عمران خان کا جلسہ ، ایم کیو ایم کی مشکل اورپی پی کی فتح

(Abdul Jabbar Nasir, )
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے حالیہ دوروزہ دورہ سندھ سے صوبے کی سیاست میں ہلچل پیداہونے کا امکان تھا، کیونکہ عمران خان نے 6ستمبر کو یوم دفاع پاکستان کے موقع پر نشتر پارک کراچی میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ جلسے خطاب کرنا تھا۔ 22اگست کے ناخوشگوار واقعے کے بعد کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کا اس نوعیت کا یہ پہلا اجتماع تھا۔ امکان یہی تھاکہ عمران خان نشتر پارک میں ایک مرتبہ پھراپنی بھر پور سیاسی قوت کا مظاہرہ کریں گے اور اہل کراچی کوموجودہ صورتحال کے تناظر میں اپنا خاص پیغام بھی دیں گے ، لیکن ہر دو صورت میں نتیجہ برعکس نکلا۔

عمران خان کے حالیہ جلسے کو نشتر پارک کی تاریخ کے ناکام ترین جلسوں میں شمار کیاجاتاہے ،جس کا احساس شاید خود خان صاحب بھی ہوا اور کو شرکاء کی مایوس کن تعداد دیکھ کر انہوں نے کہاکہ ’’پارٹی کی مقامی قیادت نے جلسے کی تیاری نہ ہونے کا عذرپیش کیاتھا اس کے باوجود ہم نے جلسے کا فیصلہ کیا‘‘۔اس بارتحریک انصاف کے جلسے میں خواتین کی شرکت رہی اور نہ ہی وہ جوش وجذبہ دیکھائی دیا جو تحریک انصاف کے جلسوں کا حسن ہوا کرتاہے۔بعض مبصرین کے مطابق جلسے میں شرکاء کی تعداد میں کمی عمران خان کی احتجاجی سیاست اور پارٹی کی پالیسیاں عوامی بیزاری ہے جبکہ بعض کے مطابق تحریک انصاف سندھ بالخصوص کراچی میں نصف درج کے قریب گروپوں میں تقسیم ہے اور ہر گروپ ایک دوسرے کو نیچھا دیکھانے کیلئے ہر وہ عمل کرتاہے جس سے دوسرے گروپ کی کمزوری سامنے آئے۔ پارٹی کی تنظیم سازی نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

میڈیا کے نمائندوں اور عینی شاہدین کے مطابق نشتر پارک میں مجموعی طور پر 25سے 30ہزار افراد کی گنجائش ہے اس کا 50فیصد سے زائد حصہ مکمل خالی جبکہ باقی حصے میں جلسہ گاہ،وسیع اسٹیج، میڈیا ڈی ایس این جی کی پارکنگ ، وی آئی پیز کی پارکنگ ، میڈیا کنٹینر ، اور دیگر تمام سازو سامان کے لئے مختص رہا۔پولیس کے مطابق شرکاء کی تعداد 4سے 6ہزار، میڈیا کے نمائندوں کے مطابق 5سے 7ہزار ، تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں کے مطابق 15سے 20ہزار اور اسٹیج سے ہونے والے اعلانات مطابق انسانوں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر تھا ۔تعداد کتنی ہی ہو لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کیلئے یہ جلسہ کسی دھچکے سے کم نہیں ہے کیونکہ اس جلسے میں تحریک انصاف کی پوری مرکزی قیادت شریک تھی ۔ عمران خان نے اپنے خطاب میں اعلان کیاہے کہ وہ 24ستمبر کو رائیونڈ کی طرف مارچ کریں گے اور نوازشریف کا احتساب اب سڑکوں پر ہوگا۔ انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی الیکشن کمیشن آف پاکستان،نیب،ایف بی آر ودیگر اداروں کو بھی سخت تنقیدکا نشانہ بنا یاتاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کے حوالے سے جملوں کے استعمال میں کافی احتیاط برتی ۔عمران خان کے نشتر پارک کے جلسے کے مقابلے میں 5ستمبر کو اسٹیل ملز کے ملازمین کا جلسہ 2سے 3گناہ بڑا تھا، جس میں عمران خان اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی اور اسٹیل مل کے بحران کے حوالے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔مجموعی طور پر عمران خان کا دوروزہ دورہ سندھ کی سیاست میں اس طرح ہلچل پیدا نہیں کرسکا جس کی توقع تھی،تاہم پہلی بار ایم کیوایم کے حوالے سے عمران خان نے کراچی کے کسی جلسے میں اس طرح کے سخت جملے استعمال کئے ،نشتر پارک کے جلسے کے مقررین نے الطاف حسین کی پاکستان کیخلاف تقاریرکی مذمت کی اور انہیں ناقابل برداشت قراردیا۔ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے تحریک انصاف کے جلسے کو ’’جلسی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ عوام نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کو مسترد کردیا ۔

ایم کیوایم گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل بحران کا شکارہے لیکن 22اگست کے واقع کے بعد ایم کیوایم انتہائی مشکل میں ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھی بحران سے نکلنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ،قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف قرارداد مذمت کی حمایت ، ایم کیوایم کے آئین سے الطاف حسین کے نام کے اخراج اور دیگر ترامیم کی منظوری اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ بعض ذرائع کا یہ دعویٰ ہے کہ اس عمل پر الطاف حسین اور ان کے ساتھی سخت ناراض ہیں۔ بعض افراد شہر کے بعض مقامات پر ’’قائد کا غدار موت کا حقدار ‘‘ اور صدر کے علاقے میں ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف لگائے گئے بینرز کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں ، ایم کیو ایم کے ہر دو جانب سے اس کو مسترد کیا گیا ہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان بینرز اور شہر میں اچانک گاڑیوں کے نزرآتش کرنے کے عمل نے عوام میں تشویش پیدا کردی ہے۔ یہ دھمکی آمیز بینرز ہائی کورٹ سندھ کے مین گیٹ کے باہر لگایا گیا اور کسی کو کانو کان خبر بھی نہ ہوئی یہ علاقہ سیکورٹی زون میں شامل ہے اور یہاں پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں اس کے باوجود اس طرح کے دھمکی آمیز بینر زکا لگانا اور ملزمان کا پتا نہ چلنا سوالیہ نشان ہے؟ بینرز میں درج عبارت بھی کئی حوالوں سے مشکوک ہے۔اس حقیقت سے انکار تو نہیں کہ ایم کیوایم پاکستان کی قیادت سے الطاف حسین کے حامی ناراض ہیں لیکن اس موقع پر بینرز والی حماقت سمجھ سے بالاتر ہے، بظاہرتو ایسا ہی لگتاہے کہ اس میں کوئی تیسری قوت ملوث ہے جو شہر میں خلفشار اور غیر یقینی صورتحال دیکھنا چاہتی ہے۔ اس سے بچنے کیلئے حکومت ،اداروں اور تمام سیاسی ،مذہبی، سماجی اور تجارتی قوتوں کو ہر ممکن کردار ادا کرناہوگا۔ دوسری جانب پاک سرزمین پارٹی بھی شہر کے مختلف علاقوں میں متحرک ہوگئی ہے اور اس کے سربراہ سید مصطفی کمال مختلف علاقوں کے دوروں اور دفاتر کے افتتاح میں مصروف نظر آتے ہیں جس سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ کئی ماہ کی بند کمرہ سیاست کے بعد پاک سرزمین پارٹی نے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک مثبت عمل ہے کیونکہ حتمی فیصلہ تو عوام نے ہی کرنا ہے ۔

کراچی کی موجودہ سیاسی صورتحال میں سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 127کے 8ستمبر کو ہونے والا ضمنی انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ یہ نشست ایم کیوایم کے اشفاق منگی کے پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اور رکنیت سے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی ہے ۔ دیہی اور شہری علاقوں میں اس نشست پر ایم کیوایم پاکستان کے وسیم احمد اور پیپلزپارٹی کے غلام مرتضیٰ بلوچ کے درمیان مقابلہ ہوا ۔ ریٹرننگ افیسر کے جاری غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق کل 2لاکھ7ہزار467ووٹوں میں سے 44ہزار517ووٹ کاسٹ ہوئے جن میں سے 420ووٹ مسترد ہوگئے اور 44ہزار97ووٹ درست قرار پائے ۔ اس طرح ووٹ کاسٹنگ کی شرح 21فیصد رہی ہے ۔21امیدواروں میں سے پیپلزپارٹی کے امید وار غلام مرتضیٰ بلوچ 21ہزار187ووٹ لیکر واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے ،جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے امیدوار وسیم احمد 15ہزار553ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔تحریک انصاف کے ندیم میمن کو5ہزار580 ووٹ، مجلس وحدت مسلمین کے سید علی عباس عابدی کو609اورمہاجر قومی موومنٹ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ثناء اﷲ قریشی کو 446ووٹ ملے ۔باقی کوئی بھی امیدوار215کی حد کو کراس نہ کرسکا ۔2002ء کے بعد پیپلزپارٹی نے پہلی بار یہ نشست دوبارہ حاصل کرلی ہے ۔ 12مئی 2004ء کو ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم نے یہ نشست پیپلز پارٹی سے چھین لی اور2013ء تک مسلسل تین بار کامیاب ہوئی تاہم اب ضمنی انتخاب میں ہی پیپلزپارٹی اپنی نشست حاصل کرنے میں کا میاب رہی ۔2016ء میں کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے مقابلے میں پی ایس127میں ووٹ کاسٹنگ کی شرح بہتر رہی ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Nasir

Read More Articles by Abdul Jabbar Nasir: 136 Articles with 61911 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Sep, 2016 Views: 335

Comments

آپ کی رائے