حج اور اس کے مقاصد

(Waseem Ahmad Razvi, India)
مدرس: حضرت مولانا پیرزادہ محمد رضاثاقب مصطفائی (امیر ادارۃ المصطفیٰ، پاکستان)

الحمد للّٰہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین و الصلوٰۃ و السلام علیٰ سید الانبیاء و المرسلین۔
قال اللّٰہ تبارک و تعالیٰ فی القرآن المجید و الفرقان الحمید
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُ البَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا (سورۃ آل عمران ۹۷)
اور اﷲ کے لیے لوگوں پر اس کے گھر کا حج کرنا ہے جواس تک چل سکے۔ (کنزالایمان)
صدق اللّٰہ مولانا العظیم و صدق رسولہٗ النبی الکریم الرؤف الرحیم
اللّٰہم نوِّر قلوبنا بالقرآن و زیِّن اخلاقنا بالقرآن واخدلناالجنۃ بالقرآن و نجنا من النار بالقرآن
قال اللّٰہ تعالیٰ و تبارک فی شان حبیبہٖ
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْنَّبِیِّ یٰا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
الصلٰوۃ و السلام علیک یا رسول اللّٰہ و علٰی آلک و اصحابک یا محبوبَ ربِّ العلمین
الصلٰوۃ و السلام علیک یا رسول اللّٰہ و علٰی آلک و اصحابک یا حبیبَ اللّٰہ
الصلٰوۃ و السلام علیک یا رسول اللّٰہ و علٰی آلک و اصحابک یا نبیَ الرحمۃ
تمام حمد و ثناء، تعریف و توصیف اﷲ جل مجدہٗ الکریم کی ذات با برکات کے لیے؛ جو خالقِ کائنات بھی ہے اور مالک شش جہات بھی۔ اﷲ جل و اعلیٰ کی حمد و ثناء کے بعد حضور نبی اکرم، شفیعِ اُمم، رسولِ محتشم، نبیِ مکرم، اﷲ کے پیارے، امت کے سہارے، رب کے محبوب، دانائے غیوب، مالکِ رکابِ اُمم، فخرِ عرب و عجم، والیِ کون و مکاں سیاہِ لامکاں، سیدِ اِنس و جاں، سرورِ لالہ رُخاں، نیّرِ تاباں، سر نشینِ مہ وشاں، ماہِ خوباں، شہنشاہِ حسیناں، تتمۂ دوراں، سرخیلِ زُہرہ جمالاں، جلوۂ صبح ازل، نورِ ذاتِ لم یزل، باعثِ تکوینِ عالم، فخرِ آدم و بنی آدم، نیّرِ بطحا، راز دارِ ما اوحیٰ، شاہدِ ماطغیٰ، صاحبِ الم نشرح، معصومِ آمنہ، احمدِ مجتبیٰ، حضرتِ محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور ناز میں اپنی عقیدتوں، ارادتوں اور محبتوں کا خراج پیش کرنے کے بعد!
معزز، محترم،محتشم سامعین، عالی مرتبت علمائے کرام،خواتین و حضرات!
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہٗ!
موسمِ حج ہے، اور گلی گلی سے اہل محبت کے قافلے سوئے حرمین روانہ ہورہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جل شانہٗ نے قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایاکہ لوگوں پر اﷲ کے لیے بیت اﷲ کاحج لازم ہے؛ جب کہ وہ راستے کی استطاعت رکھے۔حج لغت میں قصدکو کہتے ہیں۔اصطلاح شریعت میں مخصوص ارکان کی ادائیگی کے لیے حرمین کے سفر کی جو نیت کی جاتی ہے اور وہاں حاضری کے لیے بندہ پہنچتا ہے اس کو حج کہتے ہیں۔ حضور نبی رحمت، رسولِ محتشم، شفیع معظم صلی اﷲ علیہ و الہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا جب انسان حج کرتا ہے تو اس طرح گناہوں سے پاک ہو جاتاہے جس طرح کہ ابھی ماں کے پیٹ سے اس نے جنم لیا ہو۔حج ماقبل کے تمام گناہوں کا کفارہ ہے۔ اور اگر کوئی استطاعت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتا تو حدیث میں سخت وعیدیں موجود ہیں۔ حضور کے ایک فرمان کے مطابق جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود حج نہیں کرتا فرمایا کہ وہ یہودی مرے یا عیسائی مرے اس سے ہمیں کئی غرض نہیں ہے۔ اور ایک حدیث کے لفظ ہے کہ حج میری امت کے ضعیف لوگوں کا جہاد ہے۔حج کی فضیلت کے عنوان سے کتب احادیث کے اندر بہت کچھ موجود ہے۔صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے۔پانچ سال کے بعد جو حج کی تاکید کتب احادیث میں موجود ہے؛ علما نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے کہ جو غنی ہے صاحبِ استطاعت ہے اس کو چاہیے کہ وہ پانچ سال کے بعد حج کریں لیکن فرض زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہے۔ ایک مرتبہ واجب ہوا اس نے ادا کرلیا تو وجوب اتر گیا۔ لیکن اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ پانچ سال کے بعد کرلیں اگر وہ استطاعت رکھتا ہے۔چوں کہ حج کرنے سے اﷲ تعالیٰ غنا عطا فرماتا ہے۔ جب بندہ حج کرے اﷲ اسے غنی کردیتا ہے۔ اس کے رزق میں بھی برکت عطا فرماتا ہے اس کے دین میں بھی برکت عطا فرماتا ہے۔ایک حدیث کے لفظ ہیں حضور نے ارشاد فرمایا کہ حج کرو غنی ہوجاؤ گے سفر کرو صحت پاؤ گے۔تو حج سے غنا ملتا ہے سفر سے صحت ملتی ہے۔
زندگی میں ایک مرتبہ حج کی فرضیت پر دلیل وہ معروف روایت ہے جو آپ نے متعدد مرتبہ علما سے سماعت کی ہوگی کہ حضور نے ارشاد فرمایا لوگو! حج کے لیے آیا کرو۔ ایک شخص نے عرض کی حضور ہر سال آیا کریں؟آقا کریم خاموش رہے؛ کوئی جواب نہیں دیا ۔ اس نے پھر پوچھا: حضور ہر سال آیا کریں؟ ہر سال حج فرض ہے؟ حضور خاموش رہے؛ جواب مرحمت نہیں کیا۔اس نے تیسری مرتبہ پھر سوال کیا تو آقا کریم نے پھر خاموشی اختیار کی۔ پھر وقفۂ سکوت توڑتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پچھلی اُمتیں کثرت سوالات کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں۔ لو قلت نعم لوجبت اگر میری زبان سے ہاں نکل جاتی تو (حج )واجب ہی ہوجاتا۔
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی نافذ حکومت پہ لاکھوں سلام
کہا اگر میری زبان سے ہاں نکل جاتی تو واجب ہی ہوجاتا۔تو حضور کا اختیار فی الشریعت سمجھ میں آیاکہ حضور جو کہیں وہی دین ہوتا ہے۔قربِ قیامت کے فتنوں میں سے ایک فتنہ حضور نے آج سے صدیوں قبل بیان فرمادیا۔ نسائی شریف کی روایت ہے حضور نے ارشاد فرمایا قرب قیامت میں کچھ لوگ کہیں گے کہ حلال وہی ہے جو اﷲ نے حلال کیا، حرام وہی ہے جو اﷲ نے حرام کیا۔ فرمایا انما اُعطیت القرآن و مثلہ معہ ۔ مجھے قرآن بھی دیا گیا اور قرآن جتنے اور علم بھی میرے سینے میں رکھ دیے ہیں۔ تو جس کو میں حلال قرار دے دوں وہ ایسے ہی ہے جس طرح اﷲ نے حلال قرار دیا ہے اور جس کو میں حرام قرار دے دوں وہ ایسے ہی ہے جس طرح اﷲ نے حرام قرار دیا ہے۔ کیوں کہ مصطفی اپنی مرضی سے نہیں بولتے وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوَیٰ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیُ یُوْحَیٰ۔(سورۃ النجم، آیت۳،۴) جو مالک کی مرضی ہوتی ہے وہی مصطفی کی بولی ہوتی ہے۔اس لیے جو حضور فرمادیں وہ ہی دین ہوتا ہے ۔ …… تو اس نے عرض :کی حضور کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آقا کریم نے فرمایا کہ تم سے پہلی اُمتیں نبیوں پرکثرتِ سوالات کی وجہ سے ہلاک کردی گئیں۔لو قلت نعم لوجبت اگر میری زبان سے ہاں نکل جاتی تو واجب ہی ہوجاتا۔
زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض ہے۔ حضور نے حج کی فضیلت کے بارے میں بہت کچھ ارشاد فرمایا۔اور ایک روایت کے لفظ ہیں کہ ایک حج ایسا ہے جس سے تین آدمیوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ اور وہ حجِ بدل ہے۔ کوئی اپنے والدین کی طرف سے، اپنے کسی عزیز کی طرف سے کسی کو حج کروائے تو ایک جس نے حج کیا اس کی بخشش ہوگئی ۔ایک جس نے حج کروایا اس کی بخشش ہوگئی اور ایک جس کی طرف سے حج کیا گیا اس کی بخشش ہوگئی۔ تو یہ حج ایسا ہے؛ ایک حج سے تین آدمیوں کی مغفرت فرمادی جاتی ہے۔
حج کا پہلا اور بنیادی مقصد:حج کا مقصد کیا ہے؟ حج کیوں کیا جاتا ہے؟ اس پر کچھ باتین میں آج کی اس نشست میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا۔حج کا بنیادی مقصد اور ہر نیک عمل کا بنیادی مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ انسان جو بھی نیک عمل کرتا ہے؛ ہر نیک عمل کا مقصد اﷲ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا کہ تمہاری قربانی کا گوشت اور خون اﷲ کو نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دل کا وہ تقویٰ اﷲ کو پہنچتا ہے جس کے لیے تم نے قربانی کی ہے۔ گوشت خود کھالیتے ہو، خون گلیوں میں بہہ جاتا ہے، خالیں مدارس میں چلی جاتی ہیں، مختلف تنظیمات لے جاتی ہیں۔ تو اﷲ کو کیا پہنچا؟ تو کہا تمہارے دل کا جو تقویٰ ہے، جو خلوص و ﷲیت ہے، اﷲ کی رضا جوئی کا جو جذبہ ہے وہ جذبہ اﷲ کو پہنچتا ہے۔ تو ہر نیک عمل کی بنیاد اﷲ کی رضا ہے۔ اوراگر اﷲ کی رضا کے لیے کوئی عمل نہ کیا گیا تو وہ نیک عمل نہیں ہے اور صرف ریا کاری کو شرک اصغر کہا گیاہے۔ ورنہ انسان جو نیکیاں کرتا ہے اچھے کام کرتا ہے کسی کو شرک نہیں کہا گیا۔ ریا کاری کو شرک اصغر کہا گیاہے۔ جب اﷲ کے علاوہ بندہ کسی اور کے لیے نیک عمل کرتا ہے ؛ وہ نیک عمل نہیں ہوتا اس کو شرک اصغر کہا گیا۔ اور قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ جل شانہٗ ارشاد فرمائے گا کہ جن کے لیے تم نے یہ عمل کیے تھے ان سے اس کا اجر لے لو۔ میرے لیے تو تم نے نہیں کیے تھے۔ جن کے لیے کیے تھے اُن سے اِن کا اجر لو۔ تو کوئی وہاں اجر دینے کی صلاحیت بھلا کیسے رکھتا ہوگا؟ تو جب بھی انسان نیک عمل کریں تو بنیادی فلسفہ یہ ہونا چاہیے کہ مَیں اﷲ کی رضا کے لیے کررہا ہوں۔ اور انما الاعمال بالنیات سے بھی یہی مراد ہے کہ اعمال کا دار و مدار حسن نیت پر ہے، خلوص پر ہے۔تودیگر اعمال کی طرح حج کا بھی پہلا بنیادی مقصد اﷲ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔
حج کا دوسرا مقصد: حج مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہے۔ اسلام نے ایک نظام دیا۔ محلے کی سطح پر مسلمانوں کا اجتماع؛ نماز با جماعت ہے۔علاقے کی سطح پر مسلمانوں کا اجتماع جمعۃ المبارک ہے۔شہر کی سطح پر مسلمانوں کا اجتماع عیدین ہے۔ اور عالمی اجتماع حج ہے۔ یہ ترتیب ہے اسلامی نظم کی اور اسلامی اجتماعیت کی ۔ حج مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہے۔ اور عرفات کی حاضری حج کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن ہے۔ کہ چاہے چند لمحوں کے لیے عرفات میں آپ جائیں تو ہی حج ہوگا اگر عرفات کی حاضری نہ ہو سکی تو حج ادا نہیں ہوگا۔ تو عرفات کے اندر یوم حج کو خطبہ دیا جاتا ہے؛ جس کا سننا مسنون ہے۔
خطبۂ حج میں امام حج یا امیرِ حج کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو درپیش مسائل کی روشنی میں مسلمانوں کے عالمی اجتماع کی رہنمائی کریں۔ حضور نبی رحمت صلی اﷲ علیہ والہ وسلم کا خطبۂ حج ہمارے سامنے ہے۔ اس وقت جو حالت ہے مسلمانوں کی وہ کسی سے مخفی نہیں۔اور حج کے موقع پر چاہیے تو یہ کہ امیر حج پورا سال محنت کریں، اپنی ٹیمیں مختلف علاقوں میں بھیج کر تجزیہ کریں کہ مسلمان اس وقت پوری دنیا سے پیچھے کیوں رہ گئے ہیں اور جو سازشیں کرنے والے اہل اسلام کو ہر وقت ظلم و جبر کی چکی میں پیس رہے ہیں؛ ان سے چھٹکارا کیوں کر ممکن ہے۔ وہ پوری دنیا کے آئے ہوئے نمائندوں کو پورے سال کا لائحۂ عمل دیں کہ تم نے اپنے اپنے علاقوں میں جاکے یہ کرنا ہے اور اس پیغام کو آگے لوگوں تک پہنچانا ہے۔ پھر پورا سال اس کی نگرانی ہوتی رہے اور سال کے بعد تجزیہ کیا جائے کہ کمی بیشی کیا ہے کتنے فوائد ہوئے اور کہاں تک ہم نے اپنا ہدف حاصل کیا اور ترمیم و تنسیخ کے ساتھ نیا منصوبہ، نیا لائحۂ عمل لوگوں کے سامنے رکھا جائے اور دنیا کے کونے کونے سے آئے لوگ حرم کے اس تحفے کو اپنے ساتھ لے جائیں اور پوری دنیا میں پھیلادیں۔جب سے برٹش گورنمنٹ کی نوآبادیاتی وزارت کے جاسوسوں نے سلطنت عثمانیہ کو توڑا اور اسلام کی اجتماعیت پر چرخہ لگایا تو اسلام کا یہ نظا م کافی حد تک کمزور پڑ گیا۔ ڈاکٹر اقبال پھوٹ پھوٹ کے روئے تھے کہ ؂
دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخ
بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ
یہ ایک الگ دکھڑا ہے الگ کہانی ہے؛ کہ مسٹر ہمفرے کس طرح یہاں داخل ہوا؛ کس طرح سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کے لیے کن کن لوگوں کو خریدا۔ کیا کیا ہوا اور پیچھے کون کون سے جبہ و دستار والے لوگ تھے۔ اور پھر خلافت کی رہی سہی جو ساکھ موجود تھی وہ ساکھ ہی ختم کردی گئی۔ ورنہ یہ حال اس وقت جو امت کا ہورہا ہے اگر سلطنت عثمانیہ موجود ہوتی توکم از کم یہ حالت اس وقت امت کی نہ ہوتی۔تو یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ایسا کیا گیا اور اس وقت ہم پوری دنیا میں ۵۶؍ ملکوں میں اور مختلف گروہوں ، زبانوں، نسلوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہماری طاقت یک جا نہیں ہوپارہی اور اتنی کثرت کے باوجود ہمیں ویٹوکا حق بھی حاصل نہیں۔اور دنیا میں جس قعرِ مذلت میں ہم گرے ہیں؛ العیاذ باﷲ !
اسی کشتی کو ہے خوفِ تلاطم؛ صد حیف!
منہ موڑ دیے تھے جس نے بڑھتے ہوئے طوفانوں کے
ہم تو ۳۱۳ ہوکے جبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے اور آج ایک ارب سے متجاوزہیں لیکن ہماری جو حالت ہے وہ کسی سے بھی مخفی نہیں کابل میں، قندھار میں، تکریت میں، موصل میں، بغداد میں، آزر بائیجان میں،القدس میں، کشمیر میں،بوسینیا میں،جہاں بھی دیکھیں مسلمانوں کا ہی خون بکھرا ہوا ہے اور گوانٹا ناموبے کی جیلوں کے اندر اس سردی میں ان مظلوموں کیساتھ جو ظلم ہورہا ہے وہ ناقابلِ بیان ہے؛ کلیجہ پھٹتا ہے، دل زخمی ہوتا ہے ۔
حج کا اجتماع مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہے اور اس اجتماع کے موقع پر پوری دنیا کے مسلمانوں کو وہ چیز دینی چاہیے تھی جس سے وہ دوبارہ عروج کی طرف سفر کرنا شروع کردیں۔ اقبال علیہ الرحمۃ نے ایک بڑی خوبصورت بات کہی تھی ؂
اقبال کوئی پوچھے یہ زائرین حرم سے
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ اور نہیں
جو بھی جاتا ہے آب زم زم لاکے ہمیں پلاتا ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہاں سے جو نور لے کے آئے ہو، جو پیغام لے کر آئے ہو وہ پیغام بھی تو ہمیں دونا! کھجوریں اور آب زم زم ہمیں پلادیتے ہو؛ حرم کا اور بھی تحفہ ہے جو لینے کے لیے تم وہاں گئے تھے۔تو یہ ایک بنیادی مقصد ہے کہ مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہے اور عالمی لیول کے جومسلمانوں کے مسائل ہیں؛ مَیں یہاں گفتگو کروں یا مَیں عملی طور پر کوشش کروں اس سے کچھ بہتری تو آسکتی ہے لیکن عالمی مسائل کا حل وہا ں سے ہیں اور اگر عرب اس کے لیے اپنے آپ کو تیارکریں اور جرأت و پا مردی کا مظاہرہ کریں اور دن رات ایک کردیں اور منصوبہ بندی کریں اور حج کے موقع پر اس پیغام کو لوگوں تک پہچائیں تو مسلم امہ پھر متحد ہوسکتی ہے اور وہ خواب جو اسلام کی نشأۃ الثانیہ کا خواب ہے وہ شرمندۂ تعبیر ہوسکتا ہے۔یہ حج کا دوسرا بنیادی مقصد تھا کی مسلمانوں کو عالمی اجتماع دیا گیا ہے۔
اجتماع کرنے کے لیے کئی کچھ کیا جاتا ہے لیکن اس اجتماع کے لیے اﷲ نے لوگوں کے دلوں میں کشش پیدا فرمادی۔ جب کوہِ ابو قبیس پہ چڑھ کے جناب ابراہیم کو آواز دینے کے لیے کہا گیا تو عرض کی مالک میری نحیف و نزار آواز کہاں تک پہنچے گی؟ کہا اے ابراہیم علیک السلام! آواز دینا تیرا کام اس کو لوگوں تک پہنچادینا یہ ہمارا کام ہے۔ اور پھرماں کے شکم میں اور باپ کی صلب کے اندر تک اس آواز کو پہچا دیا گیا اور جس نے اس آواز کو سنا آج لبیک لبیک کہتا ہوا شوق و مستی میں دوڑتا ہوا حرم کی طرف دوڑتا چلا جارہا ہے۔تو یہ مسلمانوں کا عالمی اجتماع ہے اس کے جو فوائد تھے؛ کاش کہ وہ حاصل کیے جاتے!
حج کا تیسرا مقصد:مساوات کا عملی اظہار۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک تعلیم مساوات ہے۔ کہ سب لوگ برابر ہیں۔ رنگ و نسل کی بنیاد پر، دولت افراد کی کثرت کی بنیاد پرکسی کو کسی پر فضیلت نہیں دی جاسکتی۔ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُم۔(سورۃ الحجرات، آیت۱۳) جو زیادہ تقوے کا نور اپنے سینے میں رکھتا ہے وہ زیادہ عزت والا ہے۔یہ اسلام کا وہ بنیادی درس اور سبق ہے کہ جس سے شکستہ دل لوگ ، درماندہ لوگ ، غریب طبقہ ، غلام لوگ کا اسلام کی طرف میلان ہوا اور وہ کھنچے چلے آئے۔ ان کو ان کے حقوق اسلام نے دیے۔ آج حقوق نسواں کے حوالے سے بات چل رہی ہے۔مَیں نے پچھلے دنوں ہمدرد ہال میں ایک فورم پہ کہا تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے دانشور اور دنیا کے بڑے بڑے مذاہب اور مغرب جو آج عورتوں کو حقوق دینے کی بات کرتا ہے اگر ہم تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کے دیکھتے ہیں؛ تو یہ تو عورت کو انسان ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔افلاطون کا فلسفہ پڑھیں وہ کہتا ہے یہ (عورت)از قبیلِ جنس انسان ہی نہیں ۔ عورت انسان کی ضرورت، خدمت اور کفالت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ہم شکل بھی انسان کی ہے؛ انسان نہیں ہے۔اور کسی نے کہا یہ بدی کا سرچشمہ ہے۔ کسی نے اس کو اﷲ کے قرب کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ گردانی ہے۔ اور کسی مذہب نے اس کے قتل کو جائز قرار دیا۔ یونانیوں کا فلسفہ پڑھ لیں۔ عیسائی دنیا آج جو دعوے کرتی ہے عورتوں کو حقوق دینے کی؛ نوے ہزار عورتوں کو عیسائی دنیا نے زندہ جلایا ہے۔ان کی تاریخ بڑی شرم ناک ہے۔ تو کس نے حقوق دیے عورت کو؟ کون عورت کے حقوق کا محافظ ہے۔ دنیا والے تو عورت کے وجود کو برداشت نہیں کرتے تھے۔ یہ برصغیر پاک و ہند ؛ ابنِ بطوطہ جب یہاں آیا تو کس بات سے بے ہوش ہوا تھا؟ اس نے ایک منظر دیکھا کہ ایک شخص فوت ہوگیا اس کی بیوی کو مارا گیا کہ تیرا خاوند، جیون ساتھی، پَتی مر گیا ہے، اب تو نے جی کے کیا لینا ہے، تیری وفا کا تقاضا یہ ہے کہ تو بھی اس جلتے ہوئے شعلوں میں چھلانگ لگادے؛ اگر تو اپنے خاوند کی وفا دار ہے تو۔اس کو بھڑکاکر اس آگ کے اندر چھلانگ لگانے کے لیے تیار کیا گیا اور جب اس نے جوش میں آکے چھلانگ لگائی اس کی چینخیں جب فضاؤں میں بلند ہوئیں تو معروف سیاح ابنِ بطوطہ بے ہوش ہوگیا اپنے گھوڑے سے گر پڑنے لگا؛ لوگوں نے بڑھ کے اسے تھاما۔رسمِ ستی کے نام سے برصغیر کے اندر عورتوں کو خاوندوں کی لاش کے ساتھ زندہ جلایا جاتا تھا۔ اور عربوں کی تاریخ آپ جانتے ہیں کہ وہ تو بیٹی کے وجود کو برداشت نہیں کرتے تھے؛ حق دینا تو بعد کی بات ہے۔وہ تو وجود کو گوارا نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی کے یہاں بیٹی جنم لے لیتی (تو ان کے نزدیک)اس کا منہ کالاہوجاتا۔ آبرو بچانے کا ایک ہی طریقہ تھاکہ وہ بیٹی کو زندہ در گور کردے۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو معاشرے میں معزز سمجھا نہیں جاتا۔اپنی بیٹی کے لیے آج مَیں اور آپ محبت بھرے جملے بولتے ہیں۔بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے بوڑھا باپ اپنی جھکی ہوئی کمر پر بوریاں لاد لاد کے مزدوریاں کرتا ہے۔اور فیکٹری کے اندر بھائی over timeاُوَر ٹائم لگا رہا ہے کہ مَیں نے اپنی بہن کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں۔ یہ بھائی تو قتل کرتا تھا اپنی بہن کو کہ کل کوئی میرا بہنوئی نہ ہو۔ یہ باپ تو زندہ درگور کرتا تھا کہ مَیں کسی بیٹی کا باپ نہ کہلاؤں۔ تو باپ کے دل میں بیٹی کے لیے یہ محبت ، بھائی کے دل میں بہن کے لیے یہ پیار کہ وہ اس کے لیے کتنی محنت کرتے ہیں؛ اورجب بیٹی گھر سے رخصت ہوتی ہے تو باپ بھی پھوٹ پھوٹ کے روتا ہے اور بھائیوں کے انسوں بھی خشک نہیں ہوتے۔
یہ تو قاتل تھے بیٹیوں کے۔بیٹیوں اور بہنوں کے لیے ان کے دل میں یہ گداز ، نرمی اور محبت کس نے ڈالی ہے ؟آمنہ کے لال کا یہ عطیہ ہے۔عورتیں اگر ساری زندگی بھی سجدۂ شکر ادا کرتی رہیں تو وہ حقِ شکر ادا نہیں کرسکتیں۔ان کے وجود تک کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا؛ یہ ان کے وجود کو عزت بخشی ہے تو محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم نے بخشی۔آج عورتیں شور مچارہی ہیں کہ ہمارے حقوق کا تحفظ کیا۔ اور اگر اس کی آبرو بالجبر بھی لٹتی ہے تو اس کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوتا ۔ پہلے اسے سیشن جج کے پاس اسے جانا ہوگا، استغاثہ پیش کرنا ہوگا، پیچیدگیاں ہیں، قانونی معاملات ہیں۔آنکھیں اس وقت کھلیں جب ان کے ساتھ عملی سلوک ہوا۔تو آج یہ بھنگڑے اور یہ خوشیاں کہ ہمیں تحفظ دے دیا گیا یہ عورتوں کے تحفظ کا بِل نہیں ہے ؛ عورتوں کی تذلیل کا بِل ہے۔عورتوں کو تحفظ اسلام نے دیا ہے ۔ جس ماں کو ترکے میں بانٹتے تھے اس ماں کے قدموں میں جنت ڈال دی۔ کہا تیری جنت اس ماں کے قدموں تلے ہے۔ اور یہ شرط نہیں لگائی کہ ماں قاریۂ قرآن ہے یا حافظۂ قرآن ہے یا اپنے وقت کی رابعہ بصریہ ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے۔ اُپلیں تھاپتی ماں کے قدموں تلے بھی بیٹے کی جنت بتائی گئی۔بہنوں کو عزت کی مسند پہ بٹھا دیا گیا۔ بیٹی کو باپ کے لیے دل کی دھڑکن بنادیا گیا،آنکھوں کا نور اور چین بنادیا گیا، گھر کی زینت بنادی گئی۔ اور بیوی جس کو پاؤں کا جوتا خیال کیا جاتا تھا اس کو محبوبہ بنا کے خاوند کے لیے محبتوں کے گوشے اس کے سینے کے اندر رکھے گئے۔اور حضور نبی رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ سلوک کی جو داستانیں رقم کیں؛ لوگوں کے لیے عملی نمونہ چھوڑا ۔ کسی کو حمیرہ کہہ کے پکارا، کسی کی فوتگی (وفات) کے بعد جانور ذبح کرکے ان کی سہیلیوں کے گھر گوشت بھیج رہے ہیں تاکہ ان کی روح کو آسودگی ہو۔حضرت فاطمۃ الزہرہ فرماتی ہیں کہ جب میری والدہ کا وقت آخر آیا تو حضور کی خدمت میں میری ماں نے بھیجا کہ جاؤ حضور سے کہو کہ مجھے اپنی چادر رحمت دے دیں ۔ مَیں حاضر ہوئی اور عرض کی تو حضور نے فرمایا کہ بیٹا اپنی ماں سے پوچھو کہ چادر کیا کرنی ہے؟میں پوچھنے آئی تو حضور بھی پیچھے آگئے۔تو حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے عرض کی کہ حضور مَیں نے اس لیے چادر مانگی ہے کہ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ میرا وقت آخر آگیا ہے ۔ میری آرزو یہ ہے کہ اس چادر میں مجھے کفن دیا جائے……اب سنیے حضور کے لفظ……عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے اس بلندی پہ سوچ بھی نہیں سکتے۔جب حضور کی زوجۂ محترمہ نے چادر مانگی تو آقا کریم کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے اور فرمایا: اے خدیجہ! تُو نے تو چادر مانگی ہے؛ لو اردت جلدی لاعطیتک۔ اگر تُو میری جلد بھی مانگ لیتی مَیں وہ بھی پیش کردیتا۔…… یہ اسلام کے دیے ہوئے حق ہیں۔اﷲ اکبر!
اسلام نے کمزوروں تک کو ان کے حق دیے ہیں۔ یہ ایک الگ مضمون ہے کہ غلاموں کو ان کے حق دیے، غریبوں کو ان کے حق دیے، یتیموں کو ان کے حق دیے؛ یہ ایک الگ مضمون ہے۔یہ کرنٹ issueہے اس وقت اس لیے مَیں نے آپ کے سامنے یہ بات رکھی۔ اسلام نے کم زوروں کو غریبوں کو بنیادی حق دیا کہ سب انسان برابر ہے؛ تقویٰ کی بنیاد پر فضیلت ہے۔ جب فاران کی چوٹیوں سے نور اسلام چمکا اور گھر گھر اس کے اجالے ہوئے تو عرب کا سب سے کالے رنگ کا شخص؛ جس کا نام تھا ’اسود‘ وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کوئی شخص اس کو رنگت کی سیاہی کی وجہ سے قریب بھی بٹھانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے آکے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور اگر مَیں اسلام لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ تو حضور نے فرمایا کہ جو ابوبکر و عمر کو ملا ہے وہی تمہیں ملے گا۔ جو حقوق و فرائض ان کے ہیں وہی حقوق و فرائض تیرے ہوں گے۔ جس صف میں وہ کھڑے ہوتے ہیں اسی صف میں تُو کھڑا ہوگا۔ اور اگر تو پہلے آجائے اور وہ بعد میں آئیں تو تُو اگلی صف میں کھڑا ہوگا اور وہ پچھلی صف میں کھڑے ہوں گے۔ اس نے کہا کہ اگر اسلام یہ ہے تو مَیں پھر دل و جاں سے اس دین کو قبول کرتا ہوں۔ حضرت اقبال مساوات کی بات کے تعلق سے اسرار و رموز کے اندر لکھتے ہیں ع
اسود از توحید احمر می شود
کہ اسود توحید کے فیضان سے احمر ہوجاتا ہے۔ گوری رنگت والوں کے کندھوں سے کندھا جوڑ کے وہ کھڑا ہوتا ہے؛ یہ اسلام کا دیا ہوا درسِ مساوات ہے کہ سب کو ایک صف میں کھڑا کردیا گیا ہے۔یہ اسلام کا درس ہے۔ حضرت بلال حبشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوذر غفاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ؛ کسی معاملے میں شکہ رنجی ہوگئی تو غصہ میں آکر جناب ابوذر غفاری نے کہا کہ تُو کالی ماں کا بیٹا ہے۔بس دل ٹوٹ گیا۔ حضور کی خدمت میں آئے؛ حضور نے حالت دیکھی کہا کیا ماجرہ ہے ؟ عرض کی حضور مجھے آج طعنہ ملا ہے کہ تو کالی ماں کا بیٹا ہے۔ تو آقا کریم غصہ میں آگئے۔ فرمایا جاؤ جاکے ابوذر کو میرا پیغام دو کہ جن عورتوں کا دودھ مَیں نے پیا ہے ان میں سے ام ایمن ایک ایسی خاتون تھی جس کا رنگ گور نہیں تھا ۔ اور جاکے ابوذر سے کہو کہ جو طعنہ تُونے مجھے دیا ہے وہ اپنے نبی کو بھی آکے دے۔اور جب جنابِ بلال حبشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کے پاس گئے اور یہ بات کہی تو وہ زار و قطار رونے لگے اور اپنا جوتا اتار کر حضرت بلال حبشی کے ہاتھ میں دیا؛ کہا یہ میرے منہ پہ َملو جس سے مَیں نے یہ بات کہی ہے۔ تو دیکھیے! یہ اسلام کا درسِ مساوات ہے کہ اسلام نے سب کو ایک صف میں کھڑا کیا اور معیار’’ تقویٰ ‘‘رکھا۔ تقویٰ کے معیار پر سب انسان ایک دوسرے سے فضیلت لے سکتے ہیں ورنہ ایک دوسرے کے برابر ہیں۔
اسلام کے اس درس مساوات کا عملی اظہار حج کے موقع پر ہوتا ہے۔ غریب امیر، بادشاہ اور گدا ،کالا اور گورا، عجمی اور عربی سب ایک ہی لباس میں ہوتے ہیں، ایک ہی رکن ادا کررہے ہوتے ہیں اور ایک ہی تلبیہ سب کی زبان پہ ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص حج کے اس اجتماع میں جہاں درس مساوات دیا گیا۔ وہاں سے آکر دوبارہ اونچ نیچ اور تفریق میں مبتلا ہوں تو سمجھو کہ اس نے حج کا نور حاصل نہیں کیا۔ اگروہ یہاں پلٹ کے آکے بھی اس تقسیم کو جس کی مخالفت حضور نے کی اور خطبۂ حجۃالوداع کے موقع پہ حضور نے فرمایا ہے کہ یہ جو کالے گورے اور عجمی عربی کی تقسیم ہے مَیں ان کو پاؤں تلے روندتا ہوں اور تفاخر کو ختم کرتا ہوں اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقَاکُم۔ اب یہی درس ہمیں اپنی پوری عملی زندگی کے اندر یاد رکھنا چاہیے۔ مسجد میں بھی، گھر میں بھی، معاشرے میں بھی؛ ہر جگہ اس عمل کو یاد رکھنا چاہیے۔ہم اگر جلسہ کروائیں، ہم اگر محافل منعقد کریں، ہم اگر عالم دین ہیں، ہم اگر شیخ طریقت ہیں؛ تو ہمیں اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے۔ کسی دور میں معز وہ خیال کیا جاتا تھاجس کی اولاد زیادہوتی تھی۔ تاریخِ عرب پڑھیں ۔ اور اس وجہ سے سو سو شادیاں کیا کرتے تھے۔ اسلام نے چار شادیوں کی حد بندی کردی کیوں کہ آپ اس سے آگے حق نہیں ادا کرسکتے۔ اور پھر دور بدلتا گیا یہ جو موجودہ دور ہے اس دورمیں عزت کا معیار کثرت دولت سمجھ لیا گیا ہے۔ ہمارے اشتہار دیکھ لیں معززین شہر کی فہرست پڑھیں؛ تہجد گزار نہیں ملیں گے۔ اس کی فہرست پڑھیں تو تقوے کے جو اعلیٰ معیار پر ہیں لیکن ہیں غریب؛ وہ نہیں ملیں گے۔ دولت مند لوگ معززین شہر کہلاتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنی محافل کے اندر بھی ان کو ہی ترجیحی بنیادوں پر آگے بٹھاتے ہیں کہ اس کے پاس دولت زیادہ ہے۔ یہ اسلام کا جو عملی درس ہے مساوات کا اس کا قتلِ عام اسٹیجوں پہ ہوتا ہے۔ پیر صاحب کے قریب بھی وہی ہوتا ہے جس کے پاس دولت زیادہ ہو۔ اور جو غریب ہوتا ہے اس کو کہا جاتا ہے پیچھے بیٹھ جا اور سوا لاکھ مرتبہ یا حی یا قیوم پڑھ۔ اس کو وظیفے پہ لگا دیا جاتا ہے اور امیر اسٹیج کی زینت ہوتا ہے۔ رسول کریم کا نام سن کے جس کی آنکھوں سے آنسو چھلکتے ہیں اور حضور کی محبت میں جو تڑپتا ہے، سحری کے وقت اٹھ کے تہجد پڑھتا ہے اور پھر اشراق پڑھ کے مزدوری پہ چلا جاتا ہے ، رزقِ حلال کماتا ہے ، نمازوں کی کوتاہی نہیں کرتا، اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے ، نظر کی حفاظت کرتا ہے؛ وہ تو جوتیوں پہ بیٹھے اور جو اسمبلیوں کے اندر اسلامی حدوں کا مذاق اڑائے اور جس کے بارے میں روز ہم نماز میں کہتے ہیں کہ وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ ۔ اے اﷲ! جو تیرے حکموں کو توڑے گا ہم اس سے قطع تعلق کریں گے۔ اس کو ہم اسٹیجوں کی زینت بنائیں!کہ یہ ایم پی اے صاحب ہیں، یہ ایم ایل اے صاحب ہیں، یہ دولت مند ہے اس کے پاس دولت کے انبار موجود ہیں۔ مَیں دولت سے نفی نہیں کررہا؛ دولتِ عثمان ہو دولتِ قارون نہ ہو۔ لیکن معیار جب دولت ہوگا توپھر غریبوں کا استحصال ہوگا اور اسلام نے اس استحصالی نظام کے خلاف بھی تو جنگ کا اعلان کیا ہے۔
تو یہ مساوات کا درس ؛ حج کا درس ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سے ذہن میں رکھا جائے اور اپنی عملی زندگی کے اندر ترجیح اس کو دی جائے؛ جو تقوے والا ہے۔ کبھی ایسا بھی تو ہو کہ ڈھونڈیں ہمارے محلے میں سب سے زیادہ متقی کون ہیں؟ آج مہمان خصوصی محفلِ نعت میں وہ ہوگا۔ بوڑھا ہے، کپڑے پھٹے ہیں، پیوند لگے ہوئے ہیں، جوتا ٹوٹا ہوا ہے لیکن تہجد بھی پڑھتا ہے، اشراق بھی پڑھتا ہے، چاشت بھی پڑھتا ہے ۔ گم نام ہے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ حضور کا نام سن کر آنکھیں چھلکتی ہیں، ذرا وہ محفلِ نعت میں صدارت کی کرسی پہ بیٹھا ہو لطف نہ آجائے !……لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اور مَیں بات کہہ دیتا ہوں ؂
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بے گانے بھی نہ خوش
مَیں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
بات وہی کہتا ہوں سمجھتا ہوں جسے حق
مَیں ابلۂ مسجد ہوں تہذیب کا فرزند
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آج جو محفلِ نعت میں مہمانِ خصوصی ہے؛ کل وہ شراب خانے میں تھااور ہم اس کے لیے کیا کیا زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں۔ خدارا یہ ظلم اﷲ کے گھر میں نہ کریں ۔محافلِ نعت میں یہ ظلم نہ کریں۔ آستانوں پہ یہ ظلم نہ کریں ۔ تقوے کو بنیاد بنا ئیں اور تقوے کو معیار ٹھہرائیں تو جب تقوے کو معیار بنائیں گے تو دیکھنا کس طرح تقوے میں دوڑ لگتی ہے۔ جب دین میں بھی عزت دولت سے ہے اور دنیا میں بھی عزت دولت سے ہے تو پھر کس کا جی چاہے گا کہ روکھی سوکھی کھائے، حلال کی کمائے اور حرام کے قریب نہ جائے۔ جب پیر بھی عزت دولت کو دیتا ہے، مولوی بھی عزت دولت کو دیتا ہے، شیخ بھی دولت کو عزت دیتا ہے، معاشرہ بھی دولت کو عزت دیتا ہے؛ تو جہاں عزت ہو انسان وہاں لپکتا ہے؛ یہ انسان کی فطرت ہے۔ کبھی آپ نے دیکھا ہوگا جب بارش ہو اور پاؤں پھسل جائے تو بندہ گِر پڑتا ہے تو یہ بعد میں دیکھتا ہے کہ مجھے چوٹ لگی ہے یا نہیں لگی؛ پہلے دیکھتا ہے کہ مجھے کسی نے دیکھا تو نہیں۔یہ فطرت ہے انسان کی اسے اپنی عزت اپنی جان سے زیادہ عزیزہے۔
تو جہاں عزت ملتی ہے وہاں وہ بڑھتا ہے ۔ تو اگر اس کو یہ سبق دیا جائے کہ جس کے پاس دولت ہے اس کے پاس عزت ہے تو دولت کی دوڑ لگے کی۔ اور اگر معاشرے میں علما، مشائخ، ذمہ دار لوگ یہ شعور دیں گے کہ جس کے پاس تقوے کا نورزیادہ ہے وہ معزز ہے تو دیکھنا مسجدوں کی رونقیں بڑھتی ہیں یا نہیں…… تو یہ حج کے موقع پراسلام کاعملی درسِ مساوات ہے۔
یہ گفتگو اور مضمون تفصیل طلب ہے۔ اس حوالے سے بہت سے دکھڑے ہیں میرے سینے کے اندر۔ اور ہمارے معاشرے کے اندر جو کچھ ہے ؛ آپ اس سے باخبر ہیں اور مَیں بھی اس نے باخبر ہوں۔ ان شاء اﷲ زندگی رہی تو کبھی اس پر گفتگو کریں گے۔ لیکن اگر آج اس پر بات کی تو پھر کافی وقت گزر جائے گا۔ معاشرے کے وہ محروم طبقے اور عدم مساوات کا جو انداز ہمیں نظر آتا ہے ؛ اس سے معاشرے میں جرائم پھیل رہے ہیں، اس سے معاشرے کے اندر ظلم و جبر پھیل رہا ہے اور اس سے معاشرے کے اندر بے سکونی ہے اور طمانیت کا نور کسی کے پاس نہیں ہے۔ مَیں نے جمعۃ الوداع کے موقع پر کہا تھا کہ ایک طرف تو حال یہ ہوتا ہے کہ امیر کا بگڑا ہوا بیٹا گولڈن سیب کا ایک کونہ کاٹ کے دوسرا کتے کے آگے ڈال رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف عید کے دن بھی بیوہ کا یتیم بچہ ٹھیلہ لگا کے آلو چھولے بیچ رہا ہوتا ہے۔ تو جس معاشرے میں یہ تقسیم ہو اس معاشرے میں روشنی کیسے آسکتی ہے؟ اس معاشرے میں نور کیسے آسکتا ہے؟ میرے آقا تو یتیم کو سینے سے لگاتے ہیں،اس کو نیا لباس بھی دیتے ہیں، عزت بھی دیتے ہیں، اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں: بیٹا! کیا تُو پسند نہیں کرتا کہ محمد تیرا باپ لگے اور عائشہ تیری ماں لگے اور فاطمہ تیری باجی لگے؟پھر جب وہ حضور کی انگلی تھام کے چلتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ’’ تھا تو یتیم لیکن مزہ آگیا؛ مصطفی کی انگلی تھامے جارہا ہوں۔‘‘
تو اگر ہم پسے ہوئے طبقوں کو عزت دیں گے اور انسانی وقار کو ملحوظ رکھیں گے اور اسلام کا جو مساوات کا درس ہے اس درس کو ہر صورت میں ملحوظ رکھیں گے تو معاشرے میں طمانیت ملے گی۔ غریب کو بھی سکون ملے گا اور امیر کو بھی سکون ملے گا۔ اور وہ لوگ قابل داد ہیں؛ جو دولت کی کثرت کے باوجود تکبر کی اس خصلت سے اور نمایاں ہونے کی اس آرزو سے مبرا ہیں۔ ایسے لوگوں کی کمی بھی معاشرے کے میں نہیں ہے۔ جگہ جگہ ہمارا بھی جانا ہوتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ دولت کی کثرت کے باوجود ان کے اندر عجز، خاکساری اور انسانی ہم دردی کے جو جذبے ہیں وہ قابلِ داد ہیں اور مَیں ان کو جتنی بھی داد دوں وہ کم ہیں۔اﷲ تعالیٰ ان کی عزتوں میں مزید فراوانی عطا فرمائے۔ گلی گلی کوچے کوچے ایسے اچھے لوگ بھی بکھرے ہوئے ہیں……حج کا یہ تیسرا مقصد تھا ’’مساوات‘‘۔
حج کا چوتھا مقصد :ہمیں ہمارے ماضی سے جوڑنا ہے۔ ہمارا جو ماضی ہے، ہماری جو تاریخ ہے اس ہمیں جوڑنا یہ حج کا چوتھا مقصد ہے۔ آپ دیکھ لیجیے،ملاحظہ کرلیں پورے حج کو ۔ ہم ملتِ خلیل سے ہیں اور ہمیں ماضی سے جوڑا گیا ہے۔ طوافِ کعبہ ہے پہلے چکر رمل کے لگائے جاتے ہیں۔ ’’رمل‘‘ کیا ؟ کہ جس طرح پہلوان اکھاڑے میں چلتا ہے، تھوڑا سا ٹہل ٹہل کے، کندھے جھکا جھکا کے ؛اس طرح طواف کرنا ۔ پہلے چکر رمل کے لگاؤ۔ اﷲ کا گھر اور اکڑ کے چلیں؟ لیکن تاریخ دیکھو تو یوں ماجرہ سامنے آیا کہ فتح مکہ کے دن کافر چھتوں پر تھے؛ ہجرتِ مدینہ کے بعدمسلمان شب و روز جنگوں کی محنت، دین کے لیے تگ و تاب، جد و جہد میں مصروفیت کی وجہ سے سخت کم زور تھے۔ کافروں نے کہا: دیکھو مکہ میں تھے تو آسودہ تھے یہاں سے چلے گئے تو دیکھو کیا حال ہوگیا ہے۔آقا کریم نے فرمایاکہ تم ذرا ٹہل کے چلو تاکہ انہیں پتا چلے ہم کمزور نہیں تگڑے ہیں۔ ان کو دکھلانے کے لیے اس انداز کے ساتھ پہلے چکر رمل کے لگوائے اﷲ کے گھر کے سامنے۔ اب کفار چھتوں پر موجود نہیں ہوتے۔ علت ختم ہوگئی۔ جب علت ختم ہوئی تو معلول بھی ختم ہونا چاہیے تھا۔ لیکن علت ختم ہوئی معلول ختم نہیں ہوا۔چکر اسی طرح لگائے جاتے ہیں ۔ گو کافر نہیں دیکھ رہے؛ یار کی سبت کو تو ادا کرنا ہے۔تو یہ ماضی سے ہمیں جوڑا جارہا ہے۔ ہمارا ذہن پلٹ کے ادھر چلا جاتا ہے اور فتح مکہ کا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے اور اسلام کی شان و شوکت سمجھ میں آتی ہے۔ اب طواف کرلیں تو حجرِ اسود کو چومنا ہے۔ حجر اسود ایک پتھر ہے سیاہ رنگت کا۔ اور اس کو بڑھ بڑھ کر چوماجاتا ہے۔ انسان اپنی اکلوتی اولاد کے لیے اتنی کشش نہیں پاتا اپنے دل میں جتنی اس پتھر کے لیے پاتا ہے۔ تو کیا کشش ہے اس پتھر میں؟…… حضرت عمر فاروق طواف کرتے کرتے رک گئے اور کہا اے حجرِ اسود! مَیں تجھے کبھی نہ چومتا اگر میرے رسول نے نہ چوما ہوتا۔ اب حجر اسودکے بعد آئیں؛ مقام ابراہیم پہ آکے دو نفل پڑھیں۔اﷲ تعالیٰ نے کہا کہ اس کو مصلیٰ بنالو۔ کیوں کہ اس پتھر پہ میرے خلیل علیہ السلام کے قدم لگے ہیں۔ میرے گھر کا طواف کرلیا لیکن محبت کی ریت سمجھتے ہو اتنی دیر تک طواف نہیں مانوں گا جتنی دیر تک تمہاری پیشانی وہاں نہ آئے جہاں میرے یار کے قدم آئے ہیں۔ کہا اس کو مصلیٰ بنالو؛ قریب نماز پڑھو، سیدھ میں نماز پڑھ لو، اس کے آس پاس جہاں تمہیں جگہ ملتی ہے نماز پڑھ لو۔یہاں نماز پڑھو گے اﷲ تمہاری نماز قبول کرے گا اور حج بھی قبول کرلے گا۔
ذرا غور کیجیے! اسلام نے تو پتھروں سے دور نہیں ہٹایا؟ پتھروں سے ہٹایا ہے پتھر توڑے گئے ہیں لیکن حجرِ اسود بھی پتھر، مقام ابراہیم بھی پتھر ان پتھروں کے قریب کیا جارہا ہے۔پتھروں سے دور کیا؛ اِن پتھروں کے قریب کیا جارہا ہے کہا؛ یہ وہ پتھرہیں جن پر کسی کے قدم لگے ہیں کسی کے لب لگے ہیں۔ اس لیے ان پتھروں کے قریب کیا جارہا ہے۔
اب آگے آئیے؛ چاہِ زم زم پہ۔چشمہ پھوٹ رہا ہے۔پانی کھڑے ہوکے پیئیں۔ جو دعا مانگیں پوری ہوگی۔ جس نیت سے پیئیں پوری ہوگی۔ دنیا کے اوپر جتنے بھی چشمے جاری ہیں؛ وہ کشمیر میں ہوں یا دنیاکے کسی اور خطے میں؛ ان چشموں کو بھی جاری کرنے والا کون ہے؟اور چاہِ زم زم کو جاری کرنے والا کون؟ سب چشموں کا خالق اور جاری کرنے والا اﷲ۔ تو اس چشمہ کو بھی جاری کیا، باقی دنیا کے چشموں کو بھی اﷲ ہی نے جاری کیا؛ لیکن اس چشمے کا پانی کھڑے ہوکر پیئیں یہ اس کا پروٹوکول ہے اعزاز ہے۔ باقی چشمے بھی اﷲ کے جاری کردہ ہیں؛ اس(زم زم) میں کیا خصوصیت ہے؟اس لیے کہ اس چشمے نے اﷲ کے نبی کے قدموں کے بوسے لیے ہیں۔ حضرت خلیل کے فرزند ارجمند حضرت اسماعیل کے قدموں کے بوسے لیے ہیں۔ اور جس نیت سے پیٔو علما کہتے ہیں اس نیت کو اﷲ پورا فرمادیتا ہے۔
صحن حرم میں بڑا ہجوم تھا۔ ایک بہت بڑے محدث آئے ہوئے تھے۔ لوگ ان کی زیارت کے لیے بڑھتے تھے، رش بڑا تھا، جو شخص مصافحہ کرتا دھکا لگتا آگے چلا جاتا ۔ پھر دوسرا آدمی آجاتا ایک آدمی نے دیکھا؛ اس کا جی چاہا کہ مَیں ان بزرگ کے پاس چند لمحوں کے لیے بیٹھوں۔ چوں کہ اﷲ والوں کی صحبت بہت بڑی دولت ہے؛ اگر مل جائے تو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ تو وہ چاہِ زم زم پہ آئے، آبِ زم زم پِیا اور پھر ان بزرگوں کے پاس جاکر کہنے لگے کہ ایک مسئلہ پوچھنے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا پوچھوں۔ کہا: سُنا ہے آبِ زم زم جس نیت سے پِیٔو وہ نیت پوری ہوجاتی ہے۔ تو کیا یہ ٹھیک ہے؟وہ محدث؛ جن کے پاس ایک لمحہ بھی نہیں تھا لوگ لائن میں آتے اور آگے جاتے۔ کہتے ہیں: ہاں بالکل ٹھیک ہے۔کہا پھر مَیں ابھی ابھی آبِ زم زم اس نیت سے پی کر آیا ہوں کہ آپ سے اﷲ کے رسول کی ایک سو حدیثیں سُنوں گا۔ یہ ہے میری نیت اور ابھی مَیں پی کر آیا ہوں۔ تو وہ محدث فرمانے لگے کہ پھر بیٹھ جا، باقی کام بعد میں ہوں گے پہلے سَو حدیثیں سُن لے…… تو آبِ زم زم جس نیت سے پیا جائے وہ نیت پوری ہوتی ہے۔ کیا اعزاز ہے اس میں کہ اس نے اﷲ کے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدم چومے ہیں۔
ٍ آگے آجائیں صفہ مروہ پہ۔مَیں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ حج کا یہ مقصد ہے کہ ہمیں ماضی سے جوڑا جارہا ہے۔صفہ مروہ؛ نصف میل کی دوڑ ہے اور ساتھ چکر میں ساڑھے تین میل بن جاتے ہیں۔حاجی تھکا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اس کو یہاں حکم ہے دوڑنے کا۔ اور وہاں عجیب مستی میں لوگ دوڑ رہے ہیں۔ بچے بھی ، بوڑھے بھی جوان بھی، مرد و زن، جن سے دوڑا نہیں جاتا ان کو ریلیوں کے اندرڈالا ہوا ہے اور کھینچا جارہا ہے، وہ بھی دوڑ رہے ہیں۔ میلین اخضرین کے اندر تو عجیب سما ہوتا ہے۔ سروں کا سمندر نظر آتا ہے۔ دوڑنا بھی کوئی عبادت ہے! دوڑے جارہے ہیں؛ مقصد کیا؟حضرت ہاجرہ تو اس لیے دوڑی تھیں کہ ان کو بیٹے کے لیے پانی چاہیے تھا۔ حاجی کی بغل میں پانی کی باتل ہوتی ہے۔ اوروہ تو اس لیے دوڑی تھیں کہ بیٹے کے لیے پانی کی تلاش تھی۔ اور یہاں حاجی کے ساتھ بیٹا بھی دوڑ رہا ہوتا ہے۔ماں بیٹا، باپ بیٹا اکٹھے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ پانی کی بوتل بغل میں ہے۔ لیکن دوڑ رہے ہیں تو کیا یہ پانی کے لیے دوڑ رہے ہیں؟ نہیں۔بیٹے کے لیے دوڑ رہے ہیں؟ نہیں۔یہ تو محبوب کی ادا کو ادا کرہے ہیں۔ اور حضرت ہاجرہ نے اس وادیِ غیر ذی ذرع کے اندر جس طرح جرأت و استقامت کا ثبوت فراہم کیا؛ آپ علما سے سنتے ہوں گے کہ جب جنابِ خلیل علیہ السلام سیدہ ہاجرہ کو چھوڑ کر واپس پلٹنے لگے تو یہ سحر کا وقت تھا۔ تو حضرت ہاجرہ نے بڑھ کے ان کا دامن تھام لیا۔ تمسکت باذیالہ دامن تھام کہ پوچھنے لگیں: اس تنہائی اور غربت میں ہمیں چھوڑ کر کہا جارہے ہو؟وہاں انسانی وجود کیا حیوانی وجود بھی نہیں تھا۔ مورخ اسلام حفیظ جالندھری اس جگہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے ؂
وہ وادی جس میں وحشت بھی قدم رکھتی تھی ڈر ڈر کے
جہاں پھرتے تھے آوارہ تھپیڑے بادِ صر صر کے
جہاں نہ گھاس اگتی ہے جہاں نہ پھول کھلتے ہیں
مگر وہ سر زمیں ہے آسماں بھی جھک کے ملتے ہیں
مہیب پہاڑوں میں دن کو ڈر لگے۔ عورت ذات اور معصوم بچہ گودمیں، نہ پینے کے لیے کچھ ہے نہ کھانے کے لیے کچھ، نہ کوئی ہم سائیگی، عورت کا وجود۔ حضرت ہاجرہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام جب چھوڑ کے جانے لگے ؛ دامن تھام لیا ۔کہا اس تنہائی اور غربت میں چھوڑ کے کہاں جارہے ہو؟ کوئی جواب نہ دیا۔ پھر قدم اٹھایا تو آگے بڑھیں۔ پاک طینت خاتون نے پھر دامن پکڑا اور کہا اس تنہائی میں ہمیں چھوڑ کر کہا جارہے ہو؟جناب ابراہیم علیہ السلام کی آنکھوں میں آنسو تو ہے لیکن نہیں دیا۔ پھر قدم اٹھا تو پھر حضرت ہاجرہ نے دامن کو پکڑ کرکہا کہ اس غربت و تنہائی میں ہمیں چھوڑ کر کہا جارہے ہو؟میرا نَونہال جو میری امیدوں کا چراغ ہے ؛ کہیں یہ ضائع نہ ہو جائے۔ یہاں پانی بھی نہیں ہے۔ اور مَیں عورت ذات۔ کہاں چھوڑ کے ہمیں جارہے ہو؟حضرت خلیل علیہ السلام نے پھر جواب نہیں دیا۔ تو حضرت ہاجرہ نے بات کو پھانپ لیا۔ اور کہا: کیا اﷲ کا یہ حکم ہے؟ قَالَ نَعَم کہا ہاں۔کہا پھر آپ جائیے۔ آپ خیر سے جائیے۔ اگر اس کا یہ حکم ہے تو پھر وہ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔ کل ان پتھروں میں اﷲ کی بندی حضرت ہاجرہ رکیں؛ جہاں دن کو ڈر لگتا ہے ، جہاں مردوں کے کلیجے اور پِتّے پانی پانی ہو جائیں۔ وہاں وہ خاتون رکیں۔ عورت کا وجود ، معصوم بچہ گود میں تنہائی ، غربت، کھانے کے لیے کچھ نہیں، پینے کے لیے کچھ نہیں، انسانی وجود کوئی نہیں،ہمسائیگی کوئی نہیں، حشرات الارض بھی نہیں پائے جاتے، زمی پہ گھاس بھی نہیں اُگی ہوئی تھی۔اور رات کالمحہ حضرت خلیل چھوڑ کے جارہے ہیں ۔ کہا جائیے آپ خیر سے جایئے۔ اگر اُس کا حکم پہ ہمیں چھوڑ کے جارہے ہو تو وہ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اﷲ اکبر!…… اﷲ کی بندی حضرت ہاجرہ سلام اﷲ علیہا نے جرأت اور عزیمت کی جو داستان رقم کی اور پھر بیٹے کے لیے بے تابانہ دوڑ رہی ہے۔ کبھی صفا پہ کبھی مروہ پہ۔اﷲ کے حکم کے لیے یہ وہاں رکیں۔کہا میری بندی میرے حکم کے لیے تو نے حد کردی ایک عورت سے یہ تصور! کہ وہ اس تنہائی اور غربت میں رہے؟ اور پھر اس اعتماد اور یقین سے خاوند کورخصت کریں کہ آنکھ کے گوشے کو بھیگنے بھی نہ دے؛ کہ یہ اﷲ کا حکم کہ اور اگر آنکھ کا گوشہ بھیگ گیا تو کہیں یہ اﷲ کی نا فرمانی نہ ہوجائے۔ یہ تیری استقامت ، یہ تیری جرأت؛ تو پھر دیکھ اگر تونے یہ ساتھ چکر لگائے تھے تو تیری راہوں پہ نبیوں کو بھی دوڑاؤں گا، تیری راہوں پہ ولیوں کو بھی دوڑاؤں گا۔قیامت تک لوگ دوڑتے رہیں گے۔ وہ اعزاز اور وہ پروٹوکول دیا کہ نبی بھی دوڑ رہے ہیں، ولی بھی دوڑ رہے ہیں، غوث قطب و ابدال بھی دوڑ رہے ہیں۔ان راہوں پہ کون کون نہیں دوڑا؟خود امام الانبیاء ان راہوں پہ دوڑے ہیں۔دن کو جائیں دوڑ لگی ہوئی ہے، رات کو جائیں دوڑ لگی ہوئی ہے، پچھلے پہر جو جائیں دوڑ لگی ہوئی ہے، سروں کا سمندر ہے، برستی بارش میں دیکھیں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کڑکتی دھوپ میں دیکھیں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اب تو وہاں بڑا کچھ بن گیا ہے؛ جب کچھ نہی تھا پھر بھی دوڑ لگی تھی۔ کبھی وہ سعی موقوف نہیں ہوئی۔ لوگ دوڑے جارہے ہیں دوڑے جارہے ہیں۔ چاہیے کیا کچھ بھی نہیں چاہیے، پانی چاہیے ؛ نہیں۔ بیٹا چاہیے؛ نہیں۔دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کہا میری بندی اب قیامت تک تیرے نام کے پھریرے لہراتے رہیں گے۔اﷲ اکبر!
اب آگے بڑھ جائیں ۔ جب سعی مکمل کرلیں تو قصرکروائیں یا حلق کروائیں، سر منڈوادیں۔ یہ سر کیوں منڈوایا گیا؟اس لیے کہ بال اتر جائیں پھر غسل ہوگا احرام اتر جائے گا پھر سر ہلکا پھلکا ہوجائے گا ترو تازہ ہوجائے گا؟ یہ مقصد اگر ہوتا تو جس کے بال ہوتے اس کو تو حکم دیا جاتا؛ لیکن حکم یہ ہے کہ ایک شخص پیدائشی طور پر گنجا ہے، اس کے سر پر ایک بھی بال نہیں۔ اب اس کو حکم ہے کہ وہ خالی استرالیں اور اپنے سر پہ پھیرے۔وہ استرا اپنے سر کی جلد کے اوپر خالی پھیرے۔ کوئی اسے یوں کرتا ہوا تودیکھے کہے گا کہ اس کی عقل ٹھیک ہے؟ سر میں تو بال بھی نہیں استرا پھیر رہا ہے!بال ہوتو استرا پھیرے۔ تو یہ اس سے کہے گا میاں بالوں کو اتارنے کے لیے استرا کوئی نہیں پھیرتا یہاں۔ یہ تو محبوب کی ادا کو ادا کیا جارہا ہے۔
دیکھ لیں پورا حج۔ رمی جمار دیکھ لیں؛ شیطان کو کنکرمارے جارہے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کوشیطان نظر آیا تھا۔ حاجی کو نظر آتا ہے؟ اسلام تو ایک لمحہ بھی بے مقصد گزارنے سے روکتا ہے۔ کہ ایک کام بھی بے مقصد نہ کرو۔ یہاں شیطان نظر بھی نہی آرہا اور پھر بھی کنکر پھینکے جارہے ہیں ……حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام آتا ہے لبوں پہ ؛ ہم انوٹھے چوم کے آنکھوں سے لگالیتے ہیں۔ بعض طبیعتیں معترض ہیں ۔ ہم کہتے ہیں مسند فردوس، دیلمی کی روایت ہے: حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام جب چلتے تھے پیچھے آواز آتی تھی۔ پوچھا مالک یہ کیا ماجرہ ہے؟ کہا تیری پشت میں نورِ مصطفی رکھا ہے۔ فرشتے اس کی زیارت کے لیے تیرے پیچھے چلتے ہیں۔کہا: مالک وہ نور تو مَیں بھی دیکھنا چاہوں گا۔ کہا: پھر اپنے ناخنوں میں دیکھو۔جب ناخنوں میں ظہور ہوا تو چوم کے آنکھوں میں لگا لیا۔تو ہم بھی اس کو ادا کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تو لکیر کی فقیری ہے۔ انہیں تو نظر آیا تھا تمہیں نظر آتا ہے؟ہم کہتے ہیں منیٰ میں تمہیں نظر آتا ہے؟تمہیں نظر نہیں آتا؛ لکیر کے فقیر وہاں بنتے ہوکہ نہیں؟تم اُس لکیر کے فقیر ہو۔ ہم اُس لکیر کے فقیر بھی ہیں اور اِس لکیر کے فقیر بھی ہیں۔ نظر آئے یا نہ آئے لیکن ہم چوم کے آنکھوں سے لگاتے ہیں کہ یار کی سنت کو تو ادا کررہے ہیں۔ تو پورا حج دیکھ لیں ہمیں ہمارے ماضی سے جوڑا جارہا ہے۔یہ حج کا ایک بنیادی ہے۔
حج کے اوربھی کچھ مقاصد ہیں لیکن یہاں کچھ باتیں۔ حج ہوگیا، واجبات بھی ادا ہوگئے، سنن بھی ادا ہوگئے اور اس کے اراکین بھی ادا ہوگئے۔ اب حج مکمل ہوگیا ۔ اب کیا کریں ؟ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں ؂
حاجیوں آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
اﷲ نے جن کو حج یا عمرہ نصیب کیا ہے اﷲ انہیں بار بار نصیب کرے اور جن کو یہ سعادت نصیب نہیں ہوئی انہیں بھی بار بار نصیب کرے۔
مدینہ شریف شمال میں ہے مکۃ المکرمہ سے؛ اور کعبۃ اﷲ کامیزاب جسے پرنالہ کہتے ہیں اس کا رخ شہرِ محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف ہے۔تو اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں حاجیو! ذرا غور سے دیکھو۔ کعبہ کیا کہہ رہا ہے۔ بازو نکال کر بتا رہا ہے اگر قبولیت کی مہر لگانی ہے تو مدینے چلے جاؤ۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضے پہ حاضری دینا قریب بہ واجب ہے؛ علما نے یہ لکھا۔ اور حضور نے یہ ارشاد فرمایا: من حج البیت و لم یزرنی فقد جفانی۔ جس نے حج بیت اﷲ کیااور میری زیارت کو نہ آیا اس نے میرے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور قرآن مجید کی آیت گواہ ہے وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْا اَنْفُسَھُمْ جَاؤُکَ۔ (سورۃ النساء، آیت ۶۴)’’اے حبیب! اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو تیری چوکھٹ پہ آجائیں۔‘‘ میرے شہر کا ایک شاعر ہے اس نے اس کا ترجمہ کیا ؂
مجرم ہو تو منہ اشکوں سے دھوتے ہوئے آؤ
آؤ درِ تواب پہ روتے ہوئے آؤ
قرآن میں مذکور ہے توبہ ہے کا طریقہ
سرکار کی دہلیز سے ہوتے ہوئے آؤ
اگر اپنی جان پہ ظلم کر بیٹھو تو محبوب کی چوکھٹ پہ آؤ۔ اور پھر اﷲ سے معافی مانگو۔معافی ہوجائے گی؟ نہیں۔رسول تمہارے لیے اﷲ سے استغفار طلب کریں ؛ تو تم معافی مانگنے آئے تھے اﷲ بھی عطا کردے گا۔ لَوَجَدُوْا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا۔(سورۃ النساء، آیت ۶۴)تم توبہ کے لیے آئے تھے؛ اﷲ رحمت بھی اپنی جناب سے دے گا۔کیوں کہ محبوب کو جو ساتھ لے کر آئے ہو۔یہ حضور کی ظاہری حیات میں بھی تھا۔ مسجد نبوی میں استوان ابی لبابہ اس پہ گواہ ہے۔ کہ حضرت ابو لبابہ نے اپنے آپ کو بندھوادیا اور قسم کھائی کہ جب تک حضور نہیں کھولیں گے مَیں اپنے آپ کو نہیں کھلواؤں گا۔اور جب آیت نازل ہوئی تو حضور کے غلاموں نے کہا بشارت ہو تیرے گناہ معاف کردیے گئے۔ رسیاں کھولنے لگے ۔ حضرت ابو لبابہ نے کہا پیچھے ہٹ جاؤ حضور کھولیں گے تو مَیں اپنے آپ کو کھلواؤں گا۔ اس پر علما کا جزم ہے کہ انتقالِ ظاہری کے بعد بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضے پہ جاکے گناہوں کی بخشش کا سوا ل کرنے کا حکم امت کو ہے اور یہ جاؤک میں شامل ہے۔
ابن کثیر مکی نے اس واقعہ کوبیان کیا ہے، الجامع لاحکام القرآن میں امام قرطبی نے بھی نے لکھا ہے،، صاحبِ مدارک نے بھی لکھا ہے۔اور بھی علما نے بلکہ مفسرین کی ایک جماعت نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ حضرت امام عطبی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ مَیں حضور کے روضے کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ حضور! مَیں اﷲ کا یہ فرمان پڑھ کے کہ اگر اپنی جانوں پہ ظلم کر بیٹھو تو آپ کی چوکھٹ پہ آؤ۔ مَیں حاضر ہوگیا۔اب میرے بھی گناہوں کی بخشش چاہیے۔ اور اس نے دو شعر پڑھے۔ امام عطبی کہتے ہیں وہ فریاد کرکے چلا گیا۔ وہ چلا گیا میری آنکھ لگ گئی ۔ آنکھ لگی تو مقدر جاگ اُٹھا۔ حضور کی زیارت نصیب ہوئی۔……یہاں مَیں بتا چکا ہوں ، میرے سامعین اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک بات؛ حضور فرماتے ہیں کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔ شیطان خواب میں آکر بھی میری مثل ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ دوسری بات؛ حضور نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا من رأنی فی المنام فسیرانی فی الیقظہ وہ عنقریب جاگتے ہوئے بھی دیکھ لے گا۔ تیسری بات؛ جس کے خواب میں حضور آئے قصد اور مرضی سے آئے۔اور چوتھی بات؛ خواب میں اگر حضور نے کسی کو کچھ عطا کیا تو وہ محض وہم و گمان نہیں تھا؛ حقیقت تھی۔اگر بوصیری کو چادر ملی تو صبح اٹھے تو کاندھے پہ موجود تھی۔ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی فرماتے ہیں؛ اور یہ تمام مکاتب فکر کے نزدیک معتبرہیں، فرماتے ہیں کہ میرے والد شاہ عبدالرحیم رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے خواب میں اپنے دو بال عطا کیے۔جب صبح اٹھے تو سرہانے پہ موجود تھے۔اور وہ ان کی زیارت لوگوں کو کروایا کرتے تھے۔اور آپ فرماتے ہیں کہ جس میں وہ موئے مبارک تھے اس صندوق کو لے کر ہم چلتے تھے تو بدلیاں سایہ کرتی تھیں۔ تو حضور نے خواب میں کسی کو کچھ عطا کیا تو وہ حقیقت میں عطا کیا۔ جو فرمایا وہ حق فرمایا۔الدرالثمین فی مبشرات النبی الامین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے نام سے مارکیٹ میں یہ کتاب دستیاب ہے؛ جس میں شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی نے اپنے والد سے منقول وہ روایات نقل کی ہیں جو خواب میں انہوں نے حضور سے سنی تھی۔ اور ان کو انہوں نے حدیث قرار دیا ہے۔
امام عطبی کہتے ہیں کہ مَیں سو گیا مقدر جاگا۔ حضور کی زیارت ہوئی اور حضور نے فرمایا : اے عطبی اٹھو! اور جو اعربی ابھی آیا تھا اسے ڈھونڈو۔ جب مل جائے تو میری طرف سے جنت کی بشارت اسے دینا۔ اور مدارک کے لفظ ہیں کہ وہ شخص آیااور آکر بیٹھ ہی گا۔ کہا جب تک بخشش نہیں ہوگی اُٹھوں گا ہی نہیں۔ اور زار و قطار روئے جارہا ہے۔توآگے لکھا ہے کہ گنبد خضریٰ سے آواز آئی جا تجھے معاف کردیا گیا……اس کے لیے آواز آئی ۔ جو جتنی تڑپ سے جتنی محبت سے آئے اس کو اتنا صلہ دیا جاتا ہے۔ ۵۵۵ھ کا واقعہ ہے ؛ اوراس کو تمام مکاتب کے لوگ اپنی کتابوں میں درج کرتے ہیں۔ کتاب المناسک میں لکھا گیا، زکریا سہارنپوری نے کتاب الحج میں لکھا اور بھی بہت سارے لوگوں نے لکھا۔ حضرت شیخ احمد رفاعی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ ؛ بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں اور حضور کی اولاد سے تھے۔ کثرت سے درود پڑھا کرتے تھے۔ پھر حاضری کا موقع ملا ۔ حضور کے روضے کے سامنے جاکے کھڑے ہوئے اور عرض کی حضور پہلے آپ کے بیٹھے کی روح آیا کرتی تھی اور آپ کا روحانی جواب پہنچتا تھا؛ آج جسم آگیا ہے اور آج مَیں نے جواب بھی اسی انداز کا لینا ہے۔ستّر ہزار آدمی مسجد نبوی میں موجود تھے۔ حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اتفاق سے مَیں بھی وہاں موجود تھا۔ پھر کیا ہوا کہ حضور کا بیٹا، حضور کا جگر پارہ، حضور کی اولاد سے، حضور کا لختِ جگر ؛ وہاں حضور کی بارگاہ میں گزارش کی اور وہاں کھڑا رہا کہ حضور مَیں نے اب جواب اُس طرح کا نہیں لینا ہے۔ سّتر ہزار آدمی نے دیکھا کہ قبرِ مبارک سے حضور کا دستِ مبارک باہر آیا اور حضرت امام رفاعی نے اس ہاتھ کو چوما اور بوسے دیے اور ا ن کی برکت سے جو مسجد نبوی میں اس وقت لوگ موجود تھے؛ سب نے حضور کے مبارک ہاتھ کی زیارت کرلی۔
اسی لیے امام مالک امام دارالہجرہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص حضور کے روضے کی زیارت کرکے آئے؛ باقی تین ائمہ کہتے ہیں کہ وہ کہیں کہ مَیں حضور کے روضے کی زیارت کرکے آیا۔ لیکن امام مالک کہتے ہیں کہ وہ کہے کہ میں حضور کی زیارت کرکے آیا ۔اس لیے کہ حضو رنے فرمایا کہ جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی ۔ اور حضور نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ من زار قبری وجبت لہ شفاعتی جس نے میری قبرِ انور کی میرے اوپر لازم ہے کہ مَیں اس کی قیامت کے دن شفارش کروں گا۔
تو آؤ سرزمینِ مکہ حرمِ الٰہی کے انوار بھی لوٹیں اور سرزمینِ مدینہ میں حضور کی رحمتوں کے سائے تلے بھی بیٹھیں۔مکہ بھی برکت والا مدینہ بھی برکت والا ۔ مکے کی حاضری کے کیا کہنے اور مدینہ کی حاضری کے کیا کہنے۔ بات لمبی ہوجائے گی بہت لمبی۔ جب مَیں سفرِ حجاز کے لیے حاضر ہوا تو واپسی پر لوگ ملنے کے لیے آئے۔ لوگوں کوبڑا شوق تھا کہ ان سے داستان سنیں؛ مَیں نے ان دنوں جگہ جگہ مدینہ شریف کے تذکرے کیے اورحرم الٰہی کے بھی کیے۔ تو دوست آبیٹھے۔ وقت تھوڑا تھا۔مَیں نے کہا کہ مختصر کہانی نہ سُنادوں!ایک تو لمبی کہانی ہے جو صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے اور ختم نہیں ہوسکتی۔ایک ایک لمحہ صدیوں پر محیط ہوتا اور ایک کہانی دو لفظوں میں سناؤں تومَیں نے کہاکعبۃ اﷲ پر پہلی نگاہ بڑی مشکل ہے اور روضۂ رسول پہ آخری نظر بڑی مشکل ہے۔اﷲ کریم مجھے اور آپ کو بار بار سفرِ حرمین نصیب فرمائے۔ آمین! بجاہٖ النبی الامین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم!
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Waseem Ahmad Razvi

Read More Articles by Waseem Ahmad Razvi: 82 Articles with 67787 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 1714

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ