پاسدارِ پاکستان اورقومی شناختی کارڈ کا تجدید

(Faiz Khan, )
47 سال گزرنے کے باوجود مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) منتقل ہونے والے محب وطن پاکستانی کی اولادوں کو پاکستانی شہریت ملنے میں دشواری،نادرا کاقومی شناختی کارڈ بنانے کیلئے آنے والوں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ،انکی تضہیک،متصبانہ سوالات،وطن پاک سے وافاداری کا سرٹیفیکٹ،باپ دادا کی جائے پیدائش کی سنداور اس کے علاوہ سینکٹروں اعتراضات نے ان محب وطن پاکستانیوں کو جن کے باپ دادا،بھائی اور دیگر اہلِ خانہ 1971میں پاک افوج کے شانہ بشانہ پاک وطن کی دفاع کیلئے تین لاکھ سروں کا نذرانہ پیش کرچکے ،اپنا گھر،کاروبار،ملازمت کو خیر باد کرکے سبز ہلالی پرچم بلند کرکے پاکستان ہجرت کی جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں اردو بولنے والے جن میں زیادہ تر بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والوں کی تھی قیام پاکستان سے قبل بھی آزادی پاکستان کیلئے ناقابلِ شمار قربانی پیش کرکے مشرقی پاکستان ہجر ت کی ، یہی وجہ تھی کہ بانی پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح نے کہا تھا’’ہم بہار کے مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرسکتے‘‘-

وائے افسوس وطن پاکستان کے حصول کیلئے جن کے آباؤاجداد کی قربانی کو قائد اعظم نے سلام پیش کیا ان کی اولادوں کو ملک پاکستان کی شہریت کے حصول کیلئے دھکے کھانے اور منفی قانون کے گورکھ دھندے میں الجھا دیا گیا ہے۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اس کے اپنے شہری کو شہریت دینے سے انکار کیا جاتا ہولیکن ہمارے یہاں سیاسی مفاد کے عوض یہ مکروہ کھیل جاری ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ ملکی دانشورر،تجزیہ کار،کالم نگار خاموش بیٹھا ہے،روز صبح سے رات گئے تک گلہ پھاڑنے والے اینکر حضرات قوم کے لئے ایک نسل میں دو مرتبہ ہجرت کا دکھ سہنے والوں کے ساتھ زیادتی پر ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں،وہ سیاسی جماعتیں جو ان کے ووٹ سے اسمبلی کے ثمرات لوٹنے میں مصروف رہے جنکے ایک اشارے پر ملک کا پہیہ جام ہوتا رہا کبھی اس مسائل پر دو لفظ اسمبلی میں بولنے سے معذور رہے،نہ کبھی کوئی جلوس نکالا نہ کبھی پہیہ جام ،وہ جماعتیں جو خود کو وفاقی جماعت کہلوانے کی دعویدار ہے وفاق پاکستان پر مر مٹنے والوں کی اولادوں کی جانب نظر کرم کرنے سے معذور ہے،اسلام کے دعوایدار ،جلسہ جلوس کے چمپئن کوکبھی ان مظلوموں کو درپیش سرکاری جبر کیخلاف پلے کارڈ لگانے کی توفیق نہیں ہوئی۔خدشہ ہے کہ نادرہ کے موجودہ پالیسی درست نہیں کی گئی تو کئی ہزار طالب علم حصول علم سے محروم رہے جائیں گے جس سے معاشرے میں بگاڑ ابھر سکتا ہے نیز بروقت قومی شناختی کارڈ رکا تجدید ممکن نہ ہونے سے ان متاثرین کے بینکوں میں رکھی بھاری رقم کی منتقلی پیچیدگی کا شکار ہوسکتا ہے،متاثرین قومی شناختی کارڈ کے حامل اوورسیز پاکستانی جو کثیر رقم پاکستان بھیجتے ہیں جس سے ملکی سرمایہ میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے رک بھی سکتا ہے، اس کے علاوہ دشمنان وطن کو موقع مل سکتا ہے متاثرین کے نوجوانوں کو ملک دشمنی پر ابھارنے پر،لہذا ارباب اختیار اور قانون ساز اداروں پر لازم ہے سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر خالص انسانی بنیاد پر درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات اور احکامات جاری کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Faiz Khan

Read More Articles by Faiz Khan: 5 Articles with 2035 views »
میرا نام فیض خان ہے،گزشتہ بیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہوں،بچپن میں ہمدرد،نونہال اور معیار میں کہانی اور سماجیرپورٹ لکا کرتا تھا،م،ابتدائی تعلیم پک.. View More
12 Sep, 2016 Views: 373

Comments

آپ کی رائے