ہم شاعر ہوتے ہیں

(Habib Gohar, Kahuta)
بزم فکر سخن پلندری کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر وحید احمد کی صدارت میں ہونے والے ایک مشاعرے کی روداد
پلندری کو کشمیر کا پہلا آسمان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس کی بلندی سحر انگیز اور دل کشا ہے۔ ناگن کی طرح بل کھاتی سڑک پر چمکتا سبزہ راہی کو اپنے دامِ فریب میں لے لیتا ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر چیڑ کے کشید قامت درختوں سے چھناتی ہواوں کی سریلی آوازیں سفر کو رومان پرور بنا دیتی ہیں۔ یہ پُرفضا ہل سٹیشن کبھی پونچھ سے پنجاب جانے والے اعلی ریاستی اہلکاروں کا بلند ترین پڑاو ہوا کرتا تھا۔ سیاسی، سماجی اور تعلیمی انقلاب کے نقیب بابائے پونچھ کرنل خان محمد خان کا تعلق اسی علاقے سے ہے۔ ان کی مٹھی آٹا سکیم سے لگائی ہوئی پنیری اب شمشاد و صنوبر کے روپ میں جلوہ گر ہے۔ مرد تو کیا خواتین بھی اعلٰی تعلیم کرنے لگی ہیں۔

علم کے اس کوہسار میں وادی گنگ و جمن کے عبدالعلیم صدیقی نے ایسی ادبی اور تہذیبی گل کاری کی ہے کہ اب ہر طرف صوتِ ہزار کا موسم ہے۔ پلندری کے اس محسن کو ادارہ فکر و سخن ہر سال مشاعرے کی صورت میں خراجِ عقید ت پیش کرتا ہے۔ 20 اگست 2016 کو پلندری کے ایک بہترین ہوٹل کے باہر اس تنظیم کے سرشار عہدے داروں کی استقبالیہ قطاریں بتا رہی تھیں کہ ان کے لیے آج یومِ عید ہے۔

تقریب کو سہ آتشہ بنانے کے لیے جناب جاوید احمد کے نئے شعری مجموعے مٹی کا شجراور پروفیسر مسعود احمد خان کی کتاب خطباتِ اقبال میں قرآنی حوالے اور مباحث کی رسمِ پذیرائی کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ صدارت اردو نظم کے سحرکار شاعر ڈاکٹر وحید احمد کر رہتے تھے۔ ساتھ صاحب شام جاوید احمد اور جناب ظفری پاشا تشریف رکھتے تھے۔ پہلو نشینوں میں ڈاکٹر عابد سیال، کرنل شہاب عالم اور فیصل ساگر شامل تھے۔ ایک سائیڈ پر مہمانانِ اعزاز مدثر عباس، دلاور علی آزر اور راقم بیٹھے ہوئے تهے۔

مخمور ناظمین آصف اسحاق، ضیا الرحمان ضیا اور ڈاکٹر ماجد محمود کے لہجوں کی شیرینی اور سرشاری نے مشاعرے کا ماحول قابلِ رشک بنا دیا تھا ۔۔۔۔ ترتیب و تہذیب سے لبریز اور تقدیم وتاخیر سے ماورا۔ ان کے حسنِ انتظام کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔

اٹک ، ٹیکسلا، پنڈی، کہوٹہ اور کوٹلی و کشمیر سے آئے شعرا کے لیے گداز صوفوں، ٹھنڈی بوتلوں، گرم پیالیوں اور چکن بریانی کا اہتمام تھا۔ شریک شعرا میں زین حفیظ، سہراب کاوش، لیاقت عثمان، مجید مہر، بشارت محمود، مسعود ساگر، شوزیب کاشر، لیاقت شوران، شہزاد عامراور شکیل شاکی بھی شامل تھے۔ سخن فضاؤں میں اٹھکیلیاں کرتی حسن ظہیر راجہ اور قمر عباس کی جوڑی کہوٹہ سے اپنے ساتھ عون رضا سید، احمد بلال کھوکھر اور محسن ظفر ستی کو بھی اٹھا لائی تھی۔

اس مشاعرے کو مترنم مشاعرہ کہا جائے توغلط نہ ہو گا۔ جمیل اختر، ساحل بٹ، فاروق صابر اورصاحبِ شام جاوید احمد سے مترنم غزلیں تو متوقع تھیں لیکن یہ راز پہلی بار کھلا کہ کشمیر کی گنگناتی دھرتی کے اکثر شعراء کی آوازیں سریلی اور پُرسوز ہیں۔

مقامی شعرا کی اکثریت وضع قطع میں با شرع تھی۔ انہوں نے ادب کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار جس تہذیبی شائستگی سے کیا وہ قابلِ داد ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہر قسم کے خیالات کی سماعت خوش دلی سے کرتے رہے بلکہ ہر اچھے شعر پر داد بھی دیتے رہے۔

مشاعرہ ہال میں صرف ایک خاتون تھیں۔ وہ جس سنجیدگی اور توجہ سے مشاعرہ سنتی رہیں وہ قابلِ داد ہے۔ اس کے علاوہ مشاعرے کی خاص بات چکن بریانی، ٹھنڈی بوتیلں، گرما گرم چائے، فقہیہ کا اضطراب، دلاور کی داد، ساگر کا سکوت، شہابی گھن گرج، سیالوی ٹھہراؤ۔۔۔ ان سے بڑھ کر میزبانوں کی محبت اور سب سے بڑھ کر ہوش ربا صاحبِ صدارت ۔۔۔ وحید الشعرا ڈاکٹر وحید احمد تھے۔

جب شمع صدرِ مشاعرہ کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے ادبی حیاتیات کے ڈاکٹر ماجد محمود اور ان کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ لطیفہ یہ ہے کہ غزل کے مشاعرے کا صدر نظم کا شاعر بنا دیا گیا ہے۔۔۔ لیکن جب لب کشا ہوئے تو وہ طلسم بکھیرا کہ زمینِ سخن کو آسمان کر دیا ۔۔۔ مشاعرے کے اس رنگ کی منظرکشی سے لفظ عاجز ہیں ۔۔۔ ان کی ہر نظم پلندری کے اس یادگار مشاعرے پر تصدیقی مہرثبت کرتی چلی گئی۔

اس دعا کے ساتھ کہ آزاد کشمیر کا پہلا کیپٹل پلندری اپنی قدرتی بلندی کی طرح ادبی بلندی سے سرافراز ہو، ڈاکٹر وحید احمد کی ایک تہلکہ خیز نظم مشاعرے میں شریک تمام معزز شعرا کی نذر ہے۔

ہم شاعر ہوتے ہیں
ہم پیدا کرتے ہیں
ہم گیلی مٹی کو مٹھی میں بھینچا کرتے ہیں
تو شکلیں بنتی ہیں
ہم ان کی چونچیں کھول کے سانسیں پھونکا کرتے ہیں
جو مٹی تھے، وہ چھو لینے سے طائر ہوتے ہیں
ہم شاعر ہوتے ہیں
کنعان میں رہتے ہیں
جب جلوہ کرتے ہیں
تو ششدر انگشتوں کو پوریں نشتر دیتی ہیں
پھر خون ٹپکتا ہے
جو سرد نہیں ہوتا
اک سہما سا سکتہ ہوتا ہے، درد نہیں ہوتا
یونان کے ڈاکو ہیں
ہم دیوتاوں کے محل میں نقب لگایا کرتے ہیں
ہم آسمان کا نیلا شہ دروازہ توڑتے ہیں
ہم آگ چراتے ہیں
تو اس دنیا کی یخ چوٹی سے برف پگھلتی ہے
پھر جمے ہوئے سینے ہلتے ہیں،سانس ہمکتی ہے
اور شریانوں کے منہ کھلتے ہیں
خون دھڑکتا ہے
جیون رامائن میں
جب راون استبدادی کاروبار چلاتا ہے
ہم سیتا لکھتے ہیں
جب رتھ کے پہیے جسموں کی خاشاک کچلتے ہیں
تو گیتا لکھتے ہیں
جب ہونٹوں کے سہمے کپڑوں پر بخیہ ہوتا ہے
ہم بولا کرتے ہیں
جب منڈی سے اک اک ترازو غائب ہوتا ہے
تو جیون کو میزان پہ رکھ کر تولا کرتے ہیں
مزدوری کرتے ہیں
ہم لفظوں کے جنگل سے لکڑی کاٹا کرتے ہیں
ہم ارکشی کے ماہر ہیں
انبار لگاتے ہیں
پھر رندہ پھیرتے ہیں
پھر برما دیتے ہیں
پھر بدھ ملاتے ہیں
پھر چول بٹھاتے ہیں
ہم تھوڑے تھوڑے ہیں
اس بھری بھرائی دنیا میں ہم کم کم ہوتے ہیں
جب شہر میں جنگل در آئے،
اور اس کا چلن جنگلائے
تو ہم غار سے آتے ہیں
جب جنگل شھر کی زد میں ہو
اور اس کا سکون شہر آئے
تو برگد سے نکلتے ہیں
ہم تھوڑے تھوڑے ہیں
ہم کم کم ہوتے ہیں
ہم شاعر ہوتے ہیں حبب
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Habib Gohar

Read More Articles by Habib Gohar: 2 Articles with 2136 views »
Lecturer URDU, Govt Degree College Kahuta
President Kahuta Literary Society
Ex Editor IMKAN
.. View More
05 Sep, 2016 Views: 1221

Comments

آپ کی رائے