بلدیاتی اداروں کے فنکشنل ہونے میں تاخیر یا تکنیکی یا خوف……؟؟؟

(Anwar Abbas Anwar, )
عدالت عظمی کی ذاتی دلچسپی کے باعث انعقاد پذیر ہونے والے بلدیاتی انتخابات ابھی تک تکمیل کی منزل کو نہیں پہنچ پائے جب کہ انہیں منعقد ہوئے ایک سال ہونے کوہے، پنجاب کے سوا باقی تین صوبوں میں جیسے تیسے ہوئے بلدیاتی ادارے فعال ہو گئے ہیں، پنجاب میں کب بلدیاتی ادارے فعال ہوں گے اس بارے ابہام ہے کوئی حتمی رائے یا تجزیہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم اپنے برادر کورد پنجاب کے خادم اعلی کو ہدایت بھی کر چکے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کے آخری مرحلے میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں ، اس تاثر کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ حکمران اس خوف کے اسیر ہیں کہ بلدیاتی اداروں کی فعالیت کی صورت میں ایک نئی قیادت سامنے آ جائے گی جو مستقبل میں ان کے لیے خطرات پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔ اس تاثر میں کتنی حقیقت ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ جمہوری نظام حکومت کے مخالفین ہمیشہ آمریت کی وکالت کرتے رہتے ہیں اور جمہوری دور حکومت مین انکی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت پوری نہ کر پائیں اور اس خوہش کی تکمیل کے لیے وہ سازشیں کرنے سے باز نہیں آتے اور اپنی ان سازشی حرکات و سکنا ت میں وہ مقتدرہ قوتوں کو خوامخواہ گھسیٹ لاتے ہیں بلکہ عوام کو تاثر یہ دیا جات اہے کہ انہیں ان مقتدرہ قوتوں کی حمایت و تائید حاصل ہے۔جبکہ ان قوتوں کا اس سے کوئی لینا سینا نہیں ہوتا۔

ایسا ہی ایک تاثر موجودہ صورتحال میں ابھارا جا رہا ہے اور سازشی عناصر اپنی بڑھکوں اور دعوؤں میں وزن پیدا کرنے کے لیے جلسوں جلوسوں میں قسمیں کھا کھا کر عوام کو باور کریا جا تا ہے کہ جنرل راحیل اور نوازشریف کے مابین سب اچھا نہیں ہے ،اور فوج موجودہ حکمرانوں کو قومی سلامتی کے لیے سکیورٹی رسک سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف وزیر داخلہ کی مدد و نسرت سے جنرل راحیل شریف اور نواز شریف میں پیدا شدہ خلیج کو مٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں واقفان حال کا اس پر تبصرہ ہے کہ میاں شہباز شریف کی تمام تر کوششوں کے خلیج مٹتی دکھائی نہیں دے رہی۔ ابھی اس راز سے پردہ نہیں اٹھا کہ فوج اور نواز شریف کے درمیان اختلافات کی نوعیت کیا ہے، یہ بھی خبر گردش میں ہے کہ فوج سی پیک منصوبے کو اپنی تھویل میں لینے کی آرزو مند ہے جبکہ حکومت اسے اپنی عملداری میں رکھنے پر مصر ہے۔

جمہوری ادوار ھکومت میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کیوں کر نہیں کرائے جاتے ؟ معاملات کو سرکاری افسران کے زیر انتظام چلانے پر کیوں ساری توجہ مرکوز رہتی ہے؟ ان سولات کے جوابات سیاستدان اور سیاسی حکمران ہی دے سکتے ہیں ہم تو محض تجزئیے کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔آج بھی اگر سیاستدان بلدیاتی انتخابات کرنے کی کڑوی گولی نگلنے پر آمادہ ہوئے ہیں تو ان اداروں کو اختیارات دینے میں حیل و حجت کیا جا رہا ہے، جبکہ جمہوریت میں اختیارات اوپر سے نیچے منتقل ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں خصوصا سیاسی ادوار میں اسکے الٹ ہوتا ہے جبکہ مارشل لاؤں کے دور حکومت میں بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات اور مالی فنڈز حاصل ہوتے ہیں جس کی بدولت عوام کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں کی ہر طرف بہار دکھائی دیتی ہے۔

پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے فعال ہونے میں تاخیر سے عوام کی شکایات اپنی جگہ پر قائم ہیں لیکن مسلم لیگ نوز کے منتخب اراکین میں بھی اس تاخیر سے بد دلی اور مایوسی پیدا ہو رہی ہے اکثر منتخب مسلم لیگی ارکان یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ ہماری حکومت ہی انکو اختیارات دینے کو تیار نہیں ہے، ان منتخب ارکان کو یہ بھی شکایات ہیں کہ ان اداروں کی موجودگی اور بلدیاتی انتخابات ہو جانے کے بعد بھی ارکان پارلیمنٹ کے توسط سے ترقیاتی کام کرانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان ارکان کا موقف ہے کہ بلدیاتی اداروں کی فعالیت میں مسلم لیگ نواز کا ہی فائدہ اور بھلائی ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کی آواز پر نہ سہی اپنے ارکان اور وہ بھی منتخب ارکان کی ااواز ضرور سننی چاہئیے کیونکہ مسلم لیگی ارکان لبھی بھی اپنی جماعت کا برا نہیں سوچیں گے۔باقی مخالفین کے منہ بند کرنے کے لیے بھی ایسا کرنا بھی لازمی ہے ورنہ اس تاثر کو مذید تقویت پہنچے گی کہ سیاستدان بلدیاتی اداروں کی فعالیت سے خوفزدہ ہیں۔

کنٹرول لائن پر پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں بھی حکومت کو بلدیاتی اداروں کو جس قدر جلد ممکن ہو بحال و فعال کردینا چاہیے کیونکہ اس سے عوام کا حکومت پر اعتماد میں اضافہ ہوگا اور عوام ،حکومت اور پاک فوج کے مابین یکجہتی اور اتحاد پیدا ہوگا اور دشمن کو پاکستانیوں کے ایک ہونے کا پیغام جائے گا جو اس آس میں بیٹھا ہوا ہے کہ پاکستانی عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے گا۔ اس حوالے سے ہماری سیاسی قیادت کا حکومت سے اظہار یکجہتی سنگ میل کی حجت رکھتا ہے، اسلام آباد میں حکومت کے ساتھ بیٹھ کراحسن فیصلہ اور اقدام کیا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anwer Abbas Anwer

Read More Articles by Anwer Abbas Anwer: 203 Articles with 94476 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Oct, 2016 Views: 373

Comments

آپ کی رائے