کا میا ب مرد کے پیچھے عو ر ت کا کر دار قسط (٨)

(naila rani, karachi)

مثال نمبر (١٢):۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت خوا جہ قطب ا لد ین بختیار کا کی ر حمتہ اللہ علیہ آج بھی قطب مینار کے قر یب لیٹے ہو ئے ہیں ان کے با رے میں بھی مشہو ر وا قعہ ہے ا نکے نا م کے سا تھ کا کی کا لفظ لگا یا جا تا ہے یہ ہند ی ز با ن کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں رو ٹی -وا قعہ یہ ہوا کہ یہ ا بھی بچے تھے ا یک دن ان کے وا لد ین نے آ پس میں بیٹھ کر مشو رہ کیا کہ ہما را بیٹا نیک کیسے بنے ؟ ا چھا کیسے بنے؟ چنا نچہ ا نکی ما ں نے کہا میر ے ذ ہن میں ا یک تجو یز ہے ،کل سے میں اس تجو یز پر عمل کرو ں گی ا گلے دن جب بچہ مدرسے میں چلا گیا تو ما ں نے کھا نا بنا یا اور ا لما ری میں کہیں چھپا کر ر کھ د یا - بچہ آ یا کہنے لگا ا می!بھو ک لگی ہے مجھے کھا نا دے دیجیئے-ما ں نے کہا بیٹا!ہمیں بھی تو کھا نا اللہ تعا لی د یتے ہیں و ہی را زق ہیں و ہی ر ز ق پہنچا تے ہیں و ہی ما لک و خا لک ہیں ،ما ں نے اللہ ر ب ا لعزت کا تعا ر ف کروا یا اور کہا کہ بیٹا تمہا را رزق بھی و ہی بھیجتے ہیں تم اللہ سے ما نگو ،بیٹے نے کہا امی !میں کیسے ما نگو ں ؟ما ں نے کہا بیٹا مصلی بچھا ؤ چنا نچہ مصلی بچھا د یا بیٹا ا لتحیا ت کی شکل میں بیٹھ گیا چھو ٹے چھو ٹے معصو م ہا تھ ا ٹھا ئے -ما ں نے کہا بیٹا !تم ڈھو نڈو اللہ نے کھا نا بھیج د یا ہو گا -تھو ڑی د یر کمر ے میں ڈھو نڈا با لا خر ا لما ری میں کھا نا مل گیا بیٹے نے کھا نا کھا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب بیٹے کے دل میں ایک تجسس پیدا ہوا وہ روز اللہ تعا لی کی با تیں پو چھتا امی وہ سب کو کھا نا د یتے ہیں ؟ پر ندو ں کو بھی ؟حیوا نو ں کو بھی ؟ پتہ نہیں انکے پا س کتنے خزا نے ہیں ؟وہ ختم نہیں ہو تے وہ اللہ تعا لی کے با رے میں ز یا دہ سے ز یا دہ معلو ما ت حا صل کر نے کی کو شش کر تا - ما ں کا دل خو ش ہو تا کہ بیٹے کے دل میں اللہ ر ب العزت کا تعلق بڑ ھ ر ہا ہے -چنا نچہ جب بچہ محسو س کر تا سب کو ا للہ تعا لی ر ز ق د ے ر ہے ہیں تو محسن کے سا تھ محبت تو فطر ی چیز ہے -بچہ کے دل میں اللہ تعا لی کی محبت پیدا ہو گئی -وہ محبت سے اللہ تعا لی کا نا م لیتا وہ سو نے سے پہلے وا لدہ سے ا للہ کی با تیں پو چھتا ما ں خو ش ہو تی کہ بیٹے کے دل میں اللہ تعا لی کی محبت بس ر ہی ہے -کچھ دن سلسلہ اسی طر ح چلتا ر ہا مگر ایک دن یہ ہو ا کہ ما ں ا پنے ر شتے دارو ں میں کسی تقر یب میں چلی گئی اور و ہا ں جا کر وہ و قت کا خیا ل نہ ر کھ سکی بھو ل گئی - جب خیا ل آ یا تو پتہ چلا کہ بچہ کے آ نے کا و قت کا فی د یر ہو ئی گزر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ما ں نے بر قعہ لیا اور ا پنے گھر کیطر ف تیز قد مو ں سے چل دی را ستے میں رو بھی ر ہی ہے د عا ئیں بھی کر رہی ہے ، میر ے ما لک!میں نے تو اپنے بچے کا یقین بنا نے کے لیئے یہ سا را معا ملہ کیا تھا -اے اللہ !اگر آج میر ے بچے کا یقین ٹو ٹ گیا تو میر ٰ محنت ضا ئع ہو جا ئے گی اے اللہ ! پر دہ ر کھ لینا اللہ! میر ی محنت کو ضا ئع ہو نے سے بچا لینا ما ں د عا ئیں کر تی آ ر ہی ہے جب گھر پہنچتی ہے تو د یکھتی ہے کہ بیٹا آرام کی نیند سو ر ہا ہے ،ما ں نے جلدی سے کھا نا پکا یا اور چھپا کر ر کھ د یا - پھر آ کر بچہ کے ر خسا ر کا بو سہ لیا -اسے جگا کر سینے سے لگا یا کہنے لگی بیٹے !آج تو تجھے بہت بھو ک لگی ہو گی - بچہ ہشا ش بشا ش بیٹھ گیا کہنے لگا ا می! مجھے تو بھو ک نہیں لگی -ما ں نے پو چھا وہ کیسے ؟ تو بچے نے کہا امی!جب میں مدرسے سے آ یا تو میں نے مصلی بچھا یا اور میں نے د عا ما نگی ،اے اللہ ! مجھے بھو ک لگی ہو ئی ہے تھکا ہوا بھی ہو ں آج تو ا می بھی گھر پر نہیں ہیں ،اللہ مجھے کھا نا دے دو امی! اس کے بعد میں نے کمر ے میں تلا ش کیا ،مجھے ایک جگہ رو تی پڑ ی ہو ئی ملی امی! میں نے اسے کھا لیا مگر جو مزہ مجھے آ ج آ یا امی ا یسا مزہ مجھے ز ند گی میں کبھی نہیں آ یا تھا سبحا ن اللہ ما ئیں بچو ں کی تر بیت ا یسے کیا کر تی تھیں اور اللہ رب ا لعزت انکو پھر قطب ا لد ین بختیار کا کی بنا د یتے تھے چنا نچہ یہ مغل با د شا ہو ں کے شیخ بنے اور ا پنے و قت میں لا کھو ں انسا ن ان کے مر ید بنے -تو ایک اور کا میا ب شخصیت کے پیچھے آپکو عورت کا کردار ما ں کی شکل میں نظر آئے گا ۔۔۔۔یہ مثا لیں ا تنی ز یا دہ ہیں کہ ا نسان حیرا ن ہی ہو جا تا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد

(تحر یر و تحقیق:-حضر ت مو لا نا پیر حا فظ ذا لفقار احمد نقشبندی مجددی مد ظلہ ر حمتہ اللہ علیہ)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: naila rani riasat ali

Read More Articles by naila rani riasat ali: 104 Articles with 110887 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2016 Views: 767

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ