عمران خان تیرا ککھ نہ رہے۔!

(Ajmal Malik, faisalabad)
کہتے ہیں کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ پہلےwise اور۔ دوسر ے otherwise۔۔دنیا پر wise کا قبضہ ہے otherwiseسارے محکوم ہیں۔ لیکن میرا۔ماننا ہے کہ سیاست دان بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلے پیٹ سےسوچنے والے۔ اور دوسرے دماغ سے ۔پاکستان پیٹ والوں کا ملک ہے۔ جنہیں ملتانی حلوے کی طرح لت لگی ہے۔لیکن دماغ والے جب بھی بولتے ہیں تو ۔دوسری جاتی کے پیٹ پر لات مارتے ہیں۔حرفِ مصمم یہ ہے۔ پیٹ سے سوچنے والوں کے پیٹ ہلکے ہوتے ہیں۔اورسارے۔otherwise کے پیٹ پر پتھر باندھے ہوتے ہیں ۔

عمران خان کی گوگل سے لی گئی ایک تصویر

مجھے بچپن سے ملتان سے پیار ہے۔اور ۔اس پیار کی اکلوتی وجہ میرا پیٹ ہے۔جسے ملتانی سوہن حلوے کی لت لگ گئی تھی۔سفر وسیلہ ظفر۔کی مانند جب کبھی ٹرین پرکراچی جانا ہوا۔ملتانی سوہن حلوہ خانیوال سےخریدناپڑا۔سنِ بلوغت سےپیرانہ سالی کی طرف راغب ہوئے تو ملتان میں اولیا اللہ کے مزار ۔دلی تسکین کا سبب بھی بن گئے ۔ تو ملتانی عقیدت پیٹ سے دل تک پہنچ گئی۔شعور تھوڑا ۔عالیِ مرتبت ہوا تو ملتان کی ازلی محرومیاں دیکھ کر دماغ کی بتی بھی روشن ہوئی ۔ ۔ پھر عقیدت نے دماغ کو بھی لپیٹا مار لیا۔ ملتان کے ساتھ ہر دور حکومت میں وہی سلوک ہوا۔ جو پارلمیانی طرز حکومت میں صدر سے ہوتا ہے۔بلکہ یوں کہہ لیں کہ جنوبی پنجاب کا صدر مقام ملتان باقی پنجاب کا ’’ ممنون‘‘ ہے۔؟۔ملتان ۔ اولیا اللہ کی وجہ سے معجزوں کاشہر بھی ہے۔ لیکن پچھلے دنوں یہاں ایک سیاسی معجزہ ہوا جو پر سرائیکیوں کو حکومت کا ممنون ہونا چاہیے۔

’’خبر کچھ یوں ہے کہ پچھلے دنوں ملتان کے محلہ عیدگاہ چوک کا رہائشی عمران نامی ایک شخص حالات سے دلبرداشتہ ہو کر پانی والی ٹینکی پر چڑھ گیا۔ خود کشی کے لئے چھلانگ لگائی لیکن بجلی کے تاروں پر آ گرا۔ خوش قسمتی سے بجلی بند تھی۔عمران تقریباآدھا گھنٹہ ہائی وولٹیج تاروں پر جھولتا رہا۔ جس کے بعد ریسکیو اہلکاروں اسے زندہ نیچے اتارلیا‘‘۔اس خبر میں معجزہ۔یہ ہے کہ بجلی کے تار مضبوط تھے۔وگرنہ بجلی تو اتنی باقاعدگی سےجاتی ہے کہ لوگ گھڑیوں کا ٹائم لوڈشیڈنگ کے ساتھ سیٹ کرنے لگے ہیں۔عمران بے وقوف تھا۔اسی لئے تو خود کشی تب کی جب بتی بند تھی۔مجھے یقین ہے کہ ۔اس کی زندگی2018 تک وفا کرے گی کیونکہ 2018 لوڈشیڈنگ آخری سانسیں لے رہی ہوگی۔ ملکی معیشت کافی مثبت’’اشارے‘‘کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈارکئی بار ایسا ہی کچھ کہہ بھی چکے ہیں۔خود کشی کی۔کوشش کو عمران کی ذاتی وجہ سمجھاجانا ضروری ہےوگرنہ ۔معیشت مستحکم ہوتو کون بے وقوف جان جوکھوں میں ڈالتا ہے۔
شوہر گھر آیا تو بیگم کمر سے پھندا۔باندھ ڈال پنکھے سے خودکشی کی کوشش کر رہی تھی۔
شوہر : یہ کیا ۔خود کشی کرنی ہےتو پھندا گلے میں ڈالو۔
بیگم :پہلے پھندا گلے میں ڈالا تھا ۔ تومیرا دم گھٹنے لگا تھا۔

کہتے ہیں کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ پہلےwise اور۔ دوسر ے otherwise۔۔دنیا پر wise کا قبضہ ہے otherwiseسارے محکوم ہیں۔ لیکن میرا۔ماننا ہے کہ سیاست دان بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ پہلے پیٹ سےسوچنے والے۔ اور دوسرے دماغ سے ۔پاکستان پیٹ والوں کا ملک ہے۔ جنہیں ملتانی حلوے کی طرح لت لگی ہے۔لیکن دماغ والے جب بھی بولتے ہیں تو ۔دوسری جاتی کے پیٹ پر لات مارتے ہیں۔حرفِ مصمم یہ ہے۔ پیٹ سے سوچنے والوں کے پیٹ ہلکے ہوتے ہیں۔اورسارے۔otherwise کے پیٹ پر پتھر باندھے ہوتے ہیں ۔دونوں سیاسی جاتیوں میں سے کون کسے پسند ہے یہ اپنا اپنا عقیدہ ہے۔یہاں ٹانگہ پارٹیوں اور ڈیڑھ اِٹی مسجد والوں نےسب سے اونچا سپیکر لگا رکھا ہے۔پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست کا مطلب ہے۔حکومت کے خاتمے کے لئے معجزوں کا انتظار کرنا۔کیونکہ انگلی جب سے بیٹھی ہے یہاں چمتکار ہونے بند ہو گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قوم کو تبدیلی کا نعرہ دیا۔ اُس پگلے کو نہیں پتہ تھا کہ معیشت مستحکم ہو تو چلدی ترقی میں دھرنے دینا پاک نہیں پاپ ہو تا ہے۔ تبدیلی کے نعرے نے ترقیِ معکوس کو جنم دیا ہے۔ آگے بڑھنے کا عمل رک گیا ہے۔

استاد:بچو زندگی مسلسل آگے بڑھنے کانام ہے۔ اگر آپ اڑ نہیں سکتے تو بھاگیں۔۔ بھاگ نہیں سکتے تو چلیں۔۔ اور چل نہیں سکتے تورینگنا شرو ع کر دیں۔۔
شاگرد:استاد جی ۔وہ تو ٹھیک ہے لیکن جانا کہاں ہے۔ ؟

جانا وہیں ہے جہاں اسحاق ڈار کہہ رہے ہیں ۔کہ۔’’ 2050 میں پاکستان۔دنیا کی 18ویں بڑی معیشت ہو گا۔ملکی معیشت درست راستے پر گامزن ہے‘‘ ۔ پولیو زدہ معیشت عالمی امداد کی بیساکھیاں چھوڑ چکی ہے۔ دھرنوں سے لگنے والےخسارے کے دھچکے اب ختم ہو چکے ہیں۔ بیمارصنعتی یونٹس انرجی ڈرنکس پی کر تگڑے ہو گئے ہیں۔ ریلوے، واپڈا، پی آئی اے،سوئی گیس،تعلیم اور صحت سمیت تمام بھٹکے محکمے راہ راست پر آ چکے ہیں۔نندی پور۔اور قائداعظم سولر پارک کی کرپشن کے الزامات جھوٹے نکلے ہیں۔ پنجاب کے سارے چھوٹو گینگزختم ہو گئے ہیں۔۔چنیوٹ کے قیمتی معدنی ذخائرنے ملکی محاصل بڑھا دئیے ہیں۔احتساب بیورو میگا کرپشن کیسز میں نیوٹرل انکوائری پر لگ گیا ہے۔میٹرو بس۔ کرپشن کے الزامات غلط ہیں۔لاہور کی اورنج ٹرین میں باقی پنجاب کے فنڈز جھونکنے کا دعوی غلط ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار۔ دودھ کی نہریں لے آ ئے ہیں۔۔ زرمبادلہ کے ذخائرنفسیاتی حدود عبور کر چکےہيں۔کیپٹل نہیں بلکہ معیشت فلائی کر رہی ہے۔ملک میں گڈ گورننس کا راج ہے۔ترقی کے ثمرات قوم کو ملنے والے ہیں۔ عمران خان ۔ملتانی عمران کی طرح تار پر لٹکے ہوئے ہیں۔وہ ملک کو پیر س بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اپوزیشن کو صراط مستقیم نظر نہیں آ رہی۔عوامی شعورکی بیداری میں ابھی وقت لگے گا۔؟
سردار:یہ کس چیز کا کھیت ہے۔
کسان:یہ کپاس کا ہےجس سے کپڑا بنتا ہے ۔
سردار:او ہ ۔ اچھا۔ تو اس میں شلوار کاپودا کون سا ہے۔

ہمارا ۔شعور ابھی تک سردار جی والے سٹیٹس پر ہے۔قمیض اور شلوار کے پودے تلاش کرنے والا۔شعور۔لیکن امید افزا بات یہ ہے کہ معاشرہ بے فکر نہیں زندہ ہے۔مردے سوال کرنے کی جرات نہیں کرتے۔کہتے ہیں کہ معاشرتی زوال کی ابتدا فکری زوال سے ہوتی ہے۔پنجابی معاشرہ فکری زوال کا شکار نہیں ہے کیونکہ لاہور۔براق جیسی رفتارسے ترقی کر رہا ہے۔لیکن میرا دوست شیخ مرید کہتا ہے کہ جبونی پنجاب کی ترقی کے لئے حکمرانی سوچ زوال پزیر ہو چکی ہے۔اور۔لاہورمیں مقروض ترقی ہو رہی ہے‘‘۔لیکن اسحاق ڈار کہتے ہیں ۔’’عالمی اداروں نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کرنا شروع کر دی ہے‘‘ ۔شائد اب نوکریاں میرٹ پر ملتی ہیں۔ کرپشن رک گئی ہے۔۔ احتساب بام عروج پر ہے۔ چھوٹو گینگز ختم ہو گئے ہیں۔اقربا پروری کرنے والے لاپروا ہو چکے ہیں۔آئندہ پنجاب کے 50 ہزارگرایجوئیٹس کوٹیکسی ڈرائیورنہیں بنایا جا ئے گا۔ملکی برآمدات سر کے اوپر سے گذر رہی ہیں۔ انڈسٹری کا پہیہ پیٹ کے مروڑ کی طرح گھوم رہا ہے۔ بُر ا۔ ہو عمران خان کا جس نے دھرنا دے کر مزید قرضے لینے پر مجبور کر دیا۔جس نے خزانہ لوٹنے والوں کوآڑے ہاتھوں لیا۔آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔جس کی ہاہا کار۔پرحکومت۔ چھوٹے کسانوں کو20 ارب روپے دینے پر مجبور ہوئی۔بنکوں میں چھ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگانا پڑا۔ سٹیل ملز ملازمین کوتنخواہیں دینا پڑیں۔بُر ا ہو ۔ عمران خان کا جس نے چار حلقے کھلوا ۔کر لیگی وزرا کو عدالتوں میں خوار کیا۔ عمران خان تیراککھ نہ رہے۔شکر ہےسپیکر نے میاں نواز شریف کی نااہلی کا ریفرینس روک کر عمران خان کی نااہلی کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیا۔ بھجوا دیا۔بھلا ہو ۔حکومت کا قانون پر عمل درآمد کردیا۔
پٹھان:سر جی میری گاڑی کے کاغذات تو پورے ہیں ۔ پھر چالان کیوں کیا۔؟
وارڈن : سونیا ۔ ڈبل سواری کھل گئی ہے لیکن تم اکیلے جا رہے ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ajmal Malik

Read More Articles by Ajmal Malik: 76 Articles with 50255 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Sep, 2016 Views: 495

Comments

آپ کی رائے