پاک بھارت کشیدگی : حل کیا ہے ؟

(Maemuna Sadaf, Rawalpindi)
مقبوضہ کشمیر میں اڑی کے مقام پر بھارتی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کے بعد بھارت نے مختلف سطحوں اور فورمز پر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ اڑی حملہ تو محض ایک بہانہ تھا درحقیقت بھارت کو دنیا کی نظروں سے اپنا مکروہ چہرہ چھپانا مقصود تھا ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا یہ عالم ہے کہ بھارتی افواج نوجوانوں کو ان کے گھروں سے نکال انھیں گرفتار کر لیا جاتا ہے پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں کسی علاقہ سے ملتی ہیں یا پھر وہ لا پتہ رہتے ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی افواج کی جانب سے کئے جانے والے مظالم کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف سفارتی اور سرحدی جارحیت کا آغاز کر دیا ہے ۔ حال ہی میں بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کر دیاجوابی کاروائی میں پاکستان کی جانب سے بھی بھرپور جواب دیا گیا ۔اس بلا اشتعال فائرنگ کو بھارت میں سرجیکل سٹرائک کا نام دیا گیا اور بھارتی میڈیا نے اس حملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بھارت کے اس سرجیکل آپریشن میں کوئی فوجی پاکستان میں داخل ہونے سے ناکام رہا ۔ اس حملہ میں بھارت کے چودہ سپاہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ پاکستان کے دو سپاہیوں نے جام ِ شہادت نوش کیا ۔اس کے علاوہ بھارت کے ایک فوجی کو پاک فوج نے حراست میں لے لیا ۔جس کے بارے میں بھارت کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے سرحد پار کر گیا ۔اسے بھارت کو واپس کیا جائے ۔بھارت نے لائن آف کنڑول کو بھی بین الاقوامی سرحد ماننے سے انکار کر دیا ہے ۔

بھارتی افواج وقتا فوقتا پاکستانی سرحد پر تعینات افواج اور سرحدکے قریب آباد بستیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کرتی رہتی ہیں ۔صرف سرحد پر بلااشتعال فائرنگ ہی نہیں بلکہ بھارت نے پاکستانی سرحد کے ساتھ ساتھ تمام فضائی اڈوں اور دفائی تنصیبات کو ہائی الرٹ کر دیا ہے ، بڑے پیمانے پر فضائی مشقوں کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اٹھارہ ہوائی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر مشقیں شروع کی گئی ۔ ایسی ہی دفائی مشقیں مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقہ اڑی سیکڑ پر حملہ سے ایک ہفتہ قبل بھی کی گئی تھیں ۔ بھارتی فضائیہ مسلسل نگرانی کے لیے اسرائیلی ڈرونز اور جاسوس ڈرونز بھی تعینات کرنے کا اعلان کر چکی ہے ۔بھارت کے مطابق ان مشقوں کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر سے راجھستان تک پوری سرحدی پٹی پر پاکستان کے خلاف آپریشن کی تیاری اور فضائی دفاع کو مضبوط بنانا ہے ۔بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہو چکا ہے۔ بھارتی میڈیا اور بھارتی وزیر اعظم نیدر مودی انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے روز پاکستان کے خلاف بیانات دیتے نظر آتے ہیں ۔بھارت کی جانب سے پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت اور پاک بھارت کرکٹ سریز سے انکار بھی بھارت کی جانب سے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کی ایک کڑی ہے۔بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرے اور پاکستان ، چین کے درمیان طے پانے والا اقتصادی راہ داری کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائے ۔

دوسری جانبپاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ببانگ ِ دہل اعلان کیا ہے کہ پاک فوج ہر طرح کی جارحیت سے لڑنے اور اس کا جواب دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہے ۔جنرل عاصم باجوہ نے حال ہی میں دی گئی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ پاکستانی حدود میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ۔ پاکستان کی سالمیت اورحفاظت کے لیے جو کچھ کرنا پڑا کر گزریں گے ۔ پاکستان نے روس کے تعاؤن سے زمینی جنگی مشقوں کا آغاز کر رکھا ہے جو کہ دس اکتوبر تک جاری رہیں گی ۔پاک فضائیہ کی جانب سےٖ ایف 16 طیاروں کو سڑ کوں پر ایمرجنسی لینڈنگ بھی کروائی گئی جس کا مقصد جنگ کی صورت میں فضائیہ کی کارکردگی کو ناقابل ِ تسخیر بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے چار بحری جہاز بھی پاکستان کے ساحل ِ سمندر پر لنگر اندا ز ہو چکے ہیں ۔ ان جہازوں کا پاکستان کے ساحلوں پر لنگر انداز ہونے کا مقصد پاک بحریہ کے ساتھ مل کر نہ صرف جنگی مشقوں کا آٖغاز ہے بلکہ دو طرفہ تعلق میں بہتری کی امید ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ پاک بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہو گا ۔دو بڑے ممالک ، روس اور ایران کا پاکستان کے ساتھ جنگی مشقوں کا آغاز بھارت کو ایک واضع پیغام ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں بلکہ خطے کے دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ تعاؤن کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ اگر بھارت جنگ کا آغاز کرنے کی غلطی کرے گا تو اس میں بھارت کا نقصان پاکستان کے نقصان سے کہیں زیادہ ہو گا ۔ پاک ا فواج بھارتی افواج کی نسبت پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہترین سامان ِ حرب سے لیس ہے ۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ جموں اور کشمیر کا علاقہ ہے ۔ اس علاقہ کے لوگ بھارت کی ہڈ دھرمی کی وجہ سے آج تک سکون کا سانس نہیں لے سکے ۔مسئلہ کشمیرپاکستان اور بھارت کے درمیان بڑی جنگوں کی بنیادی وجہ ہے ۔دونوں ممالک کے پیچ آئے روز ہونے والی جھڑپوں اور امن مذاکرات کی بنیادی وجہ بھارت کی مسئلہ کشمیر کے معاملے میں ہیڈ دھرمی ہے ۔ بھارت نہ تو کشمیریوں کو ان کا حق ِ رائے دہی دینے کو تیار ہے اور نہ ہی کشمیری راہنماؤں سے بات کرنے کا روادار ہے۔

دونوں ممالک طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے جنگی ساز و سامان کی خرید پر اپنے بجٹ کا ایک کشیر حصہ صرف کرنے پر مجبور ہیں ۔ اسلحہ کی اس دوڑ میں دونوں ممالک اپنے ملک میں پھیلی بدامنی ، غربت ،بے روزگاری ، جہالت سے نظریں چرائے ، اپنا بجٹ افواج پر لگا دیتے ہیں ۔جب تک کہ یہ معاملہ حل نہیں ہوجاتا خطے میں دیر پا امن یا دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور دیگر مسائل جوں کے توں رہیں گے ۔اس متنازعہ مسئلہ کا حل اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے اور اس حل میں تینوں فریق ، پاکستاں ، کشمیر اور بھارت کے لیڈروں کو مذکرات کی میز پر حل کرنا ہو گا ۔ کیونکہ اسی ایک خطہ کے تناذعہ کی وجہ سے بھارت اور پاکستان میں پہلے جنگیں ہو چکی ہیں ، ان جنگوں میں کون جیتا ، کون ہارا یہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن ان جنگوں میں دونوں ممالک کی معیشتوں کو دھچکا لگا ۔ دونوں جانب جانی اور مالی نقصان ہو ا۔پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر بات کی جاتی ہے تاہم بھارت اس موضوع پر بات کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہا ہے یہاں تک کہ اقوام ِ عالم کی نظریں کشمیر کی جانب سے ہٹا کر بلوچستان، بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے حملو ں کی جانب مبذول کر وائی ۔ بھارتی میڈیا اس کام میں اپنی حکومت کا بھر پور ساتھ دے رہا ہے ۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے معاملہ میں اپنے موقف میں نرمی لانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں بنیادی متنازعہ مسئلہ حل ہو سکے

پاکستان اور بھارت کی جنگ کا مطلب دونوں ممالک کی افواج اور عوام کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہے ۔ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتی بلکہ جنگ اپنے ساتھ کئی طرح کی بلائیں لے کر آتی ہیں ۔ جنگ کی صورت میں نہ جانے کتنے ہی گھرانے اجڑ جاتے ہیں ، کتنے ہی گھروں کے چشم و چراغ گل ہو جاتے ہیں ،ملک میں موجود بیرونی سرمایہ کا ری صفر ہو کر رہ جاتی ہے ، معیشت تنزلی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے ۔صرف یہی نہیں جنگ میں ہونے والی تباہی کے آثار کو مٹانے میں صدیاں لگتی ہیں۔خصوصا جب دونوں جانب ہی ایٹمی طاقتیں ہوں اور جنگ کی صورت میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے والا ملک خود اس کے اثرات سے بچ نہیں سکتا ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maemuna Sadaf

Read More Articles by Maemuna Sadaf: 165 Articles with 95073 views »
i write what i feel .. View More
04 Oct, 2016 Views: 329

Comments

آپ کی رائے