تاریحی اہمیت کی حامل جامع مسجد آیون حکام کی توجہ کا منتظر

(Gul Hamad Farooqui, Chitral)
1941 میں بنی ہوئی یہ مسجد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
وادی آیون میں تاریحی اہمیت کے حامل جامع مسجد حکام کی توجہ کا منتظر ہے۔ یہ مسجد سات رمضان 1361ہجری بمطابق 1941 عیسوی آیون گاؤں میں مقامی لوگوں نے تعمیر کیا تھا جو فن تعمیر کا عظیم شاہکار ہے۔

اس مسجد میں زیادہ تر دیار کی لکڑی کا کام ہوا ہے جس سے نہ صرف کھڑکی دروازے ، روشندان، الماری بلکہ ان کی برآمدے اور دیوار پر نقش نگاری کا کام بھی دیار کی لکڑی پر ہوا ہے۔

چترال سے تعلق رکھنے والے ماہر آثار قدیمہ (آرکیالوجسٹ) میر حیات خان جو چارسدہ میوزیم کا انچار ج بھی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ آرکیالوجیکل مالومنٹ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس مسجد کے بارے میں بتایا کہ 2004-5 میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ سے اس کا سروے بھی کرایا تھا ۔ جو اسلامی فن تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی ستون اور شاہ تیر پر نقش نگاری کا نہایت خوبصورت کام ہوا ہے۔ عوام کو بھی چاہئے کہ ان تاریحی اور ثقافتی ورثوں کی حفاظت میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔

ایک اور شہری محمد صادق کا کہنا ہے کہ یہ اس علاقے کا نہایت پرانا مسجد ہے جس کو پچھلے سال زلزلے کی وجہ سے بہت نقصان پہنچا تھا مگر حکومت نے اس کی تعمیر اور مرمت کیلئے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا۔

دیگر شہریوں نے کہا کہ اس مسجد میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ نماز جمعہ اور دیگر اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں۔

اس مسجد میں کئی فٹ لمبا ایک ہی لکڑی سے شاہ تیر نصب ہے جس کے نیچے برآمدہ بھی ہے اور لاؤڈ سپیکر رکھنے کیلئے لکڑیوں سے جالی بنی ہوئی ہے اس مسجد کو دیکھنے کیلئے نہ صرف تاریح کے طلباء، محققین، اساتذہ ، سیاح آتے ہیں بلکہ بچے بھی اس مسجد کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے آتے ہیں۔

اس مسجد میں جگہہ جگہہ دراڑیں آچکی ہے اور زلزلے نے اس کی در و دیوار کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ مقامی لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس تاریحی اہمیت کے حامل مسجد کی فوری مرمت اور تعمیر کیلئے ضروری اقدامات اٹھایا جائے مبادا یہ تاریحی ورثہ حسب معمول مٹ کر ان کی تصویریں صرف کتابوں میں نہ ملا کرے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Gul Hamad Farooqui
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 419

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ