6 ستمبر پرچم اور قوم کی سربلندی کا دن

(Muhammad Tahir Tabasum Durani, )
شہیدوں کی زمیں ہے یہ جسے پاکستان کہتے ہیں
یہ بنجر ہو کے بھی بزدل کبھی پیدا نہیں کرتی
پاکستان اور بھارت میں جنگ شروع ہو گئی لاہور پر تین طرف سے بھارت کا تابڑتوڑ حملہ پاکستانی فوج کی جوابی کاروائی کے بعد دشمن بھاگ کھڑا ہواپاکستانی علاقے آزاد کرالیئے گئے فضائی جنگ میں 22 بھارتی طیاروں کو تباہ کر دیا گیا پہلے دن کی جنگ میں (آٹھ سو) 800 بھارتی فوجیوں کوموت کی گھاٹ اتار دیا گیا، پاکستان نے بھارت کے عزائم خاک میں ملادیئے۔

میں اپنے ایک دوست کے گھر بیٹھا تھا میرا دوست آرمی سے ریٹائیرڈ تھا اوپر بیان کردہ تحریر ایک پرانے اخبا ر کے تراشے سے پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرے دوست کے والد محترم جناب ریٹایئرڈ صوبیدار محمد خان کور آف انجینیرنگ 20 انجینیر بٹالین بھی ہمارے ساتھ ہو لیئے میرے اخبار کے الفاظ شائد وہ سن چکے تھے اُ ن کی آنکھوں میں آنسو تھے ، میں نے اُ ن سے آنسوؤں کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا بیٹا مجھے میری جوانی اور وہ بھارت کا مکرہ چہرہ سامنے آگیا جب بھارت نے 6 ستمبر کو پاکستان پر اچانک حملہ کر دیا اور اس کی خام خیالی تھی کہ وہ صبح کا ناشتہ جم خانہ میں کرے گا۔ میں اس وقت لانس نائک تھا جب بھارت نے 7 ستمبر کو پانچ سو ٹینکوں کی مدد سے پچاس ہزار فوج کے ساتھ سیالکوٹ پر حملہ کیا تھا لیکن اس وقت پاکستانی عوام اور پاک فوج کے جوانوں کا جذبہ دیدنی تھا بھارت کے خیال میں یہ چند سو فوجی تھے مگر ان کے ساتھ پورا پاکستان کھڑا تھا بچہ بوڑھا جوان عورت مرد سب فوجی تھے ، جب مقصد صر ف حق کے پرچم کی سربلندی ہو تو اپنے رب سے جان کے بدلے جنت خرید لینا کوئی گھاٹے کا سودا نہیں تھا، پاک فوج کا یہی جذبہ شہادت اپنے سے تین گنا بڑی طاقت کے سامنے ڈٹ گیا اور دشمن کو نیست و نابود کر دیا۔ ان کی کانپتی آواز میں آج بھی جذبہ تھا وہ بتاتے ہیں بیٹا جنگیں اوزاروں یا ہتھیاروں سے نہیں جذبوں اور قربانیوں سے جیتی جاتی ہیں وہی قومیں دنیا میں اپنا وقار بر قرار اور زندہ رہتی ہیں جو اپنا دفاع مضبوط رکھتی ہیں پاکستانی قوم نے 6 ستمبر1965ء بھارتی فوج کے غیراعلانیہ حملے کا بھر پور جواب دیکر یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایک غیور اور بہادر قوم ہے جو اپنا دفاع کرنا جانتی ہے اور اپنے ملک پاکستان کو دشمن کی کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔

بڑے تو کیا بچے بھی اس ملک کے سپاہی ہیں چونڈہ کے مقام پر جہاں سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی ، فوجی دستے رواں دواں تھے محاز پر جاتے ہوئے راستے میں دو کم سن بہن بھائیوں نے فوجی دستے کو روک لیا اور ان کی خدمت میں مرغی اور گنے پیش کیئے اور کہا ہم بہت چھوٹے ہیں ہم فوج کے شانہ بشانہ تو کھڑے نہیں ہو سکتے مگر اپنی طرف سے یہ چھوٹا سے نذرانہ پیش کرتے ہیں جس پر برگیڈیر ان کا جذبہ دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے اور کہا ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں بلکہ آپ کی معصوم دعاؤں کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا جس قوم کے بچوں کا یہ حوصلہ اور ہمت ہو وہ کبھی بھی کسی بھی وقت دشمن کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں۔

اسی جنگ کو موقع پرایک اور وقعہ سنایا لاہور میں ایک بھیکاری تھا جو سارہ دن لاہور کے گھروں سے بھیک مانگتا تھا ، لوگ اسے بہت بُرا بھلا بھی کہتے مگر وہ سب کی جھڑکیاں سنتا رہتا مگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آتا اور پیسے جمع کرتا رہتاہر روز شام کے وقت ریلف فنڈ میں آکر جمع کرا دیتا اور ایک دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتا اور اپنا پرانا روٹی کا ٹکڑا نکالتا اور پانی میں بھگو کا کھا لیتا، ایک صحافی یہ منظر دیکھ رہا تھا اس نے اس بھیکاری سے مخاطب ہو کر کہا تم ایسا کیوں کرتے ہو تو بھیکاری نے بڑے جذبے سے جواب دیا جناب میں غریب آدمی ہوں اپنے ملک کے لیئے اور تو کچھ کر نہیں سکتا جو پیسہ جمع کرتا ہوں لا کر جمع کرا دیتا ہوں ، کیونکہ آج مجھے ان کی ضرورت نہیں جب میر ا ملک سلامت رہے گا تو مجھے رزق ملتا رہے گا اور میں کبھی بھوکا نہیں مروں گا۔

جب فوجیوں کے لیئے خون کی ضرورت کے لیئے اعلان کیا گیا تو لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا، بلڈ بنک کا باہر ایک نہ ختم ہونے والی لمبی قطار تھی لوگ جوق در جوق خون دینے کے لیئے اکھٹے ہو گئے اس قطار میں ایک ایسا نوجوان تھا جو بہت ہی کمزور تھا جب اس کی باری آئی تو فوجی جوان نے اس کا وزن کیا اور خون لینے سے انکار کر دیا کہ آپ کی صحت اجازت نہیں دیتی لہذا آپ کا خون ہم نہیں لے سکتے ، اس کی آنکھوں میں آنسوتھے وہ روتا ہوا باہر آیا ، اسے ایک ترکیب سوجھی اس نے باہر دکاندار سے دو باٹ لیئے اور اپنے جسم کے ساتھ کپڑوں کے اندر باندھ کر پھر قطار میں کھڑا ہوگیا۔

ایسے واقعات آج بھی لہوگرما دیتے ہیں ، جب بھی دشمن نے پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا پاک فو ج کے جوانوں نے اپنے سینوں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر دشمن کو کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ بھارت نے رات کے اندھرے میں بذدلوں کی طرح اچانک حملہ کیا تو اس کا خیال تھا کہ پاکستان کو آج نیست ونابود کر دیں گے مگر سرحدوں کے محافظ جا گ رہے تھے اور پوری قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی قوم نے نہ صرف خوراک اور دیگر سامان کے ڈھیر لگائے بلکہ نوجوانوں کی ٹولیا ں دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے گھروں سے نکل آیں جب آرمی چیف نے چندے کا اعلان کیا کہ ایک فرد ایک پیسہ جمع کرائے وہ ایک ٹینک دیں گے، لوگوں نے بڑھ چڑھ کا اس کارخیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالا، جب دشمن کھیم کرن اور چونڈہ (سیالکوٹ)میں بری طرح شکست زدہ ہوا تو اس نے سرگودھاپر فضائی حملہ کر دیا ، وہاں کے شاہینوں نے دشمن کے چار جہاز چند لمحوں میں ہی مار گرائے اور بھارت کے فضائیہ کی کمر توڑ ڈالی1965ء کی جنگ میں بی آربی نہرایک دفاعی لائین ثابت ہوئی بھارت نے پاکستان پر شب خون مارا تو ان کا خیال تھا کہ راتوں رات ہم پاکستان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے مشہور پائے کھایں گے لیکن ان کو یہ پتہ نہیں تھایہ ز مین اﷲ کا ولیوں کی زمین ہے ، لاہو داتا علی ہجویری ، حضرت میاں میر، مادھولال حسین، حضرت بابا موج دریا کی نگری ہے ، سیالکوٹ میں قلندرِ لاہور ڈاکٹر علامہ اقبال کا گھر اور پیر مراد علی کا دربار موجود ہے ان کو یہ پتہ نہیں تھا شیر سویا بھی ہوتو شیر ہی ہوتا ہے ۔

بھارت کیسے بھول گیا ان کے پاس ایک ایسا شیر جوان بھی تھا جس نے پا نچ منٹس میں پانچ وار کرکے دشمن کے پانچ شکار کیئے تھے جی ہاں یہ کارنامہ بھی پاکستان ائرفورس کے ایک جوان نے کر دکھایا تھا جسے دنیا آج ایم ایم عالم کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ان کاپور انام محمد محمود عالم تھا لیکن ائر فورس کے جوان ان کوشاہین کے نام سے جانتے ہیں یہ شاہین آج ہم میں موجود نہیں اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں مگر ان کے کارنامے آج بھی پاکستان کی تاریخ میں روشن ستارے کی مانند ہیں 1965 ء پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پرپانچ بھارتی ہنٹر طیاروں کوایک منٹ کے اندر اندر مار گرانے کا عالمی ریکارڈقائم کیااور سب سے بڑی بات 4 طیارے صرف 30 سیکنڈ میں مار گرائے اور دنیا میں ائر کموڈور ایم ایم عالم کے نام سے شہرت پائیMM Alam nickname was"Little Dragon"
اگر یہاں پر قوم کے بہادر سپوت میجر عزیز بھٹی شہید کا ذکر نہ کیا گیا تو ان کی وطن کے لیئے دی گئی قربانی کا حق ادا نہ ہوگا۔

میجر عزیز بھٹی شہید لاہور میں اپنے فرائض کو بھر پور انداز میں نبھا رہے تھے وہ چھ راتوں سے مسلسل جاگ رہے تھے ان کی آنکھوں میں زرہ برابر بھی نیند نہیں تھی وہ چیتے کی طرح چوکنا تھے اور مسلسل دشمن کو زیر کر رہے تھے دشمن ا ن کے چٹان جذبوں کی فصیل پھلانگنے میں مسلسل ناکام ہو رہا تھا، آسمان پر ان کے استقبال کی تیاریاں مکمل تھیں اور پھر دشمن کی تو پ کا گولہ ان کا سینہ چیر جاتا ہے درختوں پر بیٹھے پرندوں کی آنکھوں میں آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور میجر عزیز بھٹی ملک کا دفاع کرتے ہوئے جام ِ شہادت نوش کر لیتے ہیں اس عظیم کارنامے پر حکومت پاکستان نے ان کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا ۔ اﷲ جلہ شانہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔
شاعر نے اس موقع پر کیا خوب کہا ہے ۔
شہیدان ِ وطن کے حوصلے تھے دید کے قابل
وہاں پر شکر کرتے تھے جہاں پر صبر مشکل تھا
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 52 Articles with 25828 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More
05 Sep, 2016 Views: 1027

Comments

آپ کی رائے