داعش کا خاتمہ اتنا جلد ممکن نہیں۰۰۰۰سی آئی اے سربراہ جان برینن

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

9/11 ورلڈ ٹریڈ سینٹر معاملہ پر سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ؟

آخر کیا’’داعش ‘‘ سے دنیا کا سوپرپاور کہلائے جانے والا ملک امریکہ بھی آخر خوفزدہ ہے ؟ داعش آخر کیوں وجود میں آئی۔؟ کیاداعش عراق اور شام کی سرحدوں سے نکل کر دنیا کے دوسرے ممالک میں دہشت پھیلانے کی واقعی صلاحیت رکھتی ہے۔؟ کیاداعش کی سرپرستی یہود و نصاریٰ کررہے ہیں؟ یابعض اسلامی ممالک کی سرپرستی اسے حاصل ہے یا تھی؟ کیا داعش کے سربراہ مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو پھر مسلمانوں کا ہی قتل عام کیوں کررہے ہیں۔؟ ایسے کئی سوالات ہے جو عالمی سطح پر عام انسانوں خصوصاً مسلمانوں کے ذہنوں میں گردش کررہے ہیں۔ عراق، شام ، سعودی عرب، ترکی، مصر ، افغانستان، پاکستان وغیرہ میں داعش ، النصرہ فرنٹ، القاعدہ، طالبان جیسی شدت پسند تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں بتاکر بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو بدنام کرنے والے بھی آج داعش کی سرگرمیوں سے خوفزدہ دکھائی دے رہے ہیں اور اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ داعش کے زیر کنٹرول علاقہ سکڑنے کے باوجود اس تنظیم کا اثر جلد ختم ہونے والا نہیں ہے۔یعنی شام ، عراق اور دیگر ممالک سے صفایا اتنی جلد ممکن نہیں جتنا کہ وہ ابتداء میں سمجھ پارہے تھے۔

امریکی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کے سربراہ جان برینن نے سیکیوریٹی سے متعلق ہونے والے ایک سربراہی اجلاس کے دوران کہاکہ داعش کا اثرعراق اور شام میں کافی عرصہ تک رہے گا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ داعش کے بیرونی ممالک کے جنگجوؤں کا انکے ممالک لوٹنے کے بعد بھی ان ممالک میں اس کا اثر باقی رہے گا ۔ تجزیہ نگاروں کا ہی نہیں بلکہ مغربی و یوروپی ممالک کے بعض سربراہوں اور سابق فوجی افسروں کا ماننا ہے کہ عراق اور افغانستان پر الزامات عائد ذریعہ جو جنگ خطرناک فضائی حملے کرکے مسلط کی گئی تھی اسی کا نتیجہ ہیکہ القاعدہ، طالبان، داعش ، النصرہ وغیرہ کا وجود ہوا۔ اب تک امریکہ اور دیگر مغربی ویو روپی ممالک نے عراق، شام اور افغانستان میں مختلف الزامات عائد کرکے دہشت گردی کی بنیاد رکھی اور اسے پروان چڑھانے میں اہم رول ادا کیا ، اب ایسا محسوس ہوتا ہیکہ پھر ایک مرتبہ امریکہ اپنی ماضی کی تاریخ و غلطی کو دہرانا چاہتا ہے اور شائد اس مرتبہ ایسا کچھ ہوتا ہے تو اس کے نتائج عالمی سطح پرخطرناک موڑ اختیار کرسکتے ہیں۔

امریکہ میں11؍ ستمبر 2009کوورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پرہوئے حملوں کا ذمہ دار امریکی کانگریس سعودی عرب کو بتانے کی کوشش کررہی ہے ۔ امریکی کانگریس نے متفقہ طور پر اس بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 11؍ ستمبر میں امریکہ پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سعودی عرب کی حکومت پر مقدمہ دائرکرسکیں گے۔ اس سے قبل سینیٹ نے یہ بل مئی میں منظور کی تھی، امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق گذشتہ کئی ماہ سے اوباما انتظامیہ کانگریس کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان کو قائل کرنے میں مصروف تھے کہ وہ کانگریس میں اس قسم کی بل کو روکنے کی کوشش کریں۔ امریکی صدر بارک اوباما اس بل کی منظور کو ناکام بناسکتے ہیں ، اس سے قبل بھی بارک اوباما نے اس بل کی مخالفت کی تھی اور اس مرتبہ بھی انہوں نے بل کی مخالفت کی ہے اور صدر اس بل کو ویٹو کرنے کااختیار رکھتے ہیں ،لیکن کانگریس ممبران اگر زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرلیتے ہیں تو صدارتی ویٹو کو رد کرسکتے ہیں اب جبکہ امریکہ کی کانگریس نے متفقہ طور پر اس بل کی منظوری دے دی ہے تو اس صورت میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان حالات مزید کشیدہ موڑ اختیار کرسکتے ہیں کیونکہ ایران پر سے معاشی تحدیدات ختم کرنے میں امریکی رول پر پہلے ہی سے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ خود امریکی صدر بارک اوباما نے متنبہ کیا تھا کہ اگر یہ بل منظور کیا گیا تو سعودی عرب بھی اسی قسم کا قانون امریکی شہریوں کے خلاف منظور کرسکتا ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ بارک اوباما کی میعاداس سال ختم ہونے والی ہے اور ڈیموکریٹ جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اس بل کی حمایت کرتی ہیں اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر موجودہ امریکی صدر بارک اوباما اس بل کے ویٹو کرنے میں کامیاب ہوبھی جاتے ہیں تو مستقبل میں اگر ہیلری کلنٹن امریکی صدارت پر فائز ہوتی ہیں تو یہ بل دوبارہ پیش کیا جاسکتا ہے اور اس پر صدارتی دستخط و مہر آسانی سے لگ سکتا ہے۔

سعودی عرب نے اس کے خلاف ،اس بل کی منظوری کے لئے منظرعام پر آنے کے بعد سے سخت لہجہ اختیار کیا تھا اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہونے کا بھی عندیہ دے چکا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس بل کی منظوری سے قبل سعودی حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے خود واشنگٹن پہنچ کر امریکہ کوایک پیغام پہنچایا تھاجس میں انہوں نے کانگریس کے ارکان کو بتایا تھا کہ اگر سعودی عرب کو محسوس ہوا کہ کسی نئے قانون کے تحت امریکہ میں موجود سعودی اثاثوں کو منجمد کیا جاسکتا ہے تو سعودی عرب یہ اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ امریکہ میں اس وقت سعودی عرب کے 750ارب ڈالر امریکی خزانے کی سکیوریٹیز کی شکل میں موجود ہیں۔ کانگریس کی جانب سے منظور کی جانے والی بل سے قبل امریکی خارجہ و دفاعی امور کے سینئر حکام نے دونوں جماعتوں کے سینیٹ کو خبردار کیا تھا کہ اگر سعودی عرب کے خلاف کسی قسم کی قانون سازی ہوتی ہے تو امریکہ کے لئے سفارتی اور معاشی حوالے سے اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عالمی معاشی امور کے بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب اس قسم کا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا کیونکہ ایسا کرنا اس کے لئے آسان نہیں ہوگا اور اس سے سعودی عرب کی اپنی معیشت بہت خراب ہوجائے گی۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کئی حوالوں سے کشیدہ ہوچکے ہیں ، شام، عراق اور یمن میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور فوجی تعاون کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوچکے ہیں اس کے علاوہ گذشتہ سال منیٰ سانحہ میں دو ہزار سے زائد حجاج کرام بشمول تین سو سے زائد ایرانی حجاج کرام کی ہلاکت کے بعد ایران نے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ تہران میں سعودی سفارت خانہ پر حملہ ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنے سفارتی عملے کو ایران سے طلب کرلیا اور اس سے سفارتی تعلقات ختم کرلئے۔ گذشتہ کئی ماہ سے ایران سے عمرہ و زیارت مقامات ِ مقدسہ جانے پر پابندیاں عائد ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان حجاج کرام کے ویزے اور انکے ٹرانسپورٹ کے مسئلہ پر بات چیت ناکام ہونے کی وجہ سے ایرانی عازمین حج، حج سے محروم ہوچکے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ امریکی کانگریس ایران اور سعودی عرب کے درمیان ناخوشگوار تعلقات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہو ۔؟ اب دیکھنا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے بل کی منظوری کو صدر بارک اوباما ویٹو کرپاتے ہیں یا اس پر دستخط کردینگے۔ اگر امریکی صدر اس بل پر دستخط کردیتے ہیں تو پھر سعودی عرب اس سلسلہ میں کیا اقدام کرتا ہے۔؟ فی الحال سعودی عرب اﷲ کے مہمانوں کی مہمان نوازی اور کسی بھی قسم کے سانحہ سے بچاؤ کیلئے وسیع تر انتظامات میں لگا ہوا ہے ۔ ہوسکتا ہیکہ لاکھوں کی تعداد میں اﷲ کے مہمان حج مبرور کی سعادت حاصل کرتے وقت سعودی عرب کی معیشت اور اس کے استحکام و خوشحالی کے لئے دعا گو ہوں اور اﷲ رب العزت اپنے ان مہمانوں کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اسکے دشمنوں کے ناپاک عزائم و ارادوں کو ناکام بنادے۰۰۰

شام میں خانہ جنگی کا یہ چھٹا سال ہے ، اس جنگ میں ایک طرف صدربشارالاسد کی روس اور ایران تائید و حمایت اور فوجی تعاون کرتے ہوئے باغیوں پر حملے کررہے ہیں تو دوسری جانب شدت پسند تنظیمیں داعش اور النصرہ فرنٹ کے خاتمہ کیلئے امریکی اتحادی ممالک حملے کررہے ہیں۔شامی عوام پر بشارالاسد کی ظلم و بربریت کی وجہ سے سعودی عرب بشارالاسد کو شام کی حکمرانی سے بے دخل کرنا چاہتا ہے اور گذشتہ کئی ماہ سے امریکہ پر دباؤ ڈالتا رہا ہے۔امریکی اتحار اور بشارالاسد کی فوج یعنی دونوں جانب سے ہونے والے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کم و بیش تین لاکھ بتائی جارہی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد کا کوئی حساب کتاب نہیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوچکے ہیں جو بے سروسامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ شام میں قیام امن ، پریشان حال لاکھوں بے گھر افراد تک اشیاء خوردو نوش و دواؤں کے پہنچانے اور شدت پسندی کو ختم کرنے کے لئے امریکہ اور روس گذشتہ کئی ہفتوں سے کوششوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں شام کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ۔ جنیوا میں امریکہ اور روس نے شام میں 12ستمبر کو غروب آفتاب سے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ روس اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں یہ طے پایا کہ باغیوں کے کنٹرول میں مخصوص علاقوں کے خلاف شامی حکومت کارروائی نہیں کرے گی ، روس اور امریکہ کا مشترکہ سینٹر قائم کیا جائے گا جو اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور النصرہ کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یہ منصوبہ امریکہ وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان ایک روزہ بات چیت میں طے پایا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس منصوبہ کے بعد میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ دونوں فریقین یعنی شامی حکومت اور باغی دونوں ہی کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوگی۔ لیکن کیا داعش اور النصرہ فرنٹ بشاراالاسد کی فوج اور باغیوں کے درمیان اس معاہدہ کو کامیاب ہونے دیں گے اگر واقعی یہ بات چیت کا عمل کامیاب ہوپاتا ہے تو امریکہ اور روس کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ سوپر پاور ملک کے خفیہ ادارہ کے سربراہ جان برینن نے خود امریکہ میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران داعش سے متعلق جو بیان دیا ہے وہ عالمی سطح پر غور طلب ہے۰۰۰
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 95405 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2016 Views: 440

Comments

آپ کی رائے