پاکستانی مزدور ،سعودی عرب ، اور ہمارے سفارتکار‎

(SHAHID MUSHTAQ, Jeddah)
سعودی عرب میں محصور ہزاروں ، پاکستانی ، اور وطن میں موجود انکے ،خاندان، پچھلے نو ماہ سے مسلسل کرب ، اذیت ، اور م معاشی، تنگی سےدوچارہیں -
کسی نے کئی ماہ سے گھرکاکرائیہ ادانہیں کیا-
تو کسی نے کئی ماہ سے بچوں کی اسکول کی فیس نہیں دی-
کسے کے والدین بیمار ہیں،علاج کیلیے پیسے نہیں ،
کوئی گھر کے راشن کیلیے پریشان ہے-
سب سے ذیادہ مشکلات کا شکاروہ لوگ ہیں -
جو اپنے گھروں کے سربراہ ہیں ،پچھلے نوماہ سے ہزاروں لوگ اپنے گھروں میں ایک پیسہ تک نہیں بھجوا سکے-
دوسری عید آچکی ہے مگر ان بیچاروں کو انکے واجبات ادا کئیے گئے ہیں-
نہ انہیں وطن بھیجنے کا کوئی معقول بندو بست ابھی ہوسکا ہے -
سعودی حکومت کی خاموشی کی وجہ تو کسی حدتک سمجھ میں آتی ہے - کہ متاثرہ کمپنیوں کے اعلی عہدوں پرفائز کچھ لوگوں کا کہناہے کہ ، یہ ساری پریشان کن صورتحال کی وجہ حکومت کی ان کمپنیوں کوادائیگی نہ کرنا ، اور شروع کئیے گئے پراجیکٹس پہ کام روک دینا ہے -
مگر انتہائی شرمناک کردار پاکستانی سفارت کاروں کا ہے - جو نہ صرف اپنے ہم وطنوں کی کسی طرح کی مددکرنے سےقاصر رہے- بلکہ الٹا انہیں اذیت سے دوچار کئیے رکھا ہے -
پاکستانی سفارت خانے کی ناکامی ملاحظہ کیجئے ،کہ جب تک محصورین بغیر واجبات لئیے ، اپنے وطن لوٹنے �پہ راضی نہیں ہوئے- ان کا کیس ہی لیبرکورٹ میں درج نہیں ہوسکا-
پاکستانی میڈیا میں سفارتکاروں کےبڑے بڑے دعووں کے برعکس انہوں نے سوائے بیان بازی کے
اپنے لوگوں کیلیے کچھ نہیں کیا- کھانے کاانتظام لوگ ا��پنے طورپہ کررہے ہیں یاکچھ خیراتی تنظیمیں ان بے بس مجبوروں کی مددکررہی ہیں -
چنددن قبل پاکستانی وزیر کا دورہ سعودی عرب
محصورین میں مزید مایوسی کا باعث بنا - وزیرموصوف مسائل حل کرنے کے بجائے-
ہرجگہ یہی مشورہ دیتے نظر آئے ، کہ آپ لوگ پاکستان چلے جائیں - بعد میں آپ لوگوں کےواجبات آپ کوپاکستان میں ادا کردئیے جاینگے- ایسی حالت میں کہ جب وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اعلان کئیے گئے -پچاس ہزار ہی ابھی تک سب متاثرین کو نہیں ملے- متاثرین حکومت پہ اعتبار کرنے کرنے کے لیئے تیار نہیں -
اب ایک طرف لیبر کورٹ والے کہہ رہے ہیں -کہ اگرآ�پ لوگ چاہیں تو انتظار کیجیے اورکورٹ کافیصلے آنے پہ اپنےحسابات لے کر جائیے -(جبکہ ابھی تک کیس کی شنوائی ہی نہیں ہوئی - تو فیصلہ نجانے کب آئے )
مگر ہمارے سفارت خانے کےعملے کا سارا زور اسی پرہے - کہ متاثرین جلد از جلد پاکستانی سفارت خانے کو اپنے واجبات کا وارث بنا کر خالی ہاتھ گھرلوٹ جایں ، نہیں تو پچیس ستمبرکے بعد انکے کیمپوں میں کھانا ،پانی ، اور بجلی بند کردی جائیگی ،اور �پچیس ستمبر کے بعد ہم آپ کے مسوُل نہیں ہونگے -
جبکہ لیبرکورٹ کے کارندے کچھ اور کہہ رہے ہیں --
شرکہ سعودی اوجر ،بن لادن ،شرکہ سعد، اور دیگر کئی کمپنیوں کے
شدید ذہنی کرب سے دوچار یہ ہزاروں پاکستانی ، انڈین ، بنگالی، فلپینی، اور افریقی ورکرز ،
بادل نخواستہ اب خالی ہاتھ اپنے گھروں کو لوٹنے پہ آمادہ تو ہورہے ہیں ، مگر اپنے ممالک میں لوٹ کر یہ اپنی حکومتوں کے لئیے بہت سارے مسائل کا باعث بھی بن سکتےہیں -
پانچ سے تیس سالہ سروس کے بعد خالی ہاتھ گھروں کو لوٹنا ، اور دوبارہ نئے سرے سے زندگی کاآغاز کرنا بہت کٹھن اورمشکل کام ہے -
خصوصاََ پاکستانی متاثرین کا معاملہ ذیادہ تشویش ناک ہے- پاکستان �پہلے ہی بے شمار معاشی مسائل سے نبرد آزماء ہے - ایسے میں ان متاثرین کے لیئے اپنے لئیے خالی ہاتھ باعزت روزگار کا انظام بے حد دشوار لگتا ہے-
سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے -
ہمارے آپس میں بڑے مظبوط رشتے اور گہری محبتیں ہیں-
اور موجودہ حالات میں جب آئے دن ان دونوں ممالک کے خلاف کوئی نہ کوئی نیا فتنہ سراٹھا رہا ہے -
ان رشتوں کو مزید مظبوط اور گہرا کرنے کی ضرورت ہے -
دونوں حکومتو�ں اور انکے سفارت کاروں کو
اس سنگین مسئلے کا بہترین حل تلاش کرنا چاہئیے - تاکہ فاصلے بڑھنے نہ پائیں- اور دلوں میں ایک دوسرے کی ہمدردی اور خیرخواہی باقی رہے-
آج یہاں ان متاثرین کی تعداد اگر ہزاروں میں ہے -
توکل یہاں سے مایوس اور اپنا حق لئیے بغیر اپنے وطن لوٹنے کے بعد
انکی تعداد لاکھوں میں بدل سکتی ہے ------
پھر اگر یہ اپنےحق کے حصول کیلیے سڑکوں پہ نکل آئے اور احتجاج کا سلسلہ شروع کردیاتو
یہ پاکستان میں سعودی عرب کے حوالے سے بالکل ایک نئی بات ہوگی -
جس کا فایدہ ، ایران ، سمیت ان دونوں ممالک کی دوستی اور
بھائی چارے سے خائف طاقتیں اٹھا سکتی ہیں -
حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے ، سعودی حکام پہ اس مسئلے کو بطریق احسن حل کرنے کے لئیے زور دیا جائے-
تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہونے سے بچے رہیں اور متاثرین کو ریلیف مل سکے -
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: SHAHID MUSHTAQ

Read More Articles by SHAHID MUSHTAQ: 102 Articles with 36969 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے