ایم کیو ایم کی طرف سے الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد

(Riaz Aajiz, Karachi)
ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کی طرف سے قومی اسمبلی میں جمعہ سے شروع ہونے والے اجلاس کے لئے مذمتی قرارداد جمع کروائی جا رہی ہے۔ایم کیو ایم کے حوالے سے اب تک کی ہونے والی ڈیویلپمنٹ میں یہ اہم ترین نکتہ ہے کہ جب ایم کیو ایم کے ارکان الطاف حسین کی 22اگست کی کراچی پریس کلب میں کی گئی تقریر اور پاکستان کے خلاف کی گئی ہرزہ سرائی کے حوالے سے مذمتی قرارداد جمع کروائیں گے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم سے قبل کئی جماعتیں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا چکی ہیں لیکن یہ ایم کیو ایم کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہو رہا ہے کہ خود ایم کیو ایم اپنے سابق قائد کے خلاف جا رہی ہے اور مذمتی قرارداد جمع کروائی جا رہی ہے۔پاکستان کی تاریخ اور خاص طور پر کراچی کی تاریخ ایک نازک ترین موڑ سے گزررہی ہے کہ جب تیس برس سے زائد عرصے کراچی پر راج کرنے والے الطاف حسین کی عزت و وقعت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور یہ دھجیاں خود ان ہی کی پارٹی کے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اورپارٹی کے دیگر اہم عہدیدار اڑارہے ہیں۔کراچی کی گلیوں اور سڑکوں پر راج کرنے والے الطاف حسین آج کل مکافات عمل کے مرحلوں سے گزر رہے ہیں۔ ان کی فرعونیت و رعونیت اب کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں آخری سانسیں بھر رہی ہے۔ جو ہو رہا ہے، یہ سب کچھ تو ایک دن ہونا ہی تھا کہ جب قدرت کسی بھی فرعون وقت کی رسی دراز کرنے کے بعد اسے کھینچنا شروع کرتی ہے۔الطاف حسین کے گرد قدرت اور حالات کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ہزاروں نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتروانے والے الطاف حسین کو اپنے کئے کا حساب دینا پڑ رہا ہے۔ کسی دن یہ حساب مہاجر قومی موومنٹ کے قائد آفاق احمد اور ایم کیو ایم (پاکستان) کے رہنما عامر خان کو بھی دینا ہی پڑے گا۔ معصوم لوگوں کو مارنے اور مروانے والے ہر اس شخص کو یہ حساب دینا ہو گا کہ جس نے بغیر کسی مقصد اور منزل کے اپنے ذاتی یا پارٹی مفاد کی خاطر اس شہر میں خون کی ندیاں بہائیں۔ آج مصطفی کمال الطاف حسین کے خلاف اعلان بغاوت کر کے بیٹھے ہیں لیکن کل تک و ہ اور ان کی ساتھی الطاف حسین کے ہمنوا بلکہ ان کے ہر ہر حکم کو پورا کرنے کے پابند تھے۔ ان سب سے بھی تو وہی گناہ سرزرد ہوئے ہیں کہ جو الطاف حسین آج تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔ فاروق ستار جو آج ایم کیو ایم کا نیا چہرہ بنانے اور اسے لے کر چلنے پر مجبور ہیں کل تک وہ الطاف حسین کی ہر سیاہ کاری پر پردہ ڈھانپتے نظر آتے تھے۔فاروق ستار اور ان کے موجودہ ساتھی کل تک الطاف حسین کی ہر غلط و صحیح بات پر ہاں میں ہاں ملاتے تھے اور الطاف حسین سے سوال کرنے کی جرات تک نہیں کرتے تھے۔ الطاف حسین نے متعدد بار اپنے کارکنوں کے ذریعے ایم کیو ایم کے ان رہنماؤں کی پٹائی بھی لگوائی لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان رہنماؤں کا یہ ماننا تھا کہ عزت تو آنی جانی چیز ہے ، بس آدمی کو تھوڑا سا ڈھیٹ ہونا چاہیے۔آج پوری ریاست اور ریاستی ادارے الطاف حسین کے خلاف ہیں لیکن کل تک یہی ریاستی ادارے الطاف حسین کو پروان چڑھانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے رہے۔جب الطاف حسین کی فرعونیت عروج پکڑ رہی تھی تو اس وقت یہ ریاستی ادارے اپنی بھر پور تائید و حمایت الطاف حسین کے دامن میں ڈالے ہوئے تھے۔ وہ ریاستی ادارے جو آج الطاف حسین کو غدار قرار دے کر خود اپنی ہی بنائی ہوئی ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں انھیں بھی اپنے کئے کا کچھ تو بھگتان بھگتنا پڑے گا۔ کیا اﷲ تعالی کا نظام ہمارے ریاستی اداروں کے لئے کچھ اور ہے اور ایک عام آدمی اور کسی جماعت کے رہنما کیلئے کچھ اور ہے؟ ہر گز نہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا عدل و انصاف کا نظام سب کے لئے برابر ہے۔ہم نے جنرل ضیاء الحق کا بھی حشر دیکھا ہے کہ جس کا جسد خاکی دفنانے کے لئے صرف اس کا جبڑا ہی ہاتھ آ سکا۔ آج جو سیاسی رہنما اور سیاسی جماعتیں الطاف حسین کے خلاف بڑی بڑی باتیں کر رہی ہیں کل تک یہی جماعتیں اور رہنما الطاف حسین سے ووٹ مانگنے کے لئے نائن زیرو کے چکر لگاتی رہی ہیں۔انھیں بھی اپنی مفاد پرستی کا جواب دینا ہو گا کیونکہ الطاف حسین کی پرورش میں اور اسے فرعون وقت بنانے میں نائن زیرو جا جا کر بار بار سجدے کرنے والے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے بھی اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ اب سب مل کر قومی و صوبائی اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کر رہے ہیں۔ اچھی بات ہے بلکہ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان مخالف کسی بھی شخص یا ادارے کے خلاف سخت ترین مذمتی قرارداد پیش کی جانی چاہیے۔ لیکن کیاان افراد، اداروں اور جماعتوں کے خلاف بھی ایک مذمتی قرارداد پیش نہیں کی جانی چاہیے کہ جنھوں نے الطا ف حسین کو وقت کا فرعون بنانے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40484 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Sep, 2016 Views: 276

Comments

آپ کی رائے