کشمیریت ، جمہوریت اور انسانیت

(Dr Saleem Khan, India)
اڑی میں ہونے والا حملہ کو کشمیر کے حالیہ احتجاج و تشدد کے واقعات اور برہان وانی کے انکاونٹر سے کاٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ یہ ایک سلسلے کی کڑی ہے۔برہان وانی ایک ۲۲ سالہ نوجوان تھا جس پر ۱۵۰ نوجوانوں کو حزب المجاہدین میں شامل کرنے اور دہشت گردی کے چند واقعات میں ملوث ہونے کا الزام تھالیکن ۸ جولائی کوایک مڈ بھیڑ میں اسے ڈھیر کردیا گیا ۔اگربرہان کوگرفتار کرکےعدالت میں پیش کردیا جاتا اور اس کے جرائم کی اسے دستور کے مطابق قرار واقعی سزا سنائی جاتی اور’’کشمیریت ، جمہوریت اور انسانیت‘‘ کا پاس و لحاظ رکھا جاتاتو شاید یہ خلفشار رونما نہیں ہوتا ۔

برہان وانی کی عسکریت پسندی کے پسِ پشت عوامل کا پتہ لگا کر اس کا سدِ باب ضروری تھا ۔ برہان کے والد صدر مدرس اور والدہ پوسٹ گریجویٹ استانی ہیں۔ برہان اپنی جماعت کا ذہین ترین طالبعلم تھا لیکن اس کے بے قصور بھائی خالد وانی کو آج سے ۷ سال قبل فوجیوں نے بلاوجہ ہلاک کردیا۔ اپنے بھائی کے قتل کا انتقام لینے کی خاطر برہان عسکریت پسندی کی جانب راغب ہوا۔ اگر خالد پر ظلم نہیں ہوتا یا اس کے قاتلوں کو حکومت پھانسی کے تختے پر پہنچا دیتی تو برہان حکومت کا احسانمند ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ایک جائزے کے مطابق وادی میں کل ۱۴۵ متحرک عسکریت پسند ہیں جن میں ۹۱ کا تعلق وادی سے ۵۴ پاکستان سے آئے ہیں ۔ ان عسکریت پسندوں پر قابو پانے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں موجود حفاظتی دستے کافی ہیں لیکن برہان وانی کی ہلاکت نے اس کو راتوں رات کشمیر کا ہیرو بنادیا اور بی جے پی کی سخت گیری نے اسے زیرو کرکے رکھ دیا ۔عمر عبداللہ کا بیان درست ہے کہ قبر کے اندر برہان وانی کی موجودگی ذرائع ابلاغ کی بہ نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ مظاہروں کو سختی سے نمٹنے کی حکمت عملی نے کشمیریوں کو بے خوف کر دیا ۔ اب یہ حالت ہے کہ صوبے کی وزیراعلیٰ بے دست و پا ہوگئی ہیں ۔ ان کے ارکان اسمبلی و پارلیمان اپنے گھروں دبکے بیٹھے ہیں ۔ کسی کے گھر پر حملہ ہوتا ہے اور مظاہرین حفاظتی دستوں سے اے کے ۴۷ چھین کر لے جاتے ہیں ۔ کسی کا گھر جلا دیا جاتا ہے اور کوئی استعفیٰ دے دیتا ہے۔ پہلے تو حکومت حریت سے ملاقات کیلئے تیارنہیں تیو مگر اب توحریت کل جماعتی پارلیمانی وفد تک سے ملاقات کرنا گوارہ کرنے پر راضی نہیں ہے۔

برہان وانی انکاونٹر سے شروع ہونے والے احتجاج کی بابت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ڈھائی ماہ چلے گا ۔ اس دوران دو مرتبہ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کو اپنا امریکہ کا دورہ منسوخ کرنا پڑا اورممکن ہے اسی سبب سے خودوزیراعظم نے بھی اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہوجو حیرت انگیز ہے۔ گزشتہ ڈھائی سالوں کے اندر وزیر اعظم نریندر مودی براک اوبامہ سے ۸ بار ملچکے ہیں ۔ صدر کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے اجلاس کو خطاب کرنے کےآخری موقع پرمودی جی کا وہاں نہ ہونا حیرت انگیز ہے لیکن غالباً کی کشمیر کی دگرگوں صورتحال ان کے پیروں کی زنجیر بن گئی ۔

براک اوبامہ نے اپنے آخری خطاب میں نہ کشمیر کا ذکر کرکے ہندوستان کو ناراض کیا اور نہ اڑی کی مذمت کرکے پاکستان ناراضگی مول لی لیکن یہ ضرور کہا کہ بلاواسطہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوں گے اس کا اطلاق دونوں ممالک پریکساں طور سے ہوتا ہے۔ جس طرح کا حملہ اڑی میں ہوا ایسے حملے ہندوپاک دونوںممالک میں ہوتے رہتے ہیں ۔ ان میں یکسانیت یہ ہے کہ ہر مقام پر حملہ آور سارےشواہد ساتھ لے کر جاتے ہیں اور انہیں محفوظ رکھتے ہیں ۔ پاکستان میں ہونے والے حملوں کیلئے ہندوستان کو اور بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کا الزام فوراًپاکستان پر لگا دیا جاتا ہے ۔ اسی کے ساتھ دوسری جانب سے انکاربھی ہوجاتا ہے ۔ پاکستان کہتا ہے کہ یہ حکومت ہند ازخود کروارہی ہے اور بھارت کے مطابق یہ آئی ایس آئی کے آغوش میں پلنے والے دہشت گردوں کا کارنامہ ہوتا ہے لیکن ان الزام تراشیوں سے قطع نظر اس کی بھاری قیمت عوام اور فوجی چکاتے ہیں ۔

اڑی حملے کی بابت بھی یہی ہوا۔ حکومت ہندکا موقف ہے کہ سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں نے انجام دیا جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی کی جانب سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ حملہ کروایا گیا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے دہشت گردوں کے پاس ملنے والے سازوسامان کا حوالہ دیا جارہا ہے اور ان کے جی پی ایس کا ریکارڈ پیش کیا جارہا ہے جبکہ پاکستان یہ کہتا ہے فوجی چھاونی کے حفاظتی شکنجہ کو توڑ کر کسی کا اندر داخل ہوجانا تقریباً ناممکن ہےیا کشمیری عسکریت پسندوں کا ردعمل ہوسکتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اڑی حملے کے بعد ساری دنیا کی توجہ کشمیر کے مسئلہ سے ہٹ گئی اور پاکستان الگ تھلگ سا پڑ گیا ہے لیکن ان حالات میں بھی روس کے ساتھ پاکستان کی مشترکہ فوجی مشقیں سرکاری دعویٰ کا منہ چڑھاتی ہیں ۔ پہلے تو یہ خبر آئی تھی کہ روس نے فوجی مشق منسوخ کردی ہے لیکن اب یہ کہہ کر ہم اپنے آپ کو بہلا رہے ہیں کہ اس کے افتتاح کو گلگت سے منتقل کردیا گیا ہے۔ روس اور ہندوستان کی دوستی بہت قدیم ہے ۔ ہند اور امریکہ کے قریبی تعلقات کی استوار ی کےبعد بھی روس سے قربت باقی رہی لیکن مودی جی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ توازن بگڑ گیا ۔اس کا فائدہ اٹھا پاکستان نے اپنے قدیم دشمن کو دوست بنالیا ۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاک روس مشترکہ فوجی مشق پہلی بار ہورہی ہے۔

بین الاقوامی سفارتکاری ہو یا روس و پاکستان کی مشترکہ فوجی مشق اس کا کشمیر کے حالات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑےگا ۔لیکن اڑی حملے کے ۴ دن بعد جموں کشمیر ہائی کورٹ کا پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگانے کی درخواست مسترد کردینا یقیناً اس پر اثر انداز ہوگا ۔ کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ پیلٹ گن استعمال کرنے والے افسران کو سزا دی جائے ۔ اس درخواست کو بھی یہ کہہ کر نامنظور کردیا گیا کہ تفتیش کرنے والے حکام کو طاقت کے بیجا استعمال کے شواہد ہی نہیں ملے۔عدالت نے کہا کس قسم کے ہتھیار استعمال کئے جائیں اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار وہاں موجود افسرکو ہے یعنی کل کو کوئی اے کے ۴۷ استعمال کرے تب بھی عدالت کی نظر میں وہ جائز ہوگا۔

جموں کشمیر کی بار ایسو سی ایشن نے۳۰ جولائی کو یہ مقدمہ دائر کیا تھا جس پر ۲۱ ستمبر کو فیصلہ آیا ہے کہ وزارت داخلہ نے پیلٹ گن کا متبادل تلاش کرنے کیلئے جو ماہرین کی کمیٹی نامزد کی ہے اس کی رپورٹ کے بغیر کورٹ کوئی فیصلہ ممکن نہیں ہے ۔ عدالت کم از کم یہ تو پوچھ سکتی تھی کہ رپورٹ کب آئیگی یا اس کی پیشکش کیلئے کوئی مدت مقرر کردیتی اس لئے کہ ۷ ہفتے گزر چکےہیں ۔ اگر اپنے ہی عوام کے تئیں اس طرح کی بے حسی برتی جائیگی تو غیروں کا اس کا فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہی رہے گا۔ یہ مسئلہ جبر وجنگ سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہوگا ۔ وادیٔ کشمیر میں گفت و شنید کیلئے ساز گار ماحول تیار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اس کے بغیرپاکستان کو اسے بین الاقوامی فورم میں اٹھانے سے روکنا عملاً ناممکن ہوگا۔ جموں کشمیر کے اندر پائیدار اور مستحکم امن و امان ہی اس مسئلہ کا واحد حل ہے ۔ بدلہ بدلہ کا شور یا اس کے جواب میں سرکاری پتہ کےریس کورس روڈ کا نام جن کلیان روڈ سے بدل دیا جانا کشمیر کی جنتاکا کلیان نہیں کرے گا ۔ اس کیلئے کشمیریت ، جمہوریت اور انسانیت کے اصولوں پر اخلاص کے ساتھ عملدرآمد کرنا ہوگا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1252 Articles with 462932 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2016 Views: 270

Comments

آپ کی رائے