جناب وزیر اعظم ...... خاموشی ٗ نیم رضامندی ہوتی ہے

(Aslam Lodhi, Lahore)
حضرت شیخ سعد ی ؒکی حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنے ایرانی غلام کے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر سمندر کی سیر کررہا تھا ۔غلام نے پہلے کبھی سمندر نہیں دیکھاتھا اس نے کشتی میں عمرا ن خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح رونا شروع کردیا ۔ غلام کی چیخ و پکار سے بادشاہ کی سیر کا مزا خراب ہوگیا ۔بادشاہ پریشان تھا کہ چیخنے اور چلانے والے غلام کو خاموش کیسے کروائے ۔ کشتی میں سوار ایک دانا شخص نے کہا میں اسے خاموش کرواسکتا ہوں ۔ بادشاہ نے کہا یہ تو آپ کی مہربانی ہوگی ۔ اس دانا شخص نے غلام کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ غلام جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگا ۔ اس دانا شخص نے غلام کواٹھا کر کشتی میں سوار کرلیا ۔ جونہی غلام کشتی میں واپس پہنچا تو نہایت خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا ۔ پھر اس نے کوئی چیخ و پکار نہ کی ۔ اس حکایت میں حضرت شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ پہلے غلام کشتی کی قدر نہیں جانتا تھا لیکن چند غوطوں نے اسے کشتی میں تحفظ کااحساس دلادیا ۔

مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ رحم دلی ٗ نرم مزاجی اور خاموشی کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری جو اب کینیڈا کے شہری ہیں جب بھی وہ پاکستان آتے ہیں تو احتجاجی جلسے اور جلوسوں سے قوم کو اذیت میں مبتلا کرنا نہیں بھولتے۔وہ خود ائیرکنڈیشنڈ کینٹنر میں بیٹھ کر ہٹلر کی طرح حکم چلاتے ہیں اور ہمارے آزاد الیکٹرونکس میڈیا کے سہارے ریاست کے لیے نت نئے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔اب وہ خود ساختہ سانحہ کے واقعہ کے خلاق یورپی یونین میں آواز اٹھاکر پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے جارہے ہیں
کیا ایسے ڈرامہ باز شخص کے پاکستان آنے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ اس شخص کی ڈرامے بازیاں تو پہلے ہی مشہور ہیں ٗ اب شیخ رشید جیسے مسخر ے اور عمران خان جیسے ریاست کے باغی کے بہکاوے میں آکر پیالی میں طوفان پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔

شیخ رشید احمد (جسے لوگ شیدا ٹلی کے نام سے پکارتے ہیں ) بظاہر وہ ایک ہی شخص ہے لیکن وہ فتنہ پرور شخص کبھی طاہر القادری کو دھرنوں پر اکساتا ہے تو کبھی عمران خان کو بدترین مشورے دے کر احتجاج کی ترغیب دیتا ہے ۔ ق لیگ کے چودھری برادارن بھی اسی احمق شخص کے مشورے پر عمل کرنا اپنا فرض اولین تصور کرتے ہیں ۔ کیا اس کی زبان بندی نہیں کی جاسکتی ۔ کبھی وہ آرمی چیف سے مارشل لا نافذ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو کبھی فوجی آپریشن کے ذریعے موجودہ حکمرانوں کا صفایا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ کیا اس پر آرٹیکل 6 بغاوت کا مقدمہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ جب تک ایسے لوگوں کی زبان کو گدی سے نکال باہر نہیں کیاجاتا اس وقت تک ہر مکروہ شخص حکومت اور ریاست کے خلاف زہریلے بیانات دینے سے باز نہیں آئے گا ۔

اچکزئی بے شک حکومت کااتحادی ہے لیکن اس کی زبان پاکستان اور اس کی نظریاتی اساس کے خلاف ہمیشہ زہر اگلتی ہے ۔ سوشل میڈیا ٗ اخبارات اور الیکٹرونکس میڈیا پر اس کے بیانات کی وجہ سے اٹھنے والے طوفان کی گرد ابھی بیٹھتی نہیں کہ وہ پھر سے کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ ڈالتا ہے کہ قوم کے دلوں پر لگنے والے زخم ایک بار پھر تازہ ہوجاتے ہیں۔ جناب وزیر اعظم .....اﷲ تعالی نے آپ کو دو تہائی اکثریت سے نوازا ہے پھر ایسے مکروہ شخص کو اپنا اتحادی بنانے کی ضرورت کیا ہے ۔وہ افغان مہاجرین کے بارے میں یہ کہہ کر تمام پاکستانیوں کے دل پر گہرے زخم لگا رہا ہے کہ یہ ان کا اپنا ملک ہے جہاں سے انہیں کوئی نہیں نکال سکتا ۔ کیا آپ اس قدر مصلحت کا شکار ہوچکے ہیں کہ آپ کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں آتا اور نہ ہی اس بد زبان اور مکروہ شکل سیاست دان پر ملک سے غداری کا مقدمہ قائم کیا جاتاہے ۔ وہ ہر مقام اور ہر معاملے پر زہر اگلتا دکھائی دیتا ہے اور پاکستانی پارلیمنٹ اور حکومتی ایوانوں میں گھومتا نظر آتا ہے ٗ ایسا کیوں ہے ۔ کیا وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے آپ کا فرض نہیں بنتا کہ آپ اس شخص کی زبان کو گدی سے نکال باہر پھینکیں ۔ تاکہ آئندہ کوئی ملک کے خلاف بات کرنے کی جرات نہ کرے ۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ مہا جر کیمپوں میں دہشت گرد پناہ لیتے ہیں وہاں ہی پاکستانی پرچم کی توہین کی جاتی ہے ۔کیا پھر بھی انہیں یہ حق ہے کہ وہ پاکستان میں رہیں ۔صرف اچکزئی ہی نہیں مولانا فضل الرحمن ٗ اسفند یار ولی اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی افغانستان کی نمائندگی کا حق ادا کررہے ہیں ۔ کیا ان تمام احباب کے کہنے پر اب پاکستان کا نام بدل کے افغانستان نہ رکھ دیا جائے ۔ افسوس کہ یہ لوگ کھاتے پاکستان کا لیکن دم افغانستان کا بھرتے ہیں ۔جبکہ موجود ہ افغان حکمران پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی آغوش میں پناہ لے رہے ہیں اور افغانستان سے ہی قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں افغانی اور بھارتی تخریب کار بدامنی پھیلانے کے لیے مسلسل بھیجے جارہے ہیں ۔ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے کھلے عام استعمال کررہا ہے اور امریکہ بھی اسی کی حمایت بھی رطب اللسان ہے ۔ آپ وطن عزیز سے وفاداری کے اعتبار سے میری نظر میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں لیکن آپ نے ان تمام اشخاص کے بیانات سن کر اور پڑھ کر بھی نہ جانے کیوں چپ سادھ رکھی ہے ۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خاموشی نیم رضامندی کے مترادف خیال کی جاتی ہے ۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے اگر آپ اس وقت وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں تو اس میں اچکزئی ٗ اسفند یار ولی ٗ مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق کاکوئی کردار نہیں ہے۔ پھر آپ ان لوگوں سے خائف کیوں ہیں اور پاکستان کے خلاف بولنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ کیوں درج نہیں کرواتے ۔

ایم کیو ایم کے نام نہاد قائدالطاف حسین کے بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کیا اب بھی شک رہ گیا ہے ۔ درجنوں شہادتوں اور سینکڑوں مجرموں کے اعتراف جرم کے باوجود آپ کی حکومت اگراب بھی ایم کیو ایم پر پابندی اور الطاف حسین سمیت ان تمام افراد کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمات قائم کرکے انہیں گرفت میں نہیں لا سکی تو میں سمجھتا ہوں آپ کا یہ تغافلانہ رویہ اس ملک سے آپکی وفاداری کو مشکوک بنا رہا ہے ۔ رینجر کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں جتنے بھی ٹارگٹ کلرٗ بھتہ خور اور جرائم پیشہ افراد گرفتار ہورہے ہیں ان میں سے 80 فیصدکا تعلق ایم کیو ایم سے ہے ۔فاروق ستار ٗالطاف حسین کا جانثار ساتھی تھا اور اب بھی ہے وہ مصلحت کے تحت الطاف حسین سے علیحدگی کا ڈرامہ رچا رہا ہے ۔ وہ نہ صرف اپنی چرب زبانی سے حکومت ٗ عوام اور ایجنسیوں کو بیوقوف بنا رہا ہے ۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ آپ بھی بہت آسانی سے اس کے جھوٹ اور فریب میں آچکے ہیں ۔ کیاپاکستان کے دشمنوں کے ساتھ آپ کا یہ نرم رویہ شکوک و شبہات کو جنم نہیں دے رہا ہے ۔کراچی کی دیوار وں پر اب بھی یہ لکھا ہے"جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے ''-شاید یہ نعرہ بھی آپ کے کانوں تک نہیں پہنچ سکا ۔ افسوس در افسوس۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آپ کراچی پہنچ کر اردو بولنے والوں کے مسائل حل کرکے انہیں متبادل قیادت فراہم کرتے اور انہیں ایم کیو ایم سے نجات دلاتے لیکن نہ آپ نے اردو بولنے والوں سے رابطہ کرنا مناسب سمجھا اور نہ ہی ایم کیو ایم پر پابندی لگانا ضروری تصور کیا بلکہ ایسے جرائم پیشہ شخص جس پر 259 افراد کو زندہ جلانے کا الزام ہے ٗ اسے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کا میئر بنا کر 20 کروڑپاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا ہے ۔آپ کی اس چشم پوشی پر سوائے دکھ اور افسوس کے کچھ نہیں کہاجاسکتا ۔

تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے پاس کل 33 سیٹیں ہیں لیکن اس نے 2013ء کے الیکشن کے بعد مسلسل احتجاج کرکے عوام کا جینا حرام کر رکھاہے ۔ شیخ رشیداور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر وہ پہلے دن سے ہی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ پہلے چا ر ماہ تک اس نے اسلام آباد میں دھرنا دیئے رکھا جس سے چینی صدر کا دورہ متاثر ہوا ۔دونوں احتجاجی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنے لیڈروں کی شعلہ بیانی سے متاثر ہوکر قومی املاک ٗپارلیمنٹ ہاؤس ٗ ریڈیو پاکستان اور سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ آپ نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی املاک کا نقصان ہونے دیا لیکن اس نقصان کو عمران اور طاہر القادری سے پورا کرنے کی بجائے عوام کے ٹیکسوں سے پورا کرکے غلط اقدام کیا۔ اس کا تو صاف مطلب ہے کہ جس کا جب جی چاہے وہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ٹینٹ لگا کر توڑ پھوڑ شروع کردے ٗ حکومت کوئی ایکشن نہیں لے گی ۔ اگر آپ کا یہی تغافلانہ رویہ رہا تو مستقبل میں کوئی بھی شخص عمران اور طاہر القادری والا کردار دھرا سکتا ہے اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔بطور خاص آپ کے دور حکومت میں حکومتی رٹ اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ عدالت کی جانب سے عمران اور طاہر القادری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے بھی ایک سال ہوچلا ہے لیکن پولیس ان دونوں کو گرفتار کرنے سے ایک سال سے معذورچلی آرہی ہے ۔ یہ لکھ کر عدالت کو خاموش کروا دیاجاتا ہے کہ عمران اور طاہر القادری مفرور ہیں جبکہ شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جب وہ سب کے سامنے پریس کانفرنس نہ کرتے ہوں ۔عمران خان نہ وزیر اعظم کو مانتے ہیں ٗ نہ سپیکرقومی اسمبلی کو تسلیم کرتے ہیں ٗ نہ نادرا ٗنہ ایف بی آر اور نہ ہی ایف آئی اے کو مانتے ہیں۔نیب اور پولیس کو بھی نہیں باغی ہیں ۔ تمام قومی اداروں کو نہ ماننے والے شخص کو پھر پاکستان میں سیاست کرنے کا حق کس نے دیا ہے ۔ جو شخص ریاست کے تمام اداروں کا منکر اور باغی ہے ۔ پابندی لگاکر اسے جیل میں ڈالا جائے تاکہ ایرانی غلام کی طرح آزاد فضا اور آزاد ملک میں رہنے کا فرق محسوس ہو۔ عمران کی وہ ویڈیو بھی غور سے دیکھیں جس میں وہ بھارتی وزیر اعظم اور مسلمانوں کے عظیم دشمن نریندر مودی سے جھک کر ملاقات کررہے تھے۔ اس کاتو مطلب صاف ہے کہ وہ بھارت اور بھارتی وزیر اعظم کااحترام کرتے ہیں لیکن پاکستانی حکومت اور اداروں کے وہ باغی ہیں لیکن پھر بھی سیاست پاکستان میں کررہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ملک میں انتشار پیداکرکے اقتصادی راہداری منصوبے کو بھارتی حکومت کے ایما پر ادھورا کرنا چاہتے ہیں ۔اگرعدالت کی جانب سے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری ہوچکے ہیں تو پھر انہیں گرفتار کرکے جیل میں کیوں نہیں ڈالا جاتا۔افسوس کہ آپ اس پر بھی خاموش ہیں ۔

اسفند یار ولی کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی وفاداری شروع سے آج تک بھارت اور افغانستان کے ساتھ ہی رہی ہے ۔ خان غفار خان جن کے نام پر پشاور ائیرپورٹ کا نام باچہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ رکھاگیا ہے انہوں نے پاکستان میں دفن ہونا بھی گوارا نہیں کیا ۔یہ وہی خاندان ہے جس نے پاکستان کی اقتصادی صنعتی اور زرعی ترقی کے ضامن منصوبے کالاباغ ڈیم کے خلاف ایسا واویلا مچا رکھا ہے کہ اب پاکستان تین ماہ سیلاب اور نو ماہ خشک سالی کا شکار رہتا ہے ۔ اب اسی خاندان کے فرزند اسفند یار ولی کو افغان مہاجرین کا غم کھائے جارہا ہے ۔وہ فرماتے ہیں میں کل بھی افغانی تھا اور آج بھی افغانی ہوں ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ اگر تم افغانی ہو تو افغانستان کیوں نہیں چلے جاتے۔ اقتدار میں حصہ اور سیاسی رشوتیں پاکستان سے کیوں مانگتے ہو۔ ان کے بقول پاکستان سے افغان مہاجرین کو کوئی نہیں نکال سکتا کیونکہ یہ ان کا اپناملک ہے گویا بدلتے ہوئے حالات میں اب افغان مہاجرین سے ان کو اپنا خونی رشتہ نظر آنے لگا ہے ۔ اسفند یار ولی کے زہر آلود بیان پر بھی آپ کی خاموشی معنی خیز ہے ۔

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق فرماتے ہیں کہ اگر افغان مہاجرین اتنے ہی برے ہیں تو پھر پاکستان اپنے میزائلوں کے نام افغان مشاہیرین کے نام پر غوری ٗابدالی اور غزنوی کیوں رکھتا ہے ۔ سراج الحق صاحب سے میں یہ پوچھنے کی جسارت کرتاہوں کہ جو کردارغوری ٗ ابدالی اور غزنوی کا تھا کیا موجودہ افغان حکمرانوں کو ان کا حقیقی وارث قرار دیاجاسکتا ہے جو انتہائی ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور بھارت کی کٹھ پتلی بن کر پاکستان جیسے محسن ملک کے خلاف ہمیشہ زہر اگلتے رہتے ہیں۔جماعت اسلامی کو ہر الیکشن میں دو صرف دو یا تین فیصد ووٹ ملتے ہیں لیکن یہ جماعت پورے ملک پر اپنی سوچ ٗ فکر اور انتہاء پسند ایجنڈا مسلط کرنے کی ہمیشہ کوشش میں لگی رہتی ہے ۔

آپ نے اس حوالے سے بھی بات کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ کیوں مگر کیوں ؟

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک انتہا پسند اور پاکستان کے جانی دشمن ہیں ۔انہوں نے نہ صرف بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے بلکہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ وہ کھلے لفظوں میں بلوچستان ٗ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں بغاوت پیدا کرنے کے بیانات جاری کررہے ہیں بلکہ اب تو بھارت میں انہی کے ایما پر آزاد بلوچستان ریڈیو اسٹیشن بھی قائم کردیاگیا ہے ۔ جو بلوچ عوام کو پاکستان کے خلاف اکسائے گا ۔ جی 20 کااجلاس ہو یا جی 8 ہر موقع پرنریندر مودی پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے وہ چینی صدر کے سامنے اقتصادی راہداری کے خلاف بکواس کررہے تھے اور چیخ چیخ کر دنیا والوں کو بتارہے تھے کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اور بھارت سمیت جہاں بھی دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ان کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کے بقول گویا پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے ۔بھارتی وزیر اعظم پاکستان دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے تمام ائیرپورٹ اور دفاعی اثاثے امریکہ کے سپرد کردیئے ہیں تاکہ پابندیاں لگواکر پاکستان پر جارحیت کا مشترکہ ارتکاب کیاجاسکے ۔

بھارتی وزیر اعظم کے پروپیگنڈے کوختم کرنے اور اسے منہ توڑ جواب دینے کے لیے بھی آپ کے پاس وقت نہیں ہے اور یہ کام مجبورا آرمی چیف کو کرنا پڑرہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مخالفین کو یہ بات کہنے کا موقعہ مل رہاہے کہ نواز شریف کو پاکستان اور مسلمانوں کی جان و مال سے زیادہ بھارت میں اپنا کاروبار عزیز ہے ۔اگر اب بھی آپ نے براہ راست اپنی زبان سے بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب نہ دیا۔ کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف ظلم تشدد پر سخت ردعمل کااظہار نہ کیا تو آپ کی یہ خاموشی ملک کی وفادار ی کو مشکوک بنا سکتی ہے؟

بنگلہ دیش جو کبھی مشرقی پاکستان تھا جہاں 1971ء کی جنگ میں جماعت اسلامی اور بہاریوں نے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا تھا ۔ اپنے گزشتہ دور میں آپ نے بہاریوں کی کچھ تعداد کو لاکر پنجاب میں آباد بھی کیا تھا لیکن اب آپ بہاری مسلمانوں کی خدمات اور ان کی پاکستان سے وفاداری کو بھول چکے ہیں۔ کیوں ایسا کیوں ہے ؟یہ بہاری مسلمان ہی ہیں جو آج بھی پاکستان سے وفاداری کو اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں اور بنگلہ دیشی فوج اور پولیس کے مظالم کے باوجود پاکستانی پرچم کو اپنے چھوٹے چھوٹے گھروندوں پر سربلند رکھتے ہیں ۔ مزید برآں جماعت اسلامی کے کتنے ہی رہنماؤں کو بنگلہ دیشی حکومت کے ایما پر عدالتی دہشت گردی کانشانہ بنا کر انہیں پھانسی کے تختے پر چڑھا دیاگیاہے ۔آپ نے اپنی زبان سے بنگلہ دیشی حکومت کی مذمت کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔کیا پاکستان اور پاک فوج سے وفاداری کرکے انہوں نے گناہ کیا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے آپ کو نہ صرف پاکستان زندہ باد کانعرہ لگا کر پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈالنے والے ان عظیم محب وطنوں کی شہادتوں پر بنگلہ دیشی حکام سے سفارتی تعلقات ختم کرلینے چاہیے تھے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ معاملہ اٹھانا چاہیئے تھالیکن اس مسئلے پر بھی آپ خاموش ہیں ۔اگر آپ یہ اقدام کرتے تو شاید بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والے جو لوگ اب بھی موجود ہیں ان کو حوصلہ ملتا اور وہ پاکستان کے ساتھ الحاق یا مستقبل میں کنفیڈریشن کی راہ ہموار کرسکتے تھے لیکن ان حالات میں جبکہ پاکستان سے وفاداری رکھنے والوں کو پھانسی کی سزائیں دی جارہی ہیں اور پاکستان کا لفظ محبت سے اپنی زبان پر لائے گا ۔ پھاڑ میں جائیں سفارتی تعلقات ۔ اگر ترکی کے صدر کھلے لفظوں میں بنگلہ دیش کو دھمکی دے سکتے ہیں تو آپ یہ فریضہ کیوں انجام نہیں دے سکتے۔ افسوس آپ یہ بھی نہیں کرسکے ۔وزارت خارجہ کاہلکا پھلکا احتجاج کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی ایک امریکی کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو امریکی صدر کا ردعمل سامنے آجاتااور تمام امریکی ایجنسیاں حرکت میں آجاتی ہیں ۔اس حوالے سے آپ کی خاموشی پوری قوم کے لیے تکلیف دہ امر ہے ۔

کالاباغ ڈیم جسے پاکستانی صنعت اور زراعت کی زندگی اور سیلاب کی موت قرار دیاجاسکتاہے اس کو بھی آپ نے پس پشت ڈال رکھا ہے کیا سرحدی گاندھی خاندان اورچند سندھی قوم پرستوں کے پروپیگنڈے سے اس اہم ترین منصوبے کو ختم کردینا اچھا عمل ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ منصوبے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر الیکٹرونکس اور پیپر میڈیا پر مذاکروں ٗ سیمینار کے ذریعے پہلے رائے عامہ ہموار کی جاتی ۔پھر قومی سطح پر ایک ریفرنڈم کروا کر کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کردی جاتی ۔ لیکن یہ کہہ کر منصوبہ ختم کردینا کہاں کی دانش مندی ہے کہ پختون اور سندھی عوام اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ جبکہ کے پی کے اور سندھی عوام کو اس منصوبے کے اچھے اور برے پہلووں کا علم ہی نہیں ہے ۔ میں سمجھتاہوں لکیر کے فقیر بننے کایہ عمل کم ازکم آپ کے شایان شان نہیں ہے ۔ جو شخص تمام تر مخالفتوں کے باوجودایٹمی دھماکے کرسکتا ہے وہ کالاباغ ڈیم کیوں نہیں بنا سکتا ہے۔حکمت عملی سے کام لے کر اس اہم ترین پراجیکٹ کوکامیابی سے ہمکنار کریں اور ملک کو زراعت کے لیے پانی اور صنعت کے لیے بجلی فراہم کرنے کااہتمام کریں ۔

آپ کی نرم مزاجی پالیسی کی بنا پر بطور خاص الیکٹرونکس میڈیا اس قدر شتر بے محار ہوچکا ہے کہ اس کی وجہ سے قوم نفسیاتی بنتی جارہی ہے ۔ چوبیس گھنٹے بریکنگ نیوز کا تسلسل تکلیف دہ امر ہے۔ چند ہفتے پہلے سندھ کے وزیر اعلی سیدمراد علی شاہ لاہور کے دورے پر تشریف لائے ۔ ایک ٹی وی چینل پر ایک گھنٹے تک ایک ہی خبر مسلسل بریکنگ نیوز کی شکل میں چلتی رہی کہ" وزیر اعلی سندھ ٹریفک میں پھنس گئے ان کے ذاتی گارڈز نے راستہ بنایا۔" ۔ اگر الیکٹرونکس میڈیا کو بے لگام آزادی پسند ہے تو ناظرین کے حقوق پر کیوں ڈاکہ ڈالا جارہاہے ۔ ایسی ہی فضول بریکنگ نیوز سے تنگ آکر لوگ انڈین چینلز کے دلدادہ بن چکے ہیں ۔ جہاں تفریحی پروگرام چلتے ہیں لیکن خبروں کی بکواس اور بریکنگ نیوز نہیں چلتی ۔ کبھی وہ وقت بھی تھا جب ایک گھنٹے بعد خبریں نشر ہوتی تھیں ۔ لیکن اب تو بریکنگ نیوز نے ایسا دماغ خراب کیا ہے کہ اس اذیت کاالفاظ میں ذکر مشکل ہے ۔ پھر حکومتی اداروں کی چشم پوشی کی بنا پر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو براہ راست کئی کئی گھنٹے ٗ حد سے زیادہ اہمیت اور کوریج دینا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ڈاکٹر طاہر القادری جو قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی جیت نہیں سکتے اور عمران خان جس کا مقدر مسلسل ہار ہے وہ بھی پیالی میں طوفان پیدا کرتا جارہا ہے ۔ان کے جلسوں میں آدھے لوگ تو میڈیا کے ہوتے ہیں جو بڑھ چڑھ کر مسالے دار خبریں بنا بنا کر ٹی وی پر کئی کئی گھنٹے نشر کر رہے ہوتے ہیں ۔ بطور خاص الیکٹرونکس میڈیا پر براہ راست کوریج اور بریکنگ نیوز پر فوری طور پر پابندی لگائیں اور خبر یں صرف ایک گھنٹے بعد ہی نشرہونی چاہیئے ہر وقت خبروں کی سلائیڈیں چلنا بند ہونے چاہیئں۔پھر کشمیر میں جدوجہد آزادی اور پاک فوج کی سرگرمیوں اور حکومتی اداروں کو سب سے پہلے کوریج دی جائے اور عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو ان کی اوقات کے مطابق کوریج دی جائے ۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ جو بھی سیاست دان ملک و قوم کے بارے میں باغیانہ تقریر کررہا ہو میڈیا کو بھی اس کا بائیکاٹ کرنا چاہیئے لیکن ہمارا شتر بے محار میڈیا ایسے شخص کو زیادہ کوریج دیتا ہے جو ملک کے خلاف بکواس کررہا ہوتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حد سے بڑھتی ہوئی آزادی ملک کی بنیادوں کوکھوکھلا کررہی ہے اور قومی یکجہتی کی فضا کو داغدار کررہی ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس اہم معاملے پر بھی آپ خاموش ہیں اور تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔

اگر آپ اس وقت وزارت عظمی پر فائز ہیں تو اس میں مسلم لیگی کارکنوں کی جانی و مالی قربانیوں کا کردار بھی شامل ہے جو آپ کے منشور اور ایجنڈے کو عام لوگوں تک پہنچا کر ان کے ذہنوں میں آپ کے بارے میں بہتر تاثر پیدا کرکے انہیں پولنگ اسٹیشنوں پر لاتے ہیں ۔الیکشن بلدیاتی ہوں یا قومی ۔ ہر الیکشن میں دنگا فساد اور قتل و غارت ہونا ایک معمول بن چکا ہے ۔ جن مسلم لیگی کارکنوں نے آپ اور پارٹی کے لیے جانی و مالی قربانیاں اور اپنا وقت صرف کیا ہے آپ اور دیگر مسلم لیگی قیادت نے ان کے مسائل حل کرنا تو دور کی بات ہے ان سے ملاقات کرنا بھی گناہ سمجھ رکھا ہے ۔ایک محب وطن پاکستانی اور پرانے وفادار مسلم لیگی کی حیثیت سے یہ چند گزارشات آپ کی خدمت میں گوش گزار کر دی ہیں۔از راہ کرم اپنی خاموشی سے پاکستان کے غداروں کو دودھ پلا کر جوان کرنا چھوڑ دیں اورپاکستان زندہ باد کہہ کر پھانسی کے تختے پر چڑھ جانے والوں کی قدر کریں ۔ یہ پاکستان ایک ملک ہی نہیں ہم سب کے لیے بہت بڑی نعمت ہے ۔

اب یوتھ لون سکیم کا قصہ بھی سن لیں ۔آپ نے وزیر اعظم یوتھ لون سکیم کااجرا تو بہت زور شور سے کیا تھا اور بہت بلند بانگ دعوی بھی سننے میں آئے تھے لیکن موجودہ حکومت کے ساڑھے تین سالوں میں ابھی صرف ساڑھے سات ہزار افراد کو قرض کی رقم ادا کی گئی ہے جبکہ 40 ہزار سے زائد افراد کے کیسز مسترد کردیئے گئے ۔ سال 2016ء میں جمع ہونے والی درخواستوں پر ستمبر کے مہینے تک بھی پروسز مکمل نہیں کیا گیا اور نوجوان قرض حاصل کرکے اپنا کاروبار کرنے کی امید لگائے بیٹھے تھے ان کو نہ صرف طویل ترین انتظار میں مبتلا کرکے ذہنی اذیت دی جارہی ہے بلکہ بطور خاص نیشنل بنک آف پاکستان کے چکر کاٹ کرکے قرض کی ایک چوتھائی رقم کا پٹرول جلا اور جوتیاں گھسا بیٹھے ہیں ۔اس کے باوجود کہ آپ خود نیشنل بنک آف پاکستان کے ہیڈ آفس کراچی گئے اور وہاں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فرمایا کہ وزیراعظم یوتھ لون سکیم کے تحت آنے والی درخواستوں پر کاروائی جلد مکمل کرکے ادائیگی کی جائے لیکن وزیر اعظم کے خود جانے کی قدر بھی نیشنل بنک حکام نے نہیں کی ۔اس سال جمع کروائی جانے والی تمام درخواستیں التوا کا شکار ہیں اور نہ جانے التوا کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔ اگر نیشنل بنک کا یہ حال ہے جو سرکاری بنک ہے تو پھر دیگر بنکوں میں سائلین کے ساتھ ہونے والے سلوک کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280319 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Sep, 2016 Views: 454

Comments

آپ کی رائے