کا میا ب مرد کے پیچھے عو ر ت کا کر دار قسط (٢)

(naila rani, karachi)

چنا نچہ ا نہو ں نے حا می بھر لی ا بھی نبی علیہ ا لسلام اور حضر ت ا بو بکر ر ضی ا للہ عنہ ر خصت ہی ہو ئے تھے کہ ا سما ء ر ضی ا للہ عنہا کے دادا ابو قحا فہ تشر یف لا ئے ا نہو ں نے آ کر حضر ت ابو بکر صد یق کے با ر ے میں پو چھا بچو ں نے کہا و ہ تو چلے گئے تو ان کے دل پر ذرا گھبرا ہٹ سی ہو ئی کہنے لگے ا پنا ما ل تو سا را نہیں لے گئے ۔۔۔؟حضر ت ا سما ء کہنے لگیں میں بچی تھی مگر میں نے یہ کیا کہ ا یک جگہ پتھر پڑ ے ہو ئے تھے ان کے او پر کپڑا ڈال د یا او ر ا پنے دادا کا ہا تھ ان پر ر کھوا د یا اور کہا کہ دادا ابو اس کے پیچھے بہت کچھ ہے تو دادا ا بو سمجھے کہ شا ئد ما ل پیچھے پڑا ہو گا وہ مطمئین ہو گئے فر ما نے لگیں میر ے وا لد تو ا للہ کے محبو ب کے سا تھ چلے گئے اور پا نچ ہزار در ہم سا تھ لے کر گئے تھے پیچھے تو ا للہ اور ا س کے ر سو ل کا نا م ہی چھو ڑ کر گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

فر ما تی ہیں کہ میں ان کو کھا نا پہنچا تی تھی جب دو سر ے دن کھا نا لے کر گئی تو نبی علیہ ا لسلام نے د یکھا کہ آج چھو ٹی ا سما ء کے چہر ے پر ذ خم کا نشان ہے مغمو م طبیعیت ہے -آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پو چھا ا سما ء ! آج کیا با ت ہے تو ا دا س نظر آ تی ہے ۔۔۔؟ تو ا سما ء کی آ نکھو ں میں آنسو آ گئے نبی علیہ ا لسلام متو جہ ہو ئے - پو چھا ا سما ء تو کیو ں رو ر ہی ہے ۔۔؟ عر ض کیا اے اللہ کے محبو ب صلی اللہ علیہ و سلم کل جب میں کھا نا د ے کر وا پس جا ر ہی تھی تو را ستہ میں ا بو جہل مل گیا تھا اس نے مجھے با لو ں سے مضبو طی کے سا تھ پکڑ لیا اور با لو ں کو کھینچ کھینچ کر کہنے لگا ا سما ء! بتا و تمہیں پتا ہے کہ تمہا رے وا لد کہا ں ہیں ۔۔۔؟تمہارے پیغمبر کہا ں ہیں ۔۔۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔

اے اللہ کے محبو ب صلی اللہ علیہ و سلم میں نے اسے سچ سچ کہ د یا -ہا ں مجھے پتہ ہے وہ کہنے لگا پھر بتا و وہ کہا ں ہیں ۔۔۔؟ میں نے جو ا ب د یا ہر گز نہیں بتا و ں گی -اس نے کہا میں تمہیں مار دو ں گا -میں سخت سزا دو ں گا -اللہ کے محبو ب صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اس سے کہا “جو تم کر سکتے ہو وہ کر لو مگر میں نہیں بتا و ں گی “اے اللہ کے محبو ب صلی اللہ علیہ و سلم اس نے ا چا نک مجھے زو ر دار تھپڑ لگا یا میں نیچے گر ی چٹا ن پر میرا ما تھا لگا میر ے ما تھے سے خو ن نکل آ یا میر ی آ نکھو ں سے آ نسو آ گئے مجھے سخت تکلیف ہو ر ہی تھی -ا بو جہل نے مجھے پھر با لو ں سے پکڑ کر کھڑا کر د یا کہنے لگا اسما ء ! تجھے بہت ما رو ں گا جلد ی بتا د ے -اللہ کے محبو ب! میں نے اسے جو اب د یا اے ا بو جہل میر ی جان تو تیرے حوا لے مگر محمد عر بی صلی اللہ علیہ و سلم کو تیر ے حوا لے نہیں کرو ں گی “آپ اندا زہ کیجئےایک چھو ٹی سی بچی ہے لیکن اسکو بھی نبی علیہ السلام کے سا تھ ا تنی محبت ہے کہتی ہے میر ی جا ن تو تیرے حوا لے مگر محمد عر بی کو تیرے حوا لے نہیں کرو ں گی -تو سید نا ا بو بکر صد یق کے اس کا میا ب سفر کے پیچھے آپکو ا یک عورت کا کردار نظر آ ئے گا بیٹی کی شکل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

مثا ل نمبر (٣)۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید نا عمر فا رو ق ر ضی اللہ عنہ مراد مصطفی کہلا تے ہیں وہ ایک مر تبہ تلوار لے کر نکلے کہ نبی علیہ ا لسلام کو شہید کر د یں -را ستے میں ایک صحا بی ملے پو چھا کہا ں کا ا را دہ ہے ۔۔۔؟کہنے لگے میں ان (محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم )کو شہید کر نا چا ہتا ہو ں کہ نہ ر ہے با نس نہ بجے با نسر ی - کہنے لگے سبحان اللہ تم ا پنی بہن کے گھر جا کر تو د یکھو تمہا ر ی بہن اور بہنو ئی دو نو ں مسلمان ہو چکے ہیں عمر ر ضی اللہ عنہ کو بڑا غصہ آ یا کہ میر ے گھر کے لو گ میر ی ا جا زت اور علم کے بغیر اسلام قبو ل کر لیں یہ کیسے ہو سکتا ہے و ہیں سے بہن کے گھر پہنچے اور بہن کے گھر پر د ستک دی حضر ت عمر ر ضی اللہ عنہ نے سنا کہ وہ بیٹھے ہو ئے کچھ پڑھ ر ہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ا نھو ں نے د ستک دی تو ان کی بہن فا طمہ پہچا ن گئی کہ عمر دروا زے پر آئے کھڑے ہیں چنا نچہ جو صحا بی پڑ ھا ر ہے تھے وہ تو چھپ گئے ا نہو ں نے وہ چیز یں بھی چھپا د یں جن پر قرآن کی آ ئیتیں لکھی ہو ئیں تھیں دروازہ کھو لا عمر ر ضی اللہ عنہ اندر تشر یف لا ئے آ کر بہنو ئی سے پو چھا میں نے سنا ہے کہ آپ لو گ مسلما ن ہو چکے ہیں بہنو ئی نے جو ا ب د یا کہ اسلام سچا د ین ہے تو پھر ا سکو قبو ل کر نے میں کیا ر کا و ٹ ہے جب ا نہو ں نے یہ ا لفا ظ کہے تو عمر ر ضی اللہ عنہ نے غصے میں آ کر انکو ما ر نا شرو ع کر د یا بہن فا طمہ بچا نے کے لیئے بیچ میں آ ئیں عمر ر ضی اللہ عنہ جلال میں تھے آپ ر ضی اللہ عنہ نے بہن کے منہ پر بھی ا یک زور دار تھپڑ ر سید کیا فا طمہ ر ضی اللہ عنہا نیچے گر گئیں -مگر پھر سنبھل کر ا ٹھیں ان کی آ نکھو ں میں آ نسو تھے عمر ر ضی اللہ عنہ کے سا منے آکر کھڑی ہو گیئں اور اس و قت یہ ا لفا ظ کہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جا ری ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: naila rani riasat ali

Read More Articles by naila rani riasat ali: 104 Articles with 108833 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Sep, 2016 Views: 687

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ