آخری عہدِ مغلیہ میں اردو شاعری

(Ghulam Ibn-e-Sultan, Jhang)
 نو آبادیاتی نظام کی آگ میں جلنے والے آفت زدہ علاقوں کی راکھ کو جب بھی کریدا جائے ایام گزشتہ کی اذیت و عقوبت کے دہکتے شرارے اپنی حدت اور شدت کا احساس دلاتے ہیں ۔بر عظیم کی تاریخ کا یہ الم ناک دور جو نوے سال پر محیط ہے کشتِ دہقاں اور تخت و تاج لُوٹنے کی ظلم و جور کی ایسی الم ناک داستان ہے جس کا دفاع ممکن ہی نہیں۔ بر صغیر کو برطانوی نو آبادی کی شکل دینا فسطائی جبر کی ایسی سازش تھی جس کے نتیجے میں تاجروں کے روپ میں آنے والے بر طانوی تاجروں نے اپنے مکر کی چالوں اور عیاری کے حربوں سے تاجوروں کا روپ دھار لیا اور پُوری مملکت کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے ۔ان مفاد پر ست استحصالی عناصر نے عنان ِ اقتدار سنبھال کر اس خطے کے مظلوم و مجبور عوام پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا۔برطانوی ہوسِ ملک گیری کا یہ احوال تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ظلم و استبداد ،استعمار ،استحصال اور نو آبادیاتی نظام کی داغ بیل اس عہد میں پڑی جب اس خطے میں مغل شہنشاہ جہانگیر (عہد حکومت :پندرہ اکتوبر 1605تا سات نومبر 1627) کا سکہ چلتا تھا۔یہ مطلق العنان بادشاہ اس وقت علی قلی خان(شیر افگن) کی بیوی نور جہاں کو بیوگی کی چادر اوڑھانے کے بعد ملکۂ ہند بنا کر اس کے ہاتھوں کٹھ پُتلی بن چکا تھا۔برطانوی بحری جہاز ہیکڑکا کما نڈر ہا کنز HAWKINS)) وسط اپریل 1609 میں آگرہ میں مغل شہنشاہ نو ر الدین جہا نگیر کے دربار میں حاضر ہوا(1)۔مستقبل کے حالات سے بے خبر مغل شہنشاہ جہا نگیر (مرزا نور الدین بیگ محمد خان سلیم )نے اس طالع آزما اور مہم جُو انگریز تاجرکا پر تپاک استقبال کیا۔وادیٔ خیال میں مستانہ وار گُھومنے کا عادی مغل شہنشاہ جہانگیر (پیدائش:20.9.1569وفات:8.11.1627)جس کے ساتھ انار کلی اور نو ر جہاں جیسی حسن و رومان کی متعدد داستانیں منسوب ہیں،حالات کی سنگینی سے بے خبر تھا ۔جہانگیر نے تو فی الفور ہاکنز کو کچھ تجارتی مراعات دے دیں لیکن شاہی دربار میں موجود با اثر پر تگیزوں نے شہنشاہ کے اس اقدام پر زبر دست احتجاج کیا جس کے نتیجے میں یہ مرا عات واپس لے لی گئیں۔برطانوی تاجروں کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری رہااور مغلیہ دربار میں موجود ضمیر فروش عناصر نے بعض پست نوعیت کے ذاتی مفادات کی ہوس میں قومی حمیت اور ملکی مفاد کو داؤ پر لگانے میں تامل نہ کیا ۔اس کے نتیجے میں مئی 1609 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو تجا رتی مراعات کے نئے احکا مات مل گئے ۔ اس تجارتی دوڑ دھوپ کا سبب یہ تھا کہ ستمبر 1599 میں بر طانیہ کے مقتدر حلقوں نے یہ طے کر لیا کہ ہندوستان کے ساتھ براہِ راست تجارت کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دُور کر کے ہر حال میں برطانوی حکومت کے مفادات کے حصول کو یقینی بنایا جائے گا۔اس مقصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے لندن میں برطانوی لارڈ مئیر کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس میں یہ قرارداد منظور ہوئی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہندوستان سے براہِ راست تجارت کے فروغ کی خاطر ایک با اختیار، مؤثر اور فعال ایسوسی ایشن کا قیام وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔اکتیس دسمبر سال 1600کو بر طانیہ کی ملکہ الزبتھ اول(عہد حکومت :سترہ نومبر 1558تاچوبیس مارچ1603)نے ایسٹ انڈیز میں گورنر اور لندن کے سوداگروں کو چارٹر دیا۔بر عظیم پاک و ہند میں یورپی اقوام کے سبز قدم تاجروں کی روپ میں پڑے۔اس گلشن میں یہ بُوم ،شِپر ،کرگس اور زاغ و زغن کیا آئے کہ ہر شاخ پر چغد نے مستقل طور پر بسیرا کر لیا ۔تاجروں کے روپ میں آنے والوں کے گھناؤنے جرائم،مکر کی چالوں ،فسطائی جبر ،موقع پر ستی،مہم جُوئی اور ہوسِ ملک گیری نے انھیں اخلاقی پستی کی جانب دھکیل دیا اور انھوں نے مقامی سیاست میں ٹانگ اڑانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔

بادی النظر میں تو یورپی ممالک سے جو تاجر بر صغیر میں تجارت کی غرض سے پہنچے مگر حقیقت میں اُن کے عزائم کچھ اور تھے۔واسکوڈے گاما (B:1460,D:1524)نے جب بیس مئی 1498کو کالی کٹ میں اپنا سبز قدم رکھا تو اسی روز سے اس سر سبز و شاداب خطے کی تمام رُتیں بے ثمر ہونے کے لرزہ خیز اور اعصاب شکن دور کا آغاز ہو گیا۔گلشنِ ہند جہاں گلاب ،یاسمین، چنبیلی ،موتیا، اثمار و اشجار اور بُور لدے چھتنار کثرت سے پائے جاتے تھے وہاں حنظل، کریروں،پوہلی،دھتورا،پُٹھ کنڈا، اکڑا،لیدھا،جوانہہ،لیہہ، کانگیہاری،پاپڑا،گنار،الونک ،اکروڑی، باتھو،تاندلہ ،لانی، اور زقوم کی فراوانی ہو گئی ۔تاجروں کے رُوپ میں آنے والے ان مہم جُو ،طالع آزمااور موقع پرست عناصر نے بے شرمی ،ڈھٹائی اور بے غیرتی کی انتہا کرتے ہوئے مقامی باشندوں کی توہین،تذلیل،تضحیک اور بے توقیری کو وتیرہ بنا لیا ۔مقامی سیاست میں ان کے دخیل ہونے سے سلطانیٔ جمہور کو بے دخل کرنے کے قبیح کام کا آغاز ہو گیا۔انسانیت اور اخلا ق سے عاری ان تاجروں نے اپنے رسوائے زمانہ فریب ’’لڑاؤ اور حکومت کر و ‘‘ کے وار سے بر صغیر کی وحدت اور ملی تشخص کے شجرِ سایہ دار پر آری چلادی اور یہاں کی جائز حکومت کو ناجائز حربوں سے غیر مستحکم کیا۔بر صغیر میں پر تگیزوں کا قیام برطانوی طالع آزماؤں کے دِل میں کا نٹے کی طرح کھٹکتا تھا وہ انھیں نکال کر خود بلا شرکتِ غیرے یہاں کے تمام وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔بر صغیر میں پر تگیزوں سے ہر شعبے میں سبقت لے جانے اور ان سے بہتر مراعات کے حصول اور زیادہ مفادات کی جستجو کی خاطر بر طانوی شہنشاہ جیمز اول (عہد حکومت :چوبیس جولائی،1567تاستائیس مارچ،1625)نے ستمبر 1615کے وسط میں سر تھامس رو(Sir Thomas Roe,B:1581,D:1644)کا تقرر بہ حیثیت سفیر کیا اور اسے ہندوستان روانہ کیا تاکہ تجارتی مراعات حاصل کی جا سکیں۔ اس سے قبل تھامس رو 1583سے 1619تک کے عرصے میں بر صغیر کے کئی سفر کر چکا تھا اور مقامی حالات سے اچھی طرح با خبر تھا۔اپنے عہد کا ہو شیار سفارت کارتھامس رو سال1615میں اجمیر میں مغل شہنشاہ جہانگیر دربار تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔بر صغیر میں تین سال قیام کے دوران تھامس رو نے شاہی خاندان کے متعدد اہم افراد کو اپنا ہم نوا بنا لیا جن میں خرم،خسرو اور آصف خان شامل تھے۔اس عرصے میں سر تھامس رو نے شاہی دربار میں موجود کئی آستین کے سانپ اور سانپ تلے کے بچھو تلاش کر لیے جن کی مد دسے وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو گیا۔ 1719کے ماہ فروری میں جب وہ واپس انگلستان روانہ ہوا تو بے حد مطمئن و مسرور تھا۔ اس نے سورت،آگرہ،احمد آباد اور بروچ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک مضبوط و مستحکم تجارتی کمپنی کی حیثیت سے اس قدر فعال بنا دیا کہ مستقبل قریب میں اس تجارتی کمپنی کے سیاسی اور معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرنے کی راہ ہموار ہو گئی۔ قوموں کی تقدیر کی خرید و فروخت کے سودے اور اس قدر ارزاں کہ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔تاریخ کے طالب علم وقت کے اس سانحہ کو کسی نام سے تعبیر کرنے سے قاصر ہیں ۔برطانیہ کے شہنشاہ چارلس دوم کی شادی جب کیتھرین سے ہوئی تو شادی کے مو قع پر چارلس دوم نے پر تگیزوں سے جزیرہ ممبئی اپنی ملکہ کے جہیز میں وصول کر لیا ۔(2)۔یہ شادی تئیس جون سال 1661کو انجام پائی۔ممبئی بر عظیم پاک و ہند کا وہ پہلا شہر ہے جو براہِ راست شہنشاہ انگلستان کی ملکیت میں آیا۔بر طانیہ کے شاہی خاندان نے تئیس ستمبر سال 1668 کوممبئی کو ایسٹ انڈیا کمپنی کو پٹے پر دے دیا ۔تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ سال 1730تک بر طانیہ کا شاہی خاندان کرائے کی رقم با قاعدگی کے ساتھ وصول کرتا رہا ۔مدراس کی بندرگاہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے سال1639میں پونا ملے کی ہندو راجہ وینکٹ دری نائک سے پٹے پر حاصل کی۔(3)نو آبادیاتی نظام اپنے ساتھ مقامی تہذیب و ثقافت اور فنون لطیفہ کی بربادی کا پیغام لایا۔حالات کے جبر کے شکار بر عظیم کے مقامی با شندوں نے زندگی کی اقدارِ عالیہ پر جس وقت جبر کے تیشے چلتے دیکھے تو انھوں نے نا چار صبر کے بیشے زادِ راہ بنائے۔بر طانوی تاجروں نے پر تگیزوں کے ساتھ گوا کنونشن کے تحت سال 1635سے تعلقات کار قائم کر رکھے تھے۔ جنوبی ہندوستان میں مالا بار کے ساحلی علاقوں میں انگریزوں نے اپنا اثر ورسوخ بڑھانا شروع کر دیااور مالا بار کے ساحل پر انگریزوں کے تجارتی بحری جہاز کثرت سے آنے لگے۔نو آبادیاتی نظام کے تحت برطانوی سامراج نے بر عظیم کے وسائل کی لُوٹ کھسوٹ کی انتہا کر دی۔جب بر طانوی تاجروں نے یہ محسوس کیا کہ سورت کا علاقہ طاقت ور مر ہٹہ سردار سیوا جی کے پے در پے حملوں کے باعث غیر محفوظ بن چکا ہے تو انھوں نے ممبئی کا رخ کیا ۔یہاں پہنچ کر انھوں نے سُکھ کاسانس لیا کیونکہ یہاں وہ اپنے تمام سیاسی مخالفین( جن میں مغل حاکم بھی شامل تھے )کی سرکوبی سے محفوظ ہو گئے تھے۔اب سورت کے بجائے ممبئی ہی برطانوی تاجروں کی سر گرمیوں کا مرکز بن گیا اور اس کے ساتھ ہی پریذیڈنسی بھی سورت سے ممبئی منتقل کر دی گئی۔بیرونی ممالک کی آزادی اور خود مختاری سلب کر کے انھیں اپنے تابع اور باج گزار بنانابرطانوی سامراج کا وتیرہ بن گیا تھا۔

دکن میں حصول اقتدار،جلبِ منفعت،ہوس جا ہ و منصب اور زر و زمین کے حصول کی جو شر م ناک و شاطرانہ کشمکش انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان شروع ہوئی اس کے با عث یہ علا قہ رفتہ رفتہ امن و سکون سے محروم ہو گیا ۔مقامی لوگ استحصالی عناصر کے مکر کی چالوں اور لُوٹ کھسوٹ کے باعث مفلوک الحال ہو گئے۔ بے بس و لاچار مظلوم وبے نوا مجبور انسا نوں پر استحصال پسند سا مراجی طاقتوں نے انتہا ئی فلا کت کی لعنت مسلط کردی ۔ ظلم و بیداد گری کا ایک ایسا لرزہ خیز دور شروع ہوا جس کا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ جنوبی ہندوستان میں کر نا ٹک کی پہلی لڑائی(1746-1748) انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان ہندوستان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں بلا شرکت غیر ے عمل دخل کے سلسلہ میں لڑی گئی ۔ مفادات کا یہ قبیح تصادم مقامی حکمرانوں کی داخلی خودمختاری،آزادی،وقار اورقومی وحدت و ملی تشخص پر کاری ضرب کے مترادف تھا۔فی الحقیقت اس جنگ نے مقامی حکمرانوں کی سیاسی قوت،عسکری صلاحیت اور ان کے اقتدار کا راز طشت از بام کر دیا۔ اقتضائے وقت کے مطابق بر صغیر کے مقتدر حلقوں کوبحری طاقت کی اہمیت کا شدت سے احساس ہوا۔ ہندوستانی افواج کے فرسودہ آلاتِ جنگ اور غیر موثر حربی قوت سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یورپی جنگی طریقے اور ساز وسامان بالخصوص بحری قوت ہندستانی ریاستوں کے عسکری نظام پر فوقیت رکھتی ہے۔

تاریخ کی خاصیت ہے کہ یہ سدا کٹھن، پر پیچ اور ناہموار راہوں پر رواں دواں رہتی ہے۔تاریخ کایہ عمل مستقل نوعیت کا ہوتاہے جو زندگی کو ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھنے کی صلاحیت سے متمتع ہے۔یہ کبھی آہستہ خرام اور کبھی تیز گام ، کبھی یہ اپنے آپ کو اس انداز میں دہراتی ہے کہ گمان گزرتا ہے یہ پیچھے کی طرف جارہی ہے لیکن اس عمل کے پس ِپردہ بھی آگے بڑھنے کا راز مضمر ہوتا ہے۔ اس کی پیش قدمی کو پسپائی پر محمول کرنا ایک مہلک غلطی کے مترادف ہے اوراسی قسم کی غلطیاں قوموں کی تاریخ کے دھارے بدل دیا کرتی ہیں۔ برصغیر کی صورت میں انگریزوں کوایسا علاقہ ہاتھ آیا جس میں انھیں لوٹ مار کے وسیع مواقع میسر تھے ۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجروں نے بر صغیر پر اپنا غاصبانہ تسلط قائم کرنے کی غرض سے طویل المدت منصوبہ بندی کی تھی۔ ان کی نظریں محض تجارت تک محدود نہ تھیں بلکہ وہ تجارت کی آڑ میں پورے ملک پراپنا غاصبانہ تسلط اور آمرانہ اقتدار قائم کرنے کے منصوبے بنا چکے تھے ۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگا یا جاسکتا ہے کہ 1616- 29 کے عرصہ میں ستائیس جہاز سورت سے لندن کے لیے500 ٹن سامان لے کر روانہ ہوئے اس کے بعد 1630 -44 کے دوران یہ تعداد اکیس رہ گئی ۔ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی تجارت کے لیے جو نصب العین اپنایاوہ یہ تھا کہ تجارت صرف اسی صورت میں کی جاسکتی ہے جب ہاتھ میں تلوار بھی ہو ۔ (4) کرناٹک کی دوسری لڑائی 1748-1754) ( اور تیسری لڑائی1756-1762) ( کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں کے ظالمانہ استحصالی مفادات اور جابرانہ لُوٹ کھسوٹ کے حربوں میں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ فرانسیسیی جوسال 1664سے تجارت کی غرض سے بر عظیم میں قدم جمانے کی شاطرانہ چالیں چل رہے تھے ،اب ان کے قدم اُکھڑنے لگے اور ان کا چل چلاؤ صاف نظر آتا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دکن کے بحری راستوں پر انگریزوں کا قبضہ تھا ۔بحری راستوں پر انگریزوں کے غاصبانہ تسلط نے بساط سیاست ہی پلٹ دی ۔فرانسیسیوں کو سامان ِتجار ت اور جنگی سازو سامان کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ۔ایسا محسوس ہو تا تھا کہ اب ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت میں نہیں سما سکتیں۔دو سامراجی طاقتوں میں سے ایک کی ہزیمت اور پسپائی نوشتۂ دیوار بن چُکی تھی۔اس کے بعد وہی ہوا جو اہلِ نظر سے مخفی نہ تھا ،انگریز اپنی روایتی کینہ پروری،عیاری،مکاری ،شاطرانہ چالوں،جنگی منصوبہ بندی،حربی بالا دستی،افرادی قوت اور وسائل کے باعث فرانسیسیوں کو نیچا دکھانے میں کا میاب ہو گئے اور بلا شرکتِ غیرے ہندوستان کے تمام قدرتی وسائل،زرعی مصنوعات اور زرو مال کو ہڑپ کرنے کے بارے میں سوچنے لگے۔یورپ کی استعماری طاقتوں نے جب بر عظیم کے وسائل کو دیکھا تو وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے میدان میں کُود پڑیں۔سال1598میں ہالینڈ کے رہنے والے ولندیزی تاجروں نے مہم جوئی کی خاطر ہندوستان کا رخ کیا۔انھیں بھی انگریزوں کے ہاتھوں ایسی منھ کی کھانا پڑی کہ وہ کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ یہ بات کالنقش فی الحجر ہے کہ بر عظیم میں جب پہلے غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اسی وقت یہاں دو قومی نظریے کے پنپنے کا آغاز ہو گیا۔سلطان محمود غزنوی(پیدائش: دو ۔ اکتو بر 971، وفات : تیس اپریل ،1030)نے بر عظیم کے طول و عرض میں صدیوں کے فرسودہ رسوم ورواج ،توہم پرستی ،بتوں سے اُمیدیں وابستہ کرنے ، دیوتاؤں اور مافوق الفطر ت عناصر کی سرابوں جیسی ہستی کے تصور کو بیخ و بُن سے اُکھاڑ پھینکنے میں اہم کردار ادا کیا ۔بر عظیم میں جن مسلمان خاندانوں نے اپنے عہد حکومت میں اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کی مساعی کو آگے بڑھایا ان کی تفصیل درج ذیل ہے :

خاندان غلاماں:1206 تا1290،خاندان خلجی:1290تا1320،خاندان تغلق:1320تا1412،سید خاندان:1414تا1451،لودھی خاندان:1451تا1526

جولائی 1206کو قطب الدین ایبک نے جب دہلی میں ایک خود مختار مسلمان حکومت کی بنیار رکھی تو تاریخ کے اوراق میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔اس کے ساتھ ہی بر عظیم میں مسلمانوں کی حکومت مغلوں کے زوال تک جاری ر ہی ۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر کے روپ میں آنے والے دہشت گرد حملہ آوروں کی بر صغیر میں دیدہ دلیری روز بہ روز بڑھنے لگی۔ان کی شقاوت آمیز نا انصافیاں،بے رحمانہ مشقِ ستم اورظالمانہ استحصالی حربوں سے عوامی زندگی اجیرن ہو چکی تھی۔مقامی حکمرانوں کو یہ خاطر میں نہ لاتے تھے یہاں تک کہ 1688 میں انھوں نے بنگال کے گورنر شائستہ خان سے جھگڑا مول لے لیا ۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ انگریز نوآبادیات کے گورنر نے جیمز دوم کو بھڑ کاکر مغل حکومت کے خلاف فوج کشی کا فیصلہ کرلیا۔ برصغیر کے حاجیوں کو راجہ داہر کے نقش قدم پر چلنے والوں نے بڑی بے دردی سے لوٹ لیا ۔ اس قسم کے انتہائی تشویش ناک حالات دیکھ کر مطلق العنان مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر نے غیظ و غضب کے عالم میں مجرموں کی سر کوبی کا فیصلہ کیا۔ سامراجی دہشت گردوں اور ان کے گماشتوں کو عبرت ناک سبق سکھانے کے لیے اس نے اپنی افواج کو انگریزوں کے خلاف کاروائی کا حکم دے دیا۔ سورت کی برطانوی فیکڑی مغل افواج نے چھین لی اور مغل دربار کی جانب سے تمام انگریز تاجروں کے انخلا کا حکم صادر ہوا۔انگریزوں نے اپنی روایتی مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذلیل ہوکر اورنگ زیب سے معافی مانگ لی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کرتا دھرتا اہل کار وں کے حریصانہ منصوبوں اور ہوس ملک گیری میں روز بہ روزاضافہ ہورہاتھا ۔بر طانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران نے فیصلہ کیا کہ دہلی میں مرکزی مغلیہ سلطنت کے حکمران سے ایک شاہی فرمان حاصل کیاجائے ۔مدراس کے گورنرپٹ(Pitt ) نے 1708 میں یہ نظریہ پیش کیا کہ مغلیہ دربار سے جو شاہی فرمان حاصل کیا جائے گا اس کی ذریعے مقامی اہل کاروں کی مداخلت کو روکنا آسان ہو جائے گا۔اس کا ارادہ تھا کہ شاہ عالم اول کے زمانے میں یہ تجویز دربار میں پیش کی جائے مگر شہنشاہ کی وفات اور اس کے بعد تخت نشینی کے قضیے کے باعث اس میں تاخیر ہوگئی ۔ فرخ سیئر جب سادات بارہہ کے تعاون اور سرپرستی سے تا ج و تخت پر قابض ہوگیا تو کمپنی کے نما ئندہ جان سرمن (Jhon Surmen ) کو 1714 میں دہلی روانہ کیا گیا۔یہ مذکرات وسط جوالائی 1717 تک جاری رہے ۔ ان کوششوں کو ولیم ہملٹن (William Hamiltan ) کی وجہ سے بہت تقویت حاصل ہوئی جوکہ مشن کے ساتھ ڈاکٹر کی حیثیت سے منسلک تھا ۔اس زمانے میں مغل شہنشاہ فرخ سیئر کوایک خطرناک بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ڈاکٹر ہملٹن نے مرض کی صحیح تشخیص کی اور اس کا بر وقت اور مؤثر علاج کر کے فرخ سیر کی جان بچائی۔فرخ سیر جب صحت یاب ہو گیا تو اس نے ممنونیت کے جذبات سے سر شار ہو کر اپنے معالج کی ہر بات تسلیم کیاور اسے منھ مانگا انعام دینے کا وعدہ کیا ۔اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈاکٹر ہملٹن نے فرخ سیر سے یہ استدعا کی کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو شاہی مراعات سے نوازے ۔

فرخ سیر نے اپنے معالج کی بات مانتے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی کو بے پناہ مراعات سے نوازا ۔فرخ سیر نے حیدر آباد،گجرات،بنگال،(جس میں بہار اور اڑیسہ بھی شامل تھے)کے تمام متعلقہ اہل کاروں کو حکم دیا کہ ان علاقوں میں انگریز تاجروں کو آزادانہ تجارت کے تمام حقوق حاصل ہوں گیاور ان کے کام میں کسی قسم کی مداخلت ہر گز نہ کی جائے۔بنگال کے ساتھ تجارت ہر قسم کے محصولات سے مستثنیٰ ہوگی اور اس پر کوئی واجبات وصول نہیں کیے جائیں گے تاہم شاہی خزانے کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے تین ہزار روپے سالانہ ادا کیے جائیں گے ۔ بر طانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے شاطر تاجروں کو کلکتہ کے اِرد گِرد مزید علاقہ پٹے پر مِل گیا۔حید ر آباد کے سلسلے میں کافی عرصہ پہلے انگریزوں کو کسی قسم کے واجبات کے بغیر جو سہولیات حاصل تھیں وہ برقرار رکھی گئیں۔ گجرات جیسے خوش حال صوبے کے ساتھ تجارت سے برطانوی تاجر لاکھوں روپے سالانہ منافع کماتے تھے مگر فرخ سیر نے اندھے کی ریوڑیوں کی طرح مراعات صرف بر طانوی تاجروں میں بانٹنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دس ہزار روپے سالانہ ٹیکس کے عوض گجرات کے ساتھ تجارت کی کُھلی چھٹی دے دی۔جان سرمن کے وفد کی یہ سب کامیابیاں ڈاکٹرولیم ہملٹن کے فرخ سیر کے ساتھ ذاتی رابطوں کی مرہونِ منت ہیں۔فرخ سیر کی کور مغزی ،بے بصری اور جہالت مآبی کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی کو کُھل کھیلنے کا موقع مِل گیا۔فرخ سیر جیسے ظلِ تباہی بر عظیم کے مظلوم عوام کی شامت اعمال کی صورت میں قصر شاہی اور ایوانِ اقتدار میں گُھس چکے تھے۔ صرف قصرِ شاہی پر ہی موقوف نہیں انگریزوں کوبر صغیر میں کچھ ایسے ابن الوقت ،جو فروش گندم نما ،مارِ آستین اور نمک حرام غدار مِل گئے تھے جنھوں نے مسلمان حکمرانوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ کر انتہائی گھٹیا مقاصد کے حصول کی خاطرمِلّی وقار،قومی مفاد اور مادرِوطن کی عزت و ناموس کو داؤ پر لگا دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے ننگِ انسانیت ،بے شرم، بے ضمیر اور بے غیرت مسخروں کی پست ذہنیت اور انتہائی تباہ کُن خود غرضیوں اور ہوسِ جاہ و منصب کے شعلوں نے ایک عظیم الشان سلطنت کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔(5) ایسٹ انڈیا کمپنی کے سامراجی عزائم کُھل کر سامنے آ گئے اور اس کے با اختیار طبقے نے اپنی اس نو آبادی پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی۔ اٹھارہویں صدی کے وسط تک ایسٹ انڈیا کمپنی کا آدم خور دیوِ استبداد تاجر کے رُوپ میں دندناتا رہا اور مقامی سیاست کی زبوں حالی پر بھی ہنہناتا رہا ۔جب مغلیہ سلطنت اپنے کور مغز حکمرانوں کی عاقبت نا اندیشی کے باعث زوال کا شکار ہونے لگی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس موقع سے بھر پُور فائد اُٹھایااور ہندوستانی سیاست میں گہری دلچسپی لینا شروع کر دی۔(6) یہ پیر ِ تسمہ پابر عظیم کے عوام کی گردنوں سے ایسے چمٹے کہ مسلسل نوے برس تک عوام کا خون چوستے رہے۔

کلائیو کی شا طرانہ چالوں سے نہ صرف تختِ دہلی کے شاہِ شطرنج بل کہ راجوں، مہاراجوں ، گورنروں،صوبے داروں اور منصب داروں سب کو عملاً غیر مؤثر کر دیا تھا۔ کلائیو نے اپنی فوجی استعداد میں اضافہ کرکے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنا یا ۔ ایک عام تجارتی کمپنی جس کا مقصد محض تجارت ہو، اسے جنگ و جدال میں اس طرح اُلجھا دیا گیا کہ بر طانوی استبداد کا حقیقی روپ سا منے آگیا۔ کر نا ٹک کی جنگوں میں انگریزوں اپنے یو رپی حریفوں کو سخت نقصان پہنچانے کے بعدان کے عزائم خاک میں ملا چکے تھے ۔برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے سرمائے،عسکری طاقت ،قوت و ہیبت کی دھاک بیٹھ چُکی تھی۔ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہوس ملک گیری کی راہ میں حائل ہونے والی ہر رکاوٹ کو کمپنی نے طاقت کے بل بوتے پر نہایت بے دردی اور سفاکی سے تہس نہس کر دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کو بظاہر توایک چارٹر ڈ تجارتی کمپنی کی حیثیت حاصل تھی مگر باطنِ ایام پر نظر رکھنے والوں سے یہ بات مخفی نہ تھی کہ اس کے عزائم کچھ اور تھے۔اس کمپنی کی مثال ہاتھی کے دانتوں کی سی تھی جو کھانے کے اور ہوتے ہیں مگر دکھانے کے دانت مختلف ہوتے ہیں۔جب برطانوی تاجروں کا بر صغیر میں کِشتِ دہقاں ،صنعت و حرفت،قدرتی وسائل اور زرو مال کی لُوٹ کھسوٹ سے جی بھر گیا تو اُنھوں نے اس خطے کے تاج و تخت اور قصر و ایوان پر قابض ہونے کا مصمم ارادہ کر لیا۔

دکن میں1724 سے حالات ابتر تھے ۔ دکن کا صوبے دار نظام الملک خود مختاری کا اعلان کرچکا تھا ۔ کرناٹک کا گورنر بھی خودمختار ہونے کا دعوے دار تھا ۔ پوری مملکت میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا ۔ حالت یہ تھی کہ چھوٹے چھوٹے حکمران اور قلعے دار اسی شجر سایہ دار کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف تھے جو ان کے سر پر سایہ فگن تھا،یہ اسی شاخ کو کاٹنے کی کوششوں میں لگے تھے جس پر ان کا آشیانہ تھا۔ مسلمان امرا کے ان ہلاکت آفریں جھگڑوں اور مکروہ سازشوں نے ان کی اجتماعی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ غیر ملکی تاجروں نے جب مقامی حالات کی یہ بگڑتی ہوئی صورت حال دیکھی تو اپنی تجارتی کوٹھیوں کو مضبوط او نا قابلِ تسخیر فوجی قلعوں میں تبدیل کرلیا ۔ بر صغیر کے مقامی لوگ جو حکمرانوں کی بد انتظامی اور نااہلی کے باعث اس دور میں غربت و افلاس کی چکی میں پس رہے تھے برطانوی فوج میں ملازم ہوگئے ۔ المیہ یہ ہوا کہ وہ لوگ جنھیں ناموس وطن کے لیے کٹ مرنا چاہیے تھا ان کی فکری پستی، ذہنی افلاس اور کور مغزی نے انھیں اس پست سطح تک پہنچا دیاکہ وہ استعماری و استبدادی قو توں کے آلۂ کا ر بن گئے اور نو آبادیاتی نظام کا شکنجہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا ۔بنگال ،کرناٹک اور حیدر آباد دکن کے علاقوں میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی غاصبانہ پالیسی،ہوس ملک گیری،ظالمانہ استبدادی حربوں اور استعماری مہم جوئی سے ان علاقوں میں نو آبادیاتی نظام کو مستحکم کیا۔سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی اقوام نے اپنے استحصالی ہتھکنڈوں سے مُردوں کے ساتھ شرط باندھ کر خواب خرگوش کے مزے لینے والے بر عظیم کے مقامی حکمرانوں اور مظلوم عوام کو معتوب و مغلوب کر کے بر صغیر میں اپنی مستحکم حکومت کے قیام کی راہ ہموار کر دی۔ گلشنِ ہند میں عہدِ خزاں کے اس مسموم ماحول کے متعلق ہر شخص فرطِ غم سے نڈھال تھا مگر مسلسل شکستِ دِل کے باعث ہر طرف بے حسی کا عالم تھا۔ مورخ ای ۔پی ۔مون کا خیال ہے کہ یہیں سے بر صغیر کی بد قسمتی کا آغاز ہو تا ہے۔(7)تاریخ کے اس دور میں حساس انسانیت پر جو کوہِ ستم ٹُوٹا اس کے باعث عوام کا سینہ و دِل حسرت و یاس سے چھا گیا اور خوف و ہراس سے سب کی جان پہ بن آئی۔ہوائے جو رو ستم کے مسموم بگولوں ہر دِل کی کلی کو جس طرح جُھلسا دیا اس کا احوال تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔

1707میں جب اورنگ زیب نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا تو اس کی عمر نوے برس تھی۔ اورنگ زیب کے عہد حکومت میں پُورابر عظیم مغلیہ سلطنت میں شامل تھا ۔اورنگ زیب کے طویل دور میں مستقبل کے حکمرانوں کی تربیت اور اس کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ اسی روز ہو گیا تھا جس دن اورنگ زیب نے عدم کے کوچ کے لیے رخت سفر باندھا۔(8)اس کے بعدجب اس کا بیٹا محمد معظم شاہ عالم اپنے دونوں بھائیوں کی زندگی کی شمع بجھانے کے بعد قصر ِ شاہی میں اپنے اقتدار کا چراغا ں کرنے گھس بیٹھا۔ تخت نشینی کے وقت وہ بھی ضعفِ پیری سے نڈھال تھا۔ اورنگ زیب کے اس کور مغز جانشین نے وسیع مغلیہ سلطنت کے استحکام کی طرف کوئی توجہ نہ دی اوررفتہ رفتہ مغلیہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ متعدد صوبوں نے مرکزی حکومت کی اطاعت سے انکار کر دیا اور اپنی الگ حکومت قائم کر لی۔محمد معظم شاہ عالم کے بعد ایک ذہنی قلاش جہاں دارشاہ اپنے حقیقی بھائیوں عظیم الشان،رفیع الشان اور خجستہ اخترجہاں شاہ کی زندگی کی شمع بجھانے کے بعد قصر ِ شاہی میں اقتدار کا جشن منانے جا پہنچا۔عملی زندگی میں بے عملی کو وتیرہ بنانے اور قوت ِ فیصلہ سے محروم دوپہر تک خواب استراحت کے مزے لینے والے اس شاہِ بے خبر کے عہدِ حکومت میں طوائفیں،کلاونت ڈُوم ،ڈھاری،بھانڈ ،بھڑوے،مسخرے، اجلاف و ارذال ،سفہا،مشکوک نسب کے درندے ،لُچے،شہدے،بھگتے،اُچکے ،تلنگے ،اُٹھائی گیرے اور چور قصر شاہی میں دخیل تھے۔ شاہ ِ شطرنج جہاں دار شاہ ایک رذیل جسم فروش طوائف لال کنور کا دیوانہ تھا ۔ اس نے لال کنور کو امتیاز محل کا لقب دے کر ملکۂ ہند بنایا اور بیش بہا زیورات ،ہیرے جواہرات اور سیم و زر کے علاوہ دو کروڑ روپے سالانہ لال کنور کے اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ۔لال کنور کے بے غیرت ،بے ضمیر اور سفلہ بھائی اور تمام قریبی رشتہ دار اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو گئے۔لال کنور کے چچا زاد بھائی نعمت خان کلا ونت کو ملتان کا صوبے دار مقرر کیا گیا ۔اورنگ زیب کا پوتا جب لال کنور کے ساتھ رنگ رلیوں میں مصروف رہتااورطوائفوں کے رشتے دار اعلی عہدوں پر فائز ہوگئے تو زاغوں کی تصرف میں عقابوں کے نشیمن وا لی بات حرف بہ حرف درست نظرآتی ہے۔جس قوم کی آغوشِ محبت میں شمشیر زن،شہسوار،نیزہ باز اور حق پرست پیدا ہوتے تھے اب اس کے اُجڑے گلستان میں زن مرید ،بد اطوار ،کبوتر باز اور زر پرست عام تھے۔ جن خیابانوں میں کاروانِ بہار خیمہ زن رہتا تھا وہاں خزاں نے مستقل طور پر ڈیرے ڈال لیے اور سمے کے سم کے ثمر نے ساری فضا مسموم کر دی۔ جہاں دار شاہ نے بادشاہت اور امارت کا وقار مٹی میں ملادیااور اخلاقیات کی دھجیاں اڑادیں ۔ لال کنور کے بھائی ہفت ہزاری اور پنج ہزاری کے مناصب پر غاصبانہ قابض ہو گئے، اس کی سہیلی زہرہ کنجڑن شاہی محل میں جا پہنچی اور سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھی ۔شاہی محل میں سیاسی اور عسکری مسائل پر غور کرنے کے بجائے رقص اور مو سیقی کی محفلوں کا انعقاد روز کا معمول بن گیا ۔جہاں دار شاہ ، اس کے ساتا روہن ،رذیل طوائفیں اور رقاصائیں شراب کے نشے میں بد مست ہو کرفحش رقص پیش کرتیں توسب مے خوار بندِ قبا سے بے نیاز ہو کرشرم و حیا کو بارہ پتھر کر دیتے اور ہوش و حواس کھو بیٹھتے۔اس عالم مد ہوشی میں جہاں دارشا ہ فرش ِ زمین پر اوندھے منھ پڑا ہوتا اورمحفل میں شریک سب رقاصائیں ،طوائفیں، عیاش ،بد معاش اور منشیات کے عادی اُسے ٹُھڈے مارتے اور قہقہے لگاتے اور جب شہنشاہِ ہند کے منصب پر غاصبانہ طور قابض اس مسخرے کی اس طرح دُرگت بنتی تو نام نہاد بادشاہ کی ہئیتِ کذائی دیکھ کر محفل کشتِ زعفران بن جاتی۔ جہاں دار شاہ کو لا ل کنور اور زہرہ کنجڑن چُلّو میں اُلو بنا دیتیں اور نام نہاد مطلق العنان بادشاہ اپنی اس قدر توہین ،تذلیل ،تضحیک اور بے توقیری کے باوجود ان رذیل جسم فروش طوائفوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے ان کے سامنے ہنہناتا رہتا ۔بابر ،ہمایوں ،اکبر اور شاہ جہاں کے جاہ و جلال کی امین عظیم مغلیہ سلطنت کو بے شرمی،بے غیرتی، بے حسی،بے ضمیری،عیاشی،فحاشی اور جنسی جنون کے عفونت اور سڑاند سے لبریز گندے پانی کے جوہڑمیں غرق کرنے کے منحوس کام کا آغاز اسی ننگِ اسلاف بادشاہ کے دور میں ہوا۔انتظام سلطنت کو مکمل انہدام کے قریب پہنچانے کے بعدنا اہل حکمرانوں نے قومی کردار کو تہس نہس کر دیا ۔ذاتی وقار اور کردار سے عاری مقتدر طبقہ دربار میں موجود خانِ جاناں اور راسپوٹین قماش کے ہوس پرست بھڑووں کی ذلت ،تخریب ،نحوست ،بے توفیقی ،بے برکتی اور خست و خجالت کے باعث زندگی کی اقدارِ عالیہ اور مسلمہ معائر اخلاق تحت الثریٰ میں جا پہنچے۔ جہاں دار شاہ کے عہد حکومت میں مظلوم رعایا پر جو کوہِ ستم ٹوٹاوہ تاریخ کا ایک لرزہ خیز باب ہے۔ایک مرتبہ لال کنور نے فرمائش کی کہ اس نے مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی بڑی کشتی دریا میں ڈوبتے کبھی نہیں دیکھی ۔ایک انتہائی بے حس ڈائن خون آشام چڑیل،ظالم اور رذیل طوائف کی احمقانہ خواہش کی تکمیل کی خاطر جہاں دار شاہ نے مسافروں سے بھری ایک بڑی کشتی کو دریا کی طوفانی لہروں کی منجدھار میں غرق کرنے کا حکم دیا ۔اس طرح کشتی میں سوار قسمت سے محروم بے گناہ مسافر وں کو موت کے منھ میں دھکیل دیا گیا ۔( 9) سادیت پسندی کے مرض میں مبتلا لال کنور،زہرہ کنجڑن اور ان کے شریکِ جرم ساتھیوں نے یہ سانحہ دیکھ کر لذتِ ایذا حاصل کی ۔اس موقع پر لال کنور اور اس کی ہم جولیوں ،خانگیوں اور زناخیوں نے بندِ قبا سے بے نیاز ہو کر رقص کیا،بادشاہ اور اس کے بھڑوے مصاحب بھی ان سے پیچھے نہ رہے۔ جلد ہی دربار کے امرا اوربالخصوص بادشاہ گرسادات بارہہ نے فرخ سیر کو اپنے چچا کے مقابل لا کھڑا کیا جس نے فروری 1713میں جہاں دار شاہ کے دس ما ہ پر محیط قابلِ نفرت عہدِ حکومت کا خاتمہ کر کے بادشاہت پر قبضہ کر لیا۔ جہاں دار شاہ کو عبرت ناک شکست دینے کے بعد فرخ سیر جب فتح کے شادیانے بجاتا ہوا دہلی میں وارد ہوا توسیلِ زماں کے تھپیڑوں کے باعث عجیب ہولناک منظر تھا ۔ایک ہاتھی پر جہاں دار شاہ کا بریدہ سر جلاد نے نیزے کی نوک پر اُٹھا رکھا تھا اور دوسرے ہاتھی کی دُم کے ساتھ جہاں دار شاہ کا زخموں سے چُور جسم جس سے مسلسل خون رِس رہا تھا تار تار لباس میں لِپٹا تپتی ہوئی سنگلاخ زمین پر گھسٹتا چلا آ رہا تھا ۔ ردائے خان پہنے ہوئیذوالفقار خان کی تیروں سے چھلنی اور مسخ شدہ لاش تیسرے ہاتھی کی دُم سے بندھی ہوئی تھی جو زمین پر مسلسل گھسٹنے کے باعث اپنی شناخت کھو نے لگی تھی۔ دہلی کے باشندے قسمت اور تقدیر کے یہ عبرت ناک انقلاب دیکھ کر محوِ حیرت تھے ۔(10)ابتدا میں تو فرخ سیر سید برادران کے سامنے کٹھ پتلی بن گیا لیکن جب اسے موہوم شاہی کی یاد آئی تو وہ مطلق العنان بادشاہ بننے کے خواب دیکھنے لگا۔ اس نے بھی اپنے پیش رو کی طرح ظلم و ستم کو وتیرہ بنا لیا ۔اس گرگ نے تین مغل شہزادوں کو بینائی سے محروم کر دیا اور ایک شاعر (سید محمد جعفر زٹلی ) نے جب اس شاہ ِ حماقت پناہ اور ظلِ تباہی فرخ سیر کے بارے میں درجِ ذیل طنزیہ شعر کہاتو شاعر کے خلاف انتہائی سخت اقدام کا فیصلہ کر بیٹھا۔
سکہ زد بر گندم و موٹھ و مٹر
بادشاہے تسمہ کش فرخ سئیر

حریتِ فکر کے مجاہد سید محمد جعفر زٹلی کا یہ شعر سن کرفرخ سئیر آگ بگولاہو گیا اور اس نے ایک زیرک اور جری شاعر کو تختۂ دار پر کھنچوا دیا ۔سید محمد جعفر زٹلی نے اپنی شاعری میں اپنے عہد کے حالات و واقعات کو نہایت بے باکی کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے:
گیا اخلاص عالم سے عجب کچھ دور آیا ہے
ڈرے سب خلق ظالم سے عجھ کچھ دور آیا ہے
نہ یاروں میں رہی یاری ،نہ بھائیوں میں وفاداری
محبت اُٹھ گئی ساری عجب کچھ دور آیا ہے
نہ بولے راستی کوئی، عمر سب جھوٹ میں کھوئی
اُتاری شرم کی لوئی ،عجب کچھ دور آیا ہے

دہلی کے باشندے فرخ سیر جیسے بھڑوے ،خبیث خر اور عیاش کی موت کی دعا کرتے تھے ۔بادشاہ اس حقیقت کو فراموش کر چکا تھا کہ کبھی کبھی اونٹ بھی پہاڑ کے نیچے آ سکتا ہے اور بکرے کی ماں دیر تک اپنے بچے کی خیر نہیں منا سکتی آخر کار اس کی گردن تیز چُھری کے نیچے آجاتی ہے ۔ اس عہد کے اُردو شعرا نے اپنی شاعری میں حقائق کی ترجمانی کرتے ہوئے جبر کے خلاف ایک واضح لائحۂ عمل اختیار کیا اور آمریت کے خلاف اپنی نفرت کا بر ملا اظہار کیا ۔ سیاسی اور معاشرتی زبوں حالی کے باعث تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں اردو شعرا نے ایک شان استغنا کے ساتھ حریتِ فکر کا علم بلند رکھا:
ولی دکنی (1667-1707)
حق پرستی کا اگر دعویٰ ہے
بے گناہاں کوں ستایا نہ کرو
اپنی خوبی کے اگر طالب ہو
اپنے طالب کوں جلایا نہ کرو
آزاد کو ں جہاں میں تعلق ہے جال محض
دل باندھنا کسی سوں دِل پر وبال محض
غنچے کے سر کوں دیکھ گریباں میں عندلیب
بولی ظہورِ خلق یو ہے انفعال محض
شیخ ظہور الدین حاتم(1783 - 1699)

شیخ ظہورالدین حاتمؔ نے پہلے ایہام گوئی کی تحریک کا ساتھ دیا لیکن جلد ہی انھوں نے معاشرتی زندگی کے مسائل کو موضوع سخن بنالیا ۔ ان کی شاعری میں ذاتی تجربہ اور مشاہدہ اشعار کی تاثیر میں اضافہ کر تا ہے۔شا ہ حاتم ؔنے قحط الرجال کے اُس دور میں شہر آشوب لکھ کر زندگی کے تلخ حقائق سے پر دہ ہٹایا ہے۔ شاہ حاتم ؔکی شعری تخلیقات بالخصوص شہر آشوب کو تاریخی تناظر میں دیکھیں تو ان کی حق گوئی کا معترف ہو نا پڑتا ہے۔
اس زما نے میں ہما را دل نہ ہوں کیوں کر اُداس
دیکھ کر احوالِ عالم اُڑتے جا تے ہیں حواس
کس کنے لے جا ئیں تیرے ظلم کی فر یاد ہم
تجھ سے ہی تیرے ستم کی چا ہتے ہیں داد ہم
شہوں کی بیچ عدالت کے کچھ نشا نی نہیں
امیروں بیچ سپاہی کی قدر دانی نہیں
بزرگو ں بیچ کہیں بوئے مہربانی نہیں
تواضع کھانے کی چاہو کہیں تو پانی نہیں
گویا جہاں سے جاتا رہا سخاوت و پیار
امیر زادے ہیں حیران اپنے حال کے بیچ
تھے آفتاب پر اب آگئے زوال کے بیچ
پھر یں ہیں چرخے سے ہر دن تلاشِ مال کے بیچ
وہی گھمنڈ امارت ہے پھر خیال کے بیچ
خدا جو چاہے تو پھر ہو پر اب تو ہے دشوار
کرے ہے چرخ اگر تجھ اوپر جفا حاتمؔ
تو سفلے پا س نہ کر جاکے التجا حاتمؔ
تیر ے ہے رزق کا ضامن سد ا خداحاتمؔ
تو انقلابِ زمانہ سے غم نہ کھا حاتمؔ
کہ تجھ کو رزق بہت اور روز گار ہزار

میر تقی میر ؔنے مغلوں کی زوال پذیر حکومت میں زندگی کی اقدارِ عالیہ اوردرخشاں روایات کی زبوں حالی کی لرزہ خیز کیفیات اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں ۔تاریخ کے اس اعصاب شکن دور میں انسانیت پر جو کوہِ غم ٹوٹے اُنھیں دیکھ کر میر تقی میرؔتڑپ اُٹھے اوران کی شاعری دلی رنج ،کرب ،آہ اور زاری سے لبریز دکھائی دیتی ہے ۔رعایا فاقہ کشی کا شکار تھی ،شاہی خزانہ خالی تھا مگر بادشاہوں کی عیاشی میں کوئی فرق نہ آیا۔اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باعث مغلیہ سلطنت اور جاہ و جلال سب کچھ مکمل انہدام کے قریب پہنچ گیا۔آلام ِ روزگار سے نڈھال فاقہ کش رعایاخاک بہ سر اور در بہ در ٹھوکریں کھا رہی تھی مگر ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ حکومت اوراقتدار کا نشہ ہو ش و خرد پر بے حسی کا دبیز پردہ ڈال دیتا ہے ۔مطلق العنان بادشاہوں کے دور میں جب بے بس و لاچار ،مفلس و قلاش،بیمار و ناتواں اور زندہ در گور دُکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی دردِ دِل رکھنے والا درد آشنا مسیحا سامنے نہ آئے توتو پُورا سماجی اورمعاشرتی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے ۔کینہ پر ور ،حاسد،عادی دروغ گو،جو فروش گندم نما ،بگلا بھگت اور منافق لوگ اپنے منھ میاں مٹھو بن کر دوسروں کی عیب گیری اور تنقیص ِ بے جا کو اپنا وتیرہ بنا لیتے ہیں۔قریہ و بازار میں کالی بھیڑوں ،سفید کووں ،گندی مچھلیوں اور گندے انڈوں کی بھر مار ہو جاتی ہے ۔آخری عہدِ مغلیہ میں بڑے بڑے وضع داروں اور متوکلوں کو بھی جان کے لالے پڑ گئے اور اُن کی آنکھوں سے جوئے خوں رواں ہو گئی اور صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے چُھوٹتا محسوس ہوا ۔میر تقی میر ؔکی شاعری میں اُس عہد کے کرب ناک حالات اور اذیت ناک ماحول کی جس حقیقت پسندانہ انداز میں لفظی مرقع نگاری کی گئی ہے اسے پڑھ کر قاری کے لیے گریہ ضبط کرنا محال ہو جاتاہے ۔تاریخ کی چشم کشا صداقتوں کا یہ احوال فکر و خیال کے نئے دریچے وا کرتا ہے ۔ گو ان خضاب آلود بُڈھے کھوسٹ منافقوں کے ہاتھ میں جنبش نہیں ہوتی مگران کی حریص و غلیظ آنکھوں میں اس قدر دم ہوتا ہے کہ مہ جبیں حسیناؤ ں کو دیکھ کر رال ٹپکانے لگتے ہیں ۔ میر تقی میرؔ نے جامۂ ابو جہل میں ملبوس منافقوں کے مکر ،جنسی جنون اور ہوس کا پردہ فاش کیا اور ان کے قبیح کردار اور کریہہ حرکات کے خلاف حرفِ صداقت لکھنا اپنا شیوہ بنایا :
شیخ کو اِس بھی سن میں ہے گی ہوس
تنگ پوشی سے چولی جاوے چس
ہوئے گاسِن شریف ساٹھ برس
دانت ٹُوٹے گیا ہے کلا دھس
دیکھ رنڈی کوبہہ چلی ہے رال
دینے کو ہو کہیں ٹھکانا بھی
جود کو چاہیے زمانا بھی
یاں نہیں شہ کے گھر میں دانا بھی
کبھو ہوتا ہے پینا کھانا بھی
ورنہ بُھوکے رہے ہیں بیٹھے نڈھال

مرزا محمد رفیع سوداؔ(1713-1781) کی شاعری میں عصبیت ،تنگ نظری،منافقت اور انتہا پسندی پر گرفت کی گئی ہے ۔دہلی کے زوال پذیر معاشرے میں اخوت ،یگانگت ،خلوص ،دردمندی اور انسانی ہمدردی کی اسا س پر استوار مذہب کی ابد آشنا آفاقی تعلیمات کے بارے میں ابہام پیدا کر نے کی مذموم کوششی کی جانے لگیں۔اخلاقی زوال اور ذہنی پستی کا یہ حال تھا کہ مسلمہ صداقتوں اور حقائق کو خرافات کے سرابوں میں گُم کر دیا گیا ۔سوداؔ نے مذہبی، تہذیبی اورثقافتی تحفظ کو یقینی بنانے کی غرض سے بے سروپا مباحث کے تباہ کُن اثرات کے بارے میں متنبہ کیا۔
لشکر کے بیچ آج یہی قیل و قال ہے
کھانے کی چیز کھا نے کا سب کو خیال ہے
یوں دخل امرو نہی میں کر نا محال ہے
جو فقہ داں ہیں سب کا یہ اُن سے سوال ہے
اک مسخرہ یہ کہتا ہے کو ا حلال ہے
بگڑا ہے آج مجتہدوں بیچ کیا یہ نیل
ملا لطیف بولے کھانا روا ہے چیل
کہتا ہے چاندخاں کیاکن نے حرام فیل
حلت پہ مینڈکی میاں جی کی سو دلیل
اک مسخرہ یہ کہتا ہے کو ا حلال ہے

سوداؔکی شاعری میں آخری عہدِ مغلیہ کے الم ناک حالات کی جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ قاری کو اس دور کے بارے میں مثبت شعور و آگہی فراہم کرتی ہے۔ایک حساس تخلیق کار کی حیثیت سے سودا ؔنے اپنے عہد کے حالات سے گہرے اثرات قبول کیے۔اگرچہ ان کے خیالات میں رنج و غم اور کرب موجود ہے مگر وہ مایوسی کی کوئی بات نہیں کرتے۔ان کی ہجویات میں طنز کا عنصر غالب ہے جسے فسطائی جبر ،ظالمانہ استحصال اور ناانصافیوں کے خلاف بھر پور احتجاج اور للکار کی حیثیت حاصل ہے ۔اس عہد کے حالات و واقعات اور ان سے وابستہ عوامل کے بارے میں سوداؔ کا اسلوب ان کی جرأت اظہار کا عمدہ نمونہ ہے ۔ جبر سے مصلحت پر مبنی مصالحت یا الفاظ کو فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرناسوداؔ کے ادبی مسلک کے خلاف ہے ۔زبان و بیان پر ان کی قدرت ،اظہار و ابلاغ پر ان کی خلاقانہ دسترس اور جوشِ بیان سے ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ قاری ہنسی کے خوش رنگ دامنوں میں اپنے آنسو چھپانے کی ان کی مساعی پر داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس دھوپ بھری دنیا میں تصنع ،مکر و فریب ،منافقت ،جعل سازی اور ہوس زر کی اسا س پر استوار سب خود ساختہ معائر سودا ؔ کی گل افشانی گفتار کے سیل رواں میں و خاشاک کے مانند بہہ جاتے ہیں۔
اب جہاں دیکھو واں جھمکا ہے
چور ہے، ٹھگ ہے، اُچکا ہے
کس طرح شہر کا نہ ہو یہ حال
شیدی فولاد اب جو ہے کتوال
شہر کے بیچ کیا کہوں میں اب
روزِ محشر کی دُھوم ہے ہر شب
خلق جب دیکھ کر کے یہ بیداد
کرتے ہیں کو توال سے فریاد
بولے ہے وہ کہ میں بھی ہوں ناچار
گرم ہے چوٹٹوں کااب بازار
یارو کچھ چل سکے ہے میرا زور
دیکھو توٹُک کہاں کہاں ہے چور
کس کو ماروں میں کس کو دوں گالی
چوری کرنے سے کون ہے خالی
مچ رہا ہے اب اس طرح کا سانگ
ہے خدا کے بھی گھرمیں چور کی تھانگ
بچ سکے کیونکہ اب کسی کی شے
ملا مسجد کا صبح خیز یا ہے
کریں انصاف اب جوان و پیر
کیا ہے اس میں بھلا مر ی تقصیر
رتبہ دُزدی کا اس قد ر ہے بلند
چرخ کے گھر پہ کہکشاں کی کمند

ولی محمد نظر اکبر آبادی(1725-1825) نے آخری عہدِ مغلیہ کی بد انتظامی اور طوائف الملوکی کی وجہ سے معاشرتی زندگی میں پائی جانے والی قباحتوں کے خلاف بھر پور آواز بلند کی۔نظیر اکبر آبادی نے عوامی زندگی کا نہایت قریب سے مشاہدہ کیااور وہ خود بھی اس تجربے کا حصہ بن گئے تھے۔مظلوم اور پس ماندہ طبقات کے جذبات و احساسات کو انھوں نے نہایت خلوص کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا ہے۔فطرت کے اصولوں اور تقدیر کے سر بستہ رازوں کے بارے نظیر اکبر آبادی کے خیالات زندگی کی حقیقی معنویت کو اُجاگر کرنے کا وسیلہ ثابت ہوتے ہیں۔رخشِ حیات مسلسل رو میں اس کی پُر اسرار انداز میں روانی عجیب کیفیات کی امین ہے ۔دامانِ نسیم سحر اور پرواز ِ شمیم سبزہ و گل کی رعنائیوں کو فنا کے رازوں سے آگا ہ کرتی رہتی ہیں۔حالات کی اس ستم ظریفی کو کیا کہیے کہ جس گلشن میں فصلِ گُل میں گُل فروشوں کی حسین اور دل کش آوازیں سنائی دیتی تھیں اب وہاں ضمیر فروشوں کا جمگھٹا تھا۔غریب لوگ بھیانک اور خُونیں ماحول میں سانس گِن گِن کر زندگی کے دِ ن پُورے کر رہے تھے۔ نظیر اکبر آبادی نے جبر کا ہر انداز مستر دکرتے ہوئے انسانیت کے وقار اور سر بلندی کو اپنا مطمح نظر قرار دیا۔ نظیر اکبر آبادی نے اپنی شاعری میں انسانی فطرت کے بارے میں نا میاتی تصور کو پیشِ نظر ر کھا ہے ۔ داخلی کیفیات کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ،بیرونی اور خارجی عوامل کے ساتھ وابستگی اور ہم آہنگی کی ارفع کیفیات سے لبریز ان کی شاعری قاری کے فکر و خیال کی دنیا میں ہلچل مچا دیتی ہے۔ :
کیا کیا فریب کہیے دنیا کی فطرتوں کا
مکر و دغا و دُزدی ہے کام اکثروں کا
جب دوست مل کے لُوٹیں اسباب مشفقوں کا
پھر کس زباں سے شکوہ اب کیجیے دشمنوں کا
ہشیار یا ر جانی یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا

نظیر اکبرآبادی کی شاعری میں پائی جانے والی اشاریت کی کیفیت سے قاری کے ذہن میں ایساردعمل پیدا ہوتا ہے جو زندگی کی حرکت و حرارت کو حقیقی تناظر میں سامنے لاتا ہے۔آخری عہدِ مغلیہ میں دہلی کے زوال پذیر معاشرے میں منافقت ،ریاکاری،دروغ گوئی،جعل سازی،پیمان شکنی اور ہوس نے اخلاقی اعتبار سے معاشرے کو مفلس و قلاش کر دیا تھا۔کٹار بند دہشت گردوں نے خوف اور دہشت کی فضا پیدا کر دی تھی اور کوئی قوت ایسی نہ تھی جو ان پیشہ ور قاتلوں کو لگام ڈال سکتی۔ان الم ناک حالات میں تہذیب ِ نفس اوراخلاقی ضوابط کو پسِ پشت ڈال کر آدم خور درندے ،اُجرتی بد معاش ،سفہا ،اجلا ف و ارذال اورمشکوک نسب کے لُٹیرے ہر طرف دندناتے پھرتے تھے۔ اپنی شاعری میں نظیر اکبر آبادی نے فطری جذبات کی نمو ،جبلی کیفیات کی تحریک اور اظہار و ابلاغ کے نئے امکانات کی جستجو پر توجہ مرکوز رکھی۔ مغلوں کے سیاسی زوال کے ساتھ ہی معاشرتی زندگی میں اخلاقی زوال کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔ سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی نظام کے عدم توازن کے باعث پیدا ہونے والی اس ہولناک صورت ِحال کے بارے میں نظیر اکبر آبادی کی شاعری فکر و خیال پر دُوررس اثرات مرتب کرتی ہے:
کیوں کر بھلا نہ مانگیے اس وقت سے پناہ
محتاج ہو جو پھرنے لگے در بہ در سپاہ
تاں تک امیر زادے سپاہی ہوئے تباہ
جن کے جلو میں چلتے تھے ہاتھی و گھوڑے آہ
وہ دوڑتے ہیں اور کے پکڑے شکار بند
جتنے سپاہی یاں تھے نہ جانے کدھر گئے
دکھن تئیں نکل گئے یا پیش تر گئے
ہتھیار بیچ ،ہو کے گدا گھر بہ گھر گئے
جب گھوڑے بھالے والے بھی یوں در بہ در گئے
پھر کون پُوچھے اُن کو جو اب ہیں کٹا ر بند

نظیر اکبر آبادی نے مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سعیٔ پیہم کی مشعل فروزاں رکھنے کی راہ دکھائی۔ہوش و خرد،علم عمل اور اخلاقی اقدار کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے کی مقدور بھر سعی کی۔تہذیبی و تمدنی سطح پر نظیر اکبر آبادی کی یہ مساعی دلوں کو ایک نیا ولولہ عطا کرنے کا وسیلہ بن گئیں۔ظالم و سفاک بادشاہوں، طالع آزما اور مہم جُو استعماری طاقتوں ،ابن الوقت غداروں اور بیرونی حملہ آوروں نے جبین وطن پر جو کالک لگا دی تھی ،نظیر اکبر آبادی نے اسے الفاظ کے موتیوں سے صاف کرنے کی کوشش کی اور رنگ ،خوشبو اور حسن و خوبی کے استعاروں سے دلوں کو مرکز مہر و وفا کر کے ظالموں کے خلا ف جد و جہد پر مائل کیااور واضح کر دیا کہ ظلم کی معیاد اور مظلوموں کی فریاد کے دِن تھوڑے ہیں۔ نظیر اکبر آبادی نے مظلوموں کو یقین دلایا کہ فطرت کی سخت تعزیروں اور مکافاتِ عمل سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔:
جو اور کا اُونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہے
اور دے پٹکے تو اُس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہے
بے ظلم وخطاجس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہے
اُس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہے
کچھ دیر نہیں،اندھیر نہیں،انصاف اور عدل پرستی ہے
اِس ہاتھ کرو،اُس ہاتھ مِلے،یاں سودا دست بہ دستی ہے
مفلسی
جب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہی
وہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہی
کپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہی
تعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہی
مجلس کی جُوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسی
روٹیوں کی تعریف میں
پو چھا کسی نے یہ کسی کا مل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے
وہ سُن کے بولا بابا خد ا تُجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں
دنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہے
یا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہے
کوئی کسی کا اور کسی کانہ کوئی ہے
سب کوئی اسی کا ہے جس ہا تھ ڈوئی ہے
نوکر، نفر ،غلام بناتی ہیں روٹیاں
انشا اﷲ خان انشا(1756-1817)

انشا اﷲ خان انشاؔ نے اپنی شاعری کے ذریعے جمود کا خاتمہ کر کے ذہنی بیداری کا اہتمام کیا۔ آخری عہدِ مغلیہ میں شقی دِل اور گُرگ خُو استحصالی طبقے نے محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔مقتدر حلقوں نے ظالمانہ بے حسی اور مجرمانہ طرزِ تغافل کو اپنا شعار بنا لیا تھا اور مظلوموں کی داد رسی پر کبھی توجہ نہ دی۔قسمت سے محروم ان بے بس و لاچار انسانوں کے دِل کے مقتل میں ہزاروں حسرتوں، آرزوؤں اور امنگوں کا خون ہو تا مگربے حس معاشرے میں کوئی ان کی خبر گیری کرنے والا نہ تھا۔جب کوہِ غم گراں سے گراں تر ہوتا چلا جا رہا تھا اس وقت حریتِ فکر کے علم بردار اُردو شاعروں نے الم نصیب انسانوں کو سعی و عمل کے تیشے چمکانے پر آمادہ کیا تا کہ مصائب و آلام کی رات بیت جائے اور طلوع صبح بہاراں کا امکان پیدا ہو۔انشا اﷲ خان انشاؔ کی شاعری میں ہر قسم کی عصبیت اور تنگ نظر ی کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے ۔
کیا بھلا شیخ جی تھے دیر میں تھوڑے پتھر
کہ چلے کعبے کے تم دیکھنے روڑے پتھر
اے بسا کہنہ عمارات مقابر جن کے
لوگوں نے چوب و چگل کے لیے توڑے پتھر
جاؤ اے شیخ و برہمن حرم و دیر کو تم
بھائی بیزار ہیں ہم،ہم نے یہ چھوڑے پتھر

آخری عہدِ مغلیہ میں فرخ سیرنے بادشاہ گر سید برادران کے چُنگل سے بچ نکلنے کی کوشش کی تو وہ ان مکار اور طاقت ور امرا کے غیظ و غضب اور عتاب کا نشانہ بن گیا ۔اپریل 1719میں جب سید برادران نے فرخ سیر کو تاج و تخت سے محروم کیا تو شہنشاہ ہند کو ایک بے وقعت ملزم کی حیثیت سے پا بہ جولاں لا ل قلعہ سے نکالا گیا۔اس موقع پر فرخ سیر کی معمر ماں ،بہنیں اور مغل شہزادیاں گریہ و زاری کر کے دست بستہ رحم کی التجا کر رہی تھیں ۔ طالع آزما اور مہم جُوسید برادران کے پروردہ شقی القلب دہشت گرد،نمک حرام لُٹیرے، اُجرتی بد معاش اور پیشہ ور قاتل معزول بادشاہ فرخ سیر کو مغل شہزادیوں کے گھیرے میں سے گھسیٹ کر باہر نکال لائے اور اور اسے ایک تنگ و تاریک کال کوٹھڑی میں محبوس کر دیا جہاں اسے اندھا کرنے کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد عالم گیر ثانی اور شاہ عالم ثانی کا دور مغلیہ سلطنت کی تباہی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔رفتہ رفتہ مغلیہ حکومت کا رہا سہا وقار اور بچا کھچا رعب و جلال خاک میں مِل گیا اور ان جعل ساز کٹھ پُتلی حکمرانوں نے اپنی کوتاہ اندیشی سے قومی وقار کی دھجیاں اُڑا دیں۔سید برادران کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی ۔اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ یہ بادشاہ گر جس شہزادے کو جوتا مارتے وہ قصر شاہی میں مسند اقتدار پر فائز ہو جاتا۔حیف صد حیف کہ جن بد اندیش اور بد اعمال عناصر کا مقام تختہ تھا وہ لال قلعہ میں تخت طاؤس پر برا جمان ہو گئے۔سید برادران کی رعونت اب حد سے بڑھنے لگی تھی ،ایک دن حسین علی نے سر عام یہ بات کہی ’’میں وہ ہوں کہ جس شہزادے کو جُوتی ماردوں وہ بادشاہ بن جائے‘ ‘(11) ۔ان بادشاہ گر سادات کی ریشہ دوانیوں کا انداز ہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اٹھارہ فروری 1719سے چودہ اگست 1719تک کے مختصر عرصے میں تین کٹھ پُتلی بادشاہوں کو تختِ طاؤس پر بٹھایا گیا اور پھر ان نام نہاد بادشاہوں کو بے نیلِ مرام لا ل قلعہ سے نکال کر عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب دھکیل دیا گیا۔ اب فطرت کی انتہائی سخت تعزیریں سید برادران کا تعاقب کر رہی تھیں۔ جب ان فراعنہ نے روشن اختر (محمد شاہ رنگیلا)کو بادشاہ بنایا تو حالات کا رخ بدل گیا اور ان مغرور بادشاہ گر سادات کے ستارے گردش میں آ گئے۔محمد شاہ سدا رنگیلا نے اٹھائیس برس تک(1719-1748) بر عظیم کے مجبور عوام کے چام کے دام چلائے ۔محمد شاہ رنگیلا جب تختِ طاؤس پر غاصبانہ قبضہ کرنے میں کام یاب ہو گیا ،تو دربار میں نظام الملک آصف جاہ جیسے زیرک ،فعال اور مستعد مشیر موجود تھے مگر المیہ یہ ہوا کہ ملک بھر کے سفہا،اجلاف و ارذال ،مشکوک نسب کے بھڑوے ،مسخرے،لُچے ،شہدے اور تلنگے بھی دربار میں گُھس بیٹھے تھے ۔یہ ننگ ِ انسانیت ،مفاد پرست ،ابن الوقت ،تھالی کے بینگن ،چکنے گھڑے ،بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے رسیا فصلی بٹیرے،لوٹے اور لُٹیرے امورِ سلطنت کی بہ طریقِ احسن انجام دہی میں سدِ سکندری بن کر حائل ہو گئے۔اس قماش کے نا ہنجار ،عیار اور غدار درندوں نے قومی وقار ،مِلی حمیت اورانسانی عظمت کے معائر کی دھجیاں اُڑا دیں اوراپنا اُلو سیدھا کرنے کی غرض سے تما م اخلاقی حدوں کو پار کر گئے۔ اس کٹھ پُتلی بادشاہ کے ساتھ قسمت نے یاوری کی اور اس نے 1720میں سادات بارہہ سے نجات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔حسین علی کو 1720میں فتح پور سیکری کے قریب قتل کر دیا گیا اور حسن علی کو 1722میں زہر دے دیا گیا ۔یہ سب کچھ سمے کے سم کا ثمر تھا جوحالات کی ز دمیں آنے والے بادشاہ گر سادات بارہہ کا مقدر بن گیا تھا۔سادات بارہہ جب فطرت کی تعزیروں کی زد میں آگئے تو محمد شاہ رنگیلا ایک رذیل رقاصہ اور بدنام جسم فروش طوائف کوکی جیو اور خواجہ سرا خدمت گار خان کے چُنگل میں پھنس گیااور ان کے اشاروں پر ناچنے لگا۔اسی عہد میں نظام الملک نے 1725میں دکن میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی۔مرہٹوں کے ساتھ طویل جنگوں نے مرکزی حکومت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔مر ہٹوں کی سر کشی مغل حکومت کے لیے دردِ سر بن گئی تھی ۔باجی راؤ نے علم بغاوت بلند کیا اور 1738میں دہلی پر دھاوا بول دیا اور محمد شاہ رنگیلا سے اپنی من مانی شرائط پر صلح کی اور واپس روانہ ہوا۔اسی دوران نادر شاہ نے 1739میں دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔13فروری1739صبح نو بجے سے لے کر سہ پہر دو بجے تک نادر شاہ کے حکم پر دہلی میں نہتے لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی جس میں تیس ہزار انسان موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے۔نادر شاہ نے لوٹ مار کی انتہا کر دی اور تخت طاؤس،کوہ نور ہیرا،ستر کروڑ روپیہ نقد اورپندرہ کروڑ روپیہ تاوان جنگ لیا۔شاہی خزانہ خالی ہو گیا اور بادشاہوں نے اپنی عیاشی کے لیے زرومال بٹورنے کے ہر حربہ استعمال کیا۔ اس سانحے پر تاباں نے کہاتھا :
داغ ہے حملہ ٔ نادر سے مرا دِل تاباں
نہیں مقدور کہ جا چھین لوں تختِ طاؤس

جہاں دار شاہ کے بیٹے عزیز الدین عالم گیر ثانی(عہد حکومت :دو جون 1754تا انتیس نومبر 1759) نے جب اقتدار سنبھالا تو اس کی عمر پچپن سال تھی۔دس مئی 1758کو اس بادشاہ کے لیے سواری دستیاب نہ تھی اور ظلِ تباہی کو قصر ِ شاہی سے مسجد تک پیدل سفر کر نا پڑا۔شہزادہ علی گوہر(شاہ عالم ثانی) کا دیوان شاکرخان روایت کرتا ہے کہ ایک دِن خیرات خانے میں غربا،مساکین،بیواؤں اور فاقہ کش معذوروں کے لیے تیار کیا گیا شوربا جب شاہی معائنے کی غرض سے شہزادے کے حضور پیش کیا گیا تو اس نے آہ بھر کر کہا:
’’یہ محل کی بیگمات کو دے دو،کیونکہ حرم کے مطبخ میں تین دِن سے چُو لھا نہیں جلا۔‘‘( 12)

بنگال کے صوبے دار علی وری خان نے 1740میں خودمختاری کا اعلان کردیا۔ علی وردی خان کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی مرہٹوں نے علی وردی خان کو ہراساں کرناشروع کردیا۔ علی وردی خان نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے مخالفین کا منھ بند کرنے کے لیے بات چیت کا فیصلہ کیا اور مفسدوں کو اڑیسہ کا صوبہ دے کر ان کو خاموش کردیا۔اس کے علاوہ بارہ لاکھ روپے بطور چوتھ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ۔ بنگال پر انگریزوں کی حریصانہ نظر کو محسوس کرتے ہوئے علی وردی خان نے انگریزوں کو اپنے مقبوضات کو مضبوط کرنے سے باز رکھا تاہم علی وردی خان نے مصلحت سے کام لیتے ہوئے انگریزوں سے تعلقات خراب ہونے کی نوبت نہ آنے دی۔ علی وردی خان نے 9 اپریل 1756 کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ بنگال اور بہار میں علی وردی خان کے عہد حکومت میں مغل حکمرانوں کا اثررسوخ نہ ہونے کے برابرتھا۔تاریخ ایک حیران کُن مسلسل عمل سے عبار ت ہے جس کا امتیازی وصف یہ ہے کہ یہ کٹھن،پُر پیچ اور ناہموار راہوں پر بھی ہزارہا دشواریوں،سخت ترین مقامات ،جانکاہ صدمات،ہولناک رکاوٹوں اور صبر آزما تکالیف کے باوجود ماضی او ر حال کے واقعات کی گرد سے دامن بچاتے ہوئے مستقبل کی جانب سفر جاری رکھنے پر مائل کرتی ہے۔اپنی نوعیت کے اعتبار سے تاریخ کا یہ عمل مستقل نو عیت کا ہوتا ہے جو نہایت خاموشی کے ساتھ جاری رہتا ہے ۔بعض لوگوں کو تاریخ کا یہ عمل تیز گام محسوس ہوتا ہے تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کے آہستہ خرام ہونے کے شاکی دکھائی دیتے ہیں۔تاریخ کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور اس کا مشاہدہ کرنے والوں پر یہ گمان گزرتا ہے کہ گردشِ ایام کا پیچھے کی جانب پلٹنادراصل پیچھے کی طرف سرکنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک اٹل اور مسلمہ صداقت ہے کہ تاریخ کسی صور ت میں لو ٹ کر نہیں آ سکتی۔حال کے واقعات ماضی کاحصہ بن کر تاریخ کے طوماروں میں دب جاتے ہیں۔رخشِ حیات پیہم رواں دواں رہتا ہے ،تاریخ کے مسلسل اور مستقل عمل کی راہ میں دیوار بننے والوں کا نام لوحِ جہاں سے حرفِ مکرر کے مانند مٹا دیا جاتا ہے۔تاریخ کا سفر در اصل روشنی کے سفر کے مانند ہے جو جمود ،قیام ،سکوت اوریکسانیت سے قطعی نا آ شنا ہے ۔قلزمِ ِہستی کا قافلہ اس قدر تیز گام ہے کہ اقوام و ملل کے جاہ و جلال اور کبر و نخوت کے سفینے اس کی تند و تیز موجوں کے گرداب میں ایسے اُلٹے کہ پھر ان کا کہیں اتا پتا نہ ملا۔تاریخ کی برق رفتاریوں اور اس کی محیر العقول پیش قدمی کا عدم اعتراف کرنے اور تاریخ کے مسلسل عمل کوپس پائی پرمحمول کرنے والوں کی کور مغزی،بے بصری اور ذہنی افلاس کا جس قدر بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ تاریخ کا توبس ایک ہی سبق ہے کہ آج تک کسی نے تاریخ سے سبق سیکھا ہی نہیں۔جو اقوام اپنی تاریخ کو فراموش کرنے کے ناقابل معافی جُرم کی مرتکب ہوتی ہیں تاریخ انھیں عبرت کا سبق بنا دیتی ہے اور ان کا جغرافیہ یکسر بدل جاتا ہے ۔

بر عظیم کی تاریخ ایسے ہی واقعات سے بھری پڑی ہے جو بادشاہوں کی غفلت کو سامنے لاتے ہیں۔ چودہ مارچ 1758کو واٹسن نے اپنے ایک دھمکی آمیز مکتوب میں سراج الدولہ کو حالات کی سنگینی سے متنبہ کرتے ہوئے لکھا:
,,I shall kindle such a flame in your country as all the water in the ganges shall not be able to extinguish " (13)

طالع آزما اور مہم جُو انگریزوں نے موقع پرست ،ابن الوقت عیاروں اور غداروں سے جوڑ توڑ کر لیا اور سراج الدولہ کی افواج کے سالار اور مارِ آستین میر جعفر کو بھاری رشوت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ۔کلائیو نے بائیس جون 1757کو سراج الدولہ کے علاقے پر دھاوا بو ل دیا۔ اس کے مسلح دستوں میں دو ہزار دو سو مقامی سپاہی اور آٹھ سو یورپی انفنٹری اور آرٹلری سپاہی شامل تھے۔ پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ نے اپنی پچاس ہزار فوج کے ساتھ بر طانوی استعمار کی بڑھتی ہوئی یلغار کو روکنے کی سعی کی مگر تئیس جون1757کو سراج الدولہ کی مسلح افواج کے سالارِ اعلیٰ میر جعفر کی غداری ،بے غیرتی اور بے ضمیری کے باعث سراج الدولہ کو شکست ہوئی ۔میر جعفر کے بیٹے میرن کے حکم پر ایک اُجرتی بد معاش اور پیشہ ور قاتل نے دو جولائی 1757کو میر جعفر کی مُرشد آباد کی اقامت گاہ کے بابِ غداراں کی نمک حرام ڈیوڑھی کے نزدیک حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ اپنانے والے مردِ حق پرست سراج الدولہ کی زندگی کی شمع گُل کر دی۔ بابِ غداراں کے محسن کش اور پیشہ ور قاتل میر میرن کے بارے میں کلائیو نے وارن ہیسٹنگز کو اپنے ایک ذاتی مکتوب میں تحریر کیا :
’’مجھے اکثر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ آج نہیں تو کل یہ نوجوان کُتا اپنے باپ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے گا۔میں کئی بار اس بُوڑھے احمق (میر جعفر)کو سمجھا چکا ہوں کہ اپنے رشتہ داروں کے ہاتھ میں زیادہ اختیارات و طاقت نہ دے۔‘‘(14)

سراج الدولہ کی المناک شہادت کے بعد کلا ئیو نے اور م (ORME ) کو جو خط لکھا اس میں کبر و نخوت کا جو تا ثر مو جود ہے وہ قا بل غور ہے۔
"I am possessed of volumes of materials for the continuation of your history , in which will appear fighting , tricks , chicanery , intrigues , politics and the lord knows what ." (15)

پلا سی کی جنگ کے بعد انگریزوں کی دہشت گردی کی انتہا ہو گئی اور بر صغیر میں مسلما نوں کی حکومت کو جان کے لالے پڑ گئے۔اگر میر جعفر پلاسی کے میدان میں چند سکوں کے عوض اپنے ضمیر اورقومی حمیت کا سودا نہ کرتا تو حالات کچھ اور ہوتے۔کلائیو کو مسلمانوں کے جذبۂ شوق شہادت سے بہت ڈر لگتا تھا لیکن میر جعفر کی ضمیر فروشی اور غداری کے باعث حالا ت بدل گئے ۔اگر نمک حرام میر جعفر پلاسی کے میدان میں سراج الدولہ کی پیٹھ میں چُھرا نہ گھونپتا تو پلاسی کی جنگ میں بر طانوی استعمار کو منھ کی کھانا پڑتی۔پلاسی کی جنگ میں ظالم و سفاک بر طانوی استبداد کے نمائندے کلائیوکو ایسی ذلت ناک شکست ہوتی جو بنگال میں برطانیہ کی مکمل تباہی اور انہدام پر منتج ہوتی۔(16)حالات کا رُخ جس تیزی سے بدل رہا تھا مگر بر صغیر کے مقامی حکمرانوں کو اس کا کوئی اندازہ نہ تھا۔شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو نے برطانوی استعمار اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف بھر پور جد و جہد کی اور فسطائی جبر کے خلاف سینہ سپر ہو کر عظمتِ کردار کا ثبوت دیا۔ٹیپو سلطان کی شجاعت سے انگریز بہت خوف زدہ تھے ۔انھوں نے مقامی حکمرانوں سے ساز باز کر لی اور نظام دکن اور مر ہٹوں سے فوجی دستے طلب کیے۔انگریزوں کے پاس چار ہزار سپاہی تھے جب کہ انھوں نے بائیس ہزار مقامی سپاہی بھی بھرتی کیے۔نظام نے سولہ ہزار سپاہی بھیجے اور مر ہٹوں نے بھی اپنے دستے روانہ کیے ۔مجموعی طور پر انگریزوں کے پاس پچاس ہزار سپاہیوں کا لشکر تھا۔سلطان فتح علی ٹیپو کی فوج تیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی ۔ انگریزوں نے سرنگا پٹم کے قلعے کی دیوار میں شگاف ڈال دیا اور جارحانہ انداز میں سلطان فتح علی ٹیپو کی قلعے میں محصور فوج کو پچھاڑ دیا۔ چار مئی 1799کو ٹیپو سلطان نے برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعد انگریزوں نے بر ملا یہ کہنا شروع کر دیا کہ فتح علی ٹیپو کی بعد وہ ہندوستان کے بلا شرکت غیرے حکمران بن گئے ہیں۔اس زمانے میں یہ بات زبان زد عام تھی:
’’خلق خدا کی،ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا۔‘‘(17)

برطانوی استعمار نے پورے بر صغیر کو اپنے چُنگل میں جکڑ لیا ۔ بر طانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے عادی دروغ گو ،عیار اور جو فروش گندم نما تاجروں نے جب بد عہدی،کینہ پروری،سازش،فریب اور فسطائی جبر سے بر صغیرپر غاصبانہ قبضہ کر لیاتو عوامی سطح پر اس کُھلی جارحیت کو سخت نا پسند کیا گیا۔بر طانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے چرب زبان تاجر یہ تاثر دیتے تھے کہ مقامی باشندے ان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور تاج بر طانیہ کے وفادار ہیں۔اس موضوع پر پنڈرل مون نے اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
’’واقعی یہ دور بر طانوی راج کا سنہری زمانہ ہے ۔ملکہ وکٹوریہ کی بے حد عزت کی جاتی تھی۔ہر کوئی اس کا احترام کرتا تھا۔اگر آج بھی تمھیں امرتسر جانے کا اتفاق ہو تو وہاں ملکہ کا بُت نصب مِلے گا جِس کی ناک توڑ دی گئی ہے ۔‘‘(18)

آخری عہدِ مغلیہ میں امور ِمملکت چلانے کی استعداد سے محروم کٹھ پُتلی بادشاہوں نے تو لُٹیا ہی ڈبو دی۔آخری عہدِ مغلیہ میں حکمرانوں کی نااہلی ،تن آسانی اور بُزدلی نے اقوام عالم کی صف میں تماشا بنا دیا۔ جہاں دار شاہ نے جب ایک مر تبہ بر ہنہ تلوار دیکھی تو مارے خوف کے وہ دم دبا کر بھا گ نکلا۔ (19) جس وقت یورپ میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے عظیم الشان جامعات کے قیام پر توجہ دی جا رہی تھی ،اس وقت بر صغیر میں پُر شکوہ مقبروں کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا ۔ مغلوں کے اقتدار کے تین سو سال میں کوئی ایسا عظیم علمی ادارہ وجود میں نہیں آیا جو قوم میں صحیح نظر و بصیرت کی تخلیق میں مد ومعا ون ثا بت ہو تا ۔(20) یہ حالات کی ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ یہاں بھیڑ چال عام ہو گئی۔رعایا کے خوش حال طبقے نے بھی موت کے بعد اپنے لیے مقبروں کی تعمیر میں گہری دلچسپی لی۔آخری عہدِ مغلیہ میں حکمران رعایا کا خون نچوڑ کر جو زرومال جمع کرتے تھے وہ شاہی خاندان کی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ جاتا تھا۔مغل شہزادے جنھیں سلاطین کہا جاتا تھا ان کی کاہلی ،تن آسانی ،بے عملی ،بزدلی اور عیاشی کے ہر طر ف چرچے تھے ۔کام کاج سے بیزار اور پتنگ بازی،بٹیر بازی،چوسر،گنجفہ،کبوتر بازی،شطرنج اور مرغوں کی لڑائی میں گہری دلچسپی رکھنے والے سادیت پسندی کے روگ میں مبتلا یہ سلاطین اپنی بد اع