جادو جنات اور علاج قسط نمبرA18

(imran shahzad tarar, mandi bhauddin)
(جادو جنات اور علاج قسط نمبر18)

*کتاب:شریر جادوگروں کا قلع قمع کرنے والی تلوار*
*مئولف: الشیخ وحید عبدالسلام بالی حفظٰہ للہ*'
*ترجمہ: ڈاکٹر حافظ محمد اسحٰق زاھد*-
*مکتبہ اسلامیہ*
*یونیکوڈ فارمیٹ:فاطمہ اسلامک سنٹر پاکستان*
دوسرا نمونہ: میرے پاس ایک شخص آیا اور اس نے بتایا:
جب سے میری شادی ہوئی ہے، میری بیوی سے میرےشدید ختلافات ہیں، وہ مجھے انتہائی ناپسند کرتی ہے، میرا ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرتی اور مجھ سے الگ ہونا چاہتی ہے، میں جب تک گھر میں نہیں رہتا وہ راحت محسوس کرتی ہے، لیکن جونہی گھر میں داخل ہوتا ہوں تو اس کا جسم گویا غضب کی آگ میں بھڑک اٹھتا ہے۔
میں نے اس کی بیوی پر دم کیا، دم کے دوران اس کے ہاتھ پاؤں سن ہوگئے، اسے گھٹن اور سر درد محسوس ہونے لگا، البتہ اس پر مرگی کا دورہ نہ پڑا، میں نے اسے چند سورتیں کیسٹوں میں ریکارڈ کر کے دے دیں اور اسے 45 دن تک انہیں روزانہ سننے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ دوبارہ میرے پاس آئیں۔
اس مدت کے گزرنے کے بعد اس کا خاوند دوبارہ آیا، اور آتے ہی کہنے لگا: ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا ہے۔
میں نے کہا: خیر تو ہے۔۔۔۔ کیا ہوا؟
اس نےبتایا: جب 45 دن کی مدت گزر گئی اور ہم دونوں نے آپ کے پاس آنے کا پختہ ارادہ کر لیا، تو میری بیوی پر مرگی کا دورہ پڑ گیا اور اس کی زبان سے جن بولنے لگا، اور اس نے بتایا کہ میں تمہیں ہر بات بتانےکیلئے تیار ہوں بشرطیکہ مجھے شیخ (صاحبِ کتاب) کے پاس نہ لے جاؤ، میں جادو کے ذریعے اس عورت میں داخل ہوا تھا اور اگر آپ کو میری بات پر یقین نہ آ رہا ہو تو یہ تکیہ لے کر آؤ، چنانچہ وہ تکیہ کھولا گیا تو اس میں چند کاغذ موجود تھے جن پر جادو کے اَلفاظ و حروف لکھے گئے تھے، پھر اس نے کہا: ان کاغذات کو جلا دو، اب اس پر کیا گیا جادو بے اثر ہو گیا ہے اور میں بھی اس عورت سے نکل کر جا رہا ہوں، اور دوبارہ کبھی بھی اس کے پاس نہیں آؤں گا بشرطیہ کہ میں اس سے ہاتھ ملاؤں، خاوند نے اس کی اجازت دے دی، جن عورت سے نکل گیا، اور عورت نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور جن سے مصافحہ کیا۔
میں نے اس کے خاوند کو بتایا کہ تم نے جن کو مصافحہ کرنے کی اجازت دے کر غلطی کی ہے، کیونکہ ایسا کرنا حرام ہے، اور رسول اکرمﷺ نے غیر محرم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے منع فرمایا ہے۔
ابھی ایک ہی ہفتہ گزرا تھا کہ وہ عورت پھر بیمار پڑ گئی، اس کا خاوند اسے لے کر میرے پاس آ گیا، اور ابھی میں نے اَعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ہی پڑھا تھا کہ اسے مرگی کا دورہ پڑ گیا، اور جن کے ساتھ میری گفتگو کچھ یوں ہوئی:
٭ اے جھوٹے! تم کیوں دوبارہ آگئے ہو؟
جن: میں آپ کو ہر بات بتاؤں گا بشرطیکہ آپ مجھے مارنا نہیں۔
٭ بتاؤ۔
جن: ہاں، واقعی میں نے ان سے جھوٹ بولا تھا، اور میں نے ہی تکیے میں وہ کاغذ رکھے تھے تاکہ وہ میری بات مان لیں۔
٭ تو تم نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے؟
جن: میں کیا کروں، مجھے تو اس کے جسم کے ساتھ قید کر دیا گیا ہے۔
٭ کیا تم مسلمان ہو؟
جن: جی ہاں۔
٭ کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جادوگر کے ساتھ کام کرے، یہ حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیا تمہیں جنت نہیں چاہئے؟
جن: جی ہاں، مجھے جنت چاہئے۔
٭ تب جادوگر کو چھوڑ دو، اور مؤمن جنوں کے ساتھ رہ کر اللہ کی عبادت کرو، کیونکہ جادوگر کا راستہ دنیا میں تجھے بد بخت بنا دے گا اور آخرت میں جہنم میں لے جائے گا۔
جن: لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے، وہ تو مجھے قابو کئے ہوئے ہے؟
٭ اس نے تمہیں اس لئے قابو کر رکھا ہے کہ تم گناہ کرتے ہو، اور اگر تم سچی توبہ کر لو تو وہ کبھی تم پر قابو نہیں پا سکتا، فرمانِ الٰہی ہے:
﴿ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلا ﴾
“اور اللہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں پر غلبہ ہر گز نہ دے گا۔”
جن: میں توبہ کرتا ہوں اور اس عورت کو چھوڑ دینے کا پختہ عہد کرتا ہوں، اور دوبارہ اس کے پاس کبھی نہیں آؤں گا۔
اس طرح اس عورت کو اللہ تعالیٰ نے شفا دی، اس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں، کچھ عرصہ بعد اس کا خا وند میرے پاس آیا اور اس نے خوشخبری دی کہ اب اس کی بیوی خیریت سے ہے۔
تیسرا نمونہ: ایک عورت کا خاوند میرے پاس آیا اور کہنے لگا: وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے اور میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، اور یہ ناپسندیدگی بغیر اسباب کے اچانک سامنے آ گئی ہے، جبکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں، میں نے اس کے خاوند کے سامنے اس پر قرآن پڑھا تو اس پر مرگی کا دورہ پڑ گیا اور اس میں جو جن تھا اس کے ساتھ میری یہ گفتگو ہوئی:
٭ کیا تم مسلمان ہو؟
جن: جی ہاں! میں مسلمان ہوں۔
٭ اس عورت میں تم کیوں داخل ہوئے؟
جن: میں جادو کے ذریعے اس میں داخل ہوا تھا جو فلاں عورت نے اس پر کیا تھا، اور اسے اس نے خوشبو کی شیشی میں بند کر دیا تھا، اس میں داخل ہونے کے لئے مجھے ایک عرصے تک اس کا پیچھا کرنا پڑا، ایک دن ایک چور اس کے گھر کی چھت پر چڑھ گیا تو یہ گھبرا گئی تھی، اور یہی وہ وقت تھا جب میں اس میں داخل ہو گیا۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جادوگرجب کسی پر جادو کرنا چاہتا ہے تو ایک جن اس کی طرف روانہ کرتا ہے، یہ جن فوراً اس میں داخل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کےلئے وہ مناسب موقع تلاش کرتا ہے جو درج ذیل ہیں:
1۔ شدید خوف
2۔ شدید غصہ
3۔ شدید غفلت
4۔ شہوت میں مشغول ہونا
چنانچہ جس شخص پر جادو کرنا مقصود ہوتا ہے، وہ جب ان چار حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے تو شیطان (جن) کو اس میں داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے، الا یہ کہ وہ وضو کی حالت میں ہو اور اللہ کا ذکر اس کی زبان سے جاری ہو تو وہ اس میں داخل نہیں ہو سکتا، اور مجھے خود کئی جنوں نے بتایا ہے کہ جس لمحے میں جن انسان میں داخل ہوتا ہے، اگر وہ اسی لمحے میں اللہ کا ذکر کرے تو جن جل کر راکھ ہو جاتا ہے، اسی لئے انسان میں داخل ہونے کا لمحہ اس کےلئے زندگی کا مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے۔
جن نے کہا: اور یہ عورت تو بھولی بھالی اور بہت اچھی ہے۔۔
میں نے کہا: تب تمہیں اس سے نکل جانا چاہئے اور پھر دوبارہ اس کی طرف نہیں آنا چاہئے۔
جن: اس کی شرط یہ ہے کہ اس کا خاوند اپنی دوسری بیوی کو طلاق دے دے۔
میں نے کہا: تمہاری شرط قبول نہیں، اور اگر تم نے نکلنا ہے تو ٹھیک ورنہ ہم تمہیں ماریں گے۔
جن: میں نکل جاؤں گا۔
پھر وہ جن نکل گیا جس پر میں اللہ کا شکر گزار ہوں۔ اس کے بعد میں نے اس کے خاوند سے کہا کہ یہ جو جن نے بتایا ہے کہ فلاں عورت نے اس کی بیوی پر جادو کیا ہے، تو یہ غلط ہے کیونکہ جنوں کا مقصدمحض یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان نفرت پیدہ کردیں، لہٰذااس کی بات کی تصدیق نہ کریں۔
چوتھا نمونہ: ایک شخص اپنی بیوی کو لے کر میرے پاس آیا اور اس نے بتایا کی اس کی بیوی اسے انتہائی ناپسند کرتی ہے، اور جب وہ گھر میں موجود نہیں ہوتا تو اسے راحت محسوس ہوتی ہے۔ جب میں نے اس کی بیوی سے بیماری کی علامات پوچھیں تو مجھے معلوم ہوا کہ اس پر سحر تفریق کیا گیا ہے، اور جب اس نے قرآنی آیات سنیں تو اس کی زبان سے جن گویا ہوا،اور میرے اور اس کے درمیان درج ذیل مکالمہ ہوا:
٭ تمہارا نام کیا ہے؟
جن: میں اپنا نام ہر گز نہین بتاؤں گا۔
٭ آپ کا دین کیا ہے؟
جن: اسلام۔
٭ تو کیا کسی مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ مسلمان عورت کو پریشان کرے؟
جن: میں تو اس سے محبت کرتا ہوں، اسے پریشان نہیں کرتا، اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کا خاوند اس سے دور ہو جائے۔
٭ تم ان دونوں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہو؟
جن: جی ہاں۔
٭ یہ تمہارے لئے جائز نہیں ہے، اس لئے اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اس سے نکل جاؤ۔
جن: نہیں نہیں میں اس سے محبت کرتا ہوں!
٭ وہ تم سے نفرت کرتی ہے۔
جن: نہیں، وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔
٭ تم جھوٹے ہو، وہ تمہیں ناپسند کرتی ہے اور اسی لئے یہاں آئی ہے ہے کہ تمہیں اپنے جسم سے نکال سکے۔
جن: میں ہر گز نہیں نکلوں گا۔
٭ تب میں تمہیں قرآن کے ذریعے جلا کر راکھ کر دوں گا۔
پھر میں نے اس پر قرآنِ مجید کو پڑھا تو وہ چیخنے لگا، میں نے پوچھا: کیا تم نکلنے کےلئے تیار ہو؟
جن: ہاں، میں نکل جاؤں گا، لیکن ایک شرط ہے۔
٭ وہ کیا؟
جن: میں اس سے نکل کر آپ میں داخل ہو جاؤں گا۔
٭ یہ شرط قبول ہے، اس سے نکلو اور اگر تمہارے اندر طاقت ہے تو مجھ میں داخل ہو کے دکھاؤ۔
پھر کچھ دیر بعد جن رونے لگا، میں نے اس سے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟
جن: کوئی جن آج آپ کے اندر داخل نہیں ہو سکتا۔
٭ وہ کیوں؟
جن: اس لئے کہ آپ نے آج صبح سو بار لاَ إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لاَ شَریْکَ لَہٗ ، لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ پڑھا تھا۔
٭ رسول اللہ نے سچ فرمایا ہے کہ:
“جو شخص سو مرتبہ یہ کلمہ پڑھتا ہے اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اس کےلئے سو نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، سو گناہ اس سے مٹا دیئے جاتے ہیں اور شام سونے تک یہ کلمات اسے شیطان سے بچائے رکھتے ہیں۔” (البخاری:ج6،ص338،مسلم:ج17،ص17)
اس کے بعد جن اس عورت سے نکل گیا اور اس بات کا پختہ وعدہ کر کے گیا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔
جاری ہے.....
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shahzad tarar

Read More Articles by imran shahzad tarar: 43 Articles with 22854 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Oct, 2016 Views: 383

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ