مہنگائی ہوتی کیسے ہے آئیے آپ بھی دیکھیں؟

(Aslam Lodhi, Lahore)
میں موٹرسائیکل پر سوار جونہی ریلوے پھاٹک کراس کرنے لگا تو آموں سے بھری ریڑھی پر نظر پڑی ۔چونکہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی آم کا بھاؤ پوچھ لیا ۔ خوانچہ فروش نے جھٹ سے بتایا 150روپے کلو ۔ میں نے کہا ٗخدا کا کچھ خوف کرو اتنے مہنگے آم ۔ اب تو 70/80 روپے عام مل رہے ہیں اور تم ڈیڑھ سو روپے کلو بتا رہے ہو۔ میری اس بات پر پہلے تو اس نے منہ بنایا جب میں چلنے لگا تو اس نے قریب آکر کہا باؤ جی صرف آپ سے 120 روپے لگالوں گا ۔ میں نے کہا میرے لیے کیوں ۔ کیا آپ کی میرے ساتھ رشتہ داری ہے ۔یہ کہتے ہوئے میں پھر چل پڑا وہ دوڑنے کے انداز میں پیچھے آیا اور بولا.. باؤ جی ایک بات بولوں گا ۔صرف آپ کے لیے 100 روپے کلو لگا لوں گا ۔ اس کے باوجود کہ اس کی ریڑھی پر پڑے آم مجھے بہت اچھے لگ رہے تھے لیکن میں ریلوے پھاٹک کراس کر آیا ۔ اس لمحے میں نے دل میں سوچا کہ جو شخص مجھے 100 روپے فی کلو آم دینے پر تیار ہوگیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آم اسے 60 یا 70 روپے فی کلو پڑے ہوں گے گویا وہ ایک کلو پر 100 فیصد منافع لے رہا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مہنگائی اس قدر ہے نہیں جس قدر خوانچہ فروشوں نے از خود ریٹ بڑھا کررکھی ہے ۔ آڑھتی کا منافع نکال کر یہی آم جو صارفین تک 150 روپے فی کلو کے حساب سے پہنچ رہے ہیں۔ وہ باغبان کو بمشکل بیس سے پچیس روپے فی کلو ہی پڑتے ہوں گے ۔گویا باغبان سے صارف تک پہنچتے پہنچتے ایک کلو پر125 روپے درمیانی لوگ ہی ہڑپ کرجاتے ہیں ۔اسی طرح میں ایک دن میں شاہراہ قائداعظم کے ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور پر گیا ۔ میں نے وہاں جرسیاں دیکھیں جن کا ریٹ صرف 200/-روپے لکھاہواتھا ۔ یہ رقم چونکہ میری استطاعت کے عین مطابق تھی اس لیے میں فورا اس جانب متوجہ ہوا بلکہ میں نے اور بیگم دونوں نے بھی ایک ایک جرسی خریدلی اور خوشی خوشی گھر آگئے ۔ وہاں کے ایک سیل مین سے شناسی ہوئی تو اس نے یہ بتاکر ہمیں پریشان کردیا کہ ہم نے جو جرسیاں خریدی تھیں وہ نئی نہیں بلکہ لنڈے کا مال تھا ۔جنہیں ڈرائی کلین کروا کر وہاں رکھاگیا تھا۔ ہم تو ان جرسیوں کو عید پر پہننے کے لیے سنبھال کر صندوق میں رکھ چکے تھے۔ جب دوبارہ نکال کر غور سے دیکھا تو سیل مین کی بات درست نکلی ۔ جس پر سوائے افسوس کہ اور کیا کیا جاسکتا تھا ۔ پھر ایک مرتبہ میں پینوراما سنٹر مال روڈ پہنچا اور مجھے وہاں ایک شرٹ اور پتلون پرچیز کرنی تھی ۔جو پتلون اور شرٹ مجھے پسند آئی ۔پتلون کی قیمت دوہزار روپے اور شرٹ کی قیمت 1600 روپے بتائی گئی ۔ خواتین چونکہ ریٹ بنانے میں مہارت رکھتی ہیں اس لیے میں نے بھی بیگم کی اس مہارت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ بیگم نے پینٹ کی قیمت 800 روپے اور شرٹ کی قیمت 600 روپے لگائی ۔ جب بیگم یہ قیمتیں لگا رہی تھی تو مجھے سخت ندامت کااحساس ہورہا تھا۔میں سوچ رہا تھا کہ کہیں یہ دکاندار ہمیں دھکے دے کر باہر ہی نہ نکال دے کہ تم نے میری مصنوعات کی یہ قدر کی ہے ۔ میں نے دیکھا کہ دکاندار کے چہرے پر پہلے غصے کے آثار نمایاں ہوئے پھر کچھ دیر بعد سیل مین بولا ...نہیں باجی اتنا فرق نہیں ہوتا... جتنا آپ بتا رہی ہیں ۔ اتنا اچھاکپڑا ٗاتنی اچھی سلائی آپ کوکہیں اور سے نہیں ملے گی ۔ میں ٗ بیگم اور سیل مین کے مابین ہونے والی گفتگو سن رہا تھا ۔قصہ مختصر یہ کہ سیل مین پینٹ کے 1200 روپے اور شرٹ1000 روپے میں دینے پر آمادہ ہوگیا ۔ بیگم نے بھی فراخ دلی دکھائی اس طرح شرٹ 700 روپے اور پینٹ 1100 روپے ڈیل پکی ہوگئی ۔یقینا یہ پینٹ 900 روپے اور شرٹ 600روپے کی پڑی ہوگی تب ہی دکاندار نے ہمیں 900 روپے کی پینٹ اور 600 روپے کی شرٹ دے دی ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی اداروں کی چشم پوشی کی وجہ سے آج کل مارجن آف پرافٹ ڈیڑھ سو فیصد رکھاجاتاہے جہاں گاہک پھنس جائے وہاں فروخت کردیاجاتاہے ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بے شمار ڈیپارٹمنٹل سٹوروں اور باٹا شوز ٗ سروس شوز کی دکانوں پر لوٹ سیل کے بینر آویزاں دکھائی دیتے ہیں ۔ لوٹ سیل کی کہانی بھی سن لیں ۔ اگرکسی شوز کی قیمت پانچ سو روپے ہے تو اس پر سٹکر پندرہ سو روپے کا لگا کر پچاس فیصد قیمت کم کرکے ساڑھے سات روپے میں فروخت کے لیے پیش کردیاجاتا ہے اور گاہک بہت خوشی سے خرید بھی لیتا ہے کہ اس طرح اس کو پچاس فیصد رعایت مل گئی ہے ۔یہ بات صرف شوز تک ہی محدود نہیں بلکہ جرسیاں ٗ گرمیوں اور سردیوں کے کپڑے ٗ سویٹر وغیرہ سبھی اس میں شامل ہیں ۔ پانچ سو روپے کی چیز ساڑھے سات روپے میں فروخت اگر ہوجاتی ہے تو دکاندار کو یقینا اڑھا ئی سو روپے زیادہ مل جاتے ہیں ٗ گاہک بھی خوش اور دکاندار بھی مطمئن ۔ سبزی فروش بھی 100 فیصد سے زائد منافع کماتے ہیں۔آج کا کاروبارجھوٹ ٗ دھوکے بازی اور بول بچن کانام رہ گیا ہے ۔یہ دھوکے بازی صرف گاہکوں سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے بھی اسی طرح ہوتی ہے جہاں بہت کم ٹیکس دے کر چھٹکارا حاصل کرلیا جاتاہے اور ٹیکس والوں کو خدا کی قسم کھاکر کہاجاتاہے کہ کاروبار تو ہے ہی نہیں۔ہم تو سارا دن فارغ ہی بیٹھے رہتے ہیں ۔لیکن ان تاجروں کے بڑے بڑے بنگلے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی ٗ ماڈل ٹاؤن ٗ گلبرگ اور جوہر ٹاؤن میں دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔گویا جتنا کسی کولوٹا جاسکتا ہے لوٹ لیا جائے ۔ کم تولنا اور معیار میں کمی اس سے الگ بات ہے ۔کئی خوانچہ فروش تواس قدر بے رحم ہوجاتے ہیں کہ انتہائی گلے سڑے پھل بچوں کو فروخت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ جب حکومت پٹرول یا بجلی کی قیمت بڑھاتی ہے تو ہر دکاندار ٗ خوانچہ فروش سمیت خود بخود اپنے پاس فروخت ہونے والی اشیاء کے ریٹس بڑھالیتے ہیں لیکن جب پٹرول کی قیمت کم ہوتی ہے تو پھر بڑھے ہوئے ریٹس کم نہیں کرتے بلکہ پرانے والے ریٹس پر ہی سودا فروخت کیاجاتاہے ۔ ہمارے ہاں پٹرول پمپوں کا روٹین بھی یہی ہے ۔ جب حکومت ریٹس بڑھاتی ہے تو رات بارہ بج کر ایک منٹ پر نئے ریٹ کی وصولی شروع ہوجاتی ہے لیکن جب ریٹ کم ہوتا ہے تو جب تک پمپ میں موجود پٹرول فروخت نہیں ہوجاتااس وقت تک ریٹ کم نہیں کیاجاتا۔ پٹرول میں ملاوٹ اور کم ڈالنے کی شکایت اس کے علاوہ ہے۔ چونکہ حکومتی ادارے اس قدر غافل ٗ بے حس اور رشوت خور ہوچکے ہیں جو عوام کو ان خرکاروں سے بچانے کے لیے اپنے اپنے دفتروں سے باہر نہیں نکلتے ۔ اس لیے کہاجاسکتا ہے کہ مہنگائی اتنی نہیں جس قدر آڑھتی اور تھوک پرچون والوں نے بڑھا رکھی ہے لیکن چونکہ پاکستان میں عوام کا والی وارث ہی کوئی نہیں ۔اس لیے جس کا جو جی چاہتا ہے وہ کرتا نظر آتا ہے ۔ڈی سی او کے ماتحت پرائس کنٹرول کمیٹیاں صرف دکھاوا ہیں اور حکومتی خزانے سے مالی مراعات حاصل کرکے لمبی تان کر سو جاتی ہیں ۔انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ عوام کو منافع خور چاروں ہاتھ سے لوٹتے رہیں وہ اپنی خاموشی کی قیمت وصول کرلیتی ہیں ۔دوسرے ملکوں میں نہ صرف ہر چیز کے ریٹس مقرر ہیں بلکہ کوالٹی کا بھی خاص خیال رکھاجاتاہے اگر کسی کمپنی یا ادارے کی مصنوعات خراب نکلے تو فیکٹر ی سمیت ملک بھر سے تمام مصنوعات اٹھا لی جاتی ہیں اور اس قدر بھاری جرمانے کیے جاتے ہیں کہ دوبارہ کوئی شخص ملاوٹ یا کم کوالٹی کی چیز کومارکیٹ میں لانے کا تصور بھی نہیں کرتا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280184 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2016 Views: 448

Comments

آپ کی رائے