مقبوضہ کشمیر:عالمی سطح پر پاکستان کا موقف مضبوط…… بھارتی سفاکیت نہ رک سکی

(عابد محمود عزام, Lahore)
مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک روکنے کے لیے بھارتی قابض فوج کے مظالم جاری ہیں، لیکن کشمیری اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ آٹھ جولائی سے مقبوضہ وادی کا منظر ہی تبدیل ہے۔ ہر جانب بھارتی ظلم وبربریت کے نشان نظر آتے ہیں۔ وادی میں چہار سو بھارتی قابض فوج دندناتی نظرآتی ہے۔ تاہم کشمیری جدوجہد آزادی کے لیے پْرعزم ہیں۔ بھارتی فوج کا بدترین ظلم و تشدد بھی جاری ہے۔49ویں روز بھی وادی میں کرفیو نافذ رہا ہے۔ پوری وادی میں عوام گھروں میں محصور ہیں۔ موبائل سروس اور انٹرنیٹ بند ہے۔ غذائی اشیاء کی ترسیل روکی جارہی ہے اور دنیا کو اصل صورتحال سے بے خبر رکھنے کے لیے میڈیا پر بھی پابندی عاید ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی روکا جا رہا ہے۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 49 روز سے سخت کرفیو اور بھارتی فوج کی بہیمانہ کارروائیوں کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن میں گزشتہ روز بھی ایک نوجوان شہید اور 110 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم اور ہلاکتوں کے خلاف گزشتہ روز مظفر آباد میں کشمیری خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں اقوام متحدہ کی خاموشی پر اس کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو چوڑیاں پیش کی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے بڑی تعداد میں سرکاری سکولوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے متعدد قصبوں میں درجنوں تعلیمی اداروں کی عمارت کو قبضے میں لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ 1990میں موجودہ تحریک آزادی شروع ہونے کے بعد بھارتی فورسز نے سینکڑوں تعلیمی اداروں میں اپنے کیمپ قائم کر لیے تھے، تاہم 2004ء میں سکول عمارات کو قابض فورسز سے خالی کر لیا گیا تھا۔ حالیہ انتفادہ کے دوران قابض فورسز نے اب دوبارہ سے تعلیمی اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ جموں و کشمیر میں گزشتہ 49 روز میں نہتے کشمیری مظاہرین پر ہندوستانی فورسز کی فائرنگ سے 87 سے زائد افراد شہید اور 6ہزار سے زائد زخمی، جبکہ 120 کے قریب کشمیری نوجوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ کشمیر میں حالیہ احتجاج کی لہر حریت پسند نوجوان کمانڈر مظفر وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ جب سے جموں و کشمیر میں مستقل طور پر کرفیو نافذ ہے اور کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔

عالمی برادری کو کشمیر کی اصل شکل دکھانے کے لیے حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے عالمی رہنماؤں کو خطوط لکھے ہیں۔ اقوام متحدہ، پوپ فرانسس، دلائی لاما، امام کعبہ، شنکراچاریہ اور دہلی میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں کے نام ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تحریک آزادی کو دہشت گردی سے غلط جوڑ رہے ہیں۔ کشمیر کی صورتحال بہت خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے اور اگر عالمی برادری نے بروقت مداخلت نہ کی تو صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے۔ میر واعظ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا قابل عمل حل تلاش کیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھی خط لکھ گیا تھا، جس کے بعد ایک بار پھر اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کی موجودگی اور اس کی سنگینی کا احساس ہوا۔ سیکرٹری جنرل نے وزیر اعظم نواز شریف کے نام اپنے جوابی خط میں جہاں مقبوضہ کشمیر میں ہلاکتوں کی مذمت کی، وہاں یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے، لہٰذا پاکستان اور بھارت تمام تنازعات حل کرنے کے لیے مذاکرات کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے علاقائی امن و استحکام اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے اور بات چیت کی غرض سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین کشمیر سمیت تمام تنازعات بات چیت کے ذریعے حل ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کشمیر میں نہتے عوام کی ہلاکتیں قابل مذمت ہیں۔ تشدد روکنے کی کوششیں کی جائیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے خط کے ذریعے بان کی مون کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں پرامن مظاہرین پر بھارتی فوج کے تشدد اور ان کی ہلاکتوں کی جانب مبذول کرائی تھی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی ادارے کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلانے کی کوشش کی تھی۔ ان کی یہ حکمت عملی غیر معمولی طور پر کامیاب رہی کہ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں ہلاکتوں کی مذمت کی۔ یہی نہیں، بلکہ عالمی ادارے نے مسئلہ کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی، جو پاکستان کی زبردست کامیابی ہے۔

دوسری جانب کشمیر کا معاملہ اسلامی ممالک میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار اور مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ مقبوضہ وادی میں صورت حال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں‘ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے‘ عالمی اداروں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطے میں صورت حال خراب ہو رہی ہے، جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں تشدد ختم کرانے اور مذاکرات کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے‘ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کے خلاف بھارتی فورسز وحشیانہ طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔ کشمیریوں کے پوری دنیا میں شدید احتجاج اور پاکستان کی طرف سے ان کا کافی حد تک ساتھ دینے کے بعد دنیا بھارت کی کشمیریوں پر بربریت سے آگاہ ہو رہی ہے، مگر بھارت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ اس کی سفاک سپاہ کی طرف سے نہ صرف کشمیریوں پر ظلم و جبر جاری ہے، بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اس کی طرف سے مزید دس ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر میں داخل کیے گئے ہیں۔ بھارت نہ صرف اقوام متحدہ کی ان قرار دادوں پر عمل سے انکاری ہے جن میں کشمیریوں کو استصواب کا حق دیا گیا ہے، بلکہ وہ کشمیریوں کے انسانی حقوق غصب کرتے ہوئے دنیا کو دھوکا دے رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مشن کو آزاد کشمیر میں آنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اسے داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ بھارت کی ایسی ہٹ دھرمی پر اقوام متحدہ خاموش ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر جامع مذاکرات کے کئی دور کر چکا ہے۔ مگر اس کی بدنیتی کے باعث مذاکرات کبھی سرے نہیں چڑھ سکے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ ایک بار پھر کشمیر کے معاملے پر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مودی حکومت نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے باضابطہ طور پر انکار کرتے ہوئے اس حوالے سے پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری کوآگاہ کردیا ہے۔ بھارتی سیکرٹری برائے خارجہ امور ایس جے شنکر کی جانب سے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری کے حوالے کیے گئے خط میں لکھا ہے کہ بھارت کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔ واضح رہے اس سے قبل سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے 19 اگست کو اپنے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر کے نام خط لکھا تھا جس میں انہیں اسلام آباد آنے اور مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی دعوت دی گئی تھی، اس کے جواب میں بھارت نے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اب بھارت نے کشمیر پر مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا، جو بھارت کی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی اس خطرناک صورتحال پر حقوق انسانی کے عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی خاموشی خاصی معنی خیز ہے۔ یہ مسئلہ 1948ء سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے اور خود اقوام متحدہ نے وہاں ٍرائے شماری کا فیصلہ دیا تھا جس پر ابھی تک بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکا۔ اب کشمیر کی موجودہ صورتحال میں اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے تو عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بھارت کو مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار داوں پر عمل درآمد کے لیے آمادہ کرے۔

کشمیر ی عوام کی جانب سے بھارت کے ناجائز تسلط اور قابض فوج کے مظالم کے خلاف جاری تحریک نہ صرف عالمی سطح پر تنازع کشمیر کی سنگینی اور اس کے منصفانہ حل کی ضرورت کا احساس پیدا کرنے میں واضح طور پر کامیابی حاصل کررہی ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں خود بھارت کے اندر بھی سراسر بے انصافی پر مبنی مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کے خلاف توانا آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم پر انتہائی تشویش اور مسئلے کے جلداز جلد منصفانہ حل کی ضرورت کے اظہار کے فوراً بعد ستاون مسلم ملکوں پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی کا غیرمبہم الفاظ میں کشمیریوں کے حق خود ارادی کی حمایت کرنا کشمیر کے معاملے میں یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، کیونکہ کشمیر کے معاملے میں پاکستان کا موقف ساری دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ تنازع کشمیر کے منصفانہ سیاسی حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کا بیان اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایادا مین مدنی کی جانب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں استصواب رائے کرائے جانے کی ضرورت کے اظہار اورخود بھارت کے اندر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کے خلاف شدید ردعمل سے یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوگئی ہے کہ بھارت کے لیے فوجی طاقت کے بل پر اب زیادہ دیر کشمیر پر غاصبانہ تسلط قائم رکھنا ممکن نہیں۔ کشمیریوں کی قربانیاں بالآخر رنگ لارہی ہیں اور تنازع کشمیر کے ضمن میں پاکستان اور کشمیری عوام کے جائز موقف کے حق میں فضا تیزی سے ہموار ہورہی ہے۔کشمیر کوبھارت کا اٹوٹ انگ قراردینے کا سوفی صد دھاندلی پر مبنی موقف عالمی سطح پر بھی مسترد کیا جاچکا ہے اور بھارت کے اندر بھی جس کا ناقابل تردید ثبوت بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پرامن سیاسی حل کے حق میں اٹھنے والی آوازیں ہیں۔نریندر مودی نے کشمیر کی صورت حال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بلوچستان کی دہائی دینے کی شاطرانہ چال چلی، جو ناجاکام ہوگئی ہے، کیونکہ بلوچستان کے غیور عوام نے بھرپور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے مودی کو منہ توڑ جواب دے دیا ہے۔ دراصل کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی سے خائف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بلوچستان بارے نازیبا بیان دے کر میڈیا کی توجہ کشمیر کے معاملے سے ہٹانے کی چال چلی ہے، جس میں کافی حد تک اسے کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے، کیونکہ عالمی میڈیا تو پہلے سے ہی کشمیر کے حوالے سے منافقت سے کام لیتے ہوئے بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے۔ عالمی میڈیا کو بھارتی مظالم کا نشانہ بن کر موت کی نیند سونے والے کشمیری نظر نہیں آتے اور عالمی میڈیا ہمیشہ بھارت کی سپورٹ کرتا ہے، لیکن زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا بھی چند روز کے بعد اس معاملے میں خاموش ہوگیا ہے، قومی میڈیا پر کشمیر کے معاملے کو پس پشت ڈال کر نہ جانے کون کونسے ایشوز پر پورے پورے پروگرام کیے جاتے ہیں، حالانکہ یہ پاکستان حکومت اور پاکستانی میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دنیا بھر میں کشمیر کے معاملے کو اجاگر کرے اور کشمیر میں بھارتی سفاکیت و ظلم و ستم دکھا کر دنیا بھر میں بھارت کے بھیانک اور مکروہ چہرے کو بے نقاب کرے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 426543 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 286

Comments

آپ کی رائے