سرکاری پرائمری سکولوں میں سینی ٹیشن کا مسئلہ۔۔۔مناسب حل کی ضرورت

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
ضررورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ،سکول ٹیچرز،اور پوری کمیونٹی اپنی مشترکہ ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے سینی ٹیشن کے اہم ترین مسئلے کے تدارک کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔اوراپنے بچوں کو بہترین صحت وصفائی کا نظام مہیا کریں تاکہ مستقبل کے لئے ایک بہترین اور صحت مند نسل تیار ہو سکے۔یقیناً آج کی توجہ اور درست حکمت عملی کل کی کامیابی اور ترقی کی نوید بنے گی۔ ُ
اگرچہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی شرح نے وسائل کو بری طرح مجروح کیا ہے۔لیکن سب سے زیادہ اگر کوئی شعبہ پاکستان میں پالیسی سازوں کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے وہ پرائمری تعلیمی نظام ہے،یہی وجہ ہے کہ پرائمری سطح کے تعلیمی منصوبے مؤثر طریقے سے زیر عمل نہ آ سکے۔سب سے زیادہ عدم توجہی پرائمری سطح کی تعلیم سے برتی جا رہی ہے، خاص طور پہ مناسب بلڈنگ، مناسب فرنیچر، پینے کا صاف پانی، سینی ٹیشن، تربیت یافتہ سٹاف اور دیگر بنیادی سہولیات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

چونکہ پاکستان میں دیہی علاقوں میں صاف پانی اور سینی ٹیشن کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔خاص طور پہ سرکاری سکولوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔بچوں کو سکول کی چار دیواری میں صاف پانی میسر نہیں ہے لہذا وہ آلودہ پانی پینے پہ مجبور ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سب سے خطرناک صورتحال یہ ہیکہ ان سکولوں میں لیٹرینز کی سہولت موجود نہیں ہے۔ خاص طور پہ شمالی علاقہ جات میں زلزلے کی تباہ کاریوں نے پہاڑی علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، تعمیر نو کا سلسلہ اگرچہ کہ جاری ہے لیکن بہت سے علاقوں میں ابھی بھی تعمیر کا سلسلہ مکمل نہیں ہو سکا، بلڈنگ تو بن رہی ہیں لیکن مناسب سینی ٹیشن اور پینے کے پانی کے مناسب انتظام کی ضروت ہے۔

The Education Management Information System(EMIS)کے مطابق پاکستان بھر میں 45.7فیصد پرائمری سکولوں میں صاف پینے کا پانی میسر نہیں ہے۔ اور 64.1فیصد میں لیٹرین کی سہولت موجود نہیں ہے۔لہذا اس کا یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ بچوں میں مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں جن میں اسہال،ہیضہ،آشوب چشم،جلدی بیماریاں شامل ہیں۔یہی خطرناک بیماریاں بچوں کی بڑھتی ہوئی شرح اموات کا باعث بنتی ہیں جو کہ ایک اندازے کے مطابق ہر سال0.2ملین تک پہنچتی ہے۔‘‘
سب سے اہم ترین پہلو یہ ہیکہ لوگ بچیوں کو سرکاری سکولوں سے اس لئے نکال دیتے ہیں یا انہیں سکول نہیں بھیجتے کیونکہ ان سکولوں میں لیٹرین کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔اور مزید یہ کہ اگر کسی جگہ پہ لیٹرین کی سہولت میسر ہے تو اس کے لئے باقاعدہ صفائی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے مزید گندگی پیدا ہوتی ہے اور اس سے مزید بیماریاں پھیلتی ہیں، نیز اگر کسی سکول میں پینے کا پانی موجود ہے لیکن اس کا مناسب طریقے سے انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وہ پانی بچے درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتے۔
بچے کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر ان کی مناسب دیکھ بھال اور صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو یقیناً اس قوم کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔لہذا سکولوں کی سطح پہ صحت وصفائی کا مناسب انتظام انتہائی اہم ترین مسئلہ ہے۔اس مسئلے پہ سوچنا اور اس کے حل کے لئے مناسب حکمت عملی اپنانا پوری کیمونٹی کی ذمہ داری ہے۔

اگر اس اہم مسئلے کو کمیونٹی اپنی مدد آپ کے تحت حل کر نے کی کوشش کرے تو اس سلسلے میں سکول کونسل مؤثر کردار دادا کر سکتی ہے۔لہذا یہ ضروری ہے کہ گاؤں کی سطح پہ ایک سکول کونسل بنائی جائے ۔اس کا طریقہ کار یہ ہیکہ علاقے کے مخلص اور مسائل کے حل میں دلچسپی رکھنے والے افراد کو منتخب کیا جائے ،اس میں گاؤں کے بزرگ، ریٹارڈ ٹیچر،ریٹائرڈ فوجی،پیش امام اور وہ افراد جن کا گاؤں میں اثر رسوخ ہے شامل ہونے چاہئیں ،اگر کونسل پہلے سے موجود ہے تو اسے مؤثر بنایا جائے۔

اسکول کونسل اسکول کے لئے خصوصی فنڈز کا اہتمام کر سکتی ہے۔اس سلسلے میں مقامی کمیونٹی کو آمادہ کرنا اور انہیں یہ سمجھانا کہ سکول کے اندر صاف پانی اور معقول سینی ٹیشن کتنی ضروری ہے۔اس کے علاوہ اسکول کونسل کا کام یہ ہے کہ لیٹرین کے لئے اور پانی کے ہینڈ پمپ کے لئے جگہ کا انتخاب کرنا۔اور مستقبل کے لئے ان کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے بھی مناسب فنڈ کا انتظام کرنا۔کونسل کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کی سپلائی اور لیٹرین کے لئے مقامی طور پہ ذرائع تلاش کرے اور ان کا انتظام کرے۔اور سکول کے ماحول کو بہتر بنانے کے لئے ہمہ وقت کام کرے۔اور ساتھ ساتھ گاؤں کے افراد کو بچوں کو زیادہ سے زیادہ سکول بھیجنے کی ترغیب دیں۔اور ایسے خاندان جو کہ مستحق ہیں اور بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے ان کی مدد و اعانت کا انتظام کرنا بھی کونسل کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

موجودہ جمہوری نظام میں منتخب نمائندوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔اس سلسلے میں ایک منتخب نمائندہ سکولوں کی حالت بہتر کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔لہذا انہیں اس مسئلے کے تدارک کے لئے شامل رکھنا چاہئے۔کمیونٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے منتخب کردہ نمائندوں کو ان تمام امور میں شامل کریں۔ان سے اس سلسلے میں ملاقاتیں کریں۔اور سکول کی حالت کو بہتر بنانے کے حوالے سے ان سے مدد لیں۔کیونکہ یہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے کہ وہ اس کمیونٹی کے بچوں کی تعلیم اور ان کی صحت کے لئے مناسب اقدامات کریں۔اس حوالے سے سکول کی انتظامیہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر منتخب نمائندوں سے ملاقاتیں کریں اور ان کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلائیں۔ان کو سکولوں میں سینی ٹیشن اور صحت کے مسائل سے آگاہ کریں۔اور انہیں سکولوں میں لیٹرین کی تعمیر کے لئے نہ صرف شامل کریں بلکہ مقامی طور پہ اس مقصد کے لئے فنڈ جمع کرنے کی مہم میں شامل کرنا چاہئے۔

سکولوں کے ماحول کی بہتری کے لئے سب سے اہم ترین کردار اساتذہ کا ہے۔کیونکہ بچے ان کے زیر تربیت ہوتے ہیں۔اور اس کے علاوہ سکول کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اساتذہ کے ذمے ہوتی ہے۔لہذا ضروری ہے کہ سب سے پہلے اساتذہ کی سینی ٹیشن اور صحت وصفائی کے حوالے سے خصوصی تربیت کی جائے۔ تربیت یافتہ اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ باقاعدہ بچوں کی صحت وصفائی کے حوالے سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں جن میں بچوں کو ہاتھ دھونے،صفائی کا خیال رکھنے وغیرہ کے بارے میں معلومات پہنچائی جائیں۔سکول میں نصب شدہ پانی کے پمپ اور لیٹرین کی نگرانی کریں اور اس سلسلے میں اسکول کونسل کے ساتھ رابطے میں رہیں۔اگرا سکول میں یہ سہولت موجود نہیں تو اس سلسلے میں سکول کونسل یا دیگر ذرائع سے اس کے حصول کے لئے رابطے کریں۔اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ مقامی افراد کے ساتھ میٹینگز کا اہتمام کر کے انہیں سینی ٹیشن اور صحت وصفائی کے حوالے سے ضروری معلومات فراہم کریں اور انہیں آمادہ کریں کہ اسکول میں سینی ٹیشن کے مناسب انتظام کے لئے کوشش کریں۔

سکولوں میں لیٹرین کے نہ ہونے سے بچوں کو صحت وصفائی کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے لہذا ضروری ہیکہ ہر سکول میں بچوں کی تعداد کے مطابق لیٹرین بنائی جائے۔لیٹرین بناتے وقت یہ خیال رکھنا ضروری ہیکہ اس پہ زیادہ اخراجات نہ ہوں وہ قابل استطاعت ہو،دوم ضرورت کے مطابق ہو،اور وہاں کے مقامی کلچر کو مد نظر رکھ کر بنائی جائے۔سوم یہ کہ تکنیکی اعتبار سے معقول اور موزوں ہو۔

لیٹرین بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لیٹرین کلاس رومز سے دور ہو۔اور اس امر کا خیال رکھا جائے کہ ایسی جگہ منتخب ہو جہاں مستقبل میں ضرورت کے مطابق مزید لیٹرین بنائی جا سکے۔اور اتنی جگہ ضرور ہونی چاہئے جس میں لیٹرین سے متعلقہ تمام لوازمات کی تنصیب ہو سکے۔لیٹرین کے لئے جگہ کا انتخاب کرنے کے لئے اسکول کونسل،اور اسکول انتظامیہ کو مل کر فیصلہ کرنا چاہئے۔تاکہ موزوں جگہ کا انتخاب کرنے میں آسانی ہو۔لیٹرین بناتے وقت ماہر معمار کا انتخاب کیا جائے اور سکول انتظامیہ اس کی تعمیر کے وقت نگرانی کرے۔اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ جن سکولوں میں لیٹرینیں موجود ہیں وہاں صفائی کا انتظام نہیں ہوتا۔اس کے لئے ضروری ہیکہ لیٹرین کو استعمال کے بعد صاف کیا جائے۔کمیونٹی سے مقامی طور پہ ایسا فنڈ جمع ہونا چاہئے جس سے صفائی کرنے والے کا انتظام کیا جا سکے۔اس کے لئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ،سکول کونسل،اسکول انتظامیہ اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پاکستان میں اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے 1992میں Primary Environmental Care Programشروع کیا ہے۔جس کا مطمع نظر صرف یہ ہیکہ سکولوں میں سینی ٹیشن کا نظام درست کیا جائے اور سکولوں کی سطح پہ صحت وصفائی کے حوالے سے تعلیم کو عام کیا جائے۔اور اس میں بچیوں کے ا سکولوں کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔اس حوالے سے یونیسیف نے ایک پروگرامPrimary Environmental Care in Girls School Project(PECGPS)کے نام سے شروع کیا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ بچیوں کے سکولوں میں صاف اور صحت مند ماحول مہیا کیاجائے۔اس پروگرام کے تحت ذاتی اور ماحولیاتی صحت وصفائی کے بارے میں تعلیم اور سکولوں میں لیٹرین کی تعمیر اور صاف پانی کے لئے ہینڈ پمپس کی تنصیب کا سلسلہ شروع کیا گیا۔اس پروگرام میں بنیادی کردار طلباء،ان کے والدین،سکول کونسل کے ممبران،اساتذہ،منتخب نمائندے،غیر سرکاری تنظیمیں،حکومتی ادارے اور کمیونٹی کاہے۔اس پروگرام کے تحت کمیونٹی اور سکول میں دیکھ بھال کا احساس اور احساس ملکیت پیدا کر کے انہیں ایک دوسرے کے قریب لایا جاتا ہے۔تاکہ سکولوں کے ماحول کو بدلنے میں کمیونٹی کو حرکت میں لایا جائے۔

ضررورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ،سکول ٹیچرز،اور پوری کمیونٹی اپنی مشترکہ ذمہ داری کا ادراک کرتے ہوئے سینی ٹیشن کے اہم ترین مسئلے کے تدارک کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔اوراپنے بچوں کو بہترین صحت وصفائی کا نظام مہیا کریں تاکہ مستقبل کے لئے ایک بہترین اور صحت مند نسل تیار ہو سکے۔یقیناً آج کی توجہ اور درست حکمت عملی کل کی کامیابی اور ترقی کی نوید بنے گی۔ ُ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68824 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
19 Sep, 2016 Views: 478

Comments

آپ کی رائے