آج ہم کل تم

(Shahid Raza, )
آج بچپن ہے جب تم کو ہم دیکھتے تھے کل ہمارا بڑھاپا ہو گا تو تم ہم کودیکھنا،آج راتوں کو تیرے لئے ہم جاگتے ہیں کل تم جاگنا،آج تم بیمار ہو ہم دیکھ بھال کرتے ہیں کل ہم بیمار ہوں گے تو تم دیکھنا ہر ماں باپ کی اُمید، لیکن یہ کیا ہوا وقت بدلہ بچپنا ختم ہو گیا جوانی شروع ہو گئی جس کو ہم نے بولنا سیکھایا آج ہمارے آگے بولتا ہے ،جس کو ہم نے چلنا سیکھایا آج ہم کو ڈراتا ہے،اے دنیا والوں دنیا میں سوچ لو ،آج ہم بوڑھے ہیں ہمارے پاس کوئی نہیں ،کل تم بوڑھے ہو گے تو تمہارے پاس کون ہو گا،آج ہم بیمار ہیں کوئی دیکھنے والا نہیں، کل تم بیمار ہو گے تو کون دیکھے گا،بچپن میں تم کھاتے تھے ہم بھوکے رہتے تھے آج ہم بھوکے ہیں کھانا کھلانے والا کوئی نہیں ،ہم نے جو کمایا تم پر لوٹایا آج تم جو کماتے ہو سب کہاں لٹا تے ہو،آج تیرا بوڑھا باپ ہوٹلوں میں برتن صاف کرتا ہے سوچو کل تم کیا کرو گے،آج تیرا باپ پیسوں کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے کل تم کہاں کہاں ٹھوکریں کھاؤ گے،آج تیری ماں گھروں میں جھاڑو لگاتی ہے اور تم بیوی بچوں کے ساتھ عیش کرتے ہو،کل تم تکلیف میں ہوتے تھے ماں جاگتی رہتی تھی کے میرا بچہ تکلیف میں ہے آج تو سکون کی نیند سُو جاتا ہے تیری ماں رات بھر جاگ کر تکلیف سے ہائے ہائے کرتی ہے،آج تیری ماں انتظار کرتی ہے کے کاش کبھی میرا بیٹا میرے پاس آئے سوچو کل تمہارے پاس کون آئے گا،تیری ماں تیری ایک جھلک کے لئے بے چین ہے سوچو کل تم کو کون جھلک دیکھائے گا،تیرا باپ انتظار کرتا ہے کاش میرا بیٹا میری مدد کرے سوچو کل تیری کون مدد کرے گا،آج تیرا باپ انتظار کرتا ہے تھوڑا آرام کا موقع مل جائے اب تھک گیا ہوں سوچو کل تم کیسے آرام کرو گے،آج عید کا دن ہے تو بازار میں ہے ہر بچے کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال ہے تجھے اور تیری ماں اپنے شوہر سے کہہ رہی ہے دیکھنا آج میرا بیٹا میرا لعل میرے لئے کتنا اچھا لباس لائے گا ،اور باپ خوشی میں ہاں میں ہاں ملاتا ہے کے چلو شکر ہے ہمارا بیٹا بھی اس قابل ہوا کے ہمارے لئے کچھ لائے اتنے میں ڈور بیل بجی ماں اور باپ خوش ہیں کے ہمارا بچہ آگیا ہمارا لباس آ گیا ماں انتظار میں ہے ہمارا بچہ ہمیں عید مبارک کہے ہمیں لباس دے تا کہ باپ کل عید کی نماز نئے لباس میں پڑھے لیکن یہ کیا لائٹیں بند ہو گئیں سب سُو گئے ماں نے کہا چلو تھک گیا ہو گا صبح دے گا صبح نماز کا وقت ہوا ماں انتظار میں ہے بیٹا نہیں آیا آخر ماں نے بیٹے سے خود جا کر پوچھا بیٹا ہمارا لباس کہاں ہے تیرے باپ کو نماز پڑھنے جانا ہے بیٹا کہتا ہے اماں پیسے ختم ہو گئے ابھی پچھلی عید میں لباس دلوایا تھا اگلے سال پکا تیرے لئے اور اباکے لئے لباس لاؤں گا عید کی نماز کا وقت ہوا باپ نے کپڑے بدلے دو جگہ پیوند لگے ہیں کسی نے مسجد میں پوچھا کیا ہوا آپ نے اس سال نیا لباس نہیں بنایا بیٹے نے بنوا کر نہیں دیا، باپ کی آنکھیں جھکی ہیں کے دنیا کو کیا جواب دے سوچو آج تیرا باپ ہے دنیا کو کوئی جواب نہیں دے سکا کل تم کیا جواب دو گے ،آج تیرے ماں باپ تیرا انتظار کر کر کے بستر مرگ پر آگئے سوچو کل تم کہاں آؤ گے،آج تیری ماں اپنی آخری سانس لے رہی ہے خالق حقیقی سے ملنے والی ہے آخری آہیں لے رہی ہے ہر آہ میں ایک ہی بکا ہے کاش بیٹے کی زیارت ہو جائے کاش بیٹے کی زیارت ہو جائے باپ سر پر ہاتھ بھیر رہا ہے اور کہہ رہا ہے معاف کرنا میں مجبور ہوں تیری آخری خواہش پوری نہیں کر سکتا ،یہ سننا تھا آخری ہچکی انا ﷲ و انا الیہ راجعون آج ماں چلی گئی کل باپ چلا جائے گا سوچو تیرا کیا ہو گا اﷲ کا اُصول ہے جو بویا ہے وہی کاٹو گے اب تم دیکھو تم نے بویا کیا ہے اور کاٹو گے کیا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 149387 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 463

Comments

آپ کی رائے