وزیراعظم نوازشریف، مسئلہ کشمیر، عالمی برادری ،اوآئی سی اورردعمل

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)
وزیراعظم نوازشریف نے نیویارک میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کے دوران کہناتھابھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں لیکن کشمیر میں بھارت کی طرف سے لاشیں گرائی جارہی ہیں جوکہ ظلم وستم کی زندہ مثال ہے۔کشمیر جیل بن چکا ہے جہاں لوگوں پرظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔وزیراعظم نوازشریف نے جان کیری کوکشمیرمیں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے آگاہ کیاامریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی کامیابیوں کوسراہا۔وزیراعظم نے امریکہ پرزوردیا کہ وہ اثرورسوخ استعمال کرے اورمسئلہ کشمیر حل کرنے میں اپناکرداراداکرے۔نوازشریف نے جان کیری کوسابق امریکی صدربل کلنٹن کاوعدہ بھی یاددلایا ،میرے سابق دورحکومت میں بل کلنٹن نے وعدہ کیاتھا کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں مددکریں گے۔اوراب وقت آگیاہے کہ امریکہ اپناوعدہ پوراکرے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف امریکہ، چین، برطانیہ،روس اورفرانس کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورت حال سے خطے اورعالمی امن اورسیکیورٹی پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے۔سلامتی کونسل کے مستقل اراکین مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی خون ریزی بندکرانے کیلئے بھارت پردباؤ ڈالیں اور کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرایا جائے۔خط میں مقبوضہ کشمیرمیں بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورانسانی ہمدردیوں کے قوانین کی خلاف ورزیوں کواجاگرکرتے ہوئے سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے سربراہان کومسئلہ کشمیر پر اپنی ذمہ داریوں کوپوراکرنے پرزوردیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیرعالمی سطح پرتسلیم شدہ اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایجنڈے پرموجودسب سے پرانا تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔سلامتی کونسل کے مستقل ارکان مسئلہ کے حل کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ۔ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیرسے متعلق متعدد قراردادوں کے منظورہونے کے ۸۶ سال بعد بھی کشمیری عوام اس مسئلے کے حل کے منتظرہیں جن کے تحت اقوام متحدہ کی سرپرستی میں آزاداورغیرجانبدارارانہ رائے شماری کے ذریعے حق خودارادیت دیاجائے گا۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیرکے پرامن حل کیلئے پاکستان کے عزم کوبھی اجاگرکیا۔نیویارک میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم نوازشریف سے سعودی ولی عہد اورنائب وزیراعظم شہزادہ محمدبن نائف نے ملاقات کی۔جس کے دوران مسلم دنیا کے اہم ملکوں ،پاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات پراطمینان کا اظہارکیا۔اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے سعودی عرب کی سا لمیت کو کسی بھی خطرے کی صورت میں بھرپورحمایت کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیاگیا اورنوازشریف نے شہزادہ محمدبن نائف کو مقبوضہ کشمیرمیں جاری بھارتی مظالم سے آگاہ کیا۔وزیراعظم کاکہناتھا کہ بھارتی قابض فوج کی وجہ سے مقبوضہ کشمیرجیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔عالمی برادری مسئلہ کشمیرکی سنگینی کومحسوس کرے اورمسئلہ کشمیرکے سیاسی حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمدکیلئے کرداراداکرے۔نوازشریف نے کہا کہ اوآئی سی اورمسلم ملک انسانی حقوق سے محروم کشمیریوں کیلئے آوازبلندکریں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کے حالیہ دھمکی آمیزبیانات سے علاقائی امن وسلامتی کوخطرات لاحق ہیں ۔وزیراعظم محمدنوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۱۷ ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں حالات تبدیل ہورہے ہیں دنیاکومختلف خطرات ہیں دنیاکی بڑی طاقتوں کے مابین رسہ کشی ہورہی ہے۔ دنیا مسائل اورغربت کی طرف بڑھ رہی ہے۔دنیاکی معاشی ترقی بلندیوں کوچھورہی ہے۔ہماری حکومت نے بھی معاشی ترقی کاایجنڈادیا ہے۔اورملک ترقی کی راہ پرگامزن ہے۔ہمارے تین سالوں میں معاشی ترقی میں بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے دہشت گردی کیخلاف قربانیاں د ی ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے ملک میں امن قائم کیا ہے۔پاکستان دنیامیں دہشت گردی سے سب سے زیادہ شکارہواہے۔افغانستان میں امن کاواحدراستہ افغانستان ہے۔پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے لیکن بھارت پاکستان کے ساتھ پرامن مذاکرات کیلئے تیارنہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ انصاف کی عدم موجودگی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔بات چیت کاعمل دونوں ممالک کے حق میں ہے بھارت کی پیشگی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں پاکستان نیوکلیئر سپلائر گروپ کا مکمل اہل ہے۔ وزریراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں بھارت مظالم ڈھارہا ہے ۔ اقوام متحدہ کشمیریوں کے قتل عام کی تحقیقات کرائے۔ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن بھارت اس کیلئے تیارنہیں ہے ،کشمیریوں کوبھارتی تسلط سے آزادکرانے کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کرے۔وزیراعظم نوازشریف نے چینی ہم منصب لی کی جیانگ سے ملاقات میں چینی ہم منصب کومقبوضہ کشمیرکی صورت حال سے آگاہ کیا۔چینی وزیراعظم لی کی جیانگ نے کہا کہ ہم پاکستان کی حمایت کرتے ہیں۔ہم دنیاکے ہرفورم پر پاکستان کیلئے آوازبلندکرتے رہیں گے۔پاکستان اورچین کارشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ کھڑارہے گا ہرفورم پرپاکستان کی حمایت کریں گے۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اورعالمی امورکے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ذرائع کاکہنا ہے کہ چینی وزیراعظم کاکہناتھا کہ ہم کشمیرکے حوالے سے بے خبرنہیں اس کی خطے میں اہمیت سے واقف ہیں ۔پاکستان خوددہشت گردی سے متاثرہ ہے اورتوقعات سے بڑھ کرامن کیلئے کام کیاہے۔امیدکرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیرپرپاکستان کی پوزیشن واضح کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔سیکرٹری خارجہ اعزاز احمدچوہدری اوراقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے وزیراعظم کی امریکہ میں عالمی راہنماؤں سے ملاقات سے متعلق میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی عالمی راہنماؤں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیرترجیح رہا۔نوازشریف نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔ کشمیریوں کے بنیادی حق حق خودارادیت پرسمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔پاکستان میں گولن نیٹ ورک سے متعلق ترکی کے خدشات کا حل نکالیں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ قربانی کسی ملک نے نہیں دی۔ہماری کاوشوں کوسراہا جاناچاہیے۔وزیراعظم سے امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بھی بات ہوئی ہے۔جان کیری نے پاکستان سے ایٹمی سرگرمیاں محدودکرنے کی بات کی۔تاہم نوازشریف نے صاف کہہ دیا کہ امریکہ ہم سے اس بات کاتقاضانہ کرے جس کابھارت سے نہیں کرسکتا۔جن ایٹمی اقدامات کامطالبہ ہم سے کیاجارہا ہے وہ بھارت سے کیاجائے ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پریکطرفہ بات نہیں کی جاسکتی۔دنیابھارت کی جوہری سرگرمیوں کوروکے۔پاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کیلئے دباؤ بھارت پر ڈالنا چاہیے۔وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں کشمیرکامسئلہ اٹھایا اورعالمی ادارہ کے سربراہ کومقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکت کے ثبوت دیئے۔جبکہ انہیں ریاستی دہشت گردی کے شکاربے گناہ اورنہتے لوگوں کی تصویریں دکھائیں ۔بان کی مون نے قابض بھارتی فورسزکی طرف سے پیلٹ گنز کے استعمال والی ظلم وبربریت کی تصویریں دیکھ کرافسوس اوردکھ کااظہارکیا۔(بان کی مون کو اقوام متحدہ اورسلامتی کونسل کی کشمیربارے بے حسی اوراپنی ہی منظورکردہ قراردادوں پرعمل نہ کرانے پربھی افسوس کااظہارکرناچاہیے تھا)وزیراعظم نے بھارتی سیکیورٹی فورسزکے ہاتھوں ہزاروں زخمی افرادکے بارے میں بتایا اورکہا کہ پیلٹ گنز کے سینکڑوں خواتین اوربچے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔جبکہ پیلٹ گنز کااستعمال غیرانسانی اورکھلی بربریت ہے۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کومقبوضہ کشمیرمیں مسلسل کرفیو،کشمیری راہنماؤں کی گرفتاریوں، زخمیوں کے علاج معالجہ سے انکار خاص طورپر بینائی سے متاثرہ اورپیلٹ گنز فائرنگ سے شکارافرادکاعلاج نہ کرنے بھارتی روش بارے بتایا۔وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد لندن ایئرپورٹ پر میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسزنے نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھایا ایک سوآٹھ کشمیری شہیداورمتعدد نابیناوزخمی ہوئے۔یہ بات کیوں نہیں کی جاتی کہ اتناظلم ڈھایاگیا ہے۔اس کامنطقی نتیجہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں اڑی سیکٹرپرحملہ ہواجس میں بھارتی فوجی مارے گئے ۔یہ حملہ کشمیریوں پرمظالم کاردعمل بھی ہوسکتاہے، جوبے گناہ شہیدہوئے۔(وزیراعظم نواززشریف کویہ بیان نہیں د یناچاہیے تھا یہ بات توہمارے اورکشمیریوں کے خلاف جاتی ہے۔ انہیں کہناچاہیے تھا کہ یہ حملہ بھارتی فوج کی صلاحیت کاثبوت ہے جوحملہ آوروں کو کیمپ کے اندرآنے سے نہ روک سکی)بھارت کوالزام لگانے سے پہلے اپنے کردارپرضرور نظرڈالناچاہیے۔ پاکستان نے کشمیرسے متعلق ذمہ دارانہ کرداراداکیا۔ہم کشمیرکاذکرپہلے بھی کرتے رہے ہیں ۔اقوام متحدہ میں تقریر کاوقت مقررہوتا ہے ۔جس میں جتنی باتیں کی جاسکتی تھیں کی گئیں۔وہاں دنیابیٹھی ہوئی تھی سب نے ان باتوں کوسنا۔

وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے عالمی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیراجاگر کرنے اوربھارتی مظالم کاپردہ چاک کرنے کاردعمل بھی سامنے آیا ہے اوآئی سی کے رابطہ گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مظلوم کشمیریوں سے اظہاریکجہتی اورمقبوضہ کشمیرکی صوتحال پر تشویش کااظہارکیاگیا۔اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ایادامین مدنی نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔ ایادامین مدنی نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کوحق خودارادیت سے نہیں روک سکتے۔بھارت کشمیرمیں پیلٹ گنز کااستعمال بندکرے۔مسئلہ کشمیراقوام متحدہ میں کیوں ا ٹھایا ،نوازشریف کے خطاب میں برہان وانی کے ذکرپربھارت بھڑک اٹھا۔بھارتی وزیرمملکت خارجہ امورنے جنرل اسمبلی میں نوازشریف کے خطاب پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کاخطاب حیران کرنے والا ہے ۔دہشت گردی اوردوستی ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان اوربھارت مسائل کاحل تشدد کی بجائے سفات کاری سے نکالیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ مذاکرات سے خطے میں امن اوراستحکام آئے گا،دنیابھرمیں کہیں بھی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں ا پوزیشن لیڈرخورشیدشاہ کہتے ہیں کہ سلامتی کونسل میں ایک تقریرکے ذریعے کشمیرکامعاملہ حل نہیں ہوگا۔مسئلہ کشمیرکا حل جنگ کے ذریعے کسی صورت ممکن نہیں ہوسکتا۔یہ معاملہ حل کرناہے توسفارتی چینل کوفعال کرناہوگا۔چوہدری برادران کاکہناہے کہ نوازشریف جنرل اسمبلی میں کشمیرپرکچھ نیا نہیں بولے۔حریت راہنماؤں سیّدعلی گیلانی، یاسین ملک، میرواعظ نے کشمیرکابھرپورمقدمہ لڑنے پر نوازشریف کوخراج تحسین پیش کیاہے۔صدرآزادجموں وکشمیر سردار مسعودخان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ میں کشمیرکی بھرپورترجمانی کی۔میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری کشمیری قوم ، دنیا بھرمیں مقیم تارکین وطن وزیراعظم اورحکومت پاکستان کے شکرگزارہیں۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے جنرل اسمبلی میں ایک مدبرانہ اندازمیں تقریرکی۔لڑائی نہیں امن کی بات کی۔بھارت اڑی حملہ کے سلسلہ میں شواہد پرامریکہ کوپاکستان کیخلاف قائل کرنے میں بھی ناکام رہاامریکی حکام نے نئی دہلی پر معاملہ سفارتی اورسیاسی ذرائع سے حل کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جنوبی ایشیاء کے حالات پرگہری نظر ہے ۔ امریکہ فوجی تصادم روکنے کیلئے د ن رات کام کررہا ہے ۔واشنگٹن کوپاکستان کے ملوث ہونے کایقین نہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ ششماسوراج نے کہا کہ پاکستان کشمیرکاخواب دیکھناچھوڑدے ۔جموں کشمیربھارت کا حصہ تھا اوررہے گا۔پاکستان نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ کشمیربھارت کااٹوٹ انگ ہے تو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پرکیوں ہے۔بھارت کاسلامتی کونسل قراردادوں سے اظہارلاتعلقی حیران کن ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 338 Articles with 155469 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2016 Views: 405

Comments

آپ کی رائے