اندھیرا ہونے لگا ہے لہٰذا میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میرے فون پر امی کے نمبر سے 15 مسڈ کالز لگی ہوئی ہیں۔ہم وہاں سے نکلنے لگتے ہیں تو اتنے میں کہیں سے ایک پولیس وین آتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ گرفتار ہونے کے ڈر سے علاقے سے بھاگنے لگے۔ وین کا دروازہ کھلا اور ایک بندہ اندر داخل ہوگیا — شاید وہ ایک مخبر ہو جو وہاں زخمیوں کے نام اکٹھے کرنے اور ان کے گھروں کے پتے نوٹ کرنے کے لیے آیا تھامجھے خوف ہے کہ ان افراد سے پولیس بعد میں نمٹے گی۔احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں اور لوگ رکاوٹیں پھلانگ رہے ہیں۔ وہ پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔ ایک بوڑھا شخص چلاتا ہے،‘’ہمارے بچوں کو گولیاں لگی ہیں۔ ان کی ہمت کیسے ہوئی اندر آنے کی۔ہسپتال بھی محفوظ نہیں ہیں۔جیسے ہی وین ویاں سے گئی، تو دو مزید ایمبولینسیں وہاں آ پہنچیں۔ پولیس کی فائرنگ سے دو افراد کو گولیاں لگی تھیں۔کہیں دور آزادی کا نغمہ تیز آواز میں گونج رہا تھا۔ کوئی شخص 'آزادی' گا رہا تھا، وہی نغمہ جس سے ہم سب آشنا ہیں۔ایک اور ایمبولینس زخمی کو لے آئی ہے‘‘۔

راقم الحروف جب جولائی2012ء مقبوضہ کشمیر گیاتھا‘تب وہاں ایک اہلکار نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ کا میڈیا مقبوضہ کشمیرمیں ظلم و ستم اور لاقانونیت کو بڑھاچڑھاکر پیش کرتاہے‘آپ نے 28دن یہاں گزارے ہیں‘بتائیں کس جگہ آپ نے ظلم و ستم دیکھاہے۔ہم نے وہاں کیا دیکھا اور کیا نہ دیکھااس کا تذکرہ ہم اپنے سفرنامہ میں تفصیل سے کر چکے ہیں تاہم اب جو ہورہاہے،انسانی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ کشمیری آزادی پسند عسکری کمانڈربرہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں شروع ہونیوالی احتجاجی تحریک کے بعد اب تک کسی عالمی فورم پرپاکستانی اورکشمیری رہنماؤں نے کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔ مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو اور ظلم و ستم کی آخری تمام حدود کو عبور کرکے اب قابض و غاصب بھارتی فورسزنے وادی کی اقتصادی ناکہ بندی بھی شروع کردی ہے اور لوگوں کو خواراک و ادویات کی فراہمی میں رکاؤٹیں ڈالنا شروع کردی ہیں۔مقبوضہ ریاست میں نہتے معصوم بچوں‘ نوجوانوں اور معمر بزرگوں پر فورسز کی جانب سے اسرائیلی اسلحہ بے دریغ استعمال کیا جارہاہے‘ جس میں مخصوص کیمکلز بھی پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے انتہائی مضراور خطرناک ہیں۔مقبوضہ کشمیرمیں بطورخاص ’’اسرائیلی ساختہ پیلٹ گن‘‘ استعمال کی جارہی ہے جس سے بندے کی ہلاکت نہیں ہوتی مگر وہ پوری زندگی کے لئے معذور ہوجاتاہے۔مقبوضہ ریاست میں ظلم و ستم کایہ سلسلہ آج بھی اسی تسلسل سے جاری ہے مگر ستم ظریفی کی حد تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردارٹس سے مس نہیں ہیں۔حقیقت یہ کہ پوری دنیامیں ایک بار پھر کفرواسلام کی معرکہ آرائی کاآغازہوچکاہے۔‘‘بی بی سی‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہ جولائی کے دوران دیگر زبانوں کو چھوڑ کر صرف انگریزی زبان میں سات ہزار ٹوئیٹس اسلام دشمنی میں پوسٹ کئے گئے ہیں اور ان پر کمنٹس کا شمارنہیں۔بدقسمتی سے عالم کفر تو اسلام کے خلاف متحد ہے اور پوری قوت کے ساتھ نہ صرف مسلمانوں میں خانہ جنگی کروارہاہے بلکہ دشتگردی کے نام پر ‘جو حقیقتاً وہ خودکروارہے ہیں‘ مسلمانوں کو موردالزم ٹھہرا کر ان کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں۔کشمیر،فلسطین،مصر،شام،یمن، برما،افغانستان،عراق سمیت مشرق وسطیٰ کے بیشتر مسلم ممالک آگ اور خون میں لت پت ہیں مگر جو بھی مسلم ملک اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتاہے ساری طاغوتی قوتیں اس کے خلاف متحد ہوکر اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہوجاتی ہیں ،اس کی تازہ ترین مثال ترکی ہے جہاں عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق فوجی بغاوت کے پیچھے امریکہ و اسرائیل جیسے ممالک کا ہاتھ ہے اور اب وہاں بھی ’’باغی کردوں‘‘ کی آڑ میں دہشتگردی کروائی جارہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور دنیابھرکے مسلمان عوام کو تمام تر فروعی ،مسلکی،لسانی و علاقائی فرسودہ تعصبات کو بالائے تاک رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اگر امت مسلمہ نے آج ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔بحیثیت کشمیری ہم پر لازم ہے کہ ہم اٹھ کھڑے ہوں اورکم ازکم اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارتی ظلم سے نجات دلانے کے لئے جو بن پڑتاہے‘اپنے حصہ کا کرداراداکریں۔ہم امیدکرسکتے ہیں کہ اس بے حسی کے اندھیر سے جنم لینے والی روشن صبح انقلاب آزادی کی نوید لیکر طلوع ہوگی۔ کشمیری مسلمانوں کو یہ یقین کر لینا چاہیے کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور مسلمان ان کی پشت پر ہیں اور کشمیریوں کے جبر کے دن اب بہت تھوڑے رہ گئے ہیں کیونکہ ظلم پھر ظلم ہے۔۔۔۔۔ بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Safeer Ahmed Raza

Read More Articles by Safeer Ahmed Raza: 39 Articles with 22172 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 283

Comments

آپ کی رائے