مہاجر تحریک کے بانی خود مہاجر نہیں ۰۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
گذشتہ دنوں’’ دنیا کے لئے پاکستان کینسر ہے‘‘ کہنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین انتقال کرگئے یا انکے مخالفین افوہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہوئے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔؟

دنیا کا دوسرا بڑا اورپاکستان کا سب سے بڑا شہرکراچی پھر ایک مرتبہ بین الاقوامی سطح پر نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔دو کروڑ چالیس لاکھ یعنی 24ملین نفوس پر مشتمل صنعتی ، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز کراچی پر کس کی حکومت ہے اور کون اسے باہر بیٹھ کریعنی یہا ں کا نظم ونسق چلانے کی کوشش کرتا ہے اس سلسلہ میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔قتل و غارت گیری، لوٹ مار، فائرنگ، ڈکیتی، بم دھماکے، جبری بھتہ وصولی وغیرہ اس شہر میں عام سی بات ہے۔ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے فوراً بعد کم و بیش دس لاکھ افراد ہندوستان کے مختلف شہروں سے ہجرت کرکے کراچی منتقل ہوئے کیونکہ قیام ِپاکستان کے بعد یعنی 1947ء میں کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنایا گیا اور یہ1960تک پاکستان کا دارالحکومت رہا ۔قیام پاکستان کے وقت کراچی کی آبادی چار لاکھ نفوس پر مشتمل تھی لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا اوراب کم و بیش 24ملین آبادی ہے۔کراچی کے ان لاکھوں مہاجرین میں ایک نام الطاف حسین کا لیا جاتا ہے ، ان پر الزام ہے کہ گذشتہ کئی برس سے لندن میں مقیم رہ کر پاکستانیوں میں شرپھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور کراچی کے جو بدترین حالات ہیں وہ ان ہی کی دین ہے۔

1992ء سے لندن میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بانی و قائد الطاف حسین نے گذشتہ دنوں اپنی ایک تقریر کے ذریعہ پاکستانیوں کی عزت نفس پر ایسی شدید کاری ضرب لگائی کہ دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے پاکستانی، الطاف حسین پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف آواز اٹھانے اور اس جماعت کا پاکستان سے صفایا کرنے پر بضد نظر آرہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی اور دیگر مقامات پر متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر کو مہر بند کردیا گیا اور بعض مقامات پر اس کی عمارتوں کوبلڈوزرس سے مسمار کردیا گیا اور اس کے کئی قائدین کو حراست میں لینے کی اطلاعات گشت کررہی ہیں۔ الطاف حسین نے اپنے متنازعہ خطاب میں کہا تھا کہ’’ پاکستان پوری دنیا کے لئے کینسر ہے، پاکستان پوری دنیا کے لئے سردرد ہے، پاکستان پوری دنیا کے لئے دہشت گردی کا مرکز ہے، پاکستان زندہ باد کون کہتا ہے جبکہ یہ مردہ باد ہے‘‘۔ الطاف حسین کے اس تبصرہ کے بعد ملک بھر میں تشدد پھوٹ پڑا اورپاکستانی عوام نے الطاف حسین کو ہندوستانی ایجنٹ و جاسوس قرار دیا۔اور انہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کرنے والا بتایا۔الطاف حسین جن کے دادا 17ستمر 1953کو کراچی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے دادا مولانا مفتی رمضان حسین آگرہ یوپی کے مفتی اور جید عالم بتائے جاتے ہیں الطاف حسین کے والد نذیر حسین ہند برطانوی حکومت میں اسٹیشن ماسٹر تھے حصول آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور کراچی میں ایک کارخانے میں کلرک مقرر ہوئے۔جبکہ لندن میں مقیم پاکستان کے ممتاز صحافی سمیع اﷲ ملک نے اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ’’ الطاف حسین کے باپ کا تعلق تو ضلع جھنگ کے سیال خاندان سے ہے جس کی یہ آج تک تردید نہیں کرسکا اور اب تک مہاجر ہونے کا جھوٹا دعوی کرکے تمام مہاجر قوم کو دھوکہ دے رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں مہاجرین کی تیسری نسل ہے جو اب مہاجر نہیں کہلائی جاسکتی ان سے مخاطب ہوتے ہوئے سمیع اﷲ ملک لکھتے ہیں کہ ’’ میرے بھائیو اور بہنو جن کے آباو اجداد نے اس ملک عزیز پاکستان کے لئے اپنی عزت ، مال، جائیداد، اور جان کی قربانی دے کر ہجرت کی ، آپ کے آبا و اجداد پورے پاکستان کے محسن ہیں۔ آپ کا خون اس زمین کے ہر گل بوٹے کے رنگ اور خوشبو میں شامل ہے۔ آپ پاکستان کے اتنے ہی مالک ہیں جتنے یہاں کے نسل در نسل مقامی لوگ۔ خدارا حقیقت کو پہچانیے اور پاکستان اور اپنے عظیم آباو اجداد کے حلال خون کی توہین مت کیجئے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق الطاف حسین نے 1974ء میں جامعہ کراچی سے بی فارمیسی کرنے کے بعد ایم فارمیسی میں داخلہ لیا لیکن یونیورسٹی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ 11جون 1978ء میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی اور اس کے بانی و چیرمین رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ الطاف حسین کی تحریک کی بنیاد جنرل ضیاء الحق کے دور میں پڑی اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اسے مزید تقویت حاصل ہوئی۔ویسے الطاف حسین کو 1979ء میں اس وقت کی مارشل لا حکومت نے بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیو ں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر گرفتار کرلیا اور انہیں پانچ کوڑوں اور نو ماہ قید کی سزا سنائی۔ رہائی کے بعد الطاف حسین نے اپنی تنظیم کو پورے کراچی میں متعارف اور منظم کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنے رفقاء کے ساتھ بھرپور اور غیر معمولی محنت کی۔18؍ مارچ1984ء کو الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قیام کا اعلان کیاجو بعد میں سارے ملک میں پھیل گئی۔ 1984ء میں کراچی میں لسانی فسادات کا آغاز ہوا تو ایم کیو ایم کو ایک بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل ہوئی اور ساتھ ہی الطاف حسین کی فسادات کی وجہ سے بدنامی بھی ہوئی۔ اس دوران الطاف حسین نے سندھ کے دوسرے شہروں کا دورہ کیا اور جہاں جہاں مہاجر آباد تھے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ اس طرح ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت حاصل کرلی۔

الطاف حسین اور ان کی مہاجر قومی موومنٹ کی تشدد آمیز سیاست کا پردہ اس وقت فاش ہوا جب 1992ء میں سندھ کے دیہی علاقوں میں امن و آمان کی خراب صورتحال اور بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات سے نمٹنے کیلئے فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا لیکن جلد ہی اس آپریشن کا رخ مہاجر قومی موومنٹ کی جانب موڑ دیا گیااور جماعت کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس سے قبل ہی الطاف حسین لندن فرار ہوگئے ، بتایا جاتا ہے کہ 1991ء میں الطاف حسین پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنوں نے انہیں برطانیہ بھیج دیا اور وہیں سے اب تک متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت الطاف حسین کررہے ہیں وہ ٹیلی فونک خطاب کے ذریعہ پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہیں ۔ جولائی 1997ء میں مہاجر قومی موومنٹ کا نام تبدیل کرکے متحدہ قومی موومنٹ رکھا گیا اور اس میں مہاجرین کے علاوہ دیگر تمام مظلوم طبقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بات کی گئی ۔ 2001دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد الطاف حسین نے برطانوی وزیر اعظم کے نام خط میں سندھ کے شہروں اور دیہات میں جہادی عناصر پر معلومات برطانیہ کو فراہم کرنے کی پیش کش کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اپنے آپ کو شریک بنایا۔ برطانیہ نے 2002ء ء میں انہیں برطانوی شہریت دے دی اس طرح الطاف حسین کو مزید آزادی فراہم ہوئی اور وہ لندن میں رہ کر پاکستانیوں کی قیادت کررہے ہیں۔ 2002ء کے انتخابات میں حصہ لیا اور ایم کیوایم نے مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد کیا اور حکومت میں شامل ہوئی۔ 2008کے انتخابات میں اپنی دیرینہ مخالف پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) کے ساتھ اتحاد کیا لیکن دونوں جماعتوں کے درمیان ناخوشگوار ماحول دکھائی دیتا رہا ۔
الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر 1992ء کے بعد سے ہی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں ۔ قتل و غارت گیری، لوٹ مار، ڈکیتی ، فائرنگ ، بم دھماکے وغیرہ کے ذریعہ عوام کا جینا حرام کرنے کے علاوہ کراچی میں 200پولیس افسروں کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا گیا جو شائد ثابت نہ ہوسکا۔ گارجین اخبار کے مطابق برطانیہ جو کراچی میں بڑے پیمانے پر جاسوسی کارروائیوں میں ملوث ہے اس کے لئے ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا بھرپور تعاون اسے حاصل ہے۔ اور یہی وجہ بتائی جاتی ہے کہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے خلاف برطانوی حکومت کوئی شدید کارروائی نہیں کرتی اور الطاف حسین پر دہشت گردی کے الزامات سے قطع نظر ان کے ساتھ بہتر روابط رکھے ہوئے ہیں۔

الطاف حسین نے کئی مرتبہ اپنی ٹیلی فونک تقاریر میں براہِ راست پاکستان کے سیکیوریٹی اداروں کو دھمکی دی ہے اس کے علاوہ غیر ملکی عناصر سے کئی مرتبہ پاکستان میں مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے جس کے خلاف پاکستانی وزیر داخلہ و دیگر سیاسی قائدین و صحافیوں نے الطاف حسین کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کوئی بھی محب وطن شہری ایسی حرکت نہیں کرسکتا کہ وہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی راء اور نیٹو جیسے غیر ملکی ایجنسیوں سے امداد طلب کریں۔ تحریک انصاف کے رہنماء عمران خان نے الطاف حسین کے خلاف لندن جاکر مقدمہ چلانے کی بھی کوشش کی تاہم وہ اپنے ان الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔2013ء کے انتخابات کے بعد الطاف حسین پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو دھمکیوں اور شاہد حسین کے قتل کے الزامات بڑے پیمانے پر لگائے گئے ان الزامات لگائے جانے کے بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا لیکن بعد میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے تفتیش کے بعد ان تمام الزامات کو جھوٹا قرار دے دیا۔ جون 2013میں عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سلسلہ میں برطانوی پاسبان نے الطاف حسین کے گھر چھاپہ مارا ، جس کے بعد الطاف حسین نے تفتیش مکمل ہونے تک ایم کیو ایم کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا لیکن جماعت کے کارکنوں اور عوام کے شدید ردعمل اور اصرار پر استعفی واپس لے لیا ۔ الطاف حسین پر منی لانڈرنگ کے الزامات بھی عائد کئے گئے۔ 11؍ مارچ2015کو ایم کیو ایم کے صدر دفتر نائن زیرو پر پاکستان رینجرز نے چھاپہ مارا اور کئی افراد کو گرفتار کیا گیا جس میں سزائے موت پانے والے قیدی اور ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔اس چھاپہ کے بعد ظاہر ہوتا ہیکہ پاکستان میں سزائے موت پانے والے قیدی ہوں یا دوسرے سخت سزایافتہ قیدی انہیں کس طرح چھوٹ ملتی ہے اور وہ کس طرح کھلی فضاء میں زندگی گزارسکتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو جو آزادی ہے وہ انکی خطرناک اور دھمکانے والی پالیسیوں ہی نہیں بلکہ قتل و غارت گیری کا بازر گرم کرنے کا نتیجہ ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایم کیو ایم کراچی اور دیگر پاکستانی شہروں میں دہشت گردی کا ماحول بنائے ہوئے ہے تو یہ پاکستانیوں کے لئے شرمناک بات ہے کیونکہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج ملک سے دہشت گردی کے صفائے کی بات کرتی ہے ۔ گذشتہ دنوں الطاف حسین کا پاکستان کے خلاف دیا گیا بیان کسی بھی ذمہ دار اور محب وطن شہری کا ہو ہی نہیں سکتا۰۰۰یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی ملک و بیرون ملک اس بیان کے خلاف شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۰۰۰
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 259 Articles with 99809 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Sep, 2016 Views: 372

Comments

آپ کی رائے