ٹرانسپورٹ سے منسلک لیبرز کے مسائل اور مناسب حل کی ضرورت

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
پبلک ٹرانسپورٹ کا شعبہ کسی بھی ملک میں عوام کی نقل وحمل کے لئے بنیادی سہولت فراہم کرتا ہے۔حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے کہ وہ عوام کو مناسب اور بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے مناسب منصوبہ بندی کرے اور اس شعبے کی ترقی اور بہتری کے لئے عملی اقدامات کو یقینی بنائے ،اور ان تمام قوانین پہ عملدر آمد کو یقینی بنائے جن کا تعلق پبلک ٹرانسپورٹ سے ہے،اس شعبے سے منسلک تمام سطح کے افراد اس کو کامیابی سے چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ،خاص طور پہ وہ ورکرز جو ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور، ہیلپر وغیرہ کے فرائض انجام دیتے ہیں ان کی مناسب تربیت، صحت اور معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے مناسب منصوبہ بندی اور عملی ڈھانچہ ترتیب دینا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔
ہمارے ہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں غریب خاندانوں کے افراد جو کہ زیادہ تر ان پڑھ ہوتے ہیں اس پیشے سے منسلک ہوتے ہیں۔ان میں ڈرئیور ، ہیلپر اور دیگر عملہ شامل ہوتا ہے،یہ عام طور پہ پر مشقت زندگی گذارتے ہیں۔بیرون شہر گاڑی چلانی ہو یا اندرون شہر انہیں کئی کئی گھنٹے مسلسل تھکا دینے والے سفر کرنے پڑتے ہیں۔ایک طویل سفر کے بعد انہیں آرام کرنے کی مناسب سہولتیں میسر نہیں ہوتیں،بلکہ اکثر بس اڈوں میں موسمی حالات کی شدت میں انہیں عارضی اور غیر آرام دہ جگہوں پہ سونا پڑتا ہے۔ایک طرف ان کے اوپر پوری گاڑی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو دوسری طرف اسے مالکان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ مالی آمدن کے حوالے سے زبردست دباؤ کا شکار رہنا پڑتا ہے۔جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف گنجائش سے زیادہ مسافروں کو بس میں سوار کرنا پڑتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تیز رفتاری سے زیادہ سے زیادہ وقت کو بچانے کے لئے گاڑی چلانی پڑتی ہے۔اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنی پڑتی ہے ۔جس کا نتیجہ لا محالہ حادثات کی صورت میں نکلتا ہے۔ایک طرف تو یہ طبقہ مالکان کے ناروا سلوک کا شکار رہتا ہے تو دوسری طرف مسافروں کے زیر عتاب بھی رہتا ہے۔اور اس پہ مزید یہ کہ ٹریفک پولیس کے ادارے بھی اسے معاف نہیں کرتے۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈرائیورز حضرات کی بہتر تربیت کا انتظام نہیں ہوتا جس کی وجہ سے وہ ٹریفک قوانین کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔

روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے حالات کار میں سب سے اہم اور مضر پہلو طویل اور بے قاعدہ اوقات ہیں اکثر ڈرائیور (شہروں کے درمیان چلنے والی بسوں پر)مسلسل 26 گھنٹے تک گاڑی پر رہتے ہیں۔ان کے کام میں صرف ڈرائیونگ نہیں ہوتی بلکہ گاڑی کی صفائی کا انتظام، دیکھ بھال،گاڑی،سامان اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا کام۔ بھی ہوتا ہے ۔شہروں کے اندر چلنے والی گاڑیوں پرڈرائیور اوسطاً 14 گھنٹے یومیہ کام کرتے ہیں جبکہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور اوسطاً 12گھنٹے یومیہ کام کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈرائیورز حضرات کو خطرناک ماحول کار کا سامنا بھی رہتاہے ۔جس میں پرانی گاڑیاں ،ٹوٹی ،پھوٹی ،سڑکیں،شہر کی سڑکوں اور قومی شاہراہوں پر ٹریفک کا ناقص انتظام،گاڑیوں کا ہجوم،غیرموزوں طور پر تعمیر کئے ہوئے بس ؍ٹرک ٹرمینلز اور پارکنگ کی سہولتوں اور آرام گاہوں کا فقدان شامل ہے۔ڈرائیوروں کے لئے بنی ہوئی ناقص تکلیف دہ نشستوں کی وجہ سے دشواریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔
ڈرائیور حضرات جو کہ نہ صرف گاڑی کی اور اپنی ذات کی حفاظت کا زمہ دار ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم یہ کہ وہ گاڑی میں سوار کئی انسانی جانوں کے تحفظ کی ذمہ داری اس پہ ہوتی ہے۔ایسے اہم ترین کارکن کو ہر سطح پہ نظر انداز رکھا جاتا ہے اسے فقط اپنے مالی ترقی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن اس کی صحت اوراس کے حقوق کے بارے میں کوئی واضح پلان موجود نہیں ہوتا۔وہ ہر طرح کے تحفظ کے بغیر اتنی اہم ذمہ داریاں نبھا رہا ہوتا ہے۔

اس کی ایک اہم ترین مثال ان علاقوں کی ہے جہاں دشوار گذار راستوں پہ گاڑی چلانی ہوتی ہے۔ان علاقوں میں مری ،شمالی علاقہ جات میں چترال،گلگت،سکردو،وغیرہ کے علاقے خاص طور پہ شامل ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق اس روٹ پہ چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ رکھا جاتا ہے جس طرح میدانی علاقوں میں ڈرائیور حضرات کے ساتھ سلوک ہوتا ہے۔شمالی علاقوں کی طرف سفر کرنے والے ڈرائیور حضرات کوکم و بیش 50 مسافروں کو لے کر انتہائی دشوار گزار راستوں پہ اوسطاً 24گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات یہ سفر رات کو ہوتا ہے۔بعض اوقات ایک گاڑی میں ایک ڈرائیور رکھا جاتا ہے جو کہ تمام رات نتہائی مشکل سے یہ سفر طے کرتا ہے۔حالانکہ اس طویل اور خطرناک سفر میں دو ڈرائیورز کا ہونا ضروری ہے تاکہ دونوں باری باری آرام کر سکیں اور مسافروں کو حفاظت سے منزل مقصود تک پہنچا سکیں ۔آئے دن ایسے حادثات ہو رہے ہیں جن کی اصل وجہ ہی نیند یا تھکاوٹ ہے ۔ اس پہ مزید یہ کہ مسلسل سفر کے بعد اسی دن شام یا اگلے دن صبح پھر اسی ڈرائیور کو واپس آنا ہوتا ہے۔اسے آرام کی سہولت بہت کم میسر آتی ہے۔اور نہ ہی بس اڈوں پہ ان کے لئے مناسب صحت کے اصولوں کے مطابق رہائش کا اور کھانے پینے کا انتظام موجود ہے ،اکثر ڈرائیور حضرات نیند کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے چائے اور سگریٹ اور بعض اوقات دیگر منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور اکثر اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ مالکان فقط ایک مزید ڈرائیور کی تنخواہ بچانے کے لئے کئی انسانی جانوں کو خطرے میں دھکیل دیتے ہیں۔اس حوالے سے متعلقہ اداروں کا کوئی چیک یا کردار نظر نہیں آتا۔

صحت کے حوالے سے ان ٹرانسپورٹ مزدوروں کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوتا۔دوران حادثہ زخمی ہونے کی صورت میں کوئی خاص مدد نہیں کی جاتی ۔بلکہ زیادہ لمبی بیماری کی وجہ سے اکثر نوکری ختم ہو جاتی ہے۔اور فوتگی کی صورت میں غریب ڈرائیورز اور ہیلپرزکے متاثرہ خاندان کے لئے کوئی مناسب امدادی پیکیج موجود نہیں ہوتا۔

حادثے کی صورت میں اگر وہ بچ جائیں تو بعض اوقات انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ مالکان ا نہیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔اور وہ سالہا سال مقدمات بھگتتے ہے۔ اور چونکہ ان کا تعلق غریب خاندان سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ معاشی بد حالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔مالکان کی عدم توجہی اور ان کی طرف سے سہولیات کا نہ دینا ڈرائیور حضرات کے لئے جسمانی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے آئے دن حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

شعبہ ٹرانسپورٹ میں سب سے بری حالت ان لوگوں کی ہے جو ہیلپر،کنڈکٹر یا کلینر کی حیثیت سے طویل فاصلے کی یا اندرون شہر مال بردار یا مسافر بردار گاڑیوں میں یومیہ اجرت پر یا فی چکر کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ان کارکنوں میں غیر ہنر مند،ناخواندہ یا برائے نام خواندہ،بیروز گار نوجوان شامل ہیں جو دیہات یا شہروں کے پس ماندہ علاقوں سے روزی کی تلاش میں بڑی تعداد میں سر گرداں ہیں۔یہ لوگ چھوٹے بڑے شہروں میں بس اڈوں پر گھومتے رہتے ہیں اور وہیں انہیں ڈرائیور ؍آپریٹر معمولی اجرت پر ہاتھ کے ہاتھ بھرتی کر لیتے ہیں۔کراچی سے لیکر خیبر تک شعبہ ٹرانسپورٹ میں یہ مزدور طبقہ انتہائی کسمپرسی اور مشقت میں مبتلا نظر آتا ہے۔اگر ان کی عام زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر مشکل زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ مثلاًعام مسافر بردار اندرون و بیرون شہروں میں چلنے والی بسوں،منی بسوں اور ویگنوں کے ساتھ یہ ملازمت کرتے ہیں،سب سے پہلے یہ کہ جب انہیں کام پہ رکھا جاتا ہے تو انہیں روزانہ کی بنیادپہ معاوضہ جو کہ ان کی محنت کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتا ہے دیا جاتا ہے۔اور اہم بات یہ ہے کہ انہیں پنے کام کے اوقات شروع کرنے کے لئے صبح منہ اندھیرے اٹھنا پڑتا ہے،اٹھنے کے بعد گاڑی کی صفائی ستھرائی کرنے کے بعد گاڑی کو سواریوں کے لئے سٹینڈ پہ لگانا،اور پھر لگاتار آوازیں دے کر مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا اور انہیں گاڑی پہ سوار کرنا ،اتارنا اور ان کے سامان کو اتارنا چڑھانا،اس کے علاوہ کرایہ وصول کرنا اور اگر دوران سفر گاڑی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس میں ڈرائیور کی مدد کرنا۔ یہ عمل تقریباً اٹھارہ گھنٹے سے زیادہ اس کو مسلسل دہرانا پڑتا ہے۔اس دوران اسے ذہنی اذیت سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔وہ اذیت مسافروں،ڈرائیور اور مالکان کا ناروا سلوک اور بد تمیزی ہے۔جس سے تقریباً اسے ہر روز اٹھارہ گھنٹے واسطہ پڑتا ہے۔بعض اوقات تو نوبت مار پیٹ تک آ جاتی ہے۔اس کے مظاہرے آئے دن دیکھنے میں آتے ہیں۔کلینر یا ہیلپروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر نہ صرف نوکری سے نکال دیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو انہیں ہائی وے پہ راستے میں ہی اتارا جاتا ہے۔ان کی نہ نوکری کو کوئی قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی جسمانی صحت کے حوالے سے کوئی سہولت موجود ہوتی ہے۔ہفتہ بھر انہیں روزانہ کام کرنا پڑتا ہے چھٹی کا کوئی تصور موجود نہیں ہوتا۔حتیٰ کے عید یا کرسمس پہ بھی صرف پہلے دن کی چھٹی دی جاتی ہے۔ عام طور پہ مسافروں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ کلینر یا ہیلپر ان سے بدتمیزی کرتے ہیں،لیکن اگر گہرائی میں ان کے اس بد اخلاق روئیے کا تجزیہ کیا جائے تو یقیناً ان پہ غصہ آنے کی بجائے ان پہ ترس آئے گا۔کیونکہ اگر ایک انسان اس طرح جانوروں کی طرح صبح سے لے کر رات گئے تک انتہائی مشقت اور ناروا سلوک کا شکار رہتا ہو تو اس سے عمدہ اخلاق کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔یہ تو سماج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شعبے سے متعلقہ ان کارکنوں کو انسان سمجھیں اور ان سے انسانی سلوک روا رکھیں تو یقیناً ان کے اندر تبدیلی آئے گی۔اگر آپ روزانہ مشاہدہ کریں تو یہ کارکن میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس،پسینے میں شرابور،نہ کھانے کا ہوش اور نہ پینے کا ،اکثر کھانے پینے،اور سونے کا صحت کے اصولوں کے مطابق انتظام نہ ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ اگر بیمار پڑ جائیں تو ان کی نوکری چلی جاتی ہے لہذا دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ بیماری کی حالت میں بھی انتہائی مشقت کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔یہ تمام کارکن انتہائی غریب خاندانوں کے کفیل ہوتے ہیں۔اپنی معاشی مجبوری انہیں ہر طرح کی زیادتی سہنے پہ مجبور کرتی ہے۔اور المیہ یہ ہے کہ اتنی لمبی محنت اور مشقت کے باوجود یہ اپنے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ٹرانسپورٹ کمپنیاں جو کہ زیادہ تر نجی افراد کی ملکیت ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

اکثر عوام کو یہ شکایت رہتی ہے کہ گاڑیوں میں کلینر جانوروں کی طرح مسافروں کو ڈھونس دیتے ہیں اور ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو گاڑی میں بھرا جائے۔اور اکثر اوقات ڈرائیور اور کلینر حضرات زیر عتاب آتے ہیں۔اور ان کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے اصل ذمہ داران وہ ٹرانسپورٹ مالکان ہیں جو انہیں اس کام پہ مجبور کرتے ہیں۔انہیں دن بھر کا ایک ہدف دیا جاتا ہے کہ اتنی رقم آپ نے کما کے لانی ہے ،اور اگر اتنی رقم نہ لا سکے تو نوکری سے فارغ کر دیا جاتا ہے لہذا ڈرائیور اور کنڈکٹر کی سارا دن یہی کوشش ہوتی ہے کہ مالکوں کا دیا ہوا ٹارگٹ پورا کیا جائے۔اور اس عمل میں چاہے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے وہ کر گزرتے ہیں ۔ان کے سامنے مسافروں کی تکلیف سے زیادہ اپنی نوکری جانے کی فکر زیادہ ہو جاتی ہے۔

بے لگام اور بے انتظام شعبہ ٹرانسپورٹ چند مالکان یا ٹرانسپورٹرز کے رحم و کرم پہ چل رہا ہوتا ہے۔کوئی اخلاقی ضابطے یا قانونی بندشیں نہیں ہوتیں وہ جس طرح چاہیں اپنے ورکروں کے ساتھ سلوک روا رکھیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔اکثر اوقات تو وہ ایک مافیا کا روپ دھار لیتے ہیں اور حکومتی اداروں پر بھی اپنا دباؤ بڑھا تے ہیں ،ٹریفک پولیس یا دوسرے اداروں کو بھی وہ خاطر میں نہیں لاتے اور اکثر اوقات حکومتی ادارے بھی اپنے مفاد کی خاطر ان کے غیر قانونی عمل پہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔

ان کے ساتھ ٹرانسپورٹ مزدوروں کی تنظیمیں بھی ان سے امتیازی سلوک کرتی ہیں اور انہیں رکنیت نہیں دیتیں۔اس ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی ملازمت غیر مستقل ہوتی ہے یا وہ کم اجرت کی بنا پر رکنیت کی فیس نہیں ادا کر سکتے ۔لہذا وہ اپنے حقوق کے تحفظ سے محروم رہ جاتے ہیں۔اور یہ تنظیمیں انہیں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتیں۔

درج بالا صورتحال اس وقت پاکستان بھر میں شعبہ ٹرانسپورٹ سے منسلک ان محنت کشوں کی ایک جیسی ہے۔کہیں پہ بھی ان محروم محنت کشوں کی سنوائی کا انتظام موجود نہیں ہے۔حالانکہ اس حوالے سے باقاعدہ قوانین موجود ہیں مثلاًروڈ ٹرانسپورٹ کارکنوں کے اوقات کار اور ملازمت کی دوسری شرائط سے متعلق رود ٹرانسپورٹ ورکرز آرڈینینس 1961ء میں جاری کیا گیا۔اس آرڈینینس کی رو سے 5گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد کم از کم 30 منٹ کا وقفہ ضروری ہے،روزانہ ڈرائیونگ کا وقت 8گھنٹے سے زیادہ اور فی ہفتہ48گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ایک ہفتے میں کم از کم ایک بار مسلسل 24گھنٹے کی چھٹی ہونی چاہئے۔اس آرڈینینس میں 1974میں ترمیم ہوئی اور ویسٹ پاکستان انڈسٹریل ایند کمرشل ایمپلائمنٹ (اسٹینڈنگ آرڈرز)آرڈینینس مجریہ 1968تمام روڈ ٹرانسپورٹ سروسز پر لاگو کیا گیا۔تاہم اس نئے قانون میں ان ٹرانسپورٹ کارکنوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو غیر رجسٹرڈ شدہ چھوٹے موٹے کاروبار سے متعلق ہیں۔بڑے بیڑے رکھنے والی نجی ٹرانسپورٹ کمپنیاں،ریگولیٹری اتھارٹیز کی ملی بھگت سے مختلف طریقے اختیار کر کے ان قوانین سے بچ جاتی ہیں۔بہر صورت ٹرانسپورٹ کارکن خواندگی اور معلومات کے فقدان کی وجہ سے ملکی قوانین اور بین الاقوامی معیارات دونوں سے لا علم رہتے ہیں۔بین الاقوامی ادارہ محنت کے آورز آف ورک اینڈ ریسٹ پیریڈز (روڈ ٹرانسپورٹ)کنونشن نمبر 153،1979کے تح ہر 4گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وقفہ لازمی ہے،ڈرائیونگ کا مجموعی وقت 9گھنٹے یومیہ اور 48 گھنٹے فی ہفتہ سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔اس میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ ہر 24گھنٹے کے بعد کم از کم 10گھنٹے آرام کے ہونے چاہئیں۔پاکستان نے ابھی تک اس کنونشن کی تو ثیق نہیں کی۔

تعلقات کار بے ضابطہ ہونے کی وجہ سے روڈ ٹرانسپورٹ کارکنوں کو یونین تشکیل دینے میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔کاروبار رجسٹرڈ نہیں ہوتے جس کی بناء پر لیبر قوانین لاگو نہیں ہوتے ،بڑے بیڑے رکھنے والے مالکان اور ہلکی گاڑیاں چلانے والوں کے مفادات کا ٹکراؤ گاڑیاں چلانے کے مختلف اور متنوع طریقہ ہائے کار،صوبائی اور وفاقی سطح پر متعدد قسم کے انتظامات اور مسلسل سفر میں رہنا ٹرانسپورٹ کارکنوں کے لئے تنظیم سازی کو دشوار بنا دیتا ہے۔متعدد مشکلات کے باوجود کارکنوں نے اپنے پیشہ وارانہ مفادات کی حفاظت کے لئے موجودہ روایتی تنظیمی ڈھانچے بنا لئے ہیں۔لیکن وہ ابھی تک مذکورہ قوانین کے مطابق اپنے لئے صحت و دیگر حقوق کے حوالے سے مطالبات نہیں منوا سکے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہیکہ اکثر ٹرانسپورٹ تنظیمیں ٹرانسپورٹ مالکان کے زیر اثر ہیں۔جو کہ ہر اس ایشو کو جو کہ ان کے اپنے مفادات کے خلاف ہوں ان کو سامنے نہیں آنے دیتے بلکہ اسے دبا دیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرانسپورٹ ورکرز خالصتاً اپنے حقوق کے حصول کے لئے تنظیم سازی کریں ۔

ٹرانسپورٹ کے اس اہم ترین شعبے سے منسلک افراد جو کہ کئی انسانی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ایک طرف حکومتی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی جتنی کمپنیاں ،یا نجی ادارے،یا مالکان گاڑیاں چلا رہے ہیں ان کی باقاعدہ اس حوالے سے نگرانی ہونی چاہئے،کہ وہ قوانین کے مطابق اپنے ورکروں کو سہولیات دے رہے ہیں یا نہیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان کارکنوں کی جن میں ڈرائیورز اور کلینر وغیرہ شامل ہیں کی مناسب تربیت اور ان کے معاشی مسائل کے حل کے لئے ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ ورکرز کو بھی چاہئے کہ اپنے حقوق کے بارے میں مکمل معلومات رکھیں،اور باقاعدہ مالکان پہ دباؤ بڑھائیں کہ وہ ان کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔بحیثت مجموعی یہ افراد معاشرہ کی سماجی ذمہ داری بھی ہے جس کا براہ راست تعلق ان کی مالی اور جانی سلامتی کے ساتھ بھی ہے اگر ایک فعال،تربیت یافتہ ڈرائیور گاڑی چلائے گا تو یقیناً حادثات میں کمی واقع ہو گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68243 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
16 Sep, 2016 Views: 587

Comments

آپ کی رائے